india

بھارتی معیشت تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار

EjazNews

غیرملکی میڈیاکےمطابق رواں مالی سال کےدوران بھارت کی معیشت تاریخ کی بدترین سطح پرآنے پر ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کا طوفان آنے کا خدشہ پیدا ہوگیا،رواں مالی سال جی ڈی پی منفی 7.3 فیصد رہی ہے جو تاریخ کی کم ترین سطح ہے جب کہ گزشتہ مالی سال 2019-20کے دوران جی ڈی پی 4 فیصد رہی تھی۔ جنوری اور مارچ کےدوران اقتصادی ترقی کی شرح صرف 1.6فیصد رہی تھی۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق بھارت میں رواں مالی سال میں مالی خسارہ بھی جی ڈی پی کے 9.3فیصد تک پہنچ گیا ہے جب کہ زراعت کے شعبے میں بھی تنزلی دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ مودی سرکاری کی کسان مخالف پالیسی ہے،بھارتی حکومت نے معیشت کی تنزلی کی وجہ کورونا وبا کو قرار دیا ہے بالخصوص گزشتہ 3 ماہ کے دوران کورونا کیسز میں اضافہ ہوا اور اس کے باعث آکسیجن کی قلت کی وجہ سے ہزاروں افراد جانوں سے گئےتاہم آزاد ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کورونا وبا کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے سخت لاک ڈاؤن کیا گیا لیکن تاجروں کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا اسی طرح ایکسپورٹ پالیسی بھی ناکام ثابت ہوئی، بھارت کے جانے مانے سیاسی تجزیہ کاروں کا بھی کہنا ہے کہ مودی سرکار نے ساری توجہ اقلیتوں اور مخالف جماعتوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں مرکوز رکھی جب کہ ملک کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک کورونا بحران کے دوران معاشی طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی صدر نے ویٹو پاور استعمال کر لی

اپنا تبصرہ بھیجیں