shahbaz sharif

مریم نواز سیاستدان ہیں انہیں گرومنگ کی ضرورت ہے:میاں شہباز شریف

EjazNews

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ کا کہنا تھا نوازشریف نے بہت عزت دی ہے، قومی مفاد کیلئے نوازشریف کے پاؤں بھی پکڑنے پڑے تو پکڑوں گا، ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا میرے خلاف کیسز بلاجواز ہیں، عدالت نے میرٹ پر میری ضمانت منظور کی، کرپشن ،کک بیکس، منی لانڈرنگ ٹی ٹیز کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا، نیب نے اعتراف کیا مجھ پر ناجائز آمدن کا کوئی ثبوت نہیں، میں نہیں چاہتا نیب کی چکی میں میرا مخالف بھی پسے ۔

ایک انٹرویو میں میاں شہباز شریف نے کہا کہ میں نے خود سنا ہے جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے بہت عزت دی ہے اور دفاع سے متعلق کسی بات سے انکار نہیں کیا ۔ ہم ماضی کی قید میں نہیں رہ سکتے اس طرح سے ملک آگے نہیں چل سکتا ہمیں مشاورت کے ساتھ چلنا ہوگا تمام اداروں کے آئین کی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا اور کسی ایک ادارے کی بساط نہیں ہے کہ پاکستان کو ان مشکلات سے نکال لے ضروری ہے اجتماعی بصیرت و کاشیں بروئے کار لائی جائیں ۔ نوازشریف انسان ہیں جو کچھ اُن کے ساتھ ہوا ہے پانامہ سے اقامہ تک اور پھر گھروالوں کو گرفتار کیا گیا ۔ اگر ہم طے کرلیں نیو سوشل آرڈر اس میں فری اینڈ فیئر الیکشن، تمام ادارے اپنے دائر میں رہ کر کام کریں ، عدلیہ آزاد ہو۔ کشمیر ، فارن پالیسی افغانستان ان تمام ایشوز کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہے تو جتنے بھی متعلقہ ادارے ہیں ان کے ساتھ باہمی مشاورت کر کے روڈ میپ تیار کیا جاسکتا ہے ۔ اور اس کے لیے نوازشریف بالکل تیار ہیں میں گارنٹی دینے کو تیار ہوں لیکن اس معاملے میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا میں جب بھی کوئی ٹرین کاحادثہ ہوتا ہے وزیر استعفیٰ دیتا ہے کیونکہ اس کے نیچے انکوائری ٹھیک نہیں ہوتی:وزیراعظم کا پرانا بیان

انہوں نے کہا آپ کو اعتماد ہے کہ مسلم لیگ نون کی جو حالیہ پوزیشن رہی ہے اداروں کے حوالے سے یہ بہتر ہوسکتی ہے اس کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے قومی مفاد کے لیے مجھے نوازشریف کے پاؤں بھی پکڑنے پڑے تو کروں گا کیوں کہ یہ میرا قومی فریضہ ہے ۔ مریم نواز ، حمزہ ان سب کا حق ہے بھرپور سیاست کریں۔ عمران خان کا انا ، ضد اور غرور کا کیا کہوں انہوں نے مجھے جو خط لکھا اس میں میرا نام ، عہدہ اور ایڈرس تک نہیں ڈالا وہ اتنی نفرت کرتے ہیں میں نے اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان لکھا۔

انٹرویو میں چوہدی نثار سے متعلق شہباز شریف نے کہا کہ چوہدری نثار سے میری نہیں نوازشریف کی دوستی تھی، شروع میں چوہدری نثار میرے مخالف تھے پھر بہت اچھے دوست بن گئے اور دوستی کا تعلق بہت غلط موڑ پر ٹوٹا ، اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا میری والدہ کا انتقال ہوا تھا تو تشریف لائے تھے اس پر ان سے ملاقات ہوئی تھی ۔ اُن کا حلف اٹھانے کا فیصلہ خالصتاً اُن کا ہی ہے میری ان سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی، پی ڈی ایم میں کوئی پارٹی مجاز نہیں ہے فیصلہ سنانے کی تمام پارٹیوں کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سینئر صحافی مطیع اللہ جان لاپتہ

انہوں نے مزیدکہا کہ حکومت کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ہمیں نتائج نہیں مل رہے ورنہ آج سی پیک کہیں سے کہیں چلا گیا ہوتاریلوے کا پراجیکٹ پشاور ٹو کراچی کٹھائی میں پڑ گیا ہے انڈیسٹریل اسٹیٹ لگنے تھی جس پر چائنا نے اپرول دے دی تھی وہ معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا ہورہا ہے اسمیں پاکستان کا کلیدی کردار ہے دوحہ ٹاکز میں پاکستان نے بہت مدد کی ہے لیکن افغانستان اور ہمارے لیے کیا اچھا ہوگا یہ دیکھنا چاہیے۔ پارلیمنٹ کو تالا لگا دیا گیا آرڈیننس کی فیکٹری کھول دی گئی ہے۔

میاں شہباز شریف نے کہا کہ کینسرکامریض ہوں ہر سال برطانیہ میں چیک اپ کرواتا ہوں ، جیل میں ، میں خط لکھ لکھ کر تھک گیا کہ میرا چیک اپ کیا جائے عمران خان نے بورڈ نہیں بنایا کورٹ سے درخواست کی پھر بورڈ بنایا اس نے رپورٹ دی تو مجھے رپورٹ نہیں دی گئی پھر عدالت سے درخواست کی پھر عدالت نے آرڈر کیے اور رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فور ی چیک ا پ کی اشد ضرورت ہے۔میں نے قطر ایئر بیس کی فلائٹ لی ان دنوں میں ترکی ریڈ لسٹ پر نہیں تھا دس دن وہاں روک کر برطانیہ جایا جاسکتا تھا میں اپنی صحت سے متعلق جارہا تھا کسی فضول کام کے لیے نہیں جارہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور ہائیکورٹ نے خواجہ آصف کی ضمانت منظور کر لی

مریم نواز سیاستدان ہیں انہیں گرومنگ کی ضرورت ہے، مریم نواز کے والد بیٹھے ہیں وہ انہیں گروم کریں گے۔ انتخابی اصلاحات سے متعلق سوال پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے بغیر کوئی بھی ایک قدم آگے نہیں بڑھاسکتا، انتخابی اصلاحات کا مطلب مشینیں لانا ہے تو کون ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش کررہا ہے، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنا چاہئے اس سے ہمیں انکار نہیں ہے۔