natural_disasters

قدرتی آفات اور تصادم سے دنیا بھر میں کتنے لوگ بے گھر ہوئے؟

EjazNews

دنیا بھر میں گھروں سے بےدخل افراد کی تعداد 55 ملین سے تجاوز کر گئی ہے، گزشتہ برس موسمیاتی تبدیلیوں اور مسلح تصادم کے نتیجے میں تقریبا 4 کروڑ افراد بے گھر ہوگئے۔شدید طوفان، مسلح تصادم اور پُر تشدد واقعات نے گزشتہ سال 40.5ملین افراد کو بے گھر افراد کی فہرست میں شا مل کردیا ہے۔

اس بات کا انکشاف انٹرنل ڈسپلیسمینٹ مانیٹرنگ سینٹر(IMDC) اور ناروے جیئن ریفیوجی کونسل (NRC) کی جانب سے شائع مشترکہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسلح تصادم اور قدرتی آفات نے گزشتہ سال ہر سیکنڈ میں ایک فرد کو اپناملک چھوڑنے مجبور کیا، جس کی وجہ سے انٹرنل ڈسپلیسڈ افراد( آئی ڈی پیز کی اصطلاح ایسے لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جنہیں جبرا ًان کے گھروں سے بے دخل کردیا جاتاہے لیکن وہ اپنے ملک کی سرحدوں پر ہی رہتے ہیں، عموما انہیں پناہ گزین بھی کہا جاتا ہے، تاہم یہ پناہ گزینوں کی قانونی تشریح پر پورا نہیں اترتے) کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی انتخابی تاریخ 1869ءکے بعد دوبارہ دہرائی جارہی ہے

جب کہ کووڈ-19 کی وجہ سے دنیا بھر میں نقل و حرکت پر پابندی عائد تھی اور مبصرین کو بے گھروں کی تعداد میں کمی کی توقع تھی۔ لیکن 2020 میں آئی ڈی پیز کی تعداد، گزشتہ ایک دہائی میں رپورٹ ہونیوالے اعداد و شمار میں سب سے زیادہ ہے۔

این آر سی کے چیف جین ایگلینڈ نے اپنے بیان میں اس رپورٹ کے نتائج کو بہت، دہشت ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دنیا کے سب سے زیادہ غیر محفوظ افراد کو تصادم اور آفات سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال داخلی طور پر فرار ہونے والے تین چوتھائی افراد30 ملین(3 کروڑ) قدرتی آفات کے متاثرین تھے، خصوصاً شدید موسم نے انہیں بے گھر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شدید طوفان، مون سون بارشوں اور سیلاب نے ایشیا اور بحرالکاہل کے گنجان آباد علاقوں کو بُری طرح متاثر کیا۔ جبکہ بارشوں کے طویل موسم نے مشرق وسطی اور سب سہارا افریقا میں لاکھوں افراد کو گھروں سے بے دخل کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  لبنان بھی پر تشدد مظاہروں کی زد میں

طوفان کی وجہ سے 14.6ملین(1.46 کروڑ)، جنگلوں میں آگ لگنے کی وجہ سے 2.1ملین (12 لاکھ)، انتہائی بلند درجہ حرارت کی وجہ سے 46 ہزار، سیلاب کی وجہ سے 14 ملین (1.4 کروڑ)، لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 1 لاکھ 2 ہزار اور خشک سالی کی وجہ سے 32 ہزار افراد نے اپنے گھروں کو چھوڑا۔ تقریبا 10 ملین (ایک کروڑ) افراد نے جنگ، مسلح تصادم اور پُرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے، جس میں سے اکثریت شام اور ایتھوپیا تھی اور ان لوگوں نے کورونا لاک ڈاؤن کے باوجود جان بچانے کے لیے گھروں سے بھاگنے کو ترجیح دی۔