Maynmar_2

میانمار کی فوجی حکومت نے 1لاکھ 25ہزار اساتذہ کو نوکری سے معطل کر دیا

EjazNews

میانمار کا تعلیمی نظام خطے میں سب سے خستہ حال نظاموں میں سے ایک ہے جس نے گزشتہ برس عالمی سروے میں 93 ممالک میں سے 92ویں پوزیشن حاصل کی تھی۔
آنگ سان سوچی کے دورِحکومت میں بھی مجموعی ملکی پیداوار کا 2 فیصد سے کم حصہ تعلیم پر خرچ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  سری لنکا میں 24گھنٹے کا کرفیو جبکہ جرمنی نے سماجی فاصلے کے تحت سکولوں کو دوبارہ کھول دیا ہے

غیر ملکی میڈیا کے مطابق میانمار ٹیچرز فیڈریشن سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ہفتے کے روز تک ایک لاکھ 25 ہزار 900 اساتذہ معطل کیے جاچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  میانمار میں لوگوں کی بڑی تعداد کو بغیر کسی وجہ کے مارا گیا ہے: جو بائیڈن

اساتذہ کی معطلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب نیا تعلیمی سال شروع ہونے میں چند روز باقی ہیں تاہم ملک میں فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی مہم کے طور پر اساتذہ اور طلبہ کے والدین کی بڑی تعداد نے نئے تعلیمی سال کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈین میڈیا نے پھر سے خالصتان کا راگ الاپنا شروع کر دیا

میانمار میں اساتذہ کے تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار 2 سال پرانے ہیں جن کے مطابق سکول ٹیچرز کی تعداد 4 لاکھ 30 ہزار ہے۔

اس ضمن میں ایک عہدیدار جو خود بھی استاد ہیں، انہوں نے کہا کہ ‘یہ صرف لوگوں کو کام پر واپس آنے کے لیے ڈرانے کے بیانات ہیں، اگر وہ حقیقتاً اتنی بڑی تعداد کو ملازمتوں سے نکالیں گے تو نظام رک جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ واپس کام پر جائیں گے تو ان کے خلاف لگائے گئے الزامات واپس لے لیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  بولٹن کے فلیٹس میں لگنے والی آگ کو 2سو فائر فائٹر ز نے پھیلنے سے روکا

دوسری جانب میانمار کے سرکاری اخبار نے اساتذہ اور طلبہ سے سکولوں میں واپس آنے کے لیے زور دیا ہے تا کہ تعلیمی نظام دوبارہ شروع ہوسکے۔

اساتذہ کی تنظیم کے مطابق جامعات کے عملے کے 19 ہزار 500 ملازمین کو بھی ان کے عہدوں سے معطل کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  افغانستان میں امن کی امید ایک مرتبہ پھر نظر آنے لگی

میانمار میں جون میں سکولوں کے لیے رجسٹریشن کا آغاز ہوگا تاہم کچھ والدین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو سکول میں داخل نہیں کروائیں گے۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک 14 سالہ لڑکی کے والد کا کہنا تھا کہ ‘میں اپنی بیٹی کا داخلہ سکول میں نہیں کرواؤں گا کیوں کہ میں اسے فوجی آمریت سے تعلیم نہیں دلوانا چاہتا۔

یہ بھی پڑھیں:  انتہا پسند امریکی پابندیو ں کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ ہیں:ایرانی صدر

میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد بڑے پیمانے پر شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں طلبہ سب سے آگے رہے ہیں جنہوں نے تعلیمی عمل کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا ہے۔ایک 18 سالہ طالبعلم کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہمیں دوبارہ جمہوریت ملے گی تو ہی میں سکول جاؤں گا۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانیہ کا ننھا شہزادہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا

یکم فروری کو میانمار کی فوج نے ملک میں منتخب سیاسی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور دیگر سیاست دانوں سمیت آنگ سان سوچی کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مختلف الزامات کے تحت مقدمات چلائے جارہے ہیں۔فوج کے اس عمل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو تاحال جاری ہے، جس میں اب تک فورسز کی جانب سے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کے باعث سینکڑوں مظاہرین ہلاک اور زخمی ہوئے۔