peacekeeper_pk

پاکستان نے عالمی برادری کے ساتھ مل کر پیس کیپرز کا عالمی دن منایا

EjazNews

1960 سے اب تک 2 لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے 26 ممالک میں اقوام متحدہ کے 46 امن مشنز میں جرات وبہادری سے خدمات انجام دی ہیں جو تقریباً دنیا کے تمام براعظم بنتے ہیں۔

ہمارے پیس کیپرز ہر جگہ اور ہر امن مشن میں اپنی پیشہ وارانہ قابلیت اور جذبے کی بدولت نمایاں رہے ہیں۔

ہمارے 157 بہادر پیس کیپرز نے عالمی امن وسلامتی کے مقصد کی خاطر فرض کی راہ میں جام شہادت نوش کیا ۔ پاکستان نے ریکارڈ وقت میں خواتین پیس کیپرز کی تقرری میں بھی قائدانہ کردار ادا کردیا ہے۔

2019 میں پاکستان نے اقوام متحدہ سیکریٹریٹ کے عملے وافسران کے درجہ میں متعین کردہ معیار کے مطابق 15 فیصد کا ہدف پورا کیا۔
چار پاکستانی خواتین افسران کی ٹیم اس وقت اقوام متحدہ کے امن دستوں میں اولین تمام خواتین کے گروپ کے طورپر خدمات انجام دے رہی ہے جو عوامی جمہوریہ کانگو میں تعینات ہے جس میں سائیکالوجسٹس، ذہنی دبائو کے علاج کے ماہرین کے علاوہ فنی تربیت دینے والے افسران، صنفی امور پر مشاورت فراہم کرنے والے، ڈاکٹرز، نرسز، آپریشن افسران، انفارمیشن افسران اور لاجسٹکس افسران شامل ہیں۔عملی طورپر امن کے قیام کی کاوشوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں میں پالیسی سازی کی سطح پر بھی پاکستان نے فعال کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خورشید شاہ کو نیند کی گولیاں کم پڑ گئی ہیں۔وزیراطلاعات

پاکستان نے امن کے قیام کی کوششوں میں منفرد تصور دیا، نہ صرف سب سے زیادہ دستے امن کارروائیوں کے لئے فراہم کئے بلکہ دنیا کے قدیم ترین امن کے قیام کے مشن یعنی اقوام متحدہ کے بھارت اور پاکستان کے لئے فوجی مبصر گروپ (یواین ایم او جی آئی پی) کی میزبانی بھی کی۔ہم امن کے قیام کے لئے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں جو دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کا ایک موثر طریقہ کار ہے۔