sindh_Assembly

سندھ اسمبلی میں پانی نہ ملنے کے خلاف قرداد منظور

EjazNews

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں سندھ کو 1991ءکے پانی کے معاہدے کے تحت پانی نہ ملنے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور ۔ ہمیں اپنے حصہ کا پانی دیا جائے ۔

پی ٹی آئی رکن محمدعلی کی قرارداد کی مخالفت کی تو صوبائی وزیرسہیل انورسیال نے بڑے جارہانہ انداز میں کہا کہ جو پانی کے ایشو پرصوبے کی مخالفت کرے گا ان کے گھروں میں گھسیں گے۔

انہوں نے پی ٹی آئی ارکان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ان لوگوں کو سندھ کے پانی کی مخالفت کرتے ہو شرم آنی چاہیے ۔

سہیل انورسیال پی ٹی آئی اراکین کی طرف غصے میں لپکے تو انہیں ان کے ساتھیوں نے روک لیا،پی ٹی آئی کے منحرف رکن شہریار شر نے جب اس اہم مسئلے پر پیپلز پارٹی کی حکومت کے موقف کی حمایت میں تقریر شروع کی تو پی ٹی آئی ارکان نے ان کی تقریر کے دوران سخت شور شرابہ اور احتجاج شروع کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ای اے کے 35سو ملازمین ریٹائرڈ کرنے کا فیصلہ

سندھ اسمبلی کے اجلاس صوبائی وزیر آبپاشی سہیل انور سیال نے قرار داد پیش کرتے ہوئے سندھ کا پانی روکنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ سندھ کے ساتھ 2003سے مسلسل زیادتی ہورہی ہے۔پنجاب کی شارٹیج 9 فیصد ہے جبکہ سندھ کی شارٹیج 44 فیصد ہے۔

قرارداد کی حمایت میں اظہار خیا ل کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی ہیر سوہو نے کہا کہ سندھ میں اگرپانی نہیں توتباہی ہے۔

صوبائی وزیر سردار شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں وزیر اعلیٰ نے کئی بار آواز اٹھائی ہے۔جی ڈی اے رکن وفاقی وزیر ہیں۔وہ آواز کیوں نہیں اٹھاتی ہے۔