Islam_quran

خدا کی رحمت اور عدل: ایک حقیقت کے دو نام

EjazNews

فطرت الٰہی اور فطرت انسان کی مشترکہ اساسات اور احساسات:

فطرت الٰہی کو جاننے اور سمجھنے کا راستہ فطرت انسانی ہے۔
’’تم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کرو، جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیاہے۔‘‘ [الروم30]
اخلاقیات اور جمالیات کے باب میں انسانوں کی فطرت میں پائے جانے والے بنیادی اور مشترکہ احساسات اور ان کی اساسات فطرت الٰہی پر مبنی ہیں۔ انسان اسی چیز کو اچھا اور برا سمجھتا ہے جو فطر ت الہی سے اسے ودیعت ہوا ہے۔ اس کا برعکس کہنا بھی اسی وجہ سے درست ہے کہ انسانی فطرت جسے اچھا اور برا سمجھتی ہے وہ خدا کے نزدیک بھی اچھا اور برا ہے۔ یہ ایک منصوص قضیہ ہے۔ اس کے مقابل اس فہم کا نقص یا کوئی نص ہی سے کوئی دلیل پیش کی جائے تو قابل اعتنا ہو سکتی ہے، خیال آرائی کی یہاں کوئی حیثیت نہیں۔

حسن و قبح اور عدل و ظلم کا معیار:

حسن و قبح اور عدل و ظلم معروض میں موجود تصورات نہیں ہیں، جنھیں انسان خارج سے اخذ کرتا ہے اور جن کی پابندی خدا پر بھی لازم ہو، یہ فطرت الہی سے پھوٹے تصورات ہیں ،جن کا پرتو انسانی فطرت میں آیاہے اور اس وجہ سے ان کی پیروی اور پابندی انسان خود پر لازم سمجھتا ہے۔ یہ احساسات تمام انسانیت کا مشترک ورثہ اور اثاثہ ہیں، اسی لیے یہ عالم گیر سطح پر یکساں ہیں۔

عدل و ظلم، حسن و قبح اور نیکی و بدی کے تصورات اور احساسات کی انسانی فطرت اور ذہن میں موجودگی کے بارے میں کوئی بحث نہیں، البتہ ان کی تعریف اور اطلاقی صورتوں کی تعیین میں اختلاف اور مباحثہ میں ہوتا ہے۔ فلاسفہ کے ایک محدود گروہ، جو کسی بھی تصور اور قدر کی آفاقیت اور استقلال کے قائل نہیں، کو چھوڑ کر ایسا کبھی نہیں سمجھا جاتا کہ یہ طے کیا جائے کہ عدل کوئی قدر ہے بھی یا نہیں، یا ظلم کوئی تصور ہوتا ہے یا نہیں اور اسی طرح نیکی اور بدی کوئی تصور رکھتے ہیں یا نہیں۔ البتہ یہ مباحثہ ہوتا ہے کہ فلاں معاملے میں عدل کی کون سی صورت عدل کہلائے گی اور کیا چیز ظلم بن جائے گی اور یہ کہ کوئی فعل درحقیقت نیکی ہے یا نہیں۔ تعریف اور اطلاق میں اختلاف سے تصورباطل نہیں ہو جاتا۔ احساس اور تصور کی سطح پر انسانوں کا ہمہ گیر اتفاق اس پر ایک عالم گیر شاہد ہے۔

عدل و رحمت سے محبت اور ظلم اور ناانصافی سے نفرت کا تجربہ چند ماہ کے بچوں تک میں کر لیا گیا ہے۔ ہمیں بچوں میں ان احساسات کو منتقل نہیں کرنا پڑتا، بلکہ ان کے اندر موجود ان احساسات کے اطلاقات کے وقت ان کی ابتدائی رہنمائی کرنا ہوتی ہے۔ انھیں یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ اچھائی اوربرائی کے احساسات کیا ہوتے ہیں، انھیں صرف یہ بتانا ہوتا ہے کہ فلاں اور فلاں چیز کیوں اچھی یا بری ہے۔ لیکن اچھا ئی اور برائی ہوتی کیا ہے، اس کو موضوع نہیں بنانا پڑتا۔ یہ اس لیے کہ ان کا علم فطرت سے وہ اسی طرح لے کر آتے ہیں جیسے بھوک پیاس اور زبان سیکھنے اور بولنے کی جبلت لے کر آتے ہیں۔ ماحول سے وہ تصورات کے اطلاقات سیکھتے ہیں، تصورات نہیں سیکھتے، وہ پہلے سے ان میں موجود ہوتے ہیں۔

خدا کی رحمت و عدل:

حسن و قبح کے یہ مشترک احساسات اور ان کی اساسات، انسانوں کی ایک دوسرے کے درمیان اورخدا اور بندے کے درمیان مکالمہ اور مخاطبہ کی بنیاد اور ذریعہ ہیں۔ خدا اور انسان کی فطرت کے درمیان یہ احساسات اور ان کی اساسات کا اشتراک اگر نہ ہو تو بندوں کو یہ باور کرانے کا کوئی جواز ہی نہیں رہتا کہ خدا رحم اور عدل کرنے والا ہے اور ظلم نہیں کرتا، جب کہ رحم، عدل اور ظلم کے مفاہیم اور ان کا میرٹ وہ نہیں جو انسان سمجھ سکتے ہیں۔

خدا کا رحم اور عدل کرنا، ظلم نہ کرنا اور اپنے وعدے پورے کرنے کے مفاہیم وہی ہیں جو انسانی عقل و فطرت سمجھتی ہے۔ خدا کے ان فرامین کے باوجود خدا کو کسی ضابطے کا پابند نہ سمجھنا یا انسانی فہم میں پائے جانے والے ان ضابطوں سے اسے بے نیاز سمجھنا بے بنیاد عقلی تجاوز ہے۔ یہ غلط فہمی خدا پر بھروسے اور اس بھروسے پر اس کی اطاعت کرنے اور اس پر امید جزر کرنے اور اس کے ڈر سے اس کی معصیت سے بچنے اور معصیت پر سزا کے خوف کی ساری خدائی اسکیم کو عملاً معطل کر دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ خدا کو ظالم یا لاابالی سمجھ کر اس سے ناراض ہو جانے یا اسےنظر انداز کرنے یا اباحیت کی صورت میں نکلنا بدیہی ہے۔

خدا کی رحمت اور عدل کے اصولوں کی اطلاقی صورتوں کے پیچھے اس کے علم اور حکمت کا احاطہ نہ کرنے سکنے کی بنا پر یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ خدا کے ہاں رحمت اور عدل کے مفاہیم ہی کوئی اور ہیں۔ یہ ایسی ہی غلط فہمی ہے جیسے کسی عدالتی فیصلے کی تفصیلی جانکاری کے بنا یہ سمجھ لیا جائے کہ فیصلہ میرٹ پر نہیں ہوا ہوگا یا میرٹ ہی کوئی اور مقرر کیا گیا ہوگا جو عام انسانی فہم سے بالاتر کوئی تصور ہے۔

خدا کسی قبیح کا ارتکاب نہیں کرتا، کیونکہ ہر قبیح ظلم ہے اور اس نے اپنی ذات سے ظلم کی نفی کی ہے۔ قبیح کا ارتکاب نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اس پر قدرت نہیں رکھتا، بلکہ یہ ہے کہ قبیح کا ارتکاب کرنا اس کی شان کے لائق نہیں، یعنی وہ شان جو اس نے خود بیان کی ہے۔ قدرت ہونے کے باوجود قبیح کا اتکاب نہ کرنا خدا کو ہماری نظر میں عظیم بناتا ہے، ورنہ مجبور کے لیے قبیح کا ارتکاب نہ کرنا کوئی کارنامہ نہیں۔ یہی بات اس کو مہربان خدا بناتی ہے جس سے محبت کی جا سکتی ہے، ورنہ صرف عظمت صرف خوف اور خشیئت پیدا کرتی ہے۔

دنیا کی تخلیق اور مشیئت خداوندی:

دنیا کی تخلیق کے منصوبے کی اساس خدا کی مشیئت ہے اور اس کا مقصدبندوں پر عنایات کرنا ہے۔ یہ مشیئت خدا کی صفات کے اظہار اور اس کی ہمہ گیر عبودیت کے لیے برپا کی گئی ہے نہ کہ محض رحمت کے اظہار کے لیے۔ مشیئت رحمتِ محض نہیں بلکہ عدل کے ساتھ گندھی ہوئی ہے۔ یہ محض رحمت ہوتی تو دکھ اور تکلیف نہ ہوتے۔ دکھ اور تکلیف نہ ہوتے تو خدا کی صفات رحمت، عدل اور کرم کا ظہور نہ ہوتا۔ خدا کی اس اسکیم میں بشمول انسان سب مخلوقات کو دکھ اور تکلیف سے بھی گزرنا پڑا۔ یہ سب انسان کو سامنے رکھ کر نہیں، بلکہ خدا کی صفات کے اظہار کےلیے بنایا گیا ہے۔
ساری کائنات خدا کے سامنے تسلیم ہے، سوائے انسان اور جنّ کے عقلی وجود کے، جسے اس نے ارادہ واختیار دے کر اپنے سامنے تسلیم ہو جانے کی دعوت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دُعا کی اہمیت

دنیا میں آزمایش کا اصول:

دنیا کا نظام اصول آزمایش پر ہے جس میں عدل نہیں ہے۔ اسی سے عدل کا تقاضا پیدا ہوتا ہے جو آخرت کے برپا کرنے کو لازم بنا دیتا ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ خدا عادل ہے ورنہ آخرت میں عدالت لگانے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ آزمایش کا قانون عدل پر مبنی نہیں ہے۔ عدل ہو تو آزمایش نہیں ہو سکتی۔ البتہ آزمایش کے خاتمے پر جزا اور سزا کا قانون مل کر اسے مطابق عدل اور عنایت رحمت کا مظہر بناتا ہے۔

ہمارے ہاں خدا کے وکیلوں کو دنیا میں بھی خدا کا افعال اور اسکیم کو مطابقِ عدل ثابت کرنے کی فکر دامن گیر رہی جس کےلیے انھوں نے عجیب تاویلات کیں۔ انھوں نے خدا کو ظلم سے بری قرار دینے کے لیے اس کی ذات کے لیے عدل کے فطری اور معروف تصورات ہی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا کہ خدا کی آزاد ذات پر یہ پابندیاں نہیں لگائی جا سکتیں اور یہ کہ یہ انسانوں کے معیارات ہیں۔ حالانکہ یہ فطرت کے معیارات تھے جنھیں خود خدا نے ودیعت کیا تھا اور انسان کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے انسان کے ذہن میں انھیں تصورت کی بنیاد پر خود کو عدل و رحمت کرنے والا اور ظلم نہ کرنے والا قرار دیا تھا۔ ایک بار جب خدا عدل کے معروف تصور کاپابند نہ رہا تو اس کی زد پھر آخرت کے تصور عدل پر بھی پڑی اور وہاں بھی خدا عدل کے تقاضوں سے آزاد قرار دے دیا گیا۔ یہ نظریہ خدا، دین اور مسلمان تینوں سے نادان دوستی پر مبنی تھا۔ خدا لاابالی ٹھرا جس کو چاہے سزا دے جس کو چاہے جزا دے، دین کے اوامر و نواہی کی پاسداری کارِ اضافی قرار پائے۔ خدا کے وعدے اور وعیدیں دونوں کے پورا کرنے کی پابندی خدا پر نہیں رہی۔ خدا سےامید اور خوف دونوں کی بنیاد ہی نہ رہی تو اعمال اور اطاعت اپنا جواز کھو بیٹھے۔ مسلم ذہن خدا کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہو گیا۔ خداعنایت کر دےتو نجات مل جائے گی مگر خدا قہر نازل کر دے تو کیا کیا جائے، اس سے بچنے کے لیے اس نے سہارے تلاشے اور تراشے یا وہ سرے سے مایوس ہو کر رہ گیا۔

میرٹ کا اصول اور تقاضے:

حقیقت خدا کے اپنے بیان میں اس کے برعکس تھی۔ اس کی رحمت نے چاہا کہ انسانوں کو ابدی نعمتوں سے نوازے۔ مگر اس نوازش کو اس نے اعزاز بنا یا جسے میرٹ پر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس میرٹ کے لیے اس نےانسان کو اچھائی اور برائی کی سمجھ اور ارادہ اور اختیار دے کر آزمایش کا قانون بنایا۔ یہ اس کی مشیئت تھی۔

آزمایش کا میرٹ خدا کی شان اور عنایات کے مطابق نہیں، بلکہ انسان کی استطاعت کے مطابق مقرر کیا گیا:
اللہ کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ [البقرہ 286]

یہ رحمت ہے، لیکن یہی عدل ہے۔ ایسے ہی جیسے ہم میڑک کے طالب علم سے ماسڑز کی سطح کا امتحان نہیں لیتے۔
اس آزمایش کے لیے انسان کی تخلیق کا مقصد اسے میرٹ کی بنیاد پر کامیاب کرنا ہے:

’’(وہی) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اور وہ زبردست بھی ہے اور درگذر فرمانے والا بھی۔‘‘

عدل سے مراد مساوات اور یکسانیت نہیں ہے۔ میرٹ کا سب کے لیے یکساں ہونا ظلم ہے، عدل نہیں۔ بے لاگ اور اندھا انصاف کرنا اور مستحق کو رعایت نہ دینا ظلم ہے عدل نہیں۔ مستحق کے لیے سفارش قبول کرنا بھی عدل کا تقاضا ہے۔ دوسرے پہلو سے دیکھیے تو یہی سب رحمت ہے۔ یہ سفارش نہ بے قاعدہ ہے نہ بے محابا اور نہ اتنی زور آور کہ خدا کو فیصلہ بدلنے پرمجبور کر سکے ورنہ یہ ظلم کی وکالت بن جائے گا:

’’اُس دن، جب فرشتے اور جبریل امین، سب اُس کے حضور میں صف بستہ کھڑے ہوں گے۔ اُس دن، جب وہی بولیں گے جنھیں رحمن اجازت دے اور وہ صحیح بات کہیں۔‘‘

’’کون ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اُس کے حضور میں کسی کی سفارش کرے۔ لوگوں کے آگے اور پیچھے کی ہر چیز سے واقف ہے اور وہ اُس کے علم میں سے کسی چیز کو بھی اپنی گرفت میں نہیں لے سکتے، مگر جتنا وہ چاہے۔ ‘‘ [البقرۃ 255]

’’اُس کے علاوہ یہ جنھیں پکارتے ہیں، وہ شفاعت کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں، جو حق کی گواہی دیں گے اور وہ اُس کو جانتے بھی ہوں گے۔ ‘‘[الزخرف86]

یعنی جن کو سفارش کی اجازت ملے گی وہ خلاف حق کچھ نہیں کہیں گے۔

آزمایش کے قانون کا لازمی نتیجہ کامیابی کے ساتھ ناکامی، نیکی کے ساتھ بدی اور عدل کے ساتھ ظلم کی صورت میں نکلنا تھا۔ یہ سب اس آزمایش کی اسکیم کا حصہ ہے۔ اس سے رحمت اور عدل کا تقاضا پیدا ہوا کہ نیکوکاروں کو پورا صلہ ملے جو آزمایش گاہ میں نہیں ملتا اور مظلوموں کی داد رسی ہو جو یہاں نہیں ہو پاتی۔ یہ رحمانیت کا تقاضا تھا جو عدل پر منتج ہوتا ہے۔ یوں آخرت کا جواز پیدا ہوا جہاں پورا عدل بروے کار لایا جائے۔ ایسا نہ ہو تو دنیا اپنی تمام تر تکوینی معنوییت کے باوجود عبث قرار پاتی اور خدا لاابالی ظالم، اور غیر حکیم ثابت ہوتا ہے جس نے نیکوکاروں کو پورا صلہ نہیں دیا، ہوس کے بچاریوں کو زیادہ پرلطف زندگی گزارنے کا موقع دیا اور مظلوموں کی داد رسی کا انتظام نہ کر کے ظالم کی حوصلہ افزائی کی۔

ظالم کو معافی اور رعایت دینا مظلوم کے حق میں ظلم ہے۔ ظالم و مظلوم دونوں خدا کی رحمت و عنایت کے مستحق ٹھریں تو یہ ظالموں کی حوصلہ افزائی ہے جس سے ان کو مظلوم پر زیادتی کرنے کی شہ ملتی ہے کہ اس کے لیے بھی امکان نجات و عنایت موجود ہے۔ یوں خدا ظالم کا سہولت کار بن کر ظالم ٹھرتا ہے، جب کہ اس نے خود پر رحمت لازم کر رکھی ہے۔

اس لحاظ سے دیکھیے تو رحمت اور عدل ایک دوسرے میں ممزوج اور مترادف ہیں اور رحمت یعنی کہ عدل کرنا خدا نے خود پر لازم قرار دے دیا ہے۔
’’اِن سے پوچھو، زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، وہ کس کا ہے؟ کہہ دو، اللہ ہی کا ہے۔ اُس نے اپنے اوپر رحمت لازم کر رکھی ہے۔ وہ تم سب کو جمع کر کے ضرور روز قیامت کی طرف لے جائے گا جس میں کوئی شبہ نہیں۔ اِس کو وہی لوگ نہیں مانتے جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کر لیا ہے۔‘‘ [الانعام12]

یہ بھی پڑھیں:  جنگ بدر میں شریک صحابہ کرام ؓ (حصہ چہارم)

’’روز قیامت کے لیے ہم انصاف کی ترازو رکھ دیں گے۔ پھر کسی جان پر ذرا بھی ظلم نہ ہو گا اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کسی کا عمل ہو گا تو ہم اُس کو لا موجود کریں گے۔ اورہم (لوگوں کا) حساب لینے کے لیے کافی ہیں۔‘‘ [الانبياء47]

میرٹ پر سب کو داخلہ مل جانا میرٹ پر آنے والوں کے ساتھ فریب ہے۔ نیک و بد سب خدا کی رحمت اور عنایت سے بہرہ مند ہوں تو یہ نیکو کاروں کے ساتھ دھوکا ہے کہ نفس کے تقاضوں کے خلاف خدا کی مرضیات پر چلنے والے، نفس کی پجاریوں کے ساتھ ایک صف میں کھڑے کر دیے جائیں۔ دونوں کے نیک اور بد انجام میں فرق ہونا رحمت بھی ہے اور عدل بھی۔ چنانچہ خدا نے یہی بتایا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا:

’’(تم سمجھتے ہو کہ یہ نہیں ہو گا) تو کیا ہم اپنے فرماں بردار بندوں کو مجرموں کے برابر کر دیں گے؟ تمھیں کیا ہوا ہے، تم کیسا حکم لگاتے ہو؟ کیا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ وہاں تمھارے لیے وہی کچھ ہے جو تم پسند کرو گے؟ کیا تمھارے لیے ہم پر کوئی قسمیں ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی کہ تمھارے لیے وہی کچھ ہے جو تم حکم لگاؤ گے؟ اِن سے پوچھو کہ اِن میں سے کون اِس کا ذمہ لیتا ہے؟‘‘ [القلم: 35 – 40]

اس لحاظ رحمت اور عدل کی حقیقت ایک ہے۔ ایسی رحمت جو عدل سے بے نیاز ہو، خود رحمت کے منافی ہے۔ رحمت اور عدل ایک دوسرے کو متوازن نہیں کرتے، نہ یہ متخالف اور متصادم ہیں، بلکہ یہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ایک کے بغیر دوسرا ناقص بلکہ باطل ہو جاتا ہے۔ کامل عدل رحمت کے بغیر ممکن نہیں اور رحمت بغیر عدل کے نہیں ہے۔

اس آزمایش میں میرٹ کی شرط عدل پر مبنی ہے۔ البتہ رحمت الہی کا تقاضا ہوا کہ انسان کی خلقی مجبوریاں جیسے نسیان اور جذبات کے تصرف، اور نفس اور شیطان کی ترغیبات کے مقابلے میں رعایات بھی دی جائیں اور ان موانعات کے مقابلے میں میرٹ پر آنے کے لیے سہولت بھی مہیا کی جائے۔ چنانچہ، علم و عمل میں نسیان اور دیانت دارانہ خطا پر بلا مشروط معافی اور جذبات کی مغلوبیت میں جرم کا ارتکاب اور اس کے فورا بعد ندامت پر لازمی درگزر کا اصول بتایا گیا:

’’پروردگار، ہم بھول جائیں یا غلطی کر جائیں تو اُس پر ہماری گرفت نہ کر۔ ‘‘[البقرۃ 286]

اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری اُنھی لوگوں کے لیے ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔سو وہی ہیں جن پر اللہ عنایت کرتا اور اُن کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے۔ [النساء17]

روز قیامت تثلیث کے قائلین مسیحیوں کے بارے میں خدا اور مسیح علیہ السلام کے درمیان مکالمے کے آخر میں خدا نے اپنا واضح طور پر اعلان فرمایا ہے کہ ان میں سے جو لوگ اپنے قول و قرار اور عہدو میثاق میں سچے ثابت ہوئے اور اُنھوں نے جانتے بوجھتے کسی گم راہی پر اصرار نہیں کیا، بلکہ جو کچھ سمجھا، دیانت داری کے ساتھ سمجھا، اُس میں دانستہ کوئی تبدیلی یا تحریف نہیں کی، پھر اپنی استطاعت کے مطابق اُس پر عمل پیرا رہے، اُن کے لیے جنت کی بشارت ہے۔

اب اگر آپ اُنھیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ ہی زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں۔اللہ فرمائے گا: یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی۔ اُن کے لیے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔زمین و آسمان اور اُن کے اندر تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ [المائدہ 119]

خدا کی رحمت عدل سے تجاوز تب کرتی ہے جب ایسا کرنا خلاف عدل نہ ہو

خدا کی رحمت عنایت کی صورت میں عدل سے تبھی تجاوز کرتی ہے جب وہ عدل کے خلاف نہ ہو۔خدا کی رحمت اگر مجرموں کو دنیا میں فوراً سزانہ دے اور بار بار موقع دے،3 یا آخرت میں سزا نہ دینے کا یاکچھ سزا دے کر ابدی سزا نہ دینے کا فیصلہ کرلے4تو رحمت کا یہ مظہر عدل کے منافی نہیں، مگر یہ کہ وہ ان پر عنایات بھی کرے یہ عدل کے منافی ہے۔ نیکوکار انعام یافتگان کے مقابل ظالموں اور فاسقوں کی محرومی خود بہت بڑی سزا ہے جب کہ انعام یافتگان کی نعمتیں ابدی ہوں اور محروموں کی محرومی بھی ابدی ہو۔ خدا اگر ظالموں کو فنا کر دے تو یہ بھی ان کے حق میں رحمت ہے اور یہ عدل کے خلاف نہیں، اس لیے درست بھی ہے۔ یہ سزا بہت ہے کہ انھیں ابدی عنایات نہیں ملیں۔ یہ سب کرنا خدا کا اختیار (عزیز) ہے مگر خلاف عدل نہیں اور مظہر رحمت بھی ہے۔

سزا اور جزا کے اعلان کی پاسداری میں ایک فرق ہے۔ سزا کے اعلان کی پاسداری نہ کرنا غلط نہیں۔ وعدہ اور وعید میں سے یہ وعدہ ہے کہ جسے اگر پورا نہ کیا جائے تو یہ بد اخلاقی ہے، اس لیے قبیح ہے اور خدا قبیح کا ارتکاب نہیں کرتا، لیکن وعید پر باوجود قدرت اور اختیار کے عمل نہ کرناعنایت سمجھاجاتا ہے اس لیے حسن ہے۔ چنانچہ خدا اگر کسی کو سزا نہ دے تو اسے کسی میعاد کی خلاف ورزی نہیں کہا جائے گا۔ البتہ وہ عنایت بھی کرے یہ خلاف عدل ہونے کی وجہ سے نہیں ہوگا۔

یہیں سے انبیا کی مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کا جواز سمجھ آ جاتا ہے کہ اگر یہ عنایت کے مستحق نہیں، تو کم از کم سزا سے نجات دے دی جائے اور خدا اس کا اختیار رکھتا ہے:

(یہ ابراہیم کی اولاد ہیں )۔ اِنھیں وہ واقعہ سناؤ، جب ابراہیم نے دعا کی تھی کہ میرے پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو اِس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کو پوجنے لگیں۔ پروردگار، اِن بتوں نے بہت لوگوں کو گم راہی میں ڈال دیا ہے۔ (یہ میری اولاد کو بھی گم راہ کر سکتے ہیں )، اِس لیے جو (اُن میں سے) میری پیروی کرے، وہ تومیرا ہے اور جس نے میری بات نہیں مانی، اُس کا معاملہ تیرے حوالے ہے، پھر تو بخشنے والا ہے، تیری شفقت ابدی ہے۔(ابراہیم: 35، 36]

یہ بھی پڑھیں:  رحمتوں سے بھر ے دن رات آنے والے ہیں

اب اگر آپ اُنھیں (مسیح علیہ اور ان کی والدہ کو بھی معبود بنانے والوں کو) سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ ہی زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں۔[المائدہ 118]

چنانچہ اگر خدا ظالموں کو عنایات اور انعامات سے محروم کرنے پر اکتفا کر لے یا انھیں فنا کر ڈالے5تو یہ خلاف عدل نہیں کہ مظلوم کی داد رسی ظالم کو سزا دینے پر منحصر نہیں، مگر ظالم پر عنایت خلاف عدل ظالم کی حوصلہ افزائی ہے۔ اسی طرح میرٹ پر آنے کے بعد خدا کی بے پایاں عنایات کا تعلق بھی رحمت سے ہے، مگر یہ عدل کے منافی نہیں، اس لیے روا ہے۔ یہاں بھی لیکن عدل بالکلیہ خارج نہیں ہوا۔ چنانچہ کسی غیر نبی پر خواہ کتنی عنایات ہو جائیں، وہ نبی کا درجہ نہیں پا سکتا۔

دنیا میں البتہ عنایات جتنی زیادہ ہوتی ہیں میرٹ میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

وحی سے مزید سہولت کی عنایت اور میرٹ میں اضافہ

وحی کے علم کے ذریعے سے انسانوں کے لیے عدل کے قیام میں مزید سہولت بھی فراہم کی گئی:

اللہ ہی ہے جس نے اپنی یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے اور (اِس طرح حق و باطل کو الگ الگ کرنے کے لیے) اپنی میزان نازل کر دی ہے۔
وحی کو ہدایت اور نور کہا گیا جو نفس اور جہالت کے ظلمات سے انسان کو عقیدے اور عمل کی درست اور متوازن راہ دکھائے۔

وحی کی عنایت ہوتے ہی انسان کے میرٹ میں اضافہ کر دیا گیا۔ ہر فرد کی جانچ اس کے میسر علم کے بقدر ہونے کا عادلانہ اصول مقرر ہوا تو وحی کے حاملین کا میرٹ بھی غیر حاملین سے زیادہ مقرر ہوا۔ عنایت (رحمت) اور عدل یہاں بھی باہم ممزوج ہیں۔ وحی کو براہ راست پانے والے انبیا کے محاسبے اور میرٹ کا معیار استدلال کی راہ سے وحی وصول کرنے والے عام لوگوں کے مقابلے میں کہیں بلند رکھا گیا۔ یونس علیہ السلام وحی کے براہ راست مخاطب تھے، انھیں ایک خطا پر مچھلی کے پیٹ میں بند کردیا گیا، پھر جب ندامت اور توبہ کی تو معافی ملی ورنہ وہی ان کا مدفن قرار پا گیا تھا۔ ادھر ان کی قوم شرک جیسے شدید گناہ اور اس پر سرکشی کے باوجود بغیر سزا کے محض توبہ کرنے پر معافی کی مستحق قرار پائی۔

خدا کی رحمت اس کے غضب پر بڑھی ہوئی ہے ،اس کے عدل پر نہیں۔

اخلاق و شرع اور عدل و رحمت:

کائنات کاتکوینی نظا م میزان عدل پر قائم ہے۔ اس میں معمولی تغیر عظیم فسادکا سبب بنتا ہے۔ انسان کو ارادہ اور اختیار، نسیان اور جہالت کے عوارض اور نفس اور شیطان کی ترغیبات دے کر نظام زندگی میں اسی میزان عدل کو قائم کرنے کی آزمایش میں مبتلا کیا گیا ہے۔ اس میں فطرت اور وحی کی رہنمائی سے انحراف فساد کا سبب بنتا ہے:

’’اور اُس نے آسمان کو اونچا کیا اور اُس میں میزان قائم کر دی کہ (اپنے دائرۂ اختیار میں) تم بھی میزان میں خلل نہ ڈالو۔اور انصاف کے ساتھ سیدھی تول تولو اور وزن میں کمی نہ کرو۔ ‘‘[الرحمن:7، 8، 9]

یہ اخلاقیات اور قانون کی میزان ہے۔ قانون کی بنیاد بھی اخلاقیات ہوتی ہے۔اس میزان کے توازن میں کوتاہی اور خلاف ورزی بھی فسادات کا سبب بنتی ہے۔ یہی فساد آخرت تک ممتد ہو جاتا اور انسان کو دنیا اور آخرت دونوں کے خسران میں ڈال دیتا ہے۔

اخلاق و شرع دونوں میں وحی کی ہدایات اور احکامات عدل اور رحمت کا امتزاج ہیں۔ عقیدے کے باب میں خدا کے وجود کو تسلیم کرنا اور اس پر بنا پر اس کی عبادت کرنا عقل و فطرت کا تقاضا بن کر سامنے آتا ہے تو دیانت داری کا تقاضا اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کے مقتضیات پر عمل پیرا ہونا ہے۔ یہی عدل ہے۔ وحی اسی عقلی استدلال کی طرف متوجہ کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ سہولت خدا کی رحمت سے صادر ہونے والی عنایت ہے تاکہ انسان عقل کی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرے۔

سماجی اخلاقیات کے باب میں سچی گواہی دینا،عداوت کے باوجود حق پر قائم رہناعدل ہے،سچ بولنا، جھوٹ سے بچنا، یہی میزان عدل کو قائم کرنا ہے، وحی اسی کی دعوت دیتی ہے۔ یہ دعوت رحمت کا نتیجہ ہے کہ انسان عدل قائم کر سکے۔

قانون کے باب میں فرائض کو استطاعت کے ساتھ متعلق کرنا اور حالت اضطرار میں احکام میں نرمی اور گنجایش اور ان کا معاف ہو جانا عدل کے اصول پر ہے اور یہ سب رحمت کا نتیجہ اور تقاضا بھی ہے۔ ایک کو دوسرے سے الگ کر کے دیکھا نہیں جا سکتا۔

انسان میں مکارم اخلاق کا حاسہ آگے بڑھ کر زیادہ اور بے لوث نیکی کرنا چاہتا ہے۔ وحی اس کی حوصلہ افزائی اور ترغیب دیتی ہے۔ یہ سراسر رحمت ہے۔ اس نیکی کا صلہ دینا البتہ عدل او رحمت کا تقاضا ہے۔

خدا کے فیصلے اعمال کی گنتی پر نہیں رویوں کی حقیقت پر کیے جائیں گے۔ یہ حکیمانہ عدل بھی ہے اور رحمت بھی۔

تسلیم و انکار کے رویوں کے دو درجے

تسلیم و انکار کے رویوں کے دو درجے ہیں: تسلیم کے دور درجےخود سپردگی (اسلام) احسان (اعلی درجے کی خود سپردگی) اور انکار حق کے در درجے غفلت پر اصرار اور سرکشی (غفلت پر اصرار میں جارحانہ رویہ دکھانا) ہیں۔ غفلت پر اصرار بھی سرکشی ہی کی ایک صورت مگر شدت اور جارحیت میں کھی سرکشی سے ایک درجہ کم ہے۔ تسلیم و انکار کے رویے کامیابی اور ناکامی کا معیار ہیں، جنھیں خدا کے علم کی روشنی میں عدل کے تقاضوں کے مطابق برتا جائے گا۔ رعایت کے مستحق رعایت پائیں گے اور میرٹ پر آنے والے بےپایاں عنایت سے سرفراز ہوں گے۔غیر مستحق اور میرٹ پر نہ آنے والے سزا کے مستحق اور اس کی عنایات سے محروم رہیں گے۔یوں رحمت اور عدل کے تقاضے پورے ہوں گے۔
خلاصہ یہ کہ خدا کی رحمت وعدل ایک کو دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا اورخدا کو اس کے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر عرفان شہزاد

اپنا تبصرہ بھیجیں