sabar_ka_imtehan

صبر کا امتحان کڑا تھا

EjazNews

مجھے یہ واقعہ میری بچپن کی سہیلی سائرہ نے سُنایا، جو اپنی والدہ سے ملنے کراچی آئی ہوئی تھی۔ مَیں اُسے سُن کر ششدر رہ گئی۔ ایسے واقعات مَیں نے قصّے کہانیوں ہی میں سُنے، پڑھے تھے کہ ساس یا سوتیلی ماں نے ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے۔سائرہ کی شادی کے بعد ہم دونوں کا ملنا جلنا ختم ہوگیا تھا، کیوں کہ وہ رخصت ہو کرکراچی سے لاہورچلی گئی تھی اور اس کی شادی بھی ہنگامی طور پر ہوئی تھی۔ سائرہ کے والد سفیان اور اس کے سُسر حامدصاحب آپس میںگہرے دوست تھے۔ پہلےحامد صاحب بھی کراچی ہی میںرہتے تھے، مگر پھرکاروبار کے سلسلے میں لاہور شفٹ ہوگئے۔ البتہ اپنے دوست سے میل جول برقرار رکھا ۔ وہ جب بھی اپنے کام کے سلسلے میں لاہور سے کراچی آتے،تو سفیان ہی کے گھر دوچار دِن قیام کرتے ۔ سائرہ سے انہیں بہت محبّت تھی،اسی لیے انہوں نے باتوں باتوں میں سائرہ کا رشتہ اپنے بیٹے نعمان سے کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ سائرہ کے والد خوش ہوگئے کہ دوستی ،رشتے داری میں بدل جائے گی، مگر سفیان صاحب اچانک بیمار پڑگئےاوربات ٹل گئی۔ بیماری نے اتنا طول پکڑاکہ گھر میں موجود ساری جمع پونجی حتیٰ کہ بیٹی کے جہیز کی بچت تک بیماری پر لگ گئی، پھر بھی وہ جانبر نہ ہوسکے۔سفیان کےآخری وقت میں حامدصاحب اپنی کسی ذاتی مجبوری کے سبب پہنچ نہ سکے،البتہ انتقال کی خبر پربیٹے کو ساتھ لے آئے۔ سوئم میں شرکت کے بعد حامد نے سائرہ کی والدہ سے کہا کہ وہ اپنےمرحوم دوست کی آخری خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں اور وہ اچھی طرح جانتے ہیںکہ ان کے لیے ان حالات میںبچّی کو بیاہنا آسان نہیں، مگر وہ نکاح کے بعداُسے ان دو کپڑوں ہی میں رخصت کرکے لے جانا چاہتے ہیں۔ سائرہ کی والدہ نے، جو حقیقتاً بیٹی کے لیے بہت پریشان تھیں، بڑوں سے مشورےکےبعد کسی جہیز وغیرہ کے بغیرہی بیٹی کو دو جوڑوں میںرخصت کردیا۔ یوں وہ لاہور چلی گئی اور اس کے کچھ عرصے بعد میرا اس سے رابطہ ٹوٹ گیا،البتہ یہ ضرورپتا چلا کہ سائرہ کو اللہ نے اولادِ نرینہ سے نواز ا ہے۔

ایک تقریب میں سائرہ کی والدہ سے ملاقات ہوئی ،تو ان کی زبانی پتا چلا کہ سائرہ کی ساس زرینہ بیگم کو اس نکاح سے شدید صدمہ پہنچا تھا۔ وہ سفیان صاحب کی زندگی ہی میں ان کے بگڑتے مالی حالات کے بارے میں سُن کر اپنے بیٹے کے لیے کسی کھاتے پیتے گھرانے کی بہو تلاش کرچُکی تھیںاور جب وہ اس کا رشتہ لے کرجانے کی تیاریاں کررہی تھیں، تو باپ ،بیٹاسائرہ کو بہو بناکے گھر لے آئے۔ حامد صاحب کوبیوی کے ارادوں کا اندازہ نہیں تھا۔اُن کا خیال تھا کہ نعمان، سائرہ کو ایک نظر دیکھ لے، اُس کے بعد ہی بات آگئے بڑھائی جائے۔ یہ بات دِل میں طے کرکے انہوں نےنعمان کو ساتھ لیا اور تعزیت کےلیے چلے گئے۔نعمان نےسائرہ کو دیکھا،پسند کیا،تو حامد صاحب سائرہ کو نکاح پڑھوا کر ساتھ لے آئے، لیکن جب وہ سب گھر پہنچے، تو وہاں جیسے صفِ ماتم بچھ گئی۔ نعمان کی ایک طلاق یافتہ بہن نگہت اپنے چھے سالہ بیٹے جنید کے ساتھ والدین کے گھر رہ رہی تھی۔ اُسی نےبھائی کے لیے اونچے گھرانے کی لڑکی بیاہ کر لانے کے خواب اپنی ماں کو دکھائے تھے ،لہٰذا دونوں ماں، بیٹی نے سائرہ کو قبول نہیں کیا۔ زرینہ اپنے بیٹے پر خُوب گرجیں برسیں کہ اس نے اس نکاح کے لیے رضامندی کیوں دی ،جب کہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ اس کے لیے لڑکی پسند کرچُکی ہیں۔جس پر نعمان نے بتایا کہ ’’سفیان انکل کی موت پر والد کی حالت دیکھ کر مَیں نکاح سے انکار کی ہمّت نہ کرسکا۔‘‘ قصّہ مختصر، کچھ ہی دِنوں میں زرینہ بیگم، نعمان کو یہ باور کروانے میں کم یاب ہوگئیں کہ سائرہ کا کسی اعتبار سے نعمان سے کوئی جوڑ نہیں۔جب کہ سائرہ ایک خوش شکل اور خُوب سیرت لڑکی تھی۔اس نے سارے گھر کی ذمّے داریاں سنبھال کر بہت خوش اسلوبی سے نبھانے کی کوشش کی، مگر ان تینوں کے ماتھے کے بل جوں کے توں رہے۔ سائرہ کی والدہ ایک دوبار بیٹی سے ملنے آئیں، تو ان لوگوں نے تیوریاں چڑھالیں اور طنز و تشنیع سے ان کا دو دِن ٹھہرنا دوبَھر کردیا۔ سائرہ نے ان کی بے عزّتی کے پیشِ نظر انہیں سُسرال آنے سے منع کردیا، جس کے بعد وہ بیٹی کی شکل بھی دیکھنے کو ترس گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی صدر ٹرمپ بھی نوبیل انعام حاصل کرنے کے خواہش مند

زرینہ بیگم نے اندر ہی اندریہ کھچڑی پکائی کہ کسی بھی طرح نعمان کی دوسری شادی کروادی جائے، جب کہ حامد صاحب ان تمام تر معاملات سے بےخبر تھے ۔ان کی کاروباری مصروفیات ہی ایسی تھیں کہ گھر میں وقت کم گزرتا۔ وہ مطمئن تھے کہ سائرہ، نعمان کے ساتھ خوش گوار زندگی گزار رہی ہے، کیوں کہ ان کے سامنے، ساس، نند اور شوہر ’’سب اچھا ہے‘‘ کا بَھرپور ڈراما کرتے نظر آتے۔ پوتے کی پیدایش کے بعد زرینہ بیگم کو اپنے خواب بکھرتے دکھائی دیئے، تو انہوں نے اپنی مہم تیز کردی، کیوں کہ نعمان کی بچّے سے محبّت ایک فطری امر تھا۔ اس سے پہلے کہ بیٹا بدل جاتا، اُنہوں نے اُسی امیر گھرانے میں جاکر لڑکی کا ہاتھ مانگ لیا۔ لڑکی خُوب صُورت تھی، مگر کسی وجہ سے اس کا کئی بار رشتہ ٹوٹ چُکاتھا۔ زرینہ بیگم نے انہیں نعمان کی پہلی شادی سے متعلق بتاتے ہوئے ایسی جھوٹی داستان سُنائی کہ اُن لوگوں کو نعمان کی حالت پر ترس آنے لگا۔ نعمان ہر اعتبار سے ان کے لیے قابلِ قبول تھا، مگر وہ صرف پہلی بیوی کی وجہ سے ہچکچا رہے تھے۔ بچّے کے بارے میں انہیں یہ بتایا کہ جب شادی کے سات ماہ بعد سائرہ کا بیٹا پیدا ہوا تو انہوں نے اس کے میکے جاکر تحقیق کروائی۔ پتا چلا کہ سائرہ کے محلّے میں کسی لڑکے سے مراسم تھے۔ اسی صدمے سے باپ چل بسا۔ جب کہ حامد صاحب ان سارے معاملات سے لاعلم رہے اوردوست کی محبّت میں شادی کے لیے ہاں کربیٹھے۔ یوں اس خاندان کو شیشے میں اُتارکر ان دونوں ماں، بیٹی نے اُن سے رشتہ پکا کرنے کی ہامی بھروالی۔ البتہ لڑکی نے والدین سے کچھ وقت مانگ لیا۔ نعمان کو زرینہ بیگم نے ساری بات بتاکر اس پر دبائو ڈالا کہ وہ اس جھوٹ میں ساتھ دے، تب ہی اس کی دوسری شادی ہوگی۔ نعمان بچّے کے معاملے میں ذہنی طور پر اس جھوٹ میں شامل نہیں ہونا چاہتا تھا،لیکن لڑکی دیکھنے کے بعد راضی ہوگیا۔اس کے باوجودچاہتا تھا کہ دوسری شادی سائرہ کو اعتماد میں لےکر کرے۔ زرینہ بیگم نے مصلحتاً یہ بات مان لی، مگر وہ جانتی تھیں کہ سائرہ یہ بات حامد صاحب سے ضرور کرے گی اور پھر یہ سارا معاملہ چوپٹ ہوجائے گا،لہٰذا اس نے بیٹی سے مشاورت کر کے ایک نیا منصوبہ بنایا، جس سے نعمان کو بھی لاعلم رکھا۔

ایک طرف نعمان سوچی سمجھی سازش کے تحت سائرہ کو رام کرنے کے لیے اس کی طرف مائل ہونے لگا۔ جب کہ سائرہ نعمان کا بدلتا روپ دیکھ کر بہت حیران تھی اور خوش بھی۔ اب وہ اکثراُسے منہگے ہوٹلز میں کھانا کھلانے لے جاتا، تحفے تحائف دیتا۔ بظاہرگھر کاماحول پُر سُکون نظر آنے لگا تھا، مگر سائرہ کو اندازہ نہ تھا کہ اس کے ساتھ ساس اور نند کیا سلوک کرنے والی ہیں۔ دوسری طرف زرینہ نے بھی محبّت کا ایسا ڈراما رچایا کہ بار باربہوکو یہ جتانے لگیں کہ وہ کم زور ہوتی جارہی ہے، اُسے اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ وہ سائرہ کو رات کو زبردستی دودھ پینے کی ہدایت کرتیں۔اگر کبھی سائرہ رات میں دودھ پینابھول جاتی تو خود دودھ کا گلاس بھرکر اس کے کمرے میں آجاتیں۔محبّتوں کی اس بارش میں بھیگتی سائرہ سمجھنے لگی کہ بچّے کی آمد نے اس کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔ نعمان دوسری شادی کی اجازت کے لیے کسی مناسب وقت کا انتظار کررہا تھا۔وہ اپنی والدہ اور بہن کی نئی سازش سے بے خبر تھا، اُسے آہستہ آہستہ سائرہ سے ہم دردی ہونے لگی تھی۔ بیوی سے محبّت کا ڈراما اس کا دِل موم کررہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  سائنس جیت گئی حسن ہار گیا

سائرہ سلائی کڑھائی اچھی کرتی تھی، خاص طور پر بچّوں کے کپڑے سینے میں ماہر تھی۔زرینہ بیگم نے اپنی بیٹی نگہت سے مشورہ کیا۔ نگہت کے بیٹے جنید کی اگلے روز سال گرہ تھی،تو اُس نےبیٹے کے دو جوڑے نکالے اور ماں سے کہا،’’امّاں! کل جنید کی سال گرہ ہے۔ آپ یہ جوڑے سائرہ کو دے آئیں کہ وہ انہیں کل تک سی دے۔ وہ رات کو کام ختم کرکے سینے بیٹھے گی تو اس دوران زہر ملا دودھ اُس کے کمرے میں رکھ آئیں یا اسے اپنے سامنے پلاکر آجائیں۔ بعد میں اس کی موت کو خودکُشی ثابت کرکے کیس بند کروادیں گے۔ اوّل تو پوسٹ مارٹم ہونے نہیں دیں گے۔ اگر ایسا ہوگیا، تو کہہ دیں گے کہ نعمان دوسری شادی کررہا تھا، جس کی وجہ سے سائرہ نے خودکُشی کرلی۔‘‘

پروگرام کے مطابق شام کو زرینہ نے جوڑے سائرہ کے حوالے کرتے ہوئے انتہائی پیار سےکہا ،’’سائرہ بیٹا !جنید نے ضد پکڑلی ہے کہ سال گرہ پریہی کپڑے پہنے گا، اگر انہیں آج رات ہی سی دو، تو بچّے کی خوشی بڑھ جائے گی۔‘‘ زرینہ نے جس شیریں لہجے میں یہ بات کہی تھی، وہ انکار نہ کرسکی اور رات کو اپنے سارے کاموں سے فراغت کے بعد کپڑے سینے بیٹھ گئی۔ نعمان کو اس روز اپنے دوست کے گھر کسی تقریب میں جانا تھا۔ حالات سازگار دیکھ کر زرینہ نے دودھ کےگلاس میں چوہے مار دوا ملاکر سائرہ کے کمرے میں لے جاکر کہا، ’’بیٹا!یہ دودھ گرم ہے، ابھی پی لو۔مَیں نے اس میں کچھ طاقت بخش چیزیں ملائی ہیں، تمہیں تھکان نہیں ہوگی۔‘‘یہ سُن کرسائرہ نے کہا، ’’اماںجان! رکھ جائیں، مَیں پتلون کے پائینچے ترپ کر ابھی پی لیتی ہوں۔‘‘ زرینہ نے سوچا کہ اگر زیادہ اصرار کیا توکہیں شک نہ ہو1جائے۔گلاس میز پر رکھ کر باہر چلی گئیں۔ ان کا نواسا جنید، اُن کے ساتھ ہی سوتا تھا۔ زرینہ گلاس رکھ کر واش روم چلی گئیں۔ جنید جو اُن کے انتظار میں جاگ رہا تھا، بستر سے اُٹھا اور مامی کے کمرے میں آگیا، کیوں کہ اسے زرینہ نے بتایا تھا کہ مامی اس کی سال گرہ کے کپڑے سلائی کررہی ہیں اور وہ کپڑے چیک کرنے اس کے کمرے میں جارہی ہیں۔ جنید، اشتیاق میں اپنے کپڑے دیکھنے سائرہ کے کمرے میں گیا۔ وہاں زرینہ بیگم نہیں تھیں۔ اُس کی نظر دودھ کے گلاس پر پڑی۔ نانی اُسے بھی سونے سے پہلے دودھ کا گلاس پینے کے لیے دیتی تھیں۔ پتا نہیں وہ کیا سمجھا کہ گلاس اُٹھایا اور ایک ہی سانس میں غٹاغٹ پی گیا۔ جب سائرہ کی نظر اس پر پڑی، وہ گلاس خالی کرچُکا تھا۔ اس نے سوچاکہ بچّہ ہے، پی گیا تو کوئی ایسی بات نہیں۔ دودھ پی کر وہ دوبارہ نانی کے کمرے میں چلاگیا۔ اتنی دیر میں زرینہ واش روم سے آکر جنید کے لیے دودھ لے کر گئیں، تو وہ پیٹ پکڑ کر تڑپ رہا تھا۔ وہ گھبرا گئیں۔ جنید نے بتایا کہ اس نے مامی کے کمرے میں رکھا دودھ کا گلاس پیا ہے، تب سے پیٹ میں شدید تکلیف ہے۔ یہ سُن کرزرینہ کےتو ہوش ہی اُڑ گئے۔ اتنی دیر میں نعمان بھی گھر آگیا۔ حسبِ عادت اس نے پہلے ماں کے کمرے میں جھانکا، تووہاںجنید کو تڑپتے دیکھا۔ جنید نے روتے ہوئے ماموں کو بھی بتادیا کہ ’’نانی نے مامی کے کمرے میں جو دودھ کا گلاس رکھا تھا، اُسے پینے کے بعد میری طبیعت خراب ہوئی ہے۔‘‘ نعمان نے ذرا سختی سے ماں سے اصل ماجراپوچھا۔ وہ ڈری ہوئی تو تھیں، فوراً سچ اُگل دیا ۔ نعمان ،ماں کی ایسی حرکت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ زرینہ بیگم نے یہ بھی بتادیا کہ یہ منصوبہ نگہت ہی نے بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  موسمِ سرما میں پاکستان کے دل موہ لینے والے کچھ مقامات

نعمان، جنید کو ہسپتال لے جارہا تھا کہ اس نے راستے ہی میں دَم توڑ دیا۔ وہ واپس گھر آگیا۔ نگہت کو زرینہ نے اطلاع دے دی تھی۔ نعمان جب جنید کی لاش لے کر واپس آیا، تو ان دونوں ماں، بیٹی کی چیخوں سے گھر کے دَر و دیوار لرز اُٹھے۔ سائرہ اس سارے واقعے کے دوران جنید کے کپڑے ہی سیتی رہی۔ نعمان نے اس کے کمرے میں جاکر اسے اس المیے سے آگاہ کیا اور پھر گھر والوں نے زرینہ کو بچانے کے لیے یہ راز چُھپالیا۔ نگہت اور زرینہ بیگم اس حد تک خوف زدہ ہوگئی تھیں کہ نعمان کے کہنے پر انہوں نے سائرہ سے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگ لی۔وہ دونوں سمجھ گئی تھیں کہ یہ سزا انہیں قدرت کی طرف سے ملی ہے۔ جو گڑھا انہوں نے سائرہ کے لیے کھودا تھا،خوداُس میں گری ہیں۔ البتہ نعمان نے اپنے دِل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے اپنے والد کو ساری حقیقت بتا دی ،جس پرانہوں نےواضح طور پر یہ دھمکی دی کہ اگر ان دونوں نے سائرہ کے ساتھ کوئی اور زیادتی کی تو وہ اس واقعے کی رپورٹ تھانے میں درج کروانے میں ایک منٹ کی دیر نہیں کریں گے۔ زرینہ نے جس خاندان میں نعمان کارشتہ طے کیا تھا، حامدصاحب خود وہاں گئے اور معذرت کے بعد اس رشتے کو ختم کروایا۔ انہوں نے بھی اُن دونوں ماں، بیٹی کی کہی ہر بات حامد صاحب کو بتادی کہ سائرہ بدچلن ہے اور اس کا بیٹا بھی نعمان کی اولاد نہیں، اس لیے وہ دوسری شادی کرکے سائرہ کو طلاق دینا چاہ رہا ہے۔ حامد صاحب اس تہمت پر بھڑک اُٹھے۔ نعمان پر بھی ماں اور بہن کی سازش کی پوری حقیقت کھل چُکی تھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حامد صاحب نے نعمان کو الگ رہنے کا مشورہ دیا اور اسے علیحٰدہ گھر کرائے پر دلواکر سائرہ کی والدہ کو بلوانے کے لیے اُسے اس کی ماں کے پاس بھیج دیا۔

میری ملاقات ان ہی دِنوں سائرہ سے مارکیٹ میں ہوئی۔ وہ اپنی ماں کو ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ رکھنے کے ارادے سے حامد صاحب کے ساتھ کراچی آئی ہوئی تھی۔ اس نے میرے گھر بلانےپر یہ ساری کتھا مجھے سُنائی اور یہ خوش خبری بھی کہ اس کی والدہ ساتھ جانے کے لیے مان گئی ہیں اور وہ اب اُن کے ساتھ الگ گھر میں رہے گی۔ اب نعمان ،سائرہ سے بہت محبّت کرنے لگا ہے۔ قدرت نے اُسے اس کے صبر کا میٹھا پھل دے دیا ہے۔

(شبوشاد شکارپوری)