fathers Day

والد صاحب کی نیکیوں کا ثمر

EjazNews

قیامِ پاکستان کے بعد میرے والد صاحب مرحوم نے بھارت کے شہر، اِندور سے ہجرت کرکے ضلع ٹھٹھہ کے ایک چھوٹے سے شہر، جنگ شاہی میں سکونت اختیار کی۔ نئی مملکت کے اس چھوٹے سے پس ماندہ شہر میں روزگار کے حصول میں ناکام رہے، تو چھوٹے موٹے کام کے بعد گھر کے قریب ہی بچّوں کے کھلونوں کی ایک چھوٹی سی دکان کھول لی، جو کہ کچھ عرصے میں ایک جنرل اسٹور میں تبدیل ہوگئی۔ اُس دَور میں یہ علاقہ تمام تر بنیادی سہولتوں سے محروم تھا، بجلی تھی، نہ ہی کوئی میڈیکل اسٹور۔ محلّے کی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے انہوں نے دکان میں مرہم پٹّی کے سامان کے علاوہ چند ضروری ادویہ بھی رکھ لیں، جو ایمرجینسی کی صورت میں بہت کام آتی تھیں۔ اس تمہید کے بعد جو واقعہ میں آپ کے سامنے بیان کرنے جارہا ہوں،یہ میری پیدائش کے وقت کا ہے اور میرے بڑے بھائی، حاجی خلیل الرحمٰن مرحوم نے مجھے سنایا تھا۔سو، انہی کی زبانی آپ کے نذر کررہا ہوں۔

’’اُس روز بھی والد صاحب دکان پر موجود گاہکوں کو نمٹا رہے تھے کہ عین مغرب کے وقت چند افراد بدحواسی کے عالم میں ایک زخمی نوجوان کو لے کر آئےاور والد صاحب کو بتایا کہ اللہ ڈنو نامی یہ نوجوان جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ اچانک اُس کے ہاتھ سے کلہاڑی چُھوٹ کر دوسرے ہاتھ پرگری اور خون کا فوارہ جاری ہوگیا۔ زخم کافی گہرا تھا، والد صاحب نے فوری طور پر روئی (کاٹن) لے کر خون روکنے کی دوا، جسے طبی زبان میں ٹنکچر آیوڈین کہا جاتا ہے، زخمی نوجوان کے ہاتھ پر لگا کر ایک سادہ سی پٹّی باندھ کر تلقین کی کہ اسے فوراً سول اسپتال، ٹھٹھہ لے جائیں۔ دوا لگانے سے اللہ ڈنو کے ہاتھ سے بہنے والا خون رک گیا تھا، جس کے بعد اس کے والد اور بھائی اسے فوری طور پر اٹھارہ کلو میٹر دور واقع سول اسپتال ٹھٹھہ لے گئے۔ جہاں ڈیوٹی پر موجود آر ایم او ڈاکٹر نے اسے فوراًایڈمٹ کرکے زخم پر گیارہ ٹانکے لگادیئے۔ دوسری صبح سول سرجن مریضوں کا چیک اپ کرتے ہوئے جب اللہ ڈنو کے پاس پہنچے، تو اس کے گہرے زخم دیکھ کر ٹھٹک گئے، انہوں نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سے پوچھا، تو آرایم او نے انہیں مکمل تفصیلات سے آگاہ کردیا۔ سول سرجن یہ بات سن کر بہت حیران ہوئے، انہوں نے اللہ ڈنو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جن صاحب نے تمہیں فوری طبی امداد دے کر یہاں بھیجا، واپس جاکر ان کا بہت شکریہ ادا کرنا، ان کی فوری طبی امداد اور بروقت ٹنکچر آیوڈین لگانے کی وجہ سے تمہاری جان بچی، ورنہ زیادہ خون بہنے کی وجہ سے کچھ بھی ہوسکتا تھا۔‘‘ سول سرجن کی بات سن کر اللہ ڈنو، اس کے والدین اور دیگر اہلِ خانہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ خیر، دوسرے دن اللہ ڈنو کی اسپتال سے چھٹی کردی گئی۔ جب وہ جانے لگے، تو آرایم او نے اچھی خاصی تعداد میں بینڈیج (پٹّی)، کاٹن (روئی) اور ٹنکچر آیوڈین سمیت چند ضروری ادویہ میڈیکل اسٹور سے منگواکر اُن کے حوالے کیں اور ہدایت کی کہ یہ تمام ادویہ سول سرجن کی طرف سے جنگ شاہی جاکر اُن صاحب کو (اسماعیل صاحب) دے دینا اور ہمارا سلام بھی کہنا۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹرک آر ٹ کا زمین سے فضا تک کا سفربڑا دلچسپ ہے

اللہ ڈنو اور اُس کے اہلِ خانہ نے یہ سوچا کہ جب ڈاکٹر صاحب، اسماعیل صاحب کے اتنے ممون ہیں، تو ہم لوگوں کو تو اُن کا بہت زیادہ شُکر گزار ہونا چاہیے۔ یہ سوچ کر واپسی پر یہ لوگ سیدھے ہمارے گھر آئے اور آر ایم اوکی طرف سے دی گئی ادویہ اور دیگر سامان والد صاحب کی خدمت میں پیش کرکے ڈھیروں دعائوں سے نوازا۔ اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ سندھ میں رہنے والے اور سندھی زبان بولنے والوں پر اگر کوئی چھوٹا سا بھی احسان کردے، تو زندگی بھر اس کے ممنون و احسان مند رہتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ والد صاحب کے ساتھ بھی ہوا۔ اللہ ڈنو جب مکمل صحت یاب ہوگیا، تو اپنے گائوں سے وقتاً فوقتاً ڈھیر ساری سبزیاں، دیسی مکھن، دیسی انڈے وغیرہ بطور تحفہ لانے لگا۔ والد صاحب نے کئی بار اسے منع بھی کیا، لیکن وہ نہیں مانا، ان کی غیر موجودگی میں بصد اصرار مختلف چیزیں ہمیں دے کر چلا جاتا، حتیٰ کہ سردیوں میں مرغابیاں بھی لا کر دیتا، اور تو اور جب والد صاحب بیمار ہوئے اور انہیں دمے کا مرض لاحق ہوا، تو ان کے لیے گائوں سے تیتر بھی لے کر آیا۔ چھوٹی سی نیکی کے اتنے بڑے بدل کا جذبہ دیکھ کر ہمیں حیرت ہوتی تھی۔ تاہم، اس بات کا یقین تھا کہ یہ ہمارے والد صاحب کی نیکیوں کا ثمر تھا، جو انہیں ملتا رہا۔ اُن کی پوری زندگی نیکیوں اور فلاح عامہ کے کاموں ہی میں گزری۔ فروری 2014ء میں مختصر علالت کے باعث وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اللہ پاک اُن کو غریقِ رحمت کرے اور ہمیں اُن کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھیں:  سافٹ وئیر سے علاج

محمد اسحاق قریشی