Black-fungus

بھارتی خطرناک وائرس کا مشرق وسطیٰ کے ممالک میں آنے کا خطرہ

EjazNews

بھارت میں کورونا وائرس سے جڑے خطرناک بلیک فنگس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 9ہزار ہوگئی۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی ڈاکٹر وں نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ میوکورمائیکوسز نامی یہ انفیکشن اتنا عام نہیں تاہم اس سے موت کی شرح 50 فیصد تک ہے جبکہ اس سے متاثرہ کچھ مریض نابینا ہوچکے ہیں اور کچھ کی زندگی ان کی آنکھ نکال کر بچائی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلیک فنگس کا تعلق ایسے سٹیرائڈز سے ہے جو کورونا وائر س کے علاج کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ ذیابیطس کے مریضوں کو اس سے زیادہ خطرہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کو صحتیابی کے بعد 12 سے 18 دنوں کے اندر بلیک فنگس انفیکشن ہوسکتا ہے اور بھارتی ہسپتالوں بلیک فنگس انفیکشن کے علاج کے نئے وارڈ تیزی سے بھر رہے ہیں جبکہ اینٹی فنگس ادویات کی قلت کا سامنا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی حکومت نظر بند کشمیری حریت رہنمائوں کو آہستہ آہستہ مارنے کا مذموم منصوبہ رکھتی ہے

دوسری جانب سعودی وزارت صحت نے کہا ہے کہ مملکت میں بلیک فنگس کا کوئی مریض ریکارڈ پر نہیں آیا، بلیک فنگس لگنے کا کورونا وائرس سے کوئی تعلق نہیں ۔

وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے اتوار کو کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے پریس کانفرنس میں کہا کہ کورونا وبا کے پھیلاؤ میں استحکام نظر آرہا ہے۔
دنیا بھر میں 44 ممالک اپنے ہاں اس نوعیت کے کورونا وائرس کی موجودگی کے بار میں آگاہ کر چکے ہیں۔

العربیہ کے مطابق بیان میں ادارے کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک میں کورونا کی اس قسم کے پھیلاؤ کا امکان بڑھ گیا ہے، اس کی وجہ خلیجی ممالک اور انڈیا کے درمیان جغرافیائی قربت ہے۔

دریں اثنا عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ ڈاکٹراحمد المنظری نے کہا ہے کہ سعودی عرب کورونا وائرس کو قابو کرنے کے لیے وبا کے آغاز سے اب تک ہرممکن جدوجہد کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  فلسطین اوراسرائیل کے درمیان جنگ بندی

اسی وائرس کے متعلق ڈبلیو ایچ او نے بھی انتباہ کیا ہے ۔ ڈبلیو ایچ او نے انکشاف کیا ہے کہ 11مئی سے اب تک 4مزید ممالک کی جانب سے کورونا وائرس کی بھارتی قسم (B.1.617)کی اطلاع دی گئی ہے۔ یہ ممالک بحرین، ایران، اردن اور مراکش ہیں۔

دنیا بھر میں مجموعی طور پر 44ممالک اپنے ہاں اس نوعیت کے کورونا وائرس کی موجودگی کے بارے میں آگاہ کر چکے ہیں۔

ایک پریس ریلیز میں ادارے کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک میں کورونا کی اس قسم کے پھیلا ئوکا امکان بڑھ گیا ہے ، ان ممالک میں سعودی عرب شامل ہے۔ اس کی وجہ خلیجی ممالک اور بھارت کے درمیان جغرافیائی قربت ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مشرق وسطیٰ ریجن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد المنظری نے کہا ہے کہ سعودی عرب کورونا کی وبا ءکے آغاز سے ہی اس کے پھیلا ئوکی روک تھام کیلئے تمام کوششیں کر رہا ہے۔ ہم عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مثالی تعاون پر مملکت کے شکر گزار ہیں

یہ بھی پڑھیں:  دبئی کی بندرگاہ میں جہاز میں دھماکہ