arabic-stories

لبنان کی کہانی

EjazNews

ملک لُبنان میں ایک شاہ عالی جاہ تھا۔ مجیب نام تھا رَعیت پَر وَری میں لا جواب، خدمت گزاری میں چُست و چالاک تھا۔ دِن رات عدل وانصاف میں مشغول رہتا تھا۔ لوگ خوشحال فارغ البال تھے۔ شیر بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے۔ کبوتر اور شاہ باز باہم پرواز تھے۔شہر دریا کے کنارے آباد تھا۔ جہاں سینکڑوں جہاز واسطے سیروسیاحت اور تجارت کے‘ لنگر انداز رہتے تھے۔
شاہ مجیب کا نتقال ہوا تو شہزادہ نجیب تخت نشین ہوا۔ اس مُلک کے باج گزار بہت سے اچھے اچے اور شاداب جزیرے تھے۔ نجیب کو بچپن ہی سے عِلم جہاز رانی کا شوق تھا۔ اُس کے والد کہا کرتے تھے۔‘‘ سفر نمونہ سَقر ہے۔ تو وسیلہ طفر بھی ہے۔‘‘ یعنی اگر سفر میں دوزخ کے برابر تکلیف ہوتی ہے تو کامیابی کا ذریعہ بھی ہے۔ اس لئے اکثر اوقات بحری اَسفار میں مشغول رہتا تھا۔ جزائر کے باشندوں کو تسلیّ دینے اور تجارت میں خل پیدا نہ ہو اس غرض سے دوٗردوٗر جزیروں کے سَفر کو روانہ ہو۔ ہَوا موافق دیکھ کر باد بان لہرایا۔ جہاز کو آگے بڑھایا۔ نجیب نے تجر بہ کار کپتان کا انتخاب کیا تاکہ جہاز کہیں بھٹکنے کہیں ڈوبنے نہ پائے۔ دس روز تک وہ بڑھتے رہے۔ اچانک ایک دِن ابر کا ٹکڑا نمودار ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تما م آسمان پر چھا گیا۔ تاریکی چھا گئی۔ ہَوا اتندوتیز چلنے لگی۔ طوفان کی شکل پیدا ہوئی۔ بادِ مخالف نے جہاز کا رُخ موڑا۔ سمندر میں تلاطُم پیدا ہوا۔ جہازی نا اُمید ہو کر اشکِ حسرت کثرت سے بہانے لگے۔
نجیب نے دلاسا دیا:

یہ بھی پڑھیں:  دروازے کی گھنٹی

’’اضطراب اس قدر نہ کرنا چاہیے بلکہ مالکِ حقیقی کی رحمت پر نظر کرنا چاہیے کہ سب کی خیریت و عافیت سنوارنے والا وہی ہے۔‘‘
بارے خُدا کے چوتھے روز زورہَوا کا کم ہوا۔ طوفان تھم گیا۔ تاریکی نے نور کا لباس پہنا۔ موجوں کے تھپیڑے خاموش ہوئے۔ لہروں کے جوش وخروش کم ہوئے۔ بادِ مُراد چلنے لگی۔ مگر سبب طوفان کے معلوم نہ تھاکہ جہاز کدھر جاتا تھا۔ کپتان نے صورت حال دریافت کرنے کیلئے ایک خاصی کو مَستُول پر چڑھنے کا حکم دیا۔ وہ آخری سرے پر پہنچ کر دید بان پر کھڑا ہو گیا۔ آنکھوں پر ہاتھ کا چھجہّ بنا کر چاروں طرف عقابی نظریں دوڑانے لگا۔
نیچے آکر کہا:’’صاحبِ عالم! یہاں سے وہاں عقابی نظریں دوڑانے لگا۔ نیچے آکر کہا:
’’صاحبِ عالم! یہاں سے وہاں تک پانی ہی پانی ہے۔ اُفق ایک سیاہ سایہ نصف دائرہ کا نمانظر آتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  مخمورہ اور وزیر کا انجام

یہ سُن کر کپتان بحرِ اَلم میں ڈوب گیا۔‘‘
پھر وہ تھَر تھَر کاپننے زار زار رونے لگا۔ نجیب نے سبب پوچھا تو بہزاد وقتّ رقتّ آمیز لہجے میں کہنا شروع کیا:
’’صاحبِ آمیز لہجے میں کہنا شروع کیا:
’’ صاحبِ عالم! جہاز روانہ ہوتے ہی کنارے سے طوفان اٹھایا گیا ہے۔
اے دید بان:جہاز کے سب سے اونچے مُستول پر ایک تختہ باندھ دیا جاتا ہے جس پر کھڑے ہو کرساحل کے آثار دیکھے جاتے ہیں۔ ساحل نظر آنے پر خلاصی خوشی سے چِلاّتا ہے ا’’ اہاٗے(ahoy )۔ لفظی معنی ہیںنشانہ دیکھنے کا سُوراخ
ہم راستہ بھٹک گئے ہیں ۔ ورطہ ہلاکت میں اٹک گئے ہیں۔ وہ سایہ کالے پہاڑ سنگِ مقناطیس کا ہے‘ جسے کوہِ اموات بھی کہتے ہیں۔ پانی کے نیچے بہنے والی بحری رویں جہاز کو وہاں تک پہچا دیں گی۔ یہ پہاڑ زبردست مقناطیسی قوت رکھتا ہے۔ میلوں دوٗر سے جہازوں کو کھنیچ لیتا ہے‘ وہ ٹکرا کر پارہ پارہ ہو جاتے ہیں۔‘‘
کپتان چند لمحوں کے لئے خاموش ہو گیا۔ پھر حواس یکجا کرکے کہنا شروع کیا:
’’ بربادشدہ جہازوں کی کیلیں فولادی چادریں پہاڑ سے اس قدر چمٹ گئی ہیں کہ وہ کالا نظر آتا ہے۔ شاید اسی لئے کالے پہاڑ کے نام سے مشہور ہے۔ چوٹی پر ایک گنبد ہے۔ جو چارسُتونوں پر استارہ ہےگنبد کے نیچے ایک گُھڑ سوار ہے۔ دونوں پیتل کے بنے ہیں۔
جہازوں کے تباہ ہونے کا اصل سبب، یہی مجسمہّ ہے۔ سوار کو نیچےگِرادیا جائے تو یہ طلسم فتح ہو جائے گا۔ مگر آج تک کوئی صاحب جرأتوشجاعت چوٹی پر زندہ سلامت نہیں پہنچ سکا۔‘‘
یہ سُن کر سب کے چکیّ چھوٹ گئے۔ پھٗوٹ پھٗوٹ کے رونے گلے۔ قضا سب کی اس جگہ لائی۔ رُخ پر سب کے مُردنی چھائی۔ ملاّح اور خلاصی ایک دوسرے سے لپٹ کر نالہ زاری کرنے‘ جان اپنی کھونے لگے۔ نجیب نے ہر چند آس دلائی مگر راس کسی کے نہ آئی______ دوسرے دن جہاز پہاڑ کے مقابل پہنچا۔ اگرچہ کہ
ورطہ ہلاکت: پانی کا چکرّ، بھنور
بحری رَو: سمندری کی لہر کا وہ باقاعدہ بہاؤ جومُسلسل کسی سمت کو جاری رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادہ قمر الزماں

باد یان گِرا دیئے گئے تھے مگر بحری رَوٰن تیزی سے جہاز کو بہائے لئے جا رہی تھیں۔
پھربَرق رفتاری سے پہاڑ کھینچنے لگا۔ گویا سب ہنڈولے میں بیٹھے آگے کی جانب جھُول رہے تھے‘ مگر یہ ایک طرفَہ اُڑان تھی۔ یعنی مَوت کی اُڑان۔ میخیں اور تمام اسباب فولاد کے تختوں سے جُدا ہو ہوکر پہاڑ کی طرف اُڑنے لگے۔ ایک مہیب آوار کے ساتھ جہاز پاش پاش ہو گیا۔ اہل جہاز سب ایسے غرق ہوئے کہ کسی کا پتہ نہ چلا۔کسی کی لاش تک نہ ملی۔
خوش قسمتی سے شہزادہ نجیب ایک تختے کے سہارے دامن تک پہنچ گیا۔
سجدہ شُکر خدا وند حقیقی کی درگاہ میں بجا لایا کہ خود کو غرق ہونے سے مخفوظ پایا۔
جب ذراطاقت عود کر آئی تو خدا کا نام لے چوٹی کی جانب روانہ ہوا۔ راستہ بڑا دشوار گُزار تھا۔ جا بجا لوہے کے ٹکڑے مانند کنکر ٹوٹے ہوئے لنگر‘ زنجیریں وغیرہچمٹی ہوئی تھیں، اور چلنے میں رکاوٹ پیدا کرتی تھیں زنگ آلود کیلیں تلوؤں کو بوسےدے کو لہو سے ترکرتی تھیں ۔قصہّ کوتاہ گرِتا سنبھلتا چوٹی تک پہنچ ہی گیا۔ اُس وقت اس کی حالت مُردے سے بھی بدتر تھی۔ چوٹی پر وہ تما نشان پائے جن کا بیان کپتان نے کیا تھا۔سَوارکے ایک ہاتھ میں باگ تھی۔ دوسرے میں نیزہ۔ آنکھیں انگارے کی طرح دہک رہی تھیں۔ ایک لمحہ کے لئے نجیب دیکھ کر سَحر زدہ سَا ہو گیا۔ اُس پر غنودگی طاری ہونے لگی۔ دوسرے ہی لمحہ وہ سب کُچھ فراموش کر نیند کی آغوش میں سوگیا۔ کہتے ہیں نیند سولی پر بھی آجاتی ہے۔ یہی حال اس کا تھا۔
موت کاآستانہ سامنے تھا اور وہ مستانہ خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔ اس میں بھی خُدا کی مصلحت تھی۔ خواب میں ایک پیردستگیر اُس سے مخاطب ہوئے:
’’ بیدار ہونے کے بعد قدموں کے نیچے زمین کھودنا ۔ ایک تیز کمان ملے گی۔
پتلے کے سینے پر ایک تختی آویزاں ہے۔ بس اُس پر تیز مارنا اگر نشانہ خطا ہوا تو یاد رکھنا تمھاری لاش قبر میں لِٹانے والا بھی کوئی نہ آئے گا۔ سوار جب سمندر میں گِر جائے گا تو سمندر اور کشادہ ہو گا۔ یعنی پانی کی سطح اونچی ہو گی۔ یہاں تک کہ پورا پہاڑ غرق ہو جائے گا۔ صِرف گنبدرہ جائے گا۔ مگر تم ذرا بھی نہ گھبرانا۔ پہاڑ کے ڈوبنے سے پہلے ہی کمان کو اسی جبہ دفن کر دینا۔ بعد ازاں تم چُپ چاپ سوار ہو جانا۔ وہ تمہیں اس طلسم سے آزاد کر دے گا۔
مگر ایک بات یاد رکھنا‘ دورانِ سَفر تمھاری زبان سے ہر گز کوئی لفظ نکلنے نہ پائے ورنہ اس کا انجام بُرا ہو گا۔ کہ یہ سب طلسم کا کارخانہ ہے۔‘‘
اتناکہہ کر پیر صاحب غائب ہو گئے۔ شہزادہ نجیب جب بیدار ہوا تو عجیب قسم کی چُستی و توانائی محسوس کی۔ خنجر کی مدد سے زمین کھود کر تیر کمان نِکالا۔ خُدا کا نام لے کر تختی کی طرف تیر چھوڑا جو عین نشانے پر بیٹھا۔ سوار لڑھکتا ہوا سمندر کی گہرائی میں فنا ہوگیا۔ نجیب نے کمان کو اسی جگہ دفن کیا۔
پانی تیزی سے چرھنے لگا۔ یہاں تک کہ پہاڑ غرق ہو گیا۔ صرف گنبد باقی بچا۔
دوٗر ایک کشتی نظر آئی جوگنبد کی طرف آرہی تھی۔ شہزادہ نجیب کچھ کہے بغیر سوار ہو گیا۔
اس کا ملاّح پیتل کی رنگت کا بے جان پتلا معلوم ہوتا تھا، جو مشینی طور پر کشتی کھے رہا تھا۔ کشتی میں خوردونوش کی اشیاٗ موجود تھیں۔ہر سمت آب سہی آب تھامگر ساحل کا سراغ نہ ملتا تھا۔ نویں دن کچھ آبی پرندے نظر آئے تو قدرے سکون مِلا چند گھنٹوں بعد سرسبز پہاڑیاں اور درخت دکھائی دیئے۔ زمین کے آثار دیکھ کرنجیب خوشی سے پھول گیا اور پیرد ستگیر کی نصیحت بھول گیا۔ بے اختیار

یہ بھی پڑھیں:  مختصر اسلامی عقائد

کلمات، تّشکر ادا کیا۔ اسی وقت کشتی غرق ہو گئی۔ ساحل قریب تھا۔ ایک بڑی موج نے اسے پایاب میں ڈال دیا۔ تَیر کر ساحل پر پہنچا۔ گرم ریت پر اوند ھالیٹ گیا۔ خود کی خبر نہ تھی۔
مِثل مُردے کے گھنٹوں پڑا رہا۔ جب خواس ومزاج درست ہوئے کپڑے خشک کئے ۔ بھوک چمک اٹھی تھی۔ پھل توڑ کر کھائے تو جان میں جان آئی۔ وہ جزیرہ جنّت نشاں تھا۔ گُل زار سراپا بہار۔ہر قسم کے میوے مزیدار فصل تیار تھی۔ مگر افسوس اس جنّت کے مزلے لوٹنے والا کوئی بشر یہاں سے وہاں تک نظر نہ آتا تھا۔شاید وہ جزیرہ دنیا سے بالکل الگ تھلگ تھا، اسی لیے زندگی کے آثار مَفقود تھے۔اونچے درخت پر چڑھ کر نظریں دوڑا تاکہ کوئی جہاز نظر آئے تو مدد کے لئے اشارہ کرے۔ مگر ہر وقت ناکامی ہوتی۔
یہ سوچ کر اب اس جزیرے سے نکلنانا ممکن ہے، نجیب نے اپنے تیئں خُدا کی رضا پر چھوڑا۔ شاخوں کو کاٹ چھانٹ کر ایک چوڑے سے درخت کے سہارے بڑا سا آشیانہ بنا یا۔ ایک چمن آراستہ کیا۔ پھلوں کی بہتات تھی۔ نیلی فضا میں ہوا کا سرور تھا۔ آشیانوں میں طیور چہکتے تھے۔ خوش الحان پرندے اُس کا جی بہلاتے ۔ جھیل میں نہاتا، گھنٹوں تِیرتا رہتا۔ اس طریق سے کئی ہفتے یت گئے۔ ایک دن ساحل پر گوشِ ماہی اور چڑیا کی جوتی تلاش کر رہا تھا۔ کہ
ا ۔ آبِ زُلال:صاف شفاف پانی
۲۔ گوشِ ماہی:مچھلی کا کان۔ مطلب سیپ اور گھونگا
۳۔ چڑیا کی جوتی:ایک قسم کے دریائی کیڑے کا خول جس کی شکل جوتئی نما ہوتی ہے
ایک جہاز آتا دکھائی دیا۔ اس کادِل باغ باغ ہو گیا۔ آخر خُدا نے اس کی دُعا سُن لی اور مدم کے لئے جہاز بھیج دیا۔ مگر ایک خیال دِماغ میں کوند گیا۔ جہاز تاجروں کا ہے یا بحری قزّاقوں کا؟ اشارہ کرنا عبث تھاکہ وہ تو اسی طرف آرہا تھا۔ ارادہ کیا کہ چُھپ کر دیکھنا چاہئئے کہ کون لوگ سوار ہیں۔فوراً ایک درخت پر چڑھ کر خود کو پتوں میں چھپا لیا۔
ساحل سے کچھ دوٗر جہاز ٹھہرا۔ ایک چھوٹی سی کشتی پر کچھ لوگ ساحل پر اترے۔ وہ کُل دس تھے۔ وضع قطع سے غلام معلوم ہوتے تھے۔ پھاوڑے کُدال جیسے آلات لے ایک جگہ زمین کھودنے لگے۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک وہ کھُدائی کرتے رہے۔ ان کے چہروں سے پریشانی عیاں تھی۔ شاید وہ کسی خزانے کے چکّر میں تھے۔ آخر کار عرق ریز کھُدائی دیکھ کر خُدائی کو بھی رحم آیا۔ ایک نے خوشی کا نعرہ مارا۔۔۔۔۔۔’’ یہ رہا۔‘‘ سب غلام اس طرف دوڑپڑے۔ جلد جلد وہاں کی مِٹیّ صاف کی تو لوہے کا ایک کڑا نظر آیا۔ زور لگایا تو کڑا اوپر اُٹھنے لگا۔ وہ کسی تہہ خانے کا دروازہ تھا۔ چار غلام زند گئے اور چھ کشتی کی طرف۔ پھر کشتی لے کر جہاز تک پہنچے۔ اس مرتبہ دو کشتیاں آرہی تھی۔ نجیب نے دیکھا کہ غلام طرح طرح کے اسباب خوردونوش، فرش و فروش سَر پر اُٹھائے تہہ خانے میں چلے گئے۔ کشتیاں پھر جہاز تک گئیں۔ اس مرتبہ ایک کشتی میں بڑے بڑے صندوق تھے۔ دوسری کشتی میں ایک مَرد بزرگ نظر آئے جوزَرق بَرق لباس پہنے تھے۔ ہمراہ اُن کے شاہانہ لباس میں ایک نوجوان چودہ پندرہ برس کے سن وسَال کا تھا۔ سب کے سب تہہ خانے میں غائب ہو گئے۔ کئی گھنٹوں بعد وہ باہر نکلے۔ مگر نوجوان لڑکا نظر نہ آیا۔ غلاموں نے دروازہ بند کر کے زمین برابر کر دی اور جہاز کی طرف چل دئیے۔نجیب کو بڑا غصّہ آیا کہ ایک نو عمر لڑکے کے زندہ درگور چھوڑ کر بڑے مزے سے واپس جا رہے تھے آخر یہ ماجرا کیاہے؟ ایسی حالت میں وہ مَفینے میں کیسے جا سکتا تھا؟ ایک اور بد نصیب اس جزیرہ میں بلکہ زمین کے سینے میں دفن تھا۔ لازم تھا کہ پہلے اس کا احوال پوچھے۔ جہاز نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔ نجیب اس جگہ پہنچا۔ مِٹّی ہٹا کر دیکھا۔ دروازے پر بڑی وزنی سِل دھری تھی۔ بڑی مشکل سے اتنی جہ بنائی کہ ایک آدمی آسانی سے گُزر جائے۔ زینے سے آہستہ آہستہ اُترا۔ دیکھا ایک صاف ستھرا کمرہ ہے فرش قالین کا بِچھا ہے۔ تکیے نفیس، غلاف چڑھے قرینے سے رکھ ہیں۔ فانوس اور مومی شمعیں روشن ہیں۔ عود وعنبر سے کمرہ مہک رہا ہے۔ تخت پر وہی نوجوان پنکھا اپنے تئیں جھل رہا ہے۔ گلدستے میں قسم قسم کے پھول کھل رہے ہیں ۔آہٹ سُن کر وہ چونکا جیسے ہرنی شکاری کی آہٹ پا کر چونکتی ہے۔ ایک اجنبی کو کمرے میںدیکھ کر ہک دھک رہ گیا۔ نجیب نے اُس کی دِلی کیفیت پھانپ کر تسلّی دی۔
نرم لہجے میں کہا:
’’خوف نہ کھاؤ شہزادے! یا جو بھی تم ہو۔ میں تمھارا رقیب نہیں حبیب ہوں۔
نام نجیب ہے۔ ایک مصیبت کا مارا قسمت کا ہارا‘ دربدر کی خاک چھانتایہاں تک آیا ہوں۔ اس میں مری عقل کو کچھ دخل نہیں۔ طوفانِ حوادث نے مجھے لاوارث بنا کر یہاں پھینک دیا۔ کِدھر سے اَدھر آنکلا۔ یہاں سے کہاں جانا ہے۔ اّول کی کچھ خبر ہے نہ آخر کی۔ کچھ اذیّت اور تکلیف تم کو نہ پہنچاؤں گا۔ خدمت تمھاری ضرور کروں گا۔ تم صاحبِ نصیب ہو کہ مجھ غریب کو تمھاری رہائی کے واسطے خدا نے کہاں بھیجا۔مگر پہلے سبب اپنے دفن ہونے کا بیان کرو۔‘‘
نجیب کے اس نرم کلام سے نوجوان گلفام کو قدرے اطمینان نصیب ہوا۔ احترام سے نجیب کو قریب بٹھایا۔ رب کا نام لے کرہمکلام ہوا:’’ میری کہانی نہایت عجیب ہے جَسے سُن کر آپ کو تعّجب نہ کرنا چاہیئے۔مجھے زندہ درگور کرنے میں مصلحت ہے۔‘‘
ایک لمحہ کے لئے وہ چُپ سوچ میں گُم ہو ا۔ رازافشا کرے یا نہ کرے۔ صراحی سے اَرغَوانی شربت اُنڈیل کر نجیب کو دیا۔ خود بھی پیا اور اپنی داستان یوں بیان کی:
’’ میرے والد جوہری ہیں‘ نام کوکب ہے۔ اپنی محنت اور ہُنرمندی سے بہت ولت پیدا کی۔ سینکڑوں غلام اور کوٹھیاں ہیں کئی جہاز چلتے ہیں۔
دوٗر دوٗر پھرے ملکوں ملکوں سے تجارت کی۔ غرض خُدا کا دیا سب کُچھ ہے مگر کبھی روحانی خوشی حاصل نہ ہوئی۔ بے شمار ہیرے جواہرات تھے۔ جس کو دیکھ کرآنکھیں خَیرہ ہوتی تھیں۔ مگر انھیں ایسے جوہر کی تلاش تھی جوان کی آنکھوں کا نورٗ بن سکتا‘ زندگی کی تاریکی کو منّور کر سکتا۔ دَولت بے شمار تھی مگر اک اولاد نہ تھی۔ کہ دل شاد ہوتا۔ اُنھوں نے ہیرے جواہرات خیرات کئے۔ فقیر امیر بن گئے۔ عِلاج کروایا مگر بے سود ۔ تھک ہار کر قدرت کے سامنے اپنی ہار مان لی۔ کئی سال بعد اُن کی کی مُراد بر آئی۔ یعنی میری پیدائش ہوئی۔ اُنھیں ایس اہیرا مِلا جو زندگی کا بیش بہار تن تھا۔ ان کی خوشی بامِ عروج تک پہنچی۔ محتاجوں ناداروں کے لئے خزانے کا منہ کھول دیا۔ خوٗب جشن منایا۔ میرانام خوش بخت تجویز کیا۔ عالموں نجومیوں سے میرے مستقبل کا حال پوچھا‘ انھوں نے عِلم رمل سے ایک ہی فیصلہ سنایا۔ اس بچّے کو ۴اویں برس کے آخری ۰۴ دِن خطرہ جان کا بے حد ہوگا۔ اگر چودہ برس تک جی گیا تو پھر طویل عمر کو پہنچے گا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  معلومات جو بہت کچھ سکھاتی ہیں

اتنا کہہ کر خوش بخت خاموش ہو گیا۔ نجیب نے طاق سے بوتل اُتار شربتِ نار جام میں بھر کر پیش کیا۔
’’والدِ محترم نے مزید حالات آئند کے پوچھا تو ایک ستارہ شناس نے تفصیلات یوں بیان کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گردشِ کواکب سے ظاہر ہے کہ اِبن کوکب کا ستارہ گردش میں ہوگا۔ دور دراز سمندر میں کالے پہاڑ پر پیّں کا ایک مجسّمہ ہے۔ یہ منحوس مجسّمہ ایک شہزادے کے ہاتھوں فنا ہوگا۔ اگرچہ کہ وہ شہزادہ سوار کُشندہ جہازیوں کا نجات دہندہ ہوگا۔ مگرخوش بخت نے تخت پر پہلو بدلا نجیب نے تکیہ کیا۔ تب بقیہ داستان یوں بیان کی:’’ یہ پیش گوئی سُن کر میرے والدین کا دن کا چین رات کا آرام حرام ہو گیا۔ اُس قیدی کی طرح میری پرورش ہونے لگی جس کے لئے پھانسی کا وقت مقررّ ہو چکا تھا۔ میں ایک برگِ سبز تھا لیکن اباّ حضورکا دل ہوا سے بھی ڈرتا تھا۔ انھوں نے تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ شہزادوں کے شایانِ شان پروش کی۔
ہرگز کسی اَمرمیں رَوش نہ بَدلی۔ چِودھواں برس شروع ہوا۔ میرے والِد صاحب کا رنج سَو حصِّہ زیادہ ہوا۔ میری حِفاظت کے لئے دن رات مصروف رہا کرتے۔ چودہ بَرس پورے ہونے میں اب صِرف دو ماہ باقی تھے۔ کہ نجومی نے سِتاروں کی چال سے یہ حال ظاہر کیا کہ پتیل کا سوار برباد ہو دچکا ہے۔ یہ سُن کر ان کی بے قراری بڑھی۔ آہ وزای کرنے لگے۔ میری موت کا یقین ہو چکا تھا۔ ضعف اس قدر ہوا کہ چلنا پھرنا دوبھر ہوا۔ میں نے دِلاسا دیا۔ ابوّ جان ‘ زمانہ اونچ ۔ نیچ دکھلاتا ہے۔ زندگی چاردِن کی ہے سو میں نے انگلیوں پر گنِ کر دکھ لیا ہے۔ بے اجل تو کوئی مرتا نہیں۔ آپ دِل میں کوئی غم نہ کریں۔ انسان کی اوقات کیا ہے؟ رحمان ہمارا رب ہے۔ اس کا کرم عام ہے کاتبِ تقدیر نے جو لِکھ دیا سولِکھ دیا۔ زندگی تو لہو کا ایک چھنٹا ہے اور عمر زخموں کی مالا اس لیے نالہ وزاری اشک باری کیوں؟
میرے اس کلام سے دِل کا بوجھ زراکم ہوا۔ شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ الفت سے بات یا۔۔۔۔۔ حفظ ماتقدم ایک سال پیشتر ہی اُنھوں نے اس سنسان جزیرے پر یہ زمین دوز کرمہ بنوالیا تھا۔تاکہ چالیس روز تک میں دنیا کی نظروں سے چُھپ کر رہوں۔ احتیاطاً کوئی ملازم بھی نہیں رکھا کہ اس کی زرا سی غلطی سے راز فاش ہو جائے۔ دو ماہ کی مکمّل خوراک کی موجود ہے۔ کسی بھی ضرورت کے لئے مجھے باہر جانا نہیں پڑے گا۔ اتنی ساری احتیاطی تدبیریں کرنے کے باوجود انھیں قلبی سکون میسّر نہ تھا۔ مَوت کا ایک دن مُعین ہے پھر چاہے پاتال میں چُھپ رو، خواہ سات پَردوں میں‘ موت کا واسطہ سب سے ہے۔ اس کا راستہ کِس نے روکا ہے۔ یہ سَر دھوکا ہے کہ ہم نے موت کو دھو کا دیا۔‘‘
اتنا کہہ کر خوش بخت خاموش ہو گیا۔ نجیب نے انگور کے خوشے پیش کئے۔ تب اس نے دوبارہ سلسلہ کلام جاری کیا۔
’’ مجھے مَوت کا قطعی ڈر نہیں ۔ اباّ حضور کی تسلّی کی خاطر یہاں رہنا
گوارا کیا۔میں نجومیوں سے ہرگز متفق نہیں۔ وہ شہزادہ جو مجّمہ کو فنا کر چکا ہے۔ یہاں سے کوسوں دور ہو گا۔ اس کے فرستے بھی یہاں پر نہیں مار سکتے۔‘‘
نجیب دِل ہی دِل میں اس کی سادہ دِلی پر ہنسا۔ پھر سوچنے لگا۔ عجیب اتفّاق ہے۔اب تک تو نجومیوں کی پیش گوئی حرف۔ بحرف درست ثابت ہوئی ۔آگے کا حال اللہ بہتر جانتا ہے۔ مگر یہ منطق اس کی سمجھ میں نہ آئی کہ بلا قصور وہ خوش بخت کو قتل کیوں کرنے لگا۔گُل سے بکاڑ ہے نہ خار سے بگاڑ۔ پھر خوش بخت نے اس کا کیا بگاڑا تھا۔ کہ وہ اسے موت کے گھاٹ اُتارتا۔ بے گناہ پر چُھری پھرتا؟زندگی میں پہلی بار اس سے ملاقات ہوئی تھی۔ دشمنی کا کوئی جواز ‘ قتل کا کوئی راز ہرگزنہ تھا۔ اُس نے خوش بخت سے کہا:
’’ میاں تم کچھ خوف نہ کھاؤ۔ خدا کو یاد کرو۔ تمھیں کوئی صدمہ نہ پہنچے گا۔ مولیٰ نے تمھاری خدمت و حفاظت کے لئے بندے کو یہاں بھیجا۔ اب میں بھی اَس چلیّ میں شریک ہوتا ہوں۔ ہر طرحکی نگہبانی اور میزبانی کرتاہوں۔ چلہّ ختم ہوتے ہی تمھارے والدِ یہاںآئیں گے تو میں بھی ان کے ہمراہ شہر جا کر اپنے ملک کو رَوانہ ہوں گا۔یہ احسان تمھارا کھبی نہ بھولوں گا۔‘‘
یہاں وہاں کی باتیں دُنیا جہاں کی حکایتیں سُنا کر اس کی کا جی بہلاتا ۔ وہ نوجوان بہت ذی شعور اور فہیم تھا۔ کہ ہر معاملے میں بحث علمی کرتا تھا۔ نجیب اس کا بستر تیا ر کرتا‘ شمشیر زنی کی مشق کراتا۔ تیر اندازی میں تو ماہر کر دیا۔ہرکام اور اور سب کلام محتاط رہ کر کرتا کہ ظاہر نہ ہو کہ وہی شہزادہ سوار کِشُندہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  درد سر کا علاج

اِن خدمات سے خوش بخت بہت خوش ہوا اور اس سے برادرانہ محبتّ کرنے لگا۔ عرض انُتالیس دِن تک نہایت چین وآرام سے تہہ خانے میں رہے۔ صِرف ایک دن باقی رہ گیاتھا۔ اگر وہ بھی بخیر وخوبی گزرجاتا تو خوش بخت طویل عمر کو پہنچتا۔نجیب کو نجومی کو پیش گوئی پر ہنسی آتی تھی کہ خوامخواہ الزام تراشا۔اس کی تو دِلی تمنّا تھی کہ خوش بخت طویل عمر کو پہنچے، زندگی کی بہاریں لوٗٹے۔ چالیسویں دِن کا سورج نمودار ہوا، اور یقیناً ہوا ہو گا۔ کیونکہ وہ تو زیر زمیں تھے۔
کوکب نے ایک ریت گھڑی رکھوادی تھی۔ جِس پر ساعات کے نشانات تھے۔ویسے بھی رات کے وقت بے خد خوش اور ہشّاش بشاّش تھا بالکل اس قیدی کی طرح جس کی رہائی کا پروانہ آنے والا تھا۔ اُس نے نجیب سے درخواست کی کہ نہلا دُھلا کر لباسِ فاخرہ پہنادے۔ خوب سجا کر تیار کردے۔ نجیب نے حُکم کی تعمیل کی۔
وہ بھی خوش تھا کہ اسے رہائی نصیب ہوگی۔ خوش بخت تخت پر لیٹ گیا اور فرمائش کی کہ میزپر عمدہ پھل‘ خوردونوش کی تما اشیاء قرینے سے سجادے۔ سُلاف و شراب صُراحی میں بھر دے اور خربوزہ کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ نجیب نے میز یں سجا دیں اور خربوزہ پسند کیا۔ قَند‘ طشتری میں لے کر پاس گیا۔ خربوزہ تراشنے کے لئے پوچھا کہ چُھری کہاں دھری ہے۔ کہا کہ سرہانے والے طاق پر ۔ طاق تخت کے عین اوپر قدرے اونچائی پر تھا۔
پھر بھی ہاتھ نہ پہنچا تو اُس نے تخت کے فریم پر ہاؤں رکھا۔ پھر اچانک وہ حادثہ ہو گیا جو نہ ہونا چاہئے تھا۔ چُھری کا ہاتھ میں آنا اور نجیب کا پَیر پھسلنا دونوں امر ایک ساتھ ہوئے۔ وہ سنبھل نہ سکا۔بے اختیار اس طرح گرا کہ چُھری خوش بخت کے سینے میں پیوست ہوگئی۔ ایک دل دوز چیخ مارکر وہ بدبخت فی الوقت مرگیا۔
یہ انہونی دیکھ اُس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ واویلا کرنے‘ سینہ کوبی کرنے لگا۔ خوش بخت کی موت نے اُسے پاگل بنا دیا تھا۔ گلے پھاڑ پھاڑ کر چِلاّتا تھا۔ چِلاّچِلاّ کر کپڑے کا گلا پھاڑتا تھا۔ زمین پر اپنے تئیں دے دے مارتا تھا۔ تخت پر سَر پھوڑتا تھا۔ لاش کو جھنجھوڑتا تھا۔ مگر یہ دیوانگی‘ گریہ وزادی بے جان لاش میں جان تونہ ڈال سکتی تھی۔ ہیہات! چند گھڑیاں فقط باقی تھیں اگر ٹل جاتیں تو خوش بخت اِسم باسمیّٰ ثابت ہوتا۔ نجومی نے سچ کہا تھا۔ مقدّر کا پانسہ بدلتا نہیں تقدیر اپنا رنگ نیا دکھاتی ہے۔ موت کہاں سے کہاں کھینچ لاتی ہے۔
نجیب نے دونوں ہاتھ اُٹھا کر کہا:
‘‘ یاخُدا تو دانا بینا ہے۔ کیا کہوں‘ کس سے کہوں ؟ کون سنے گا میری؟
میں نے قصداً اسے نہیں مارا۔ اُس کی موت میرے ہاتھوں مقدّر بن چکی تھی۔ سو قسمت لکھا پورا ہوا۔ میں تو اُلفت کا بندہ ہوں ‘ شفقت کا پھول پیش کیا۔ کیا پتہ تھاکہ اس میں اجل کا خنجر پوشیدہ ہے۔‘‘بہت خوبصورت بہت نیک تھا وہ ہزاروں جوانوں میں بس ایک تھا وہ اب وہ حجرہ خوش بخت کا مقبرہ بن چکا تھا۔ وہاں ٹھہرنا خطرناک تھا۔ محنت اور خدمت سب اس کی اَکارت گئی۔ بلکہ نیکی برباد گناہ لازم ہوا۔ خوش بخت کے بیان کے کے مطابقّ جہاز آتا ہی ہو گا۔ یہ خیال آتے ہی اُس نے راہ فرار اختیار کی۔ تہہ خانے سے نکل ساحل کی طرف بھاگا۔ ایک جہاز کے بادبان دکھائی دیئے۔ قرین قیاس تھا۔ کہ کوکب جوہری کا ہوگا۔ اُسی درخت پر جا چھُپا۔ کسی صورت اپنی بے گناہی ثابت نہ کر سکتا تھا۔ جہاز کے لنگر انداز ہوتے ہی دوکشتیاں ساحل کی طرف بڑھیں۔ نجیب نے پہچان لیا۔ وہ کوکب کے ہی غلام تھے۔ بڑی عجلت سے وہ اُس جگہ پہنچتے۔ تہہ خانے کا دروازہ کھُلا دیکھ کر ان کا رنگ فق ہوا‘ شک ہوا۔ نیچے جا کر پکارا مگر وہاں کوئی ہوتا تو جواب دیتا۔ جب حقیقت سے آگاہ ہوئے تو ناگاہ رونے چِلاّنے کی آوازیں آنے لگیں۔ ایک غلام نے دَوڑ کر کوکب کو خوش بخت کی موت کی خبر سُنائی جسے سُن کر بوڑھا جوہری بے ہوش ہو گیا۔ غُلاموں نے اسے سائے تلے لٹا دیا۔ خوش بخت کی لاش باہر نکال کشتی میں ڈال جہاز کی طرف چل دیئے۔ بعدازاں تہہ خانے کا سازو سامان جہاز میں منتقل کیا۔ پھر کوکب کوبے ہوشی کے عالم میںاُٹھا کر لے گئے۔ جہاز اپنے وطن کی طرف روانہ ہوا۔ نجیب حسرت بھری نظروں سے اُسے دیکھا کیا پھر ابرِ بہار کے مانند برس پڑا۔ زارو قطار روتا تھا۔ خون بدن کا خشک ہوتا تھا۔ جو بچتا تھا وہ آنکھوں سے ٹپکتا تھا۔ رہ رہ کر سَر اپنا ٹپکتا تھا۔ دِل جلتا تھا۔ آہ کے ساتھ دھواں نکلتا تھا۔ جب زرا حواس و مزاج درست ہوئے دوبارہ تہہ خانے میں گیا۔ وہاں ہُو کا عالم تھا۔ ایک روز پہلے جو کمرہ دلہن کی طرح سجایا تھا۔ اب کسی بیوہ کی مانگ کی طرح اُجڑا نظر آتا تھا۔ معلوم ہوتا تھا۔ جیسے خوش بخت کی بے چین روُح بھٹک رہی ہو۔نجیب زیادہ دیر تک وہاں ٹھہر نہ سکا۔ اور اپنے آشیانہ کی طرف چل پڑا۔ چالیس دِنوں کی غیر حاضری میں جنگلی جانوروں نے اسے بکھیر دیا تھا۔ چمن ٹوٹا پھوٹا کہیں بیل نہ بوٹا تھا۔ غم کی حکمرانی‘ تباہی کا راج تھا۔ راج پاٹ کرنے والے کے سَرآج مُصیبت کا تاج تھا۔
خونِ دل پیتاِ زخمِ جگر سیتا‘ رات کو اسی تہہ خانے میں سوتا۔ صبح ہوتے ہو واسطے تلاشِ راہ کے اِدھر اُدھر پھر تا مگر کوئی راہ نہ پاتا تھا۔
ایک دِن جھیل کی طرف گیا۔ جہاں گھنٹوں نہایا کرتا تھا۔ کئی چکر کاٹے یہ دیکھنے کے لیے کہ کوئی چشمہ پھُوٹ کر کہیں جاتا ہے یا نہیں۔ آخر کار اُمیدّ برآئی۔ ایک چھوٹی سے ندی جھیل سے نکل کر بہہ رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ چل دیا۔ کئی روز تک چلتا رہا۔ ایک دِن کوئی شے مثلِ آگ جلتی نظر پڑی۔ مگر دُھواں نہ تھا۔ روشنی عجیب سی تھی۔ جیسے کوئی آئینے چمکا رہا ہو۔ خوش خوش قدم مارتا اس طرف کو گیا۔ دیکھا تانبے کا محل تھا۔ سُورج کی شعاع سے مانند جنگل کی آگ چمکتا تھا۔ محل عالیشان تھا کہ اس کی چمک سے آنکھیں خیرہ ہوتی تھیں۔ آخر جب سُورج پشت کی جانب ہو ا تو انعکاس کم ہوا۔ تب نظر بھر کر محل کو دیکھا جواپنی صناّع میں اپنی مثال آپ تھا۔ ایک طرف سے دس خوبصورت نوجوان لڑکے نکلے۔ نجیب کو بڑی حیرت ہوئی کہ سب کے سب داہنی آنکھ سے کانے تھے۔ ایک بزرگ دراز قامت نورانی صوٗرت سب کے آگے چل رہے تھے۔ نجیب کو دیکھ کر خوش آمدید کہا ۔ معاملہ فہم تھے۔ سمجھ گئے کہ آفت رسیدہ راہ گم گشتہ ہے۔ اس کی خستہہ حالی دیکھ کر مہربانی فرمائی۔ پیچھے آنے کا اشارہ گیا۔دس جوانوں کے جلومیں وہ محل کے اندر چلا۔ دالان در دالان گُزر کر ایک بڑے کمرے میں پہنچے۔ وسط میں دس عَدد مَسَندیں قرینے سے رکھی تھیں۔ پانچ دائیں طرف ‘ پانچ بائیں طرف پشت پر حُجرے ان کی رہائش کے تھے۔ گیارھواں کمرہ بُزرگ کا تھا۔ سپ اپنی اپنی مَسند پر بیٹھ گئے۔ بُزرگ سامنے سنگِ مرمر کے ایک تختِ مختصر پر جا بیٹھے۔ ایک نوجوان نے اسے فرش پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ پھر بُزرگ نے نرمی سے پوچھا:
’’ ایسی کیا مشکل آن پڑی جو اتنا حیران و پریشان ہو؟ اپنا نام بتاؤ یہاں آنے کا کام بتاؤ۔‘‘
نجیب نے کہا:’’ میں تن تنہا مُسافر غریب‘ والی لُبنان نجیب ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  اندھا بابا

پھراوّل تا آخر سب حال اپنا بیان کیا۔ جسے سُن کر اُنھوں نے اظہار تاسف کیا بُزرگ نے اَشارہ کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دستر خوان عالیشان بچھ گیا۔ اشتہار انگیز خوشبو سے وہ بے تاب ہو گیا۔ کئی روز کا بھوکا تھا۔ اشارہ پاتے ہی کھانے پر ٹوٹ پڑا۔ جب پیٹ کی آگ سرد ہوئی تب دماغ روشن ہوا۔بُزرگ نے لباسِ فاخرہ عطا کیا اور کہا:
’’ یہاں کسی اَمر کے بارے میں کہ جوکچھ ہم کریں ہرگز نہ پوچھنا اور نہ کسی اَمر کے کرنے سے باز رکھنا‘ چپ چاپ بیٹھے رہنا اور سب کی داہنی آنکھ کیوں کر ضائع ہوئی یہ سوال بھی نہ کرنا‘‘
اندھیرا پھیل رہا تھا۔ طاقوں میں مومی شمعیں روشن ہوئیں ۔فانوس جل اُٹھے کمرہ بُقعہ نوربن گیا۔ منقّس دیواروں سے روشنی مُنعِکس ہو کر قوسِ قزح کے رنگوں میں تبدیل ہو کر ماحول کر رنگین بنا رہی تھی۔ دسوں جوان اُٹھ کر اپنے اپنے حجروں میں گئے۔ اور خوان پوش طَشت دَست میں لے کر آئے۔ سامنے میز پر رکھا اور کھولا ۔ اس میں راکھ اور کوئلے کی سیاہی تھی۔ پانی کا آمیزہ تیار کیا اور چہروں پر ملنے لگے۔ جب سبھوں نے کالک سے منہ کالا کر لیا۔ تو سینہ کوبی شروع کی۔ روتے جاتے تھے کہتے جاتے تھے۔
’’ ہائے ہماری زندگی برباد ہو گئی۔ دیکھو نتیجہ ہماری بے وقوفی کا۔
’’نادانی کا۔ ہم بے صبروں کا یہی انجام ہوتا ہے۔‘‘
ان کی ہائے وائے سے کمرہ ماتم کدہ بن گیا۔ نجیب کی حالت یہ تھی کہ نہ پوچھا جائے ہے نہ بولا جائے ہے۔ بس چُپ چاپ تماشہ دیکھتا رہا۔ رات گئے تک وہ ماتم کرتے رہے آخر کا ر توبہ تِلاّ کی رسم ختم ہوئی۔ چہرے دھوئے۔ نئے کپڑے پہنے۔ اور اپنے اپنے حجروں میں شب باشی کے لئے چلے گئے۔ بزرک نجیب کو لے کر اپنے کمرے میں گئے۔ نرم وگُداز بستر پر دراز ہوتے ہی وہ سو گیا۔ دوسری صبح کو سب جَوان گل گشت کر رہے تھے۔ نجیب بھی ان میں شامل ہو گیا۔ ڈرتے ڈرتے کہا:
’’ صاحبو! تمھاری مرّوت سے یہ مرتبہ مجھ کو مِلاتم سب ذی شعور اور یار وفادار ہو۔ میں سخت تردّد میں ہوں کہ اگررات کے احوال کا سبب پوچھتا ہوں تو خلاف اپنے قول کے ہوتا ہے۔ اگر نہیں پوچھتا تو مجھ سے رہانہیں جاتا۔ ایسی حرکتیں تو پاگل یا دیوانے ہی کرسکتے ہیں۔ اَس واسطے پوچھتا ہوں کہ اس دیوانگی کا راز کیاہے۔ خدا خَیر کرے یہ سب کیا ہے۔؟ آنکھ صائع ہونے کا سبب کیا ہے؟ایک نے جواب دیا:
’’اپنے کام سے کام رکھو۔ اگر ہمارے ساتھ چین سے رہنا چاہتے ہو توکِسی کام دخل نہ دو اور اس خیال کودِل سے نکال دو۔‘‘
یہ سُن کر نجیب چُپ ہو رہا۔ دِن بھر مَٹرگشت کرتے رہے ۔ ان کو شاید اور کوئیکام نہیں تھا۔ غالباً ازل سے ہی کاہلوں کی زندگی بَسر کرتے آئے تھے۔ رات کو پھر وہی امور عمل میں لائے۔ نجیب چُپ چاپ دیکھتا رہا۔ فجر تک اِس اندیشے سے نیندنہیں آئی کہ اگر دن یوںں ہی گُزرتے رہے تو وہ بھی کاہل بن جائے گا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مفت خوروں کی روٹی توڑتا ہے۔ اپنی جسمانی و دماغی قوتوں کو زنگ آلود کرتا رہے۔ صبح کو جب وہ سَیر کو نکلے تو اُس نے پھر منت سماجت کی کہ راز کا پَردہ فاش کریں۔ ایک نے جواب دیا۔’’ ہمارا حال دیکھ کر اپنا مستقبل تباہ نہ کرو۔ ہم سب مزے میں ہیں۔
تم اپنی خَیر مناؤ۔سیر باغ کی کرو۔ پھولوں کی بوٗ سے خوش دماغ کرو۔قدرت کا احسان مانوکہ دس طرح کے پکوان کھانے کو ملتے ہیں۔ اب کِس واسطے روتے ہو‘ جان اپنی کھوتے ہو۔‘‘’’ دوسرے نے کہا:
’’تمھاری بھلائی اور دوستی کے پیش نظر ہم ظاہر نہیں کرتے۔ مُبادا تمھارا حال بھی ہمارا
سا ہوجائے۔ آرام چین سے رہو ورنہ ٹھنڈے ٹھنڈے اپنی راہ لو۔‘‘
’’آپ میری چنداں فکر نہ کریں۔ بڑی بڑی آفتوں کا مقابلہ کیا ہے میں نے۔ داہنی آنکھ صائع ہونے کا راز جاننے کا بے حد مشتاق ہوں۔‘‘
نوجواں نے آگاہ کیا‘ گویا آخری انتباہ کیا کہ شاید وہ باز آئے۔’’ میاں شہزادے! خدانخواستہ اگر تمھاری آنکھ کِسی حادثہ کے سبب ضائع ہو جائے تو یاد رکھنا اس محل میں گزارا نہ ہوگا۔ کیونکہ تعداد پوری ہوچکی ہے۔ گیارھویں کا نے کی گنجائش قطعی نہ ہوگی۔ اپناٹھکانہ کہیں اور ڈھونڈنا ہوگا۔‘‘
نجیب نے ادب سے کہا:

’’اگرچہ آپ جیسے شریفوں سے جُدا ہونا پڑے گا تاہم اپنی ضد پر اَڑا رہوں گا۔ میری زندگی اب کس کام کی۔ تختِ سُلطان میرے بِنا سُونا پڑا ہے۔ ارکانِ دولت میں رونا پیٹنا پڑا ہے۔ میں قسمت کے گرداب میں غرقاب ہوں۔ کچھ بنائے نہیں بنتی۔اب تو سایہ بھی اپنا بار ہے۔ یہاں رہنا دُشوار ہے۔‘‘
یہ اٹل فیصلہ سُن کر وہ سب مُسکرائے ۔ پھر ایک بھیڑذُبح کر کھال اس کی اُدھیڑ لی۔ ایک خنجر دے کرکہا:’’ اسے احتیاط سے رکھنا کام آئے گا۔ تم کھال میں لپیٹ کرسی دیں گے، اور میدان میں ڈال دیں گے۔ پھر ایک دیو پیکر پرندہ رخ آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  درزی اور کبڑا

اے رُخ: ایک فرضی پرندہ جو بہت بڑا ہو تا ہے۔ جس کا ذکر الف لیلہ کی داستان میں ملتا ہے ۔ بعض اسے مُرغ کہتے ہیں۔ روایت ہے کہ بھاری بھر کم گینڈا اپنا سینگ ہاتھی کے جسم میں پیوست کر دیتا ہے اور اسے سَر پر اُٹھا کر لے جاتا ہے۔ہاتھی کے خون سے گینڈا اندھا ہو جاتا ہے اور بے ہوش ہو جاتا ہے پھر رُخ پرندہ پنجوں میں دبوچ کر دونوں کو اُڑا لے جاتا ہے۔ ان کا گوشت اپنے بچوں کو کھلاتا ہے۔
بھیڑ کو شکار سمجھ کر لے اُڑے گا۔ ایک وادی میں اُتار کر اپنے بچوّں کے ساتھ کھانے کی کوشش کرے گا۔ بس اس وقت خنجرے کھال چاک کر کے باہر نکل جانا۔ رُخ کے چُنگل سے بچ گئے۔ تو گویا قسمت مہر بان ہے۔ وہ مہیب پرندہ اپنے شکار کو آسانی سے نہیں چھوڑتا ۔ تھوڑے فاصلے پر ایک قلعہ عجیب و غریب ملے گا۔ دروازہ اس کا ہمیشہ کھلارہتا ہے۔ بِلاتا ملّ اندر چلے جانا۔ پریوں کا یک محل نظر آئے گا۔ ہم سب باری باری وہاں کی سَیر کر چکے ہیں، اب تمھاری باری ہے۔ وہاں ہم پر کیا واردات گُزری؟ کیسے حادثات پیش آئے؟ قابل بیان نہیں ہیں۔ وہاں رہنے کے بعد خود بخود عیاں ہو جائیں گے۔‘‘
پھر نجیب کو کھال میں سی کر میدان میں چھوڑ دیا۔ کھال کی بد بو سے دِماغ پھٹا جاتا تھا۔ صرَف مُنہ کا حصَہّ کھُلاتھا۔ تھوڑی دیر کے بعد زور کی آندھی چلی پھر اچانک بدلی چھا گئی۔ اس کے بعد ہوش اُڑا دینے والا منظر دِکھائی دیا۔ ایک مہیب پرندہ جھپٹا اور شکار کو لے اُڑا۔ اب نجیب کو معلوم ہوا کہ یہی رُخ پرندہ تھا۔ اس کی پرواز سے آندھی کا گمان ہوتا تھا۔ اور نجیب سلامتی کی دُعائیں مانگ رہا تھا۔ جیسے ہی رُخ پرندہ زمین پر اُترا نجیب نے خنجر سے کھال کر اُدھیڑنا شروع کیا۔ رُخ نے اپنے بچوں کی جانب رُخ کیا۔ بس اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر نجیب نکل بھاگا۔ رُخ بوکھلا کر کھال کو اُلٹ پلٹ کر رہا تھا۔ اُس کی سمجھ میںنہ آسکا کہ ماجرا کیا ہے۔
نجیب بھاگتا ہوا قلعہ تک پہنچا۔ وہاں کوئی قلعہ دار تھا نہ چوکیدار اور نہ کوئی نقیب جو نجیب کی آمد کی پُکار کرتا۔ بے دھڑک اندر داخل ہوا۔ وہاں طِلسمی ماحول دیکھ کر رنج والم دِل سے ائل ہوا۔ ایک شاندار محل دیکھا۔ باغ جَس کا جنّت نشاں تھا۔ پرندوں کی چہک ‘غنچوں کی مہک سے دِل باغ باغ ہوا۔ چلتے چلتے بارہ دری تک پہنچا۔ وہاں چالیس حسین اور خوبصورت شہزادیاں نظر آئیں نجیب کو دیکھ استقبال کو آگے بڑھیں۔
’’ خوش آمدید! اے شہزادے !! ہم عرصہ سے آپ کے منتظر تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  مختصر اسلامی عقائد

پھر نجیب کو ایک دالان میں لے جا کر چوکی پر بٹھایا۔ ایک گرم پانی ہاتھ پاؤں دھونے کو لائی۔ماہ رُونے خوشبودار پانی سے مُنہ دُھلایا۔ شہزادی ذاکرہ نے لباسِ فاخرہ زیب تن کرنے کودیا۔ سیمیں قمر نے سَر پر زودوزی کا عمامہ رکھا۔ اس کی گرہ میں ایک بڑا ساہیراٹکاہوا تھا۔ پھر انواع و اقسام کے پکوان دستر خوان پر چنیُ۔ چاندی کی قابوں میں پھل سجائے۔ خوردنوش کے بعد نجیب کو دیوانِ خاص میں لے گئیں اور اسے سونے کے تخت شاہین پر نشین کیا۔ تخت کی پشت پر ایک عقاب اپنے پراس طرح پھیلائے ہوئے تھا گویا اس کے سائے میں بیٹھنے والا اس کی امان میں تھا۔ گُل بوٹے تخت کے الماس اور یاقوت کے بنائے تھے۔ چار پائے زمّرد کے جمائے تھے۔ تخت پر بیٹھ کر نجیب اپنے تیئں ہفت اقلیم کا بادشاہ تصّور کرنے لگا۔ بعد ازاں محفِل عیش و نشاط کی‘ مجلس ابنساط کی سجی۔ ایک مضراب سے ستارکے تاروں کو چھیڑا‘ دوسری نے بربط شہزادی حُباب نے رُباب لیا۔ شہزادی سائرہ نے دائرہ پر ہھتیلی سے ضرب دیا۔ چوتھی نے رقص شروع کیا۔ شہزادی نجمہ نے
ا۔ بارہ داری : بارہ دروازوں والا مکان جو عموماً باغ میں بنایا جاتا ہے۔
۲۔ مضراب: ستار بجانے کا چھلاّ
۳۔ رُباب: ایک قسم کی سارنگی
۴۔ دائرہ: ایک باجا جو ایک رُخ سے کھُلا رہتا ہے۔ (دف)
نغمہ نشاط کا چھیڑا۔ غرض ک ناچ کا سماں‘ راگ کا بیاں کچھ لکھا نہیں جا سکتا۔ دیکھنے سننے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس مسحور کن ماحول میں نجیب ایسا کھویا‘ یاد بھی نہ رہا کہ کب سویا۔ دوسری صبح دن چڑھے تک سوتا رہا۔ آنکھ کھلی تو دیکھا ایک شہزادی ہلکے سُروں میں سُردد بچارہی تھی جس کا سُروررگ ور ریشے میں دَوڑ رہا تھا۔ بیدار ہو کر غسل کیا۔ شاہی لباس زیب تن کرکے تخت شاہین پر جا بیٹھا۔ ایک شہزادی نے فرمائش کی کہ وہ اپنے کارنامے بیان کرے۔ وہ تمام اس پر مہربان تھیں۔ خدمت بااخلاص تمام کرتی تھیں۔ نجیب نے اپنی داستان عجیب اوّل تاآخر بیان کی۔

یہ بھی پڑھیں:  آدھی رات کا سفر

اس طرح عیش وعشرت سے دن تمام ہوتے تھے۔ ایاّم کلفت رفع ہوئے۔
مصیبت کے دن دفع ہوئے۔ایک دن حسبِ معمول جب وہ سامنے آئیں تو سب اُداس و ملُول تھیں۔ اُس نے سبب ملال کا پوچھا۔ افسردہ دِلی کاحال پوچھا تو شہزادی خُورد ساں نے کہا:
’’ شہزادے ! اب ہمارے جانے کا وقت آگیا ہے۔ ہم چالیس شہزادیاں چالیس بادشاہوں کی صاجزادیاں ہیں ۔ سب سَحر زدہ ہیں ۔ شام وسَحر اس ویران محل میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔مگر سال میں ایک بار اپنے رشتہ داروں سے ملنے کا موقع ملتاہے۔یہ تو آج تک معلوم نہ ہوسکا۔ کہ ہم کسی جن کے زیرِاثر ہیں۔ ایسا کون قَوی تَن ہے جو غائبانہ ہم پر حکومت کرتا ہے ۔مگر اس کے سَحر نے ہمیں کچھ ضَرر نہ پہنچائی اور نہ ہم نے جاننے کی کوشش کی۔ کیونکہ ہمیں وہ تمام نعمتیں و آزادی میّسر ہیں۔ جوایک شہزادی کو ہونی چاہئیں۔کل کے روز یہ بَرس پورا ہوا۔
’’آج آپ سے رخصت ہوتے ہیں۔‘‘

’’شہزادی دِل آرام نے سلسلئہ کلام جاری رکھا۔‘‘
’’ ہمارے چلے جانے سے دُکھ تو ہوگا لیکن قبل اس کے ہم جُدا ہوں‘آپ کے لئے تفریح کا سامان مہیّا کر جائیں گے۔ یہ لیجئے چابیاں۔اس محل میں چالیس کمرے ایسے ہیں۔ جنھیں آپ نے ابھی تک دیکھا نہیں۔بعد ہمارے جانے کے ہر کمرے کی سَیر سے دل اپنا بہلائیے گا۔ان میں انوکھی دُنیا آباد ہے۔ روزانہ ایک مرہ کھول کرسَیر کیجئے گا۔اَس طرح چشم زون میں چالیس دن گُزر جائیں گے۔ اور ہم سب واپس آکر پھر آپ کی محفل میں شریک ہو جائیں گے۔

’’مگر ایک بات یادرکھئے گا۔ چالیسواں کمرہ ہر گز نہ کھولئے گا۔ جس کا دروازہ سونے کا بنا ہے ، اور جس پر گھوڑے کا سَر کندہ ہے۔ اگر آپ نے یہ شرط توڑ دی تو ہم زندگی بھر نہ مِل سکیں گے۔ اَدھر سونے کا داروازہ کھُلا‘ اُدھر رونے دھونے کا دفتر کھُلا۔ آپ سے صبر نہ ہوگا۔ ہماری غیر حاضری میں خوامخواپ اسے کھولنےکو جی چاہے گا۔ یہی اَمر سب ہماری مفارقت وجدائی کا ہو گا۔ زندگی کا امن و چین غارت ہو گا۔ اور کون سی آفت نازل ہو گی۔ اس کا بیان مشکل ہے۔ کہ بعد کمرہ کھولنے کے کوئی بشراِدھر آیا نہیںجو اپنی بپتا سُناتا۔بہت سے شہزادے مِثل تمہارے یہاں آئے پھر ایسے گئے کہ دوبارہ صورت نہیں دکھائے ۔ مشکل تو یہ ہے اس کمرے کی چابی اس حلقے سے الگ کر بھی نہیں سکتے۔گھوڑے کے سَر والی چابی اُسی مسحُور و مقہور کرمے کی ہے۔

شہزادی گلفام نے قطع کلام کیا۔’’ ہمارا پیغام یہی ہے کہ آج آئینہ ایاّم میں جی بھر کر اپنی شکل دیکھ لو۔ کل کیاہو؟ہم سب کا پَروَر بہتر جانتا ہے۔ اب آخر ی سلام لو۔ خدا حافظ۔‘‘
نجیب نے کہا:
’’ آپ کی نصیحت سے میں منون و شاکر ہوں اس پر عمل کروں گا۔

ہرگز ہرگز قفل اس کا نہ کھولوں گا۔ آپ لوگوں کی جُدائی مجھ پر شاق گُزرتی ہے۔‘‘
شہزادیوں نے باچشم تر شہزادے کو الوداع کہا۔ چالیس تخت سُبک رفتار‘آسمان سے نمودار ہوئے۔ ہَنس کی طرح مائلیِ پرواز ہوئے۔ وہ دن جوں توں کر کے کاٹاپہلے دن پہلاکمرہ کھولا۔ اندر ایک باغ نہایت دلچسپ روح افزا دیکھا کہ کوئی باغ مثل اس کے روئے زمین پر نہ ہو گا۔ ایک گُل زار سراپا بہار تھا۔ کہ دوسرے باغ کی بہار گویا اس کے آگے خزاں تھی۔ درخت خوش اُسلوب میوے دار، پھُولے پھلےبے شمار قطار در قطار کھڑے تھے۔ بے رُت کے میوے درختوں سے لگے تھے۔ پھلوںمیں شیرہ شہد کا بھرا تھا کہ ذائقہ صرف دیکھنے سے ٹپکتا تھا۔ تازگی اور سَر سبزی بھری گاس ہری ہری کوسوں تک اُگی تھی۔ زمین کی آغوش میں سبزہ مد ہوش سویا تھا۔ پانی موج بن اُٹھ اُٹھ کر اُسے دیکھتا تھا۔ کہیں حوض عرقِ گلا بید مشک و کیوڑے سے بھر تے تھے۔

فواّ رے بشکل طاؤس و ماہی ہیروں کے بنے تھے۔فواّرہ چھوٹتا تو ہزار طرح کا لطف دکھاتا تھا۔ شفاف پانی کی نہر جاری تھی۔ جِس کی لطافت و پاکیزگی دیکھ آبِ کوثر بھی شرماتا تھا۔ غرض گُل گشت کا خوب لطف اُٹھایا۔طبیعت مُسرور وہوئی۔ دن کب گُزر ا کچھ خبر نہ ہوئی۔

دوسرے دِن دوسرا کمرہ کھولا_________ اندر پھول ہی پھول تھے۔
چمن بندی ایسی کہ نگاہ پھسلتی تھی۔ پیاری پیاری کیاری میں پھلواری کی بہار عجب تھی۔

ہر موسم کے پھول کھلے تھے۔ ایک قطعہ میں نرگس کے پھول آنکھیں بچھائے کسی کے متنظر تھے۔ دوسری جانب سوٗرج مکھی سورج کو تکتے نہیں تھکتے تھے۔ کرنیں سَمو کر نُموپاتے تھے۔ لالے کے پھُول پنکھڑیوں کے پیالے لئے کھرے تھے گویا کشکول تھامے قدرت کی انمول فیاضّی کے طلب گارتھے۔ انار کے پھول، گلِ ناز شفق رنگ کا چراغاں کئے ہوئے تھے۔ چنبلی اکیلی اپنی پھبن پر پھولے نہ سماتی تھی۔ چھوئی موتی بِن چھوئے شرماتئی جاتی تھی۔ گلِ خنداں اپنے دَنداں دکھاتا تھا۔ تو سوسَن، نسرین وسَمن یاسَمن کو زبان دکھاتی تھی۔ ایک پھُول ایسا تھا جو روئے زمین پر کہیں نہ اُگتا ہو گا۔ سات پنکھڑیوں کا پھول تھا۔ ہر پنکھڑی کا رنگ جُدا بو جُدا تھی۔ تتلی اور بھنورے اپنے ہم رنگ پھٗولوں سے رَس چوستے تھے۔ گلِ تَر سے پانی کی چادر گل پوش تھی۔ یہ منظر دیکھ وہ مدہوش ہوا۔ کمرے میں جا کر روپوش ہوا۔ تیسرے دِن تیسرا گھر دیکھا جو چڑیا گھر ثابت ہوا۔ پرندے خوس اَلحان کی تان سُن کر مَن کو فرحت و سُرور ملتا تھا۔ ہر نسل کے جانور آزاد پھرتے تھے۔ چِیتل اور شیر ایک گھاٹ پانی پیتے تھے۔ ایک جگہ دیکھا شجر حَجر کے ہیں جن پر اصل کا گمان ہوتا تھا۔ مجال ہے جو کوئی کہہ دے کہ نقل ہے۔ ان کے جسم کو خالی رکھا تھا۔ اس میں سے ہوا گُزرتی تھی اور مُنہ سے بو لی نکلتی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسی جس چرند پرند کی ہوتی ہے۔ بہت سا اس کو تعجب ہوا۔ ندی کا پانی بھی کیا سُرتال سے گاتا بہتاتھا۔ قَرقَر ے پَروں کو پانی میں چھَرچھَر اتے تھے۔ سُرخاب
ا۔ قَرقَر: ایک چھوٹا سا پرندہ ۲۔سُرخ رنگ کاآبی پرندہ اس کی محبت بہت
مشہور ہے۔ نراور مادہ دونوں میں سے ایک آگ میں ہوتو دوسرا بھی فوراً جا پڑتا ہے۔ کوئی بچھڑ جاتا ہے یا مرجاتا ہے تو پھر جوڑا نہیں بنتا۔ ہندی میں اسے چکوا چکومی کہتے ہیں (فرہنگِ آصفیہ)
آپ اپنے پَروں کا تماشائی تھا۔ کوئل کی کوک سے دل میں ہوک اُٹھتی تھی۔شاخوں پر ہزاروں بلبل و ہزار داستان کے چَہہ چہے تھے۔ پیلک چڑیا دُم اوپر نیچے ہلاتی دَوڑ دَوڑ کر دانہ چُگتی بل کھاتی اُڑتی تھی۔ ٹیٹری سَر نیچے پَیر اوپر کر کے سوتی تھی۔ آسمان کو گِرنے سے ٹانگوں پر روکتی تھی۔ شہد خورا مکڑی کے جالوں سے پّتوں کو سی سی کر گھونسلہ بُنتا تھا۔ غروب آفتاب کے وقت بھٹکی چڑیا دن بھر بھٹک کر بسیرا لینے کو اپنے نشیمن میں جا بیھٹی اور نجیب اپنے کمرے میں آکر خوش و خرّم ہو گیا۔
چوتھے کمرے میں مزید چارکمرے تھے۔ دروازے سب کے کُھلے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  درد سر کا علاج

’الف‘ میں انڈے برابر موتی تھے، ’ب‘ میں بیش قیمت ایورات سونے چاندی کی طشتریوں میں دھرے تھے۔ ’ج‘ میں جوہرات‘ عقیق‘ الماس‘ زرد پکھراج‘ نیلم‘ لعل یاقوت سے صندوق بھرے پڑے تھے۔ ’د‘ میں دینار کا انبار تھا۔ اشرفیوں اور سونے چاندی کی اینٹوں سے کمرہ پٹا پڑا تھا۔ اس قدر زروجواہر دیکھ کر نجیب کے ہوش ٹھکانے نہ رہے۔ غش کھا کر گرِا۔ ہوش میں آیا تب تک شب آچکی تھی۔
اس طرح دیگر کمرے دُنیا جہاں کی ساری اشیائے قیمتی و ادنیٰ، آبی مخلوقات‘ نباتات وجنگلات‘ آلاتِ جنگ چین وفرنگ اور عجائباتِ عالم سے بھرے ہوئے تھے۔ جن کے دیکھنے سے سانس رکتا تھا۔ دَم پھولتا تھا مگر آنکھیں نہ تھکتی تھیں۔
غرض کہ اُنتالیس دن پلک جھپک کر گُزر گئے۔ اب صرف ایک کمرہ باقی بچتا تھا۔
ا۔ ٹیٹری: ایک پرندہ جس کی آواز اس لفظ جیسی نکلتی ہے۔ ٹ ٹی ری۔
۲۔ مشہور ہے کہ یہ اپنی ٹانگیں اوپر اٹھا کر سوتی ہے (فیروز اللفات)
وہ دِن کاٹے نہ کٹتا تھا۔ شیطان نے بہکایا کہ سونے کے درکو کھول اس میں یقیناً کوئی شے یگانہ اور عجوبہ زمانہ ہوگی۔ شہزادہ نجیب اپنے نفس کو ضبط نہ رکھ سکا۔ کمرے کے سامنے جاکھڑا ہوا۔ دروازے کے وسط میں گھوڑے کا سَر کندہ تھا۔ خیال کیسا دروازہ کھول کر باہر سے ہی نظارہ کر لوں گااندر ہر گز نہ جاؤں گا۔ اس خیال کا آنا تھا کہ فوراً دروازہ کھول دیا۔ ایسی خوشبو اندر سے آئی شہزادہ مدہوش ہو گیا۔ ہوش قابومیں رکھ کر کہا:
’’تحقیق کرنا چاہیے کہ اسی روٗح پَرور خوشبو کہاں سے آتی ہے۔
دیکھ بھال کر جلد کمرہ بند کردوں گا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  مخمورہ اور وزیر کا انجام

کوئی پُر اسرار طاقت اندر جانے پُر اکساتی تھی۔ قدم خود بخود اُٹھنے لگے۔ اس طرح نجیب نے شہزادیوں سے کیا ہوا قول توڑا اور مُصیبتوں کا توڑا مول لیا۔ وہ کمرہ گنبد نما تھا۔ جس کے مرکز سے ایک فانوس لٹک رہا تھا۔ سونے کی تپائی پر شمعیں روشن تھیں۔ جابجا عودو عنبر سلگ رہے تھے۔ چاندی کے ہزار ہا چراغ خوشبودار تیل سے روشن تھے۔ فرش پر زعفران بچھاتھا۔ مُشک کی خوشبو ایسی خوشی تر کہ مُلک تاتار کا مُشک اس کے سامنے تارتار تھا۔ کمرے کے وسط میں عین فانوس کے نیچے ایک مُشکی گھوڑا سپِ شب رنگ‘ خوبصورت
ا۔ یگانہ: بے نظیر‘ لاثانی، بے مثل
۲۔ توڑا: تھیلی
۳۔ مُشکی: سیاہ رنگ کا گھوڑا
اَسپ شب رنگ: وہ گھوڑا جس کا تمام ایال آنکھیں‘ کان اور سُم سیاہ ہوں۔
قد آور‘ کوتل گھوڑے کی طرح سجا سجایا ۔ ساز اور زینِ زرّیں سے مزّین ‘ ایال ترشے تَرشائے عطر میں بسائے ‘ اس طرح کھڑا تھا گویا اس پر کسی کی بارات نکلنے والی ہو۔ باگ ڈور میں ننھے ننھے ہیرے دمک رہے تھے۔ جھنیں دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوتی تھیں۔ قدا تنا اونچا کہ ایک آدمی اس کے پیٹ کے نیچے سے آسانی سے گُزر جائے۔ دیوار سے لگی ایک زرین سیڑھی تھی۔ جس میں ہیرے کیھ کڑے جڑے تھے۔ پینے کے لئے عرقِ گلاب اور کیوڑا ٹب میں بھر ے تھے۔
نجیب کی نظر جب اس طِلسمی گھوڑے کی آنکھوں پر پڑی تو وہ لزر گیا۔
اُس کی آنکھیں خون کی طر سُرخ تھیں ۔ کینہ توز نظروں سے نجیب کو گھور رہا تھا۔
وہ اُس بچیّ کی طرح سہم گیا۔ جس نے پہلی بار شیر خونخوار دیکھا ہو۔ پھر غیرت نے للکارا۔ لگام پکڑ کر اسے باہر نکلاگو یا وہ اسی بات کا منظر تھا۔ نجیب نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا تو گُدگُدی سی لگی۔ اس کی جلد چمکدار اور مخمل کی طرح ملائم تھی۔
جسم سے بھینی بھینی خوشبو پھٗوٹ رہی تھی۔ جو اس کے حواس کو کم اور نفس کو تیز کررہی تھی۔ اس پر سوار ہونے کو جی للچایا۔ سیڑھی جو غالباً اسی مقصد کے واسطے دھری تھی اُٹھا لایا‘ پھر اُس پر آسن جمایا‘ پَیروں سے سیڑھی گِرا دیا۔ یہ سب کام کسی
ا۔ کوتل: جِلو کا گھوڑا۔ اس گھوڑے کو کہتے ہیں جس پر سواری نہیں ہوتی۔ ساز
اور چار جامہ سے آراستہ و پیراستہ محض زینت وآرائش کے لئے بارات کے آگے چلتا ہے۔ اور بادشاہ کے آگے چلنے والا سجا سجایا گھوڑا( فرہنگ آصفیہ)
۲۔ ساز: گھوڑے کا سامان جیسے راس ، چارجامہ‘ زیر بند‘ کاٹھی وغیرہ۔
پُراسرار قوت کے تحت ہو رہا تھا۔ چاہا کہ آگے بڑھائے مگر وہ ٹس سے مَس نہ ہوا۔ اب تو نجیب کو بھی غصّہ آیا۔ چابک مارا تو بڑی خوفناک آواز سے ہنہنایا اور اپنے پَروں کو جو پہلے نظر نہ آتے تھے‘ کھول کر مثل پَری کے آسمان پراُڑا۔ زمین پر قدم نہ جماتا تھا۔ خیال سے بھی آگے جاتا تھا۔ اتنا بلند اُڑا کہ زمین تک نہ دکھائی دیتی تھی۔ گرنے کے خوف سے اس کی گردن لپٹ گیا۔ گئی گھنٹوں کی پرواز کے بعد نیچے آنا شروع کیا، اور ایک پُرانے قلعہ کی بُرج پر اُترا۔ دغاباز بے مرّوت نے اتنی فرصت بھی نہ دی کہ وہ کود کر بُرج پر آتا ۔اپنی پشت کو اُس بے درد نے اس قدر جُنبش دی کہ نجیب گیند کی طرح لڑھک کر چِت گرا۔ آتشِ پَیکر نے ایک لات اس کی داہنی آنکھ میں ایسی ماری کہ وہ پھٗوٹ گئی۔ نجیب درد سے بلبلااُٹھا اور لوٹن کبوتر کی طرح لوٹنے‘ پھڑ پھڑانے لگا۔ بنی بنائی صورت بگاڑ کر ‘ نیم مردہ زمین میں گاڑ کر وہ اسپِ بے وفا جدھر سے آیا تھا۔ اُس طرف غائب ہو گیا۔
درد چشم سے نہایت بے قرار تھا۔ بدقت ہزار نیچے آیا۔ پتیوں کا عرق لگایا۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادہ قمر الزماں

قدرے ٹھنڈک ملی تو ہوش بجا ہوئے۔ تھوڑی دور چلا تھا کہ وہی محل نظر آیا۔ دسوں جوان اُسی بزرگ کے ساتھ آئے۔ اب نجیب کو اپنی حماقت کا احساس ہوا۔
راز کا پردہ فاش ہوا۔ دس نوجوانوں کی داہنی آنکھیں اسی طرح ضائع ہوئی تھیں۔
بزرگ نے کہا:
’’ یہ دسوں بھی تمھاری طرح ستم رسیدہ ہیں ۔ اُس قدم باز اور سرکش گھوڑے کی لات کامزہ چکھ چکھا کر آئے ہیں۔ اگر سونے کا دروازہ نہ کھولتے عیش و عشرت سے رہتے۔ اس محل میں اب تمھارے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ تمھارے حق میں بہتر یہ ہے کہ بغداد کو جاو اور خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں امان پاؤ۔ یہ مرہم لو، چشم کا زخم بھر جائے گا۔‘‘
نجیب کفِ افسوس مَلتا، اشکِ ندامت بہاتا وہاں سے روانہ ہُوا۔

کیٹاگری میں : بچے