Gold bricks

برا انجام

EjazNews

ایک دن حضرت عیسیٰ ؑ کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ ان کو ایک آدمی ملا ۔ اس نے آپ ؑ کو ساتھ چلنے کی درخواست کی۔ آپؑ نے خوشی سے قبول کر لی اور دونوں ایک ساتھ چل پڑے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اس آدمی کو ایک رومال پکڑایا اور کہا ’’اس میں تین روٹیاں ہیں۔ ان کو سنبھال کر رکھ لو جہاں کہیں بھوک محسوس ہو تو بتا دینا۔ ہم مل کر کھانا کھالیں گے۔‘‘

اس آدمی کو بہت خوشی ہوئی کہ اس کو سفر میں ساتھی تو ملا ہی تھا اب خوراک کا بھی بندوبست ہو گیا۔ ابھی انہوں نے تھوڑا فاصلہ طے کیا تھا کہ اس آدمی کو بھوک لگ گئی ۔ اور اس نے حضرت عیسیٰ ؑ کی نظروں سے بچتے ہوئے چپکے سے ایک روٹی رومال سے نکالی اور کھالی۔ جب کچھ فاصلے پرحضرت عیسیٰ ؑ نے رک کر کھانا کھانے کے لیے بیٹھ گئے اور اس آدمی سے فرمایا ’’آئو! اب ہم کھانا کھالیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  چوتھے بھائی کی سرگزشت

لیکن جب رومال کھولا تو اس میں صرف دو روٹیاں تھیں۔ آپ ؑ نے اس آدمی سے پوچھا کہ یہ تو دو روٹیاں ہیں۔ تیسری روٹی کہاں گئی؟۔وہ صاف مکر گیا کہ اس رومال میں دو روٹیاں ہی ہوں گی۔مجھے معلوم نہیں کہ اس میں دو روٹیاں تھیں یا تین ؟۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اس کی بات سنی تو خاموش ہو گئے اور دونو ں نے مل کر کھانا کھالیا۔ کھانے کے بعد دونوں ایک مرتبہ پھر اپنی منزل کی طرف چل پڑے۔ راستے میں حضرت عیسیٰ ؑ نے اس آدمی کو کئی معجزے دکھائے۔ اگر یہ معجزے کوئی اور دیکھتاتو وہ آپؑ کی عظمت اور بزرگی کو مان کر سچ بول دیتا لیکن اس سے دوبارہ پوچھنے پر وہ پھر جھوٹ بول گیا کہ اس کو کیا معلوم کہ تیسری روٹی کہاں گئی؟۔

آپؑ گھر سے دو روٹیاں ہی لائے ہوں گے۔ ابھی دونوں چل رہے تھے کہ راستے میں انہیں سونے کی تین اینٹیں رکھی نظر آئیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا ’’ ان میں س ایک اینٹ تم اور ایک میں رکھ لیتا ہوں۔ تیسری اینٹ اس کو دیں گے جس نے تیسری روٹی کھائی تھی۔‘‘ یہ سن کر وہ آدمی فوراً بولا تو میں نے ہی کھائی تھی اب دو اینٹیں میری ہوئیں اور ایک آپؑؑ رھ لیں۔‘‘حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ تم تمام اینٹیں رکھ لو۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  آزاد فضا

یہ فرما کر آپؑ وہاں سے چلے گئے او وہ لالچی آدمی سوچنے لگا کہ وہ ان اینٹوں کو کیسے اٹھا کر لے جائے؟ ابھی وہ سوچ رہا تھا کہ وہاں تین بھوکےڈاکو آگئے۔ انہوں نے ایک کمزور آدمی کے پاس سونے کی تین اینٹیں دیکھیں تو اس آدمی کو مار دیا۔ تینوں ڈاکو بھوکے تھے اس لیے انہوں نے اپنا ایک ساتھی قریبی گائوں میں کھانا پکوانے کے لیے بھیج دیا کہ کھانا کھا کر ہم ایک ایک اینٹ لے کر اپنے گھر چلے جائیں گے۔ جو ڈاکو کھانا لینے گیا تھا اس نے سوچا کہ اگر میں کھانے میں زہر ملا دو ں تو تینوں اینٹیں میری ہوں گی۔ یہ سوچ کر اس نے کھانے میں زہر ملا دیا اور کھانا لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس چلا گیا۔ ادھر اس کے دونوں ساتھیوں نے مشورہ کیا کہ اگر وہ دونوں مل کر تیسرے ساتھی کو مار دیں تو ڈیڑھ ڈیڑھ ان کو مل جائے گی۔ جب ان کا ساتھی آیا تو دونوں نے مل کر اس پر حملہ کر دیا اور اس کو جان سے مار دیا۔ اب وہ دونوں بہت خوش ہوئے اور کھانا کھانے لگے۔ کھانے کے بعد زہر نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا اور تھوڑی دیر میں وہ دونوں زمین پر تڑپ تڑپ کر مر گئے اور سونے کی اینٹیں ویسی کی ویسی وہیں پڑی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  عقل مند فقیر

اچھے بچو!
کسی کے لیے برا سوچنے کا انجام بھی برا ہوتا ہےپھر جھوٹ اور لالچ کا انجام بھی اچھا نہیں ہوتا۔

کیٹاگری میں : بچے