imran_khan_yasmenrashad_cm

یونیورسل ہیلتھ کوریج کا جو سسٹم ہم لارہے وہ دنیا میں نہیں ہے:وزیراعظم

EjazNews

لیہ میں صحت انصاف کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہی وجہ تھی کہ ریاست مدینہ میں جب پیسہ بھی نہیں تھا اس وقت ریاست نے اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لے کر دنیا کی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست قائم کی اور یہ دنیا گواہ ہے کبھی اتنا بڑا انقلاب نہیں آیا جو مدینہ کی ریاست لے کر آئی۔ پاکستان کا بھی یہی موٹو ہے ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے، مقروض ہیں، قرضوں پر سود دینے میں ہی آدھا پیسہ چلا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود صوبہ خیبرپختونخوا اور پنجاب نے عوام کے لیے ہیلتھ انشورنس کا فیصلہ کیا، اس کی وجہ سے آپ لوگوں کے پاس پیسہ آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک وہ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ پہلے پیسہ اکٹھا کریں گے پھر فلاحی ریاست بنائیں گے دوسرے وہ جو ہماری طرح کے ہوتے ہیں اللہ پر یقین رکھتے ہیں اور سجھتے ہیں کہ پہلے ہم لوگوں کی خدمت کریں گے پھر اللہ پیسہ دے گا۔ جب پاکستان قائم ہوا تو اسے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا لیکن ہم نے کبھی یہاں فلاحی ریاست نہیں دیکھی۔ جب میں 18 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ برطانیہ گیا تو وہاں 2 چیزیں نظر آئیں جو پاکستان میں نہیں تھی۔ حالانکہ اس وقت پاکستان دنیا میں ایک مقام رکھتا تھا اور تیزی سے ترقی کررہا ہے، دنیا میں ہماری مثالیں دی جاتی تھیں اور دنیا میں کہیں بھی جانے کے لیے پاکستانیوں کو ویزوں کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستانی ٹیم ایک مرتبہ پھر کلین سویپ

انہوں نے کہا برطانیہ میں پہلی چیز قانون کی حکمرانی دیکھی، وہاں کوئی شہزادہ شہزادی سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں تھا دوسرا پہلی مرتبہ فلاحی ریاست دیکھی جہاں کوئی بھی سرکاری ہسپتال میں مفت علاج ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میں نے پہلی مرتبہ سمجھا کہ فلاحی ریاست ہوتی کیا ہے۔ برطانیہ میں کسی غریب آدمی کے ساتھ ناانصافی ہوتو عدالت میں جانے پر اسے مفت انصاف ملتا ہے، اگر اس کے پاس پیسہ نہیں وہ سرکاری اسکولوں میں جاتا ہے تو اس کے بچوں کو مفت تعلیم ملتی ہے اور وہ تعلیم جو اسے ملک کا وزیراعظم بنا سکے جبکہ ہمارے سرکاری اسکولوں میں جو تعلیم ملتی ہے اس سے کبھی غریب کا بچہ آگے نہیں آسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی بے روزگار ہوتا تو حکومت اسے پیسے دیتی اور سب سے بڑی نعمت وہاں مفت علاج تھی۔ اگر کسی غریب یا سفید پوش کے گھر میں بیماری اور علاج کا پیسہ نہ ہو تو صرف وہ جانتا ہے کہ اس کا گھر کس عذاب سے گزرتا ہے، شوکت خانم ہسپتال بھی اسی لیے بنایا کہ والدہ کے علاج کے لیےگیا تو وہاں کینسر کا مریض مل گیا تھا جس کے پاس دوائی کے پیسے نہیں ہوپارہے تھے۔ اس وقت میں نے سوچا کہ اللہ نے کبھی ملک کا اقتدار دیا تو سب سے پہلے لوگوں کے لیے یہ کام کرنا ہے کہ بیماری کی صورت میں انہیں پیسے کی فکر نہ ہو لہٰذا آج ہیلتھ انشورنس کا اعلان کرنے میں آج لیہ آیا ہوں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری پہلی ڈیوٹی یہ ہے کہ اللہ کو خوش کریں اور وہ اس وقت خوش ہوتا ہے جب انسانوں کی خدمت کی جائے۔ عوام کے لیے سب سے پہلی چیز یہ کہ جب اس کے گھر میں بیماری آئے تو اسے یہ فکر نہ ہو کہ میرے پاس پیسہ نہیں تو میرا علاج نہیں ہوسکتا اور آج پنجاب کی 2 ڈویژن کے خاندانوں کو ہیلتھ کارڈز دیے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  گلگت بلتستان 12نگران وزراء کا تقرروزیراعظم نے کر دیا

وزیراعظم نے کہا کہ ہر خاندان کے پاس 7 لاکھ 20 ہزار روپے کی ہیلتھ انشورنس ہوگی اور وہ صرف سرکاری نہیں بلکہ کسی بھی ہسپتال میں جا کر علاج کرواسکتے ہیں اور اگر پیسہ ختم ہوجائے تو علاج مکمل کروانے کے لیے مزید 3 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان وہ کام کررہا ہے جو شاید ہی دنیا میں ہے، یونیورسل ہیلتھ کوریج کا جو سسٹم ہم لارہے وہ دنیا میں نہیں ہے اور چونکہ پہلی مرتبہ پاکستان میں ہورہا ہے اس لیے اس پر مسلسل نگاہ رکھنی پڑے گی اس میں فراڈ کا بھی احتمال رہے گا، دیکھنا ہوگا کہ کوئی اس کا غلط استعمال نہ کرے۔ اس کے علاوہ نظام صحت کو مضبوط کرنے کے لیے نجی شعبے کو ہسپتالوں کی تعمیر کے لیے مراعات اور آسانیاں دی جائیں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ادواروں زیادہ پیسہ شہروں میں لگا جس سے پسماندہ علاقوں کے لوگ شہروں کی جانب تیزی سے منتقل ہونے لگے اور اس کا نقصان یہ ہورہا ہے کہ وہاں موجود سہولیات محدود ہوتی جارہی ہیں، اس لیے ترقی میں سب علاقوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  سیاست میں کوئی دشمن نہیں ہوتا تقریریں سنتے ہوئے یہ خیال رکھیں

تقریب کے اختتام پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان میں ڈاکووں کا مسئلہ ہے جنہیں اب برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے لیے پولیس چوکی بنانے کے ساتھ رینجرز کو بھی ہدایات جاری کروں گا۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے دو سو بیڈ پر مشتمل زچہ بچہ ہسپتال کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔