first Hijab-wearing

برطانیہ میں پاکستانی نژاد پہلی باکسنگ کوچ

EjazNews

پاکستانی نژاد برطانوی خاتون حسیبہ عبداللہ پہلی خاتون ہیں جو حجاب پہن کر باکسنگ کی کوچنگ کرتی ہیں اور اب ان کا نام اگلے سال ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کے لئے ’’ہوم ٹاؤن ہیرو‘‘ کے طور پرلیا جارہا ہے۔

حسیبہ عبداللہ سیمتھ وک ونڈ مل بوکسنگ جیم کوچ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب وہ سکول جایا کرتی تھیں تو ان میں باکسنگ کا شدید شوق تھا جسے وہ سکول کے بعد اپنا شوق پورا کیا کرتی تھیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے خاندان خواتین کے لئے سپورٹس کا میدان پسند نہیں کرتے مگر اب وقت کے ساتھ تمام چیزیں بدل رہی ہیں۔

British-Pakistani Boxing_Coach
2019 میں باکسنگ ایسوسی ایشن نے اپنے قوانین بدلے اور حجاب کی اجازت ملی۔

حسیبہ کے لئے یہ معاملہ کچھ اس طرح تھا کہ ان کے گھر والے انہیں پوری حمایت کرتے تھے، وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ دیگر کو بھی باکسنگ میں کوچنگ کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل 6کس ٹیم نے کس کھلاڑی کو رکھا؟

اس وقت حجاب ان کے راستے میں ایک رکاوٹ بنا کیونکہ حجاب کو کوئی بھی باکسنگ ایسوسی ایشن منظور نہیں کرتی تھی اور ایک روائتی گجرات کی مسلمان لڑکی ہونے کی وجہ سے باکسنگ کٹ وہ پہن نہیں سکتی تھیں۔ تبدیلی آنے سے قبل ان کی یہ سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔

2019 میں باکسنگ ایسوسی ایشن نے اپنے قوانین بدلے اور حجاب کو اجازت ملی۔