دمہ کی برقت تشخیص

دمہ:کامیاب علاج کیلئےبروقت اور درست تشخیص کتنی اہم ہے؟

EjazNews

یہ مرض سانس کی نالیوں یا پھیپھڑوں کی نالیوں میں خرابی کا مرض کہلاتا ہے،جو دُنیا بَھر کی طرح پاکستان میں بھی عام ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دُنیا بَھر میں ہر دسواں فرد اس کا شکار ہے۔اسی لیے ہر سطح تک دَمے پر کنٹرول اور علاج معالجے کی صُورتِ حال بہتر بنانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں اور یہ دِن منانے کا مقصد بھی عوام النّاس میں شعور کی بیداری اور متاثرہ افراد کو خوش گوار زندگی کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ سو، اس دِن کے حوالے سےمعلوماتی مضمون پیشِ خدمت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جگر کی حفاظت کیجئے

دَمہ سانس کی نالی میں سوزش کا عارضہ ہے،اگر اس مرض کا بروقت علاج نہ کروایا جائے تو یہ دائمی صُورت اختیار کرلیتا ہے، جو کئی پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے۔سانس کی دیگر بیماریوں اور دَمے میں واضح فرق اس مرض کا قابلِ واپسی (Reversible)،وقفے وقفے سےحملہ آور(Episodic) اورمتغّیر(variable) ہونا ہے۔دَمہ لاحق ہونے کی بنیادی وجہ الرجی ہے ،جب کہ دیگر وجوہ میں ماحولیاتی آلودگی ،اسموگ، گرد وغبار،دھول، مٹّی، سینے کا انفکیشن، تمباکو نوشی یا ایسے ماحول میں بیٹھنا، جہاں تمباکو نوشی کی جارہی ہو(طبّی اصطلاح میں یہ پیسیو اسموکنگ کہلاتا ہے، جس سے مُراد تمباکوکے دھوئیں سے متاثر ہونا ہے)،پولن،بال و پَر والے جانور، پالتوپرندے،جانور، پولٹری فارم،مخصوص ادویہ، لال بیگ ،بعض کھانے پینے کی اشیاء، ہائوس ڈسٹ مائٹس( قالین، پردوں اور صوفوں میں افزایش کرنے والےچھوٹے چھوٹے خُرد بینی کیڑے) وغیرہ شامل ہیں۔ بعض کیسز میں مختلف پیشوںسے وابستہ جیسے پودوں کی نرسریز،بیکریز،کیمیکلز، ڈٹرجنٹ،کاٹن ،چاول اور ادویہ ساز فیکیٹریز سے منسلک افراد ،کاروں پر اسپرے، پینٹ کرنے والے، چکیاں چلانے ،آرا مشین سے کٹائی اورویلڈنگ کرنے والے افراد بھی دَمے کا شکار ہوجاتے ہیں۔اصل میں ان جگہوں پرآلودگی کے نتیجے میں سانس کی نالیوں کی سوزش، پہلے ناک ، پھرگلے کی الرجی اور بعد ازاں دَمے کا سبب بن جاتی ہے ، جب کہ وہ افراد جو پہلے ہی سے دَمے کا شکار ہوں،ان کے مرض میں شدّت پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر کسی فرد کو کام والی جگہ پر روزانہ کھانسی کے ساتھ سانس لینے میں دشواری محسوس ہو اور گھر آنے یا چھٹی والے دِن علامات کم یا ختم ہوجائیں، تو اُسے ماہرِ امراضِ سینہ سے فوراً رجوع کرلیناچاہیے، تاکہ بروقت تشخیص کے ساتھ علاج شروع کیا جاسکے۔علاوہ ازیں، پرفیومز، پائوڈر کا استعمال،ائیر فریشنرز،مچھر کُش کوائل یا اسپرے، کچن میں فرائی کرنے یا تڑکہ لگانے کی مہک، آٹا چھننا،گھر کی صفائی ستھرائی سے اڑنے والا گردوغبار، دَمہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ جب کہ بعض کیسز میںحمل کے دوران دَمے کا عارضہ لاحق ہوجاتا ہے جو طبّی اصطلاح میں Gestational Asthmaکہلاتا ہے۔ اور حمل کے بعد یہ خودبخود ختم ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج عام دَمے کی طرح کیا جاتا ہے، تاکہ مرض کنٹرول کرکے ماں اور بچّے کو مضر اثرات سے بچایا جاسکتا ہے۔ اگر حاملہ میں دَمہ کنٹرول نہ کیا جائے، تو بچّہ پیدایشی طور پر کم زور پیدا ہوتا ہے، تو بعض کیسز میں ذہنی نشوونما بھی متاثر ہوجاتی ہے۔علاوہ ازیں، اگر کوئی حاملہ پہلے ہی سے دَمے میں مبتلا ہو، تو معالج کو لازمی آگاہ کیا جائے، تاکہ دورانِ حمل پیچیدگیوں سے بچا جاسکے۔حاملہ خواتین تمباکو نوشی اور آلودہ ماحول سے پرہیز اور متوازن غذا کا استعمال کریں۔یوں تودَمے پر اثر انداز ہونے والے کئی عوامل ہیں۔ مثلاً :

یہ بھی پڑھیں:  کینسر کےبارے آگاہی ضروری ہے

امیونولوجیکل میکانزم
(Immunologic Mechanism)دَمے میں مبتلا مریضوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جس میں اے ٹوپک(متعدّی)کیفیت پائی جاتی ہے۔یہ وہ مریض ہوتے ہیں،جن کے خون میں مختلف عوامل کی وجہ سے Igeلیول کےساتھ ہی ماسٹ سیل(mast cell)بیزوفلز(Baso phils)اور مائیکرو فیج (Macro phage)کے لیولز بھی بڑھ جاتے ہیں۔ نتیجتاً ہسٹامائن (Histamine) ،IL5اور ایوسینوفلز(Eosinophils)میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے،جوبعد میں سانس کی نالیوں میں سوزش یا تنگی، زائد مقدار میں بلغم بننے اور سانس میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کم خوراک میں کمزوری نہیں صحت ہے

موروثیت:
مختلف تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہوچُکا ہے کہ دَمہ موروثی مرض بھی ہے،جو ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوسکتا ہے۔

ہائی جین ہائپو تھیسز
(Hygiene Hypothesis)کہا جاتا ہے کہ’’دَمہ ہائی جین کا ایک مصنوعہ ہے‘‘(Asthma Is A Byproduct Of Hygiene)۔یعنی جو افراد زندگی کے ابتدائی دِنوں میں بہت زیادہ صاف ستھرے ماحول اور جراثیم سے پاک جگہوں پر رہتے ہیں، وہ زندگی کے درمیانی اور آخری ایام میں زیادہ بیمار ہوجاتے ہیں(ان امراض میں دَمہ سرِفہرست ہے)، بہ نسبت اُن افراد کے جن کی زندگی کے ابتدائی ایّام کم صاف جگہوں پر اور عام جراثیم کا سامنا کرتے گزرے ہوں۔ کیوں کہ ان میں قدرتی طور پر ایمیونٹی پیدا ہوجاتی ہے، جو مختلف بیماریوں سے تحفّظ فراہم کرتی ہے۔

دَمے کی عام علامات میں خشک کھانسی، سینے کی جکڑن،سانس میں رکاوٹ،سانس لینے اورخارج کرنے میں سیٹی کی سی آوازیں آنا شامل ہیں۔عمومی طور پر دَمے کے عارضے میں مبتلا مریض کے سینے سے سیٹی کی سی آوازیں آتی ہیں، لیکن بعض اوقات مرض کی شدّت کی وجہ سے سانس کی نالیاں اس قدر متوّرم ہوجاتی ہیں کہ سینے سے کسی بھی قسم کی آواز نہیں آتی۔ یہ ایمرجینسی کی حالت ہے،لہٰذا فوری طور پرکسی مستندماہرِ امراضِ سینہ سے رجوع کریں، تاکہ دَمہ جان لیوا ثابت نہ ہو سکے۔بعض اوقات مریض معائنے کے وقت بالکل نارمل ہوتا ہےکہ جیسے کبھی دَمے کا اٹیک ہوا ہی نہ ہو۔طبّی اصطلاح میں یہ حالت ایپی سوڈیک(Episodic)کہلاتی ہے۔یعنی قسطوں میں دَمے کا اٹیک ہونا۔ اس حالت میں ایک بار ایزما اٹیک کے بعد مریض بالکل ٹھیک ہوجاتا ہے اور اس کے بعد کئی دِنوں یا ہفتوں تک سانس لینے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی، مگر پھر اچانک ہی دوبارہ دَمے کا حملہ ہوجاتا ہے۔ دَمے کی تشخیص عام طور پر مریضوں کی مکمل ہسٹری اور طبّی معائنے ہی کے ذریعے ہوجاتی ہے۔مثلاً مریض خشک کھانسی، سینے سے سیٹی کی آوازیں نکلنے، سانس لینے میں دشواری جیسی علامات بتائے،جب کہ معالج عمومی طور پر جو سوالات پوچھتا ہے، اُن میں مریض کے گھر یا کام والی جگہ پر آلودگی، پالتو پرندوں یا پودوں کے پاس وقت گزارنا، تمباکو نوشی یا پیسیو اسموکنگ سے متاثر ہونا ،جِلد کی الرجی اورتیز بخار وغیرہ شامل ہیں۔یہاں اس بات کا ذکربھی ضروری ہے کہ بعض اوقات دَمے کا حملہ ماہ واری، کسی پریشانی، ذہنی دباو ٔیا پھر حمل کے دوران پڑجاتا ہے۔کبھی پہلے سے دَمے کے عارضے میں مبتلا مریضوں میں علامات کی شدّت بڑھ جاتی ہے، تو کبھی مخصوص درد کُشا یا دیگر ادویہ استعمال کرنے کی صُورت میں بھی مرض شدید صُورت اختیار کرسکتاہے۔

ویسے تو دَمے کی تشخیص کے لیے کوئی مخصوص ٹیسٹ نہیں۔تاہم، بعض ٹیسٹ تشخیص کے ضمن میںمددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔مثلاً:

خون کا ٹیسٹ:
اس ٹیسٹ میں سفید خلیے، ایوسینوفلز(Eosinophils) اور lgGلیول بڑھ جاتے ہیں۔ایکس رے: دَمے کے مریض کے سینے کا ایکس رے نارمل ہوتا ہے، اگر نمونیا، سرطان یا تھائی رائیڈز کی وجہ سے سانس کی نالیوں پر دباو ٔپڑ رہا ہو، تو متبادل تشخیص ہوسکتی ہے۔

بلغم کا ٹیسٹ:
بلغم کے ٹیسٹ میںایوسینوفلز مثبت ہوتے ہیں۔

پلمونری فنکشن ٹیسٹ:
پھیپھڑوں کے فنکشن کا ٹیسٹ پی ایف ٹی ایس(Pulmonary Function Tests) کہلاتا ہے،جس کے ذریعے سانس کی نالیوں میں تنگی کی جانچ کی جاتی ہے اور یہ ٹیسٹ دَمے کی تشخیص ہی کے لیےنہیں، بلکہ علاج کی بہتری یا تنزلی جاننےکےلیے بھی تجویز کیا جاتاہے۔

ای این ٹی ٹیسٹ:
ناک اور گلے کے معائنے سےسینے سے سیٹی کی سی آوازوںکے علاوہ دیگر وجوہ کی نشان دہی میں مدد مل سکتی ہے۔

برونکواسکوپی:
سانس کی نالیوں کے معائنے کو برونکواسکوپی کہتے ہیں۔ اس سے سانس کی نالیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے والے عناصر کی نشان دہی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  فیملی ڈاکٹر کا انتخاب کیوں ضروری ہے؟

دَمے میں جو علامات جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں، اُن میں خون میں آکسیجن کے لیول کا92فی صد سے کم ہونا، سینے سے سیٹی کی آوازیں نہ آنا، بلڈ پریشر اور دِل کی دھڑکن کم ہونا،پھیپھڑوں کا35فی صد سے کم کام کرنا، نقاہت محسوس ہونا،جِلد، ہونٹ یا ناخن نیلے پڑجانا، ذہنی طور پر تذبذب کا شکار ہونا،بے ہوشی طاری ہونا، خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے لیول بڑھ جانا وغیرہ شامل ہیں۔اگر ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو مریض کے سانس لینےکا عمل بحال رکھنے کے لیے وینٹی لیٹر کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔دَمے کے کام یاب علاج کے لیے درست اور بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے،کیوں کہ تاخیر نہ صرف پیچیدگیوں کے امکانات بڑھا دیتی ہے،بلکہ علاج کا دورانیہ بھی طویل ہوسکتا ہے۔ علاج معالجے کے ضمن میں مختلف ادویہ مثلاً سانس کی نالی کی سوزش ، بلغم ، ریشےکم کرنے اورسینے کا انفیکشن کنٹرول کرنے سمیت جراثیم کُش ادویہ وغیرہ تجویز کی جاتی ہیں۔ اگرمریض کم زور یا نڈھال ہوجائے، تو اس صُورت میں معالج سے لازماً رابطہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں،ان ہیلر دَمے کی شدّت کم کرنے میں اکسیر ثابت ہوتا ہے،کیوں کہ اس کے ذریعے دوا کی معمولی مقدار براہِ راست پھیپھڑوں تک پہنچ کر فوری آرام پہنچاتی ہے۔مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ان ہیلرکے حوالے سے کئی مفروضات عام ہیں۔ جیسےاگرایک بار اِن ہیلر کا استعمال شروع ہوجائے، تو پھر تاعُمر کیا جاتا ہے،اس کے فوائد کی نسبت ضمنی اثرات زیادہ ہیں، یاد رکھیے،متعدّد مریض صحت یاب ہونے کے بعد معالج کے مشورے سے اس کا استعمال ترک کردیتے ہیں۔ اس کے سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں کہ یہ جان بچانے کی مؤثر ترین دوا ہے۔یاد رکھیے، علاج معالجے کے ساتھ پرہیز اور احتیاطی تدابیر لازماً اختیار کی جائیں،تاکہ ایک عام فرد کی طرح زندگی بسر کی جاسکے۔نیز، اِدھر اُدھر کے مشوروں پر کان دھرنے کی بجائےصرف اپنے معالج کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔

بشکریہ ڈاکٹر محمد سہیل گل(روزنامہ جنگ )

کیٹاگری میں : صحت