journalist

پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفشنل بل 2021ء اسمبلی میں پیش

EjazNews

حکومت نے قومی اسمبلی میں پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل 2021ء پیش کردیا، قبل ازیں وفاقی کابینہ نے پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل کی منظوری دی تھی۔

جمعہ کے روز وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ بل پیش کیا، بل پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔جن میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے حقوق، صحافیوں کی تربیت اور انشورنس، تحقیقات اور ازالہ اور متفرقات شامل ہیں، بل میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے حقوق تجویز کئے گئے ہیں۔آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت ہر صحافی اور میڈیا پروفیشنل کو زندگی اور فرد کی سکیورٹی کا حق حاصل ہے۔

صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک کے اندر متنازعہ متاثرہ علاقوں میں اپنے فرائض کی انجام دہی کو بغیر کسی خطرہ، دھمکی، ہراسگی یا ظلم کا نشانہ بننے کے خوف کے بغیر انجام دے سکیں۔ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو اپنے ذرائع خفیہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا ٹک ٹاک پر پابندی ہماری قومی ایشو ہے؟
journalist1
اس بل کی سے صحافی اور صحافت کے شعبہ سے وابستہ دوسرے لوگ بہت سی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کیونکہ اس وقت دفتر کے اندر بیٹھ کر کام کرنے والے صحافیوں کو بھی کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے

حکومت صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو کسی بھی شخص، ادارے (سرکاری یا نجی) یا اتھارٹی کے ہاتھوں ہر طرح کی زیادتی، تشدد، استحصال سے محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کرے گی۔

یہ بل کمیشن کو اختیار دیتا ہے کہ وہ صحافیوں کی دھمکی، پرتشدد کارروائیوں، قتل، پرتشدد حملوں، بے وجہ گرفتاری، نظربندی اور ہراسگی کی شکایات کی تحقیقات کرے اور ان کیسز کا تعین کرے جو وفاقی اور صوبائی فنڈز سے معاوضے کے اہل ہوں گے۔