palestine

قبلہ اول اور اس کا تحفظ

EjazNews

فلسطین اس شام میں شامل ہے جس کی احادیث میں بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ شام وہ سرزمین ہے جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کثرت سے انبیاءکرام کو مبعوث فرمایا گیا، دیگر کئی علاقوں سے انبیاءکرام نے ہجرت فرما کر اس علاقے کو اپنا مسکن بنایا، جن میں سیدنا ابراہیم، سیدنا اسحاق، سیدنا یعقوب، سیدنا یوشععلیہم السلام شامل ہیں۔ بلکہ سیدنا موسیٰ ؑ نے تو اس سرزمین (بیت المقدس) پر اپنی موت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تھی۔(صحیح بخاری:1393)

جب یہودیوں نے سیدناعیسیٰ ؑ کے قتل کی سازشیں کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا اوران کا دوبارہ نزول اسی سرزمین پر ہوگا۔ ہمارے پیارے پیغمبر محمدرسول اللہ ﷺکی پیدائش اور بعثت اگر چہ مکہ میں ہوئی لیکن معراج کے موقعہ پر آپ کو اس مقدس سرزمین یعنی مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) کی سیر کرائی گئی جہاں آپ ﷺ نے تمام انبیاءکرام علیہم السلام کی امامت فرمائی اور معراج کی ابتداءیہیں بیت المقدس (مسجد اقصیٰ) سے ہی ہوئی۔

فلسطین (شام) اور مسجد اقصی کی اہمیت وفضیلت

فلسطین اور مسجد اقصی کی فضیلت و اہمیت پر چندنصوص ذکر کر رہے جن سے اس خطہ اور مسجد کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

کائنات ارضی پر اللہ کا دوسرا گھر :

قبلہ اول دنیائے کائنات بننے والا اللہ کا دوسرا گھر ہے۔ سیدنا ابوذرؓنبی کریم ﷺ سے سوال کیا:
ترجمہ: یا رسول اللہ! کرہ ارض پر سب سے پہلی مسجد کونسی تعمیر کی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مسجد الحرام۔ ابوذر ؓ کہتے ہیں میں نے پھر عرض کی: دوسری کوئی مسجد تعمیر ہوئی؟ آپﷺ نے فرمایا: مسجد الاقصیٰ۔ سیدنا ابوذر ؓ پھر سوال کیا: ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: چالیس سال۔(صحیح بخاری: 3366، مسلم:520)

روایات میں آتا ہے کہ جب سیدنا داودؑ نے مسجد بیت المقدس کی تعمیر شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ بقیہ تعمیر جناب سیدنا سلیمان ؑ کریں گے۔(طبرانی بحوالہ فتح الباری، تحت حدیث3366)

پھرسنن نسائی کی ایک روایت سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ سیدنا سلیمانؑ نے بیت المقدس کی تعمیر فرمائی اور ساتھ باری تعالیٰ سے دعا ئیں بھی مانگیں۔

لیکن ان نصوص سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ بیت اللہ اور بیت المقدس کی ابتدائی تعمیر کس نے فرمائی؟
بالفرض مندرجہ بالا تعمیرات کو ابتدائی تعمیر قرار دیا جائے تو او پری بخاری والی چالیس سال کے عرصے والی روایت کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ ابراہیم و اسماعیل اور داد و سلیمان علیہم السلام کے درمیان تو ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ لامحالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی یہ تعمیر ابتدائی تعمیر نہیں ہے بلکہ بعد کی کوئی تعمیر ہی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر ؒ نے اس کی روایات و اقوال نقل کئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں مقدس مقامات بیت اللہ اور بیت المقدس کی تعمیر آدم ؑ نے فرمائی تھی اور آدم ؑ کی اس تعمیر کا درمیانی عرصہ چالیس سال تھا، جب بیت المقدس کی تعمیر سلیمانی پہلی تعمیر ہی نہیں ہے تو یہودیوں کا ہیکل سلیمانی اور تولیت اقصیٰ کا دعوی پاش پاش ہوکر رہ جاتا ہے۔

مگر یہ بات تو قطعی طور پر ثابت ہے کہ یہمقامات مقدسہ بیت اللہ، بیت المقدس اور مسجد نبوی انبیاءکرامؑ کی میراث ہیں اور انبیاءکرام کے حقیقی وارث ہی ان مقامات کے وارث ومتولی ہیں ، اور انبیاءؑان کے حقیقی وارث صرف اور صرف مسلمان ہی ہیں۔

بابرکت مقدس اور پاک سرزمین

فلسطین جو درحقیقت شام میں واقع ہے۔ یہ انتہائی مقدس اور بابرکت زمین ہے جہاں اللہ رب العالمین نے اپنے برگزیدہ پیغمبروں سے اپنا گھر تعمیر کروایا اور یہی وہ مقدس سرزمین ہے جہاں مالک الملک نے اپنے بہت سارے انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سرزمین کو انبیا کی سرزمین کہا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم ؑ اور سیدنا لوط ؑ کو ان کی قوم سے نجات دے کر اسی بابرکت زمین کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا:
ترجمہ: اور ہم ابراہیم اور لوط کوان (ظالموں) سے نجات دے کر ایسی زمین کی طرف لے کر آئے جس میں ہم نے جہان والوں کیلئے برکتیں کی ہیں۔(الانبیائ71)

امام ابن کثیر ؒآیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں
یعنی اللہ تعالی نے ابراہیم ؑ کو بلادشام میں مقدس سرزمین (بیت المقدس) کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔(تفسیر ابن کثیر:310\5)

اسی طرح جناب موسیؑ نے بھی اپنی قوم کو جب اس بستی میں داخل ہونے کا کہا تو اسے لفظ مقدس کے ساتھ بیان فرمایا:
ترجمہ: اے میری قوم! اس مقدس (پاک) سرزمین میں داخل ہو جاو جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی۔ (المائدة: 21)
یعنی یہ مقدس سرزمین موسی ؑ کو ماننے والے ایمان لانے والے، ادب واحترام کرنے والے لوگوں کیلئے ہے نہ کہ ان کیلئے جو بہت بڑے فتنہ گر عہد شکنی کرنے والے، آسمانی کتب میں تحریف کرنے والے کو چھپانے والے اور، انبیاء کی جماعت کے قاتل ہیں۔
اسی طرح جہاں اللہ تعالیٰ نے سیدنا سلیمان ؑ کا تذکرہ کیا ، وہاں اس سرزمین کو بابرکت سر زمین کہتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ: اور سلیمان ؑ کیلئے ہم نے تند و تیز ہوا کو بھی تابع بنادیا تھا جو ان کے علم سے اس سرزمین کی طرف جاتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔ (الانبیاء81)
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں امام قرطبی فرماتے ہیں:اس بابرکت سرزمین سے مرادشام ہے۔(تفسیر قرطبی322/11)

مسجد اصلی پرسکون جگہ ہے:

قرآن مجید میں باری تعالی نے سیدہ مریم اور ان کے بیٹے سیدنا عیسی ؑ کو بھی اسی سرزمین میں بسایا اور ساتھ اس سرزمین کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اسے پرسکون جگر قرار دیا۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:
ترجمہ: اور ہم نے مریم کے بیٹے اور ان کی والدہ کو ایک نشانی بنادیا اور انہیں ایک ایسے ٹیلے پر جگہ دی جو پرسکون ، قابل اطمینان اور چشے والا تھا۔(المومنون:50)

یہ بھی پڑھیں:  جنگ بدر میں لڑنے والے صحابہ کرام ؓ (حصہ دوئم)

حافظ ابن کثیرؒ نے اس کو ترجیح دی ہے کہ اس بلند جگہ یا ٹیلے سے مراد بیت المقدس ہے۔

مسجد اقصی کی قسم:

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مسجد بیت المقدس کی قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ: انجیر اور زیتون کی تم۔(التین1)
یہاں اللہ تعالی نے نبی اور زیتون کی قسم کھائی ہے۔ حافظ ابن کثیرؒنے ’’والزیتون‘‘ کی تفسیر میں امام قتادہ، ابن زید اور کعب الاحبار کا قول نقل کیا ہے:
یعنی زیتون سے مراد بیت المقدس یعنی مسجد اقصی ہے۔

مسلمانوں کا قبلہ سابقہ

بیت اللہ سے قبل مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے مگر بعد میں اللہ تعالی نے قبلہ تبدیل کر کے مسلمانوں کا قبلہ بیت اللہ کر دیا۔ چنانچ سیدنا براء بن عازبؓ فرماتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ یا سترہ مہینے تک نماز پڑھی لیکن آپ چاہتے تھے کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ (کعبہ) ہوجائے (آخر ایک دن اللہ کے علم سے) آپ نے عصر کی نماز (بیت اللہ کی طرف رخ کر کے) پڑھی اور آپ کے ساتھ بہت سے صحابہ ؓ نے بھی پڑھی۔ جن صحابہؓ یہ نماز آپ کے ساتھ پڑھی تھی، ان میں سے ایک صحابی مدینہ کی ایک مسجد کے قریب سے گزرے۔ اس مسجد میں لوگ رکوع میں تھے، انہوں نے اس پر کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے، تمام نمازی اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے۔ اس کے بعد لوگوں نے کہا کہ جو لوگ کعبہ کے قبلہ ہونے سے پہلے انتقال کر گئے، ان کے متعلق ہم کیا کہیں۔ ان کی نمازیں قبول ہوئیں یا نہیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ادا نہیں کہ تمہاری عبادات کو ضائع کرے۔ بیشک اللہ اپنے بندوں پر بہت بڑا مہربان اور بڑا رحیم ہے۔ (صحیح البخاری 4486۔ صحیح مسلم525)

ثواب کی خاطر مسجد اقصی کی طرف رخت سفر کا جواز :

اسپیشل سفر کر کے کسی مقام کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ جن چند مقامات کی طرف اجازت ہے ان میں سے مسجد اقصی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی طرف خصوصی طور پر سفر کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوھریرؓ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: تین مساجد کے علاوہ کسی جگہ کا (زیادہ ثواب اور برکت کی نیت سے خاص) قصد کر کے سفر کرنا جائز نہیں ہے، مسجدالحرام، مسجد الرسول (نبوی) اور مسجد الاقصی۔(صحیح البخاری1189۔ صحیح مسلم 1397)

سرزمین اسراء و معراج:

ہمارے پیارے پیغمبر عالم ﷺ کو اللہ تعالی نے جب معراج کروانا چاہی تو وہ بیت المقدس ہی تھی جہاں سے اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کو آسمانوں کی سیر کروائی۔ قرآن مجید میں باری تعالی نے نبی کریم کا سفر معراج بیان کرتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ:اس اللہ کی ذات پاک ہے جو اپنے بندے (محمدﷺ) کو ایک ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیا جس کے آس پاس (بھی) ہم نے (بڑی) برکت رہی ہے تا کہ ہم اپنے بندے محمدﷺ کو اپنی بعض نشانیاں دکھائیں بلاشبہ وہ اللہ سنے والا، دیکھنے والا ہے۔

اقصیٰ کامعنی دور دراز کا ہے چونکہ مسجد اقصی مسجد الحرام اور (مسجد نبوی) سے کافی دور ہے اس لئے اسے یہ نام دیا گیا۔ (تفسیر قرطبی 217/10)

 سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو حجر (حطیم) میں دیکھا، اس حال میں کہ (میں کھڑا تھا) اور قریش مکہ مجھ سے میرے شب معراج کے سفر کے بارے میں سوالات کر رہے تھے اور بیت المقدس کی وہ چیزیں اور نشانیاں دریافت کر رہے تھے جو مجھ کو اس وقت پا نہیں رہی تھیں۔ اس بات سے (کہ قریش کی پڑھی ہوئی باتوں کا جواب نہ دے پایا تو یہ سب لوگ میرے بیت المقدس کے سفر اور معراج کے واقعہ کو ایک جھوٹا دعوی سمجھیں گے، میں اتنا سخت پریشان اور غمگین ہوگیا کہ اس سے پہلے بھی اتنا پریشان اور غمگین نہیں ہوا تھا۔ پس اللہ تعالی نے میری مدد فرمائی اور بیت المقدس کو بلند کر دیا جو میری نظروں کے سامنے آگیا (یعنی قادر مطلق نے میرے اور بیت المقدس کے درمیان سارے فاصلے سمیٹ دیئے اور سارے حجابات اٹھا دیئے ، جس سے بیت المقدس کی پوری عمارت اپنے گرد و پیش کے ساتھ میری نظروں کے سامنے آ گئی اور میں اس قابل ہو گیا کہ قریش مکہ بیت المقدس کی جس چیز اور علامت کے بارے میں پھیں، میں اس کو دیکھ دیکھ کر بتاتا رہوں چنانچہ وہ مجھ سے بیت المقدس کے بارے میں جو کچھ پوچھتے میں ان کو سامنے دیکھ کر بتادیتا ) اور یہ حقیقت ہے کہ ( اسراء و معراج کی رات میں ) میں نے اپنے آپ کو انبیاء کے درمیان دیکھا ، میں نے اس وقت موسیُ  کو دیکھا جو کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ موسی ؑ ایک میانہ قد مرد نظر آئے جیسے وہ (قبیلہ ) شنوہ سے تعلق رکھنے والے شخص عروہ بن مسعود بیٹے ثقفی ہیں، پھر میں نے ابراہیم ؑکو بھی دیکھا جو کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ ان سے سب سے زیادہ مشابہت جوش رکھتا ہے وہ تمہارا دوست ہے، (تمہارے دوست سے) آپ ﷺ کی مراد خود اپنی ذاتی تھی۔ پھر آپﷺ فرمایا کہ جب نماز کا وقت آیا تو میں ان سب (انبیاء) کا امام بنا، اور جب میں نماز سے فارغ ہوا تو (آسمان پر جانے سے پہلے یا آسمان پر پہنچنے اور بارگاہ رب العزت میں حاضری کے بعد ایک کہنے والے نے مخاطب کر کے کہا: محمد( ﷺ)! یہ دوزخ کا دارو غہ موجود ہے (اپنے پروردگار کی قہاریت کی تعظیم کے لئے یا جیسا کہ ابرار وصالحین کے آداب میں سے ہے از راہ تواضع و انکساری، اس کو سلام کرو! چنانچہ میں ( سلام کرنے کے لئے) اس (داروغہ دوزخ) کی طرف متوجہ ہوا لیکن سلام میں پہل اسی نے کی۔(صحیح مسلم:172 )
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے (مکہ سے بیت المقدس کی طرف اسراء کے لئے لے جانے کی یہ حکمت ) ذکر کی ہے کہ مکہ سے اسلام کی ابتداء، بعثت و مخزرج ہے اور دین اسلام کا کمال ظہور اور اتمام مہدی (اورعیسیٰ ؑ) کے ہاتھوں شام کے علاقے سے ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  گداگری (بھیک مانگنا) کی اسلام میں سخت ممانعت ہے

مسجد اقصی میں امام الانبیاء کی امامت:

زمین کی پشت پر مسجد تھی وہ واحد جگہ ہے جس میں ایک ہی وقت میں تمام انبیاء کرامؓ کا اجتماع ہوا اور باجماعت نماز ادا فرمائی، یہ اعزاز کسی اور جگہ کو حاصل نہیں ہے۔ اور یہ اعزاز ہمارے پیارے پیغمبر جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے کہ ان تمام انبیائے کرام کی امامت آپ ﷺ نے کروائی۔ جیسا کہ مسلم والی روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ:یعنی جب نماز کا وقت ہوا تو میں نے انبیاء کی امامت کی۔ (صچیچ مسلم 172)

 بیت المقدس میں نماز کی فضیلت:

سیدنا ابوذر سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی مجلس میں آپس میں اس بات پر گفتگو کی کہ بیت المقدس کی مسجد (اقصی) زیادہ افضل ہے یا رسول اللہﷺ کی مسجد (نبوی)؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: میری اس مسجد نبوی میں ایک نماز (اجروثواب کے اعتبار سے) اس (بیت المقدس مسجد اقصی) میں چار نمازوں سے زیادہ افضل ہے اور وہ (مسجداقصی) نماز پڑھنے کی بہترین جگہ ہے۔ عنقریب ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ ایک آدمی کے پاس گھوڑے کی رسی کے بقدر زمین کا ایک ٹکڑا ہو جہاں سے وہ بیت المقدس کی زیارت کر سکے (اس کے لئے بیت المقدس کو ایک نظر دیکھ لیتا ) پوری دنیایا فرمایا دنیاو مافیھا سے زیادہ افضل ہوگا۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم 8553۔ قال الا البانی: صحیح)

اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے دلوں میں مسجد اقصی کی محبت بھری ہوئی ہے اسے کوئی نہیں نکال سکتا لیکن اس کی زیارت کے سلسلے میں مزید مصائب و آلام کا شکار ہونا ممکن ہے۔ واللہ اعلم۔

مسجد اقصی میں نماز گناہوں کی معافی کا سبب:

سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں: |
جب سلیمان بن داود ؑ بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالی سے تین دعائیں کیں: یا اللہ! میرے فیصلے تیرے فیصلے کے مطابق (درست) ہوں۔ یا اللہ! مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو ایسی حکومت نہ ملے۔ یا اللہ! جو آدمی اس مسجد (بیت المقدس) میں صرف نماز پڑھنے کے ارادے سے آئے وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے جیسے وہ اس دن گناہوں سے پاک تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالٰی نے سلیمانؑ کی پہلی دودعا ئیں تو قبول فرمائی ہیں (کہ ان کا ذکر تو قرآن مجید میں موجود ہے) مجھے امید ہے کہ ان کی تیسری دعا بھی قبول کر لی گئی ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ:1408، سنن نسائی: 693 قال الالبانی:صحیح)

فتنوں کے دور میں اہل ایمان شام میں ہوں گے:

قرب قیامت جب فتنے بکثرت ہوں گے تو ایمان اور اہل ایمان (زیادہ تر) شام کے علاقوں میں ہی ہوں گئے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمر بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: میں نے خواب میں دیکھا میرے تکیے کے نیچے سے کتاب کا ستون اٹھایا گیا میں نے اسے دیکھا تو ایک نور تھاجوشام کی طرف لے جایا گیا، یاد رکھو جب فتنے رونماہوں گے تو ایمان شام میں ہوگا۔ (مستدرک حاکم: 8554 صحیح)

 اہل شام پر رحمن کے فرشتے بازو بچھائے ہوئے ہیں:

سیدنا زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس کاغذ کے پرزوں سے قرآن کو مرتب کررہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: مبارکبادی ہو شام کے لیے ہم  نے عرض کیا: کس چیز کی اے اللہ کے رسولﷺ! آپ ؟نے فرمایا: اس بات کی کہ رحمن کے فرشتے ان  کے لیے اپنے بازو بچھاتے ہیں۔(سنن الترمذی 3954، قال الالبانی ، صحیح)

 فتن کے دور میں اہل شام کے لشکر کو لازم پکڑیں:

سیدنا عبداللہ بن حوالہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم الگ الگ ٹکڑوں میں بٹ جاو گے، ایک ٹکڑا شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں۔ این حوالہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بتایئے اگر میں وہ زمانہ پاوں تو کس ٹکڑے میں رہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے اوپر شام کو لازم کرلو، کیونکہ شام کا ملک اللہ کی بہترین سر زمین ہے، اللہ اس ملک میں اپنے نیک بندوں کو جمع کرے گا، اگر شام میں نہ رہنا چاہو تو اپنے یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے تالابوں سے پانی پلانا، کیونکہ اللہ نے مجھ سے شام اور اس کے باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ (سنن ابی داود:2483، قال الالبانی:صحیح)

مہدی اور عیسی ؑ کا لشکر ہوگا۔

بیت المقدس دجال نہیں جائے گا:

دجال کا فتنہ اس امت کا بہت بڑا فتنہ ہے اس سے ہر نبی نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:

ترجمہ:بلا شبہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔ اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ البتہ نوح  نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا اور لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کونہیں بتائی۔ جان لو کہ وہ کانا ہے اور بلاشبہ اللہ کانا نہیں ہے۔(صحیح البخاری:3337 )
مگر دجال چار مقامات پر داخل نہیں ہو سکے گا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: دجال چار جگہوں پرنہیں جا سکے گا: مسجد حرام، مسجد اقصی، کوہ طور اور مدینہ۔ (مسند احمد 23683:88/39 ،قال الارنوط: صحیح)

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کے غضب میں گھرا ہوا، مغضوب

ملک شام اہل ایمان کا گھر:

حدیث مبارکہ میں دور فتن میں سرزمین شام کو مسلمانوں کا وطن قرار دیا گیا ہے۔ سیدنا سلمہ بن نفیل کندیؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں نے گھوڑوں کو حقیر سمجھ لیا ہے اور ہتھیار رکھ دیے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ اب کوئی جہاد نہیں ہے، جنگ ختم ہو چکی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ  اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ جنگ تواب شروع ہوئی ہے۔ اور میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پرلڑتی رہے گی اور اللہ تعالی اقوام کے دلوں کو ان کے تابع کر دے گا اور اللہ تعالی انہیں ان سے رزق دے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے اور اللہ کا وعدہ آ جائے۔ گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے دن کے لیے خیر باندھ دی گئی ہے۔ میری طرف پیروی کی گئی ہے کہ مجھے اٹھا لیا جائے گا اور تم مختلف فرقوں کی صورت میں میری اتباع کرو گے۔ اور ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے۔ ان حالات میں شام اہل ایمان کا گھر ہوگا۔ (سنن النسائی 3561)
مختلف فرقوں سے مراد مذہبی اور جغرافیائی بنیادوں پر امت مسلمہ کی تقسیم ہے۔ دور فتن میں مختلف مکاتب فکر کے پیروکار اور ممالک اسلامیہ کے باشندے اپنے اپنے طور اللہ کے رسول ﷺ کی اتباع کریں گے۔ ایسے حالات میں بلاد شام کو اہل ایمان کا وطن قرار دیا گیا ہے۔

فتوں کے دور میں شام میں رہائش اختیار ہے:

قیامت سے قبل فتنوں کے ادوار میں ان علاقوں خصوصا شام (بیت المقدس) میں رہائش اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: |
ترجمہ: قیامت سے پہلے حضر موت یا حضر موت کے سمندر کی طرف سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، آپ نے فرمایا تم شام چلے جانا۔

عیسی ابن مریم ؑ کا دجال کو ملک فلسطین میں قتل کرنا:

رسول اللہ ﷺ نے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ عیسی ابن مریمؑ  اسے ڈھونڈیں گے یہاں تک کہ باب لد کے پاس اسے پالیں گے اور اسے قتل کردیں گے۔(صحیح مسلم:2937

”باب لد فلسطین کے علاقے میں بیت المقدس کے قریب ہے، جہاں سیدناعیسی ابن مریم دجال کو قتل کریں گے۔

یاجوج اور ماجوج کی بیت المقدس کے پاس قتل گاہ?:

یاجوج ماجوج کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: پھر یاجوج اور ماجوج چل پڑیں گے اور خمر نامی پہاڑ کے پاس جا پہنچیں گے، اور یہ پہاڑ بیت المقدس والا پہاڑ ہے (جب وہاں پہنچیں گے) تو کہیں گے جولوگ زمین پر تھے انہیں تو ہم قتل کر چکے ، چلو اب جو آسمان پر ہے اسے قتل کریں، یہ کہتے ہوئے وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے تو اللہ ان کے تیروں کوخون کی طرح سرخ کر کے ان کی طرف پلٹادے گا۔ (صحیح مسلم 2937)

 تمام یہودیوں کے ہونے سے پہلے قیامت قائم نہ ہوگی:

یہودی مسلمانوں پر جتنا چاہیں ظلم کر لیں۔ مگر ہمارا ایمان ہے کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک یہ تمام کے تمام یہودی قتل نہ ہوجائیں۔ جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی کہ جب تک یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا نہ دیا جائے۔ حتی کہ اگر کوئی یہودی کسی درخت یا پتھر کے پیچھے چپھے گا تو وہ بھی بول اٹھے گا کہ اے مسلمان ! میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے آ کر اسے قتل کر دو۔ (صحیح بخاری 2926، صحیح مسلم 2921)

یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا سے یہودی اپنے مقتل اسرائیل میں جمع ہورہے ہیں۔

سرزمین محشر و منشر:

قیامت سے پہلے ایک آگ لوگوں کو دھکیلتی ہوئی میدان محشر (شام) کی طرف لے کر آئے گی ،وہ آگ صبح دوپہر اور شام ہر وقت ان کے ساتھ ہوگی حتی کہ وہ انہیں میدان محشر تک پہنچادے گی۔ اور ارض شام میدان محشر قائم ہوگا۔ چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں تو انہوں نے کہا: تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر نشر کی سر زمین ہے، اور صبر کر اے کمینی ! کیوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اس کی (مدینہ کی) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا۔ (سنن الترمذی: 3918. قال الالبانی: صحیح)

اللہ تعالی کا فرمان ہے:
ترجمہ:  اور یہ بات تم غور سے سن لوجس (قیامت) کے دن ایک پکارنے والا (فرشتہ اسرافیل صور پھونک کر) ایک قریبی جگہ (صخرہ بیت المقدس) سے پکارے گا۔ (ق:41)

یہ پکارنے والا فرشتہ اسرافیل یا جبرائیل ہوگا اور یہ پکار ثانیہ ہوگا جس سے لوگ میدان محشر میں جمع ہوجائیں گے، اور قر یبی جگہ جہاں سے یہ ندا ہوگی اس سے بعض نے صخرہ بیت المقدس مراد لیا ہے۔