Tulsa_1

سفید فاموں کےہاتھوں قتل کیے گئے سیاہ فاموں کی یاد کیسے منائی جارہی ہے؟

EjazNews

سو برس قبل ایک نوجوان سیاہ فام شخص کو ایک خاتون کو زدوکوب کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد تاریخ کے بدترین نسلی تشدد کا آغاز ہوا۔ 31 مئی، 1921 کو ڈک رولینڈ کی گرفتاری کے بعد ان فسادات کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد سفید قوم پرستوں نے لوٹ مارکی اور عمارتوں کو آگ لگانا شروع کردیا اور وہاں مقیم سیاہ فام افراد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس موقع پر پولیس ناصرف خاموش تماشائی بنی رہی بلکہ سفید قوم پرستوں کی سرپرستی بھی کرتی رہی۔ جس کے نتیجے میں 300کے قریب افراد کو ہلاک کیا گیا۔ جبکہ 10ہزار افراد بےگھر ہوئے۔

Tulsa
ٹلساکے میئر جی ٹی بائنم نے اس کیس کو 2018ء میں دوبارہ کھولا اور شہر نے اسٹبل فیلڈ جیسے ارضیاتی سروے کرنے والوں کی اُجرت پر خدمات حاصل کیں۔

اسٹبل فیلڈ کے والدین ٹلسامیں رہتے تھے اور اُن کے دادا کی بہن، اینا وڈز اس قتل عام سے بچ گئی تھیں۔ اوکلا ہاما کمیشن نے 20 برس قبل ایک رپورٹ تیار کی جس میں اجتماعی قبر تلاش کرنے کا کہا گیا اور اس قتل عام سے بچ جانے والوں یا اُن کے ورثا کو تاوان دینے پر غور کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
اس وقت ٹلساشہر کے عہدیداروں نے اس رپورٹ اور سفارش کو نظرانداز کر دیا تھا۔ تاہم آج اس رپورٹ کے 20 برس کے بعد قبر کشائی کی جا رہی ہے۔ ٹلساکے میئر جی ٹی بائنم نے اس کیس کو 2018ء میں دوبارہ کھولا اور شہر نے اسٹبل فیلڈ جیسے ارضیاتی سروے کرنے والوں کی اُجرت پر خدمات حاصل کیں۔

یہ بھی پڑھیں:  15سالہ برہان وانی کی شہادت کے بعد 2ماہ تک مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا رہا

اسٹبل فیلڈ نے کہا، ہم اس سچائی کی سمت میں کام کر رہے ہیں اور دوبارہ اُس تاریخ کو رقم کر رہے ہیں جسے ٹلسااور ریاست کے سابقہ لوگوں نے مٹانے کی کوشش کی۔

48 گھنٹوں کے دوران ٹلساکے سفید فاموں نے ٹلساکے سینکڑوں سیاہ فاموں کو مار ڈالا اور 800 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ بلوائیوں نے لوٹ مار کی، اور گرین وڈ میں گھروں، کاروباروں اور دیگر اداروں کو جلایا اور تباہ کیا۔ بک کولبرٹ فرینکلن، شہری حقوق کے وکیل تھے۔ اپنے دفتر کی کھڑکی سے اُن کے آنکھوں دیکھے احوال کے مطابق، انہوں نے ہوا میں کئی ایک جہازوں کو چکر لگاتے دیکھا اور ایسی آوازیں سنیں جیسے عمارتوں پر اولے برس رہے ہوں۔ جب انہوں نے بہت ساری عمارتوں کو چھتوں سے جلتے ہوئے دیکھا تو انہیں احساس ہوا کہ بلوائی فضائی حملے بھی کر رہے ہیں۔ اپنے دفتر سے جان بچا کر بھاگتے ہوئے فرینکلن نے فٹ پاتھ پر تارپین کے جلتے ہوئے گولے دیکھے۔فرینکلن نے اس قتل عام سے بچ جانے والوں کاعدالت میں دفاع کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  نہر سویز میں پھنسنے والے جہاز پر 9ملین ڈالر جرمانہ

انہوں نے ایک خیمے میں اپنا دفتر بنایا کیونکہ بلوائیوں نے ان کا دفتر جلا دیا تھا۔ اُن کے کام کی وجہ سے اوکلاہوما سپریم کورٹ نے ٹلساکے اس آرڈی ننس کو کالعدم قرار دیا جس کے تحت قتل عام سے بچ جانے والوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا تھا کہ وہ اپنے گھروں کی دوبارہ تعمیر میں آگ سے محفوظ رکھنے والا سامان استعمال کریں۔

Tulsa2
انہوں نے ایک خیمے میں اپنا دفتر بنایا کیونکہ بلوائیوں نے ان کا دفتر جلا دیا تھا۔ اُن کے کام کی وجہ سے اوکلاہوما سپریم کورٹ نے ٹلساکے اس آرڈی ننس کو کالعدم قرار دیا جس کے تحت قتل عام سے بچ جانے والوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا تھا کہ وہ اپنے گھروں کی دوبارہ تعمیر میں آگ سے محفوظ رکھنے والا سامان استعمال کریں۔

فرینکلن کی نظر میں یہ آرڈیننس شہر کی زمین پر قبضہ کرنے کے مترادف تھا۔مقامی عہدیداروں اور قانون نافذ کرنے والوں نے کبھی بھی کسی کو قتل عام میں اس کے کردار کی وجہ سے جوابدہ نہیں ٹھہرایا۔ قتل عام سے بچ جانے والے اُن لوگوں کو جن کے گھر اور کاروبار تباہ کر دیئے گئے تھے زرتلافی کبھی بھی نہیں ادا کی گئی۔ دہائیوں تک ہلاک کیے جانے والوں کو سرکاری طور پر یاد رکھنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  لبنان کا بحران ختم ہو ہی گیا

امریکی صدر جو بائیڈن قتل عام کی 100ویں پر ٹلسا جائیں گے اور مقتولین کے ورثا سے ملیں گے اور گرین ووڈ کے ثقافتی مرکز کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے نسل پرستی کا مقابلہ کرنے، نسلی مساوات کو فروغ دینے اور پسماندہ طبقات کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس حوالے سے قتل عام کے 100 سال منعقد ہونے پر امریکا میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ٹلسا کے نسلی قتل عام کے 100سال بعد بھی افریقی/ امریکی اب بھی اپنے آپ کو مسترد شدہ سمجھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں