ladi gange

ڈیرہ غازی خان کا ”لادی گینگ “ہے کیا؟

EjazNews

ڈیرہ غازی خان جنوبی پنجاب کا سب سے پسماندہ ضلع تصور کیا جاتا ہے جس کا 52 فیصد حصہ قبائلی نظام پر مشتمل ہے جبکہ 48 فیصد حصے پر حکومتی عمل داری ہے۔

قبائلی علاقے میں کوہ سلمان کا پہاڑی سلسلہ ہے اور اس میں کئی طرح کے قبائل آباد ہیں۔ یہاں پر پرانے فاٹا طرز پر ایک پولیٹیکل اسسٹنٹ تعینات ہے جو یہاں کی ایگزیکٹو اتھارٹی ہے جبکہ یہاں عام پولیس کی بجائے بارڈر ملٹری فورس اور بلوچ لیوی کے اہلکار تعینات ہیں۔

علاقے کے پولیٹکل اسسٹنٹ حمزہ سالک کے مطابق ”لادی گینگ “گزشتہ دس سالوں سے متحرک ہے۔ ان کے موجودہ سربراہ کا نام خدابخش ہے اور یہ جدید ہتھیاروں سے لیس ہے۔ حتیٰ کہ اس گینگ کے پاس راکٹ لانچر بھی ہیں۔ پہلے اس گروہ کا کام چھوٹی موٹی ڈکیتیاں تھا لیکن اب یہ خاصے فعال ہو چکے ہیں۔ ناہموار علاقے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کرنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہم خصوصی طور پر ترک کاروباری برادری کو سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں:وزیراعظم عمران خان

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پہلی دفعہ ان کے خلاف ایک موثر آپریشن کرنے جا رہے ہیں جس میں ہمیں پولیس اور رینجرز کی مدد بھی حاصل ہے۔ یہ علاقہ ایک پرامن علاقہ ہے جس میں کئی قبائل آباد ہیں اور کبھی بھی لا اینڈ آرڈر کی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ صرف لادی قبیلے کے کچھ افراد اب مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

لادی بنیادی طور پر ایک ذات ہے اور یہ کھوسہ قبیلے کا ذیلی قبیلہ ہے۔ مقامی صحافی کے مطابق لادی گینگ کا سردار خدا بخش نامی ایک نوجوان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس گروہ میں شامل افراد سمجھتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح پولیس نے ماضی میں ان کے ساتھ نا انصافیاں کی ہیں۔ حالیہ واقعے میں بھی تشدد اور ہلاکت کا شکار ہونے والے افراد پر انہوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ پولیس کے مخبر تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  جو کچھ اس ملک میں ہورہا ہے اس کے پیچھے دہشت گردی، را، این ڈی ایس، اسرائیل ہے:وزیر داخلہ

مقامی ذرائع کے مطابق پولیس اس علاقے میں نہیں آتی اس کے لیے محکمہ داخلہ سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ یہاں صرف بارڈر ملٹری فورس اور بلوچ لیوی ہی موجود ہوتی ہے جنہیں سوار کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں سڑکیں نہیں ہیں اس لیے قانون نافذ کرنے والے اہلکار گھوڑے یا موٹرسائیکل پر گشت کرتے ہیں۔

یہ گروپ ڈیرہ غازی خان کے آباد علاقوں میں ایک دو بڑی فیکٹریوں سے بھتہ خوری اور کسانوں سے اناج لیتا ہے، اس کے علاوہ یہ چھوٹی موٹی ڈکیتیوں میں بھی ملوث ہے۔ یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ ان کے خلاف اس بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی اندیشہ ہے کہ پہاڑی علاقے کا فائدہ اٹھا کر بلوچستان بھی داخل ہو سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس گینگ کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کے احکامات ملتان کے سرکٹ ہاوس میں ابتدائی رپورٹس دیکھنے کے بعد دئیے جس میں اس علاقے کے پرامن قبائل بھی ساتھ دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  شنگھائی تعاون تنظیم کی 19ویں میٹنگ ،دنیا میں بہت کچھ بدل رہا ہے