Gaza_palestine

اسرائیل نے کیوں جنگ بندی کا اعلان کیا؟

EjazNews

اسرائیلی بیان کے مطابق جنگ بندی کے آغاز کے وقت کا ابھی تعین نہیں ہوا تاہم حماس کے رہنما کاکہنا ہے کہ مصر کے اقدامات کے نتیجے میں ہونے والی جنگ بندی کا آغاز جمعہ کو رات 2بجے سےہوگیا ہے ۔

اسرائیلی بمباری کے باعث فلسطینی علاقہ غزہ کھنڈر بن گیا جبکہ پورا غزہ بچوں کیلئے بھی جہنم بنادیا گیا،بمباری بھی جاری رہی جس سے مزید 13؍ افراد شہید ہوگئے اور مجموعی طور پر شہید افراد کی تعداد 232 تک پہنچ گئی ۔

اسرائیل کی کابینہ نے غزہ میں جنگ بندی کے فیصلے کیا ہے تاہم کابینہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے وقت کے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا کہ سیز فائر کا آغاز کب سے ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:  جو بائیڈن کے حامیوں کا رقص ، ٹرمپ کے حامی الیکشن چوری کے نعرے لگانے لگے

اسرائیلی کابینہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مصر کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی تجویز دی گئی تھی اور یہ معاہدہ اسرائیل اور حماس کی جانب سےمشترکہ اور غیر مشروط ہو گا۔

سیز فائر کی منظوری کے بارے میں اسرائیلی کی سیاسی سلامتی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کابینہ تمام سکیورٹی حکام، چیف آف اسٹاف، داخلی سلامتی کے ادارے شن بیت کے سربراہ، موساد کے سربراہ اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کی سفارش کو متفقہ طور پر قبول کرتی ہے کہ دوطرفہ اور غیرمشروط جنگ بندی کی مصری کوشش کو قبول کر لیا جائے جس کی تاریخ کا تعین بعد میں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلی مرتبہ طالبان سے ٹیلی فونک رابطہ، امن کی طرف پیشرفت
Gaza
جنگ بندی کے بعد کی ایک تصویر

بیان کے مطابق „چیف آف سٹاف، عسکری حکام اور جی ایس ایس کے سربراہ نے وزرا کو اس مہم کے دوران اسرائیلی کامیابیوں سے آگاہ کیا جن میں سے کچھ بےمثال تھیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاسی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ زمینی حقائق ہی اس مہم کے جاری رہنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

حماس کے حکام کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا آغاز جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب رات 2بجے سے ہوگا تاہم اسرائیلی کابینہ کے بیان میں وقت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

غزہ میں فلسطینیوں کیخلاف جاری اسرائیلی مظالم کے حوالے سے اسرائیل کے ایک موقر اخبار میں شائع ہونے والے ادارئیے میں اسرائیلی فوج کے آپریشن پر تنقید کرتے ہوئے اسے ناکام ترین اور بے معنی کارروائی قرار دیتے ہوئے اسے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہاریتز اخبار میں شائع ہونے والے اداریے میں اخبار کے ایڈیٹر ان چیف ایلوف بین نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری کارروائی کی وجہ سے اسرائیلی فوج کی تیاریوں، رویے اور ناکامیوں کا سلسلہ بے نقاب ہوگیا ہے اور اس کے پیچھے بے بس اور پریشانی کا شکار اسرائیلی حکومت اور اس کی قیادت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  زندگی آسان بنانے کی کوشش میں زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے

اسرائیل کے سابقہ آپریشنز، جن میں دوسری لبنان جنگ، آپریشن پلر آف ڈیفنس، آپریشن کاسٹ لیڈ، آپریشن پروٹیکٹیو ایج شامل ہیں، کے مقابلے میں دیکھیں تو موجودہ ’’آپریشن گارڈین آف دی والز‘‘ اسرائیل کا ناکام ترین اور بے معنی سرحدی جنگ بن چکا ہے۔ ہم نے کئی سخت فوجی اور سفارتی ناکامیاں دیکھیں ہیں جن کی وجہ سے ہماری فوج کی تیاریوں اور کارکردگی میں پائی جانے والی کمی واضح ہو کر سامنے آئی ہیں اور ساتھ ہی یہ بات بھی کھل گئی ہے کہ ہماری قیادت کنفیوژن کا شکار اور بے بس ہے۔

غزہ میں تباہی، بربادی اور موت پھیلا کر ’’فاتحانہ تاثر‘‘ پیش کرنے کی بیکار کوشش کرنے اور اسرائیلیوں کی زندگی تہس نہس کرنے کی بجائے وزیراعظم بن یامین نتنیاہو کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں اور ساتھ ہی یہ امید بھی کریں کہ عوام اس ناکامی کو اُتنی ہی جلدی بھول جائیں گے جتنی جلدی وہ مائونٹ میرون کا سانحہ (30؍ اپریل 2021ء کو مذہبی تقریب کے دوران بھگدڑ میں 45؍ افراد کی ہلاکت) بھول چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  روس کابل میں اپنی سفارتی سرگرمیاں جاری رکھے گا:ترجمان روسی سفارت خانہ

حالات اچھے ہوں تو بہتر یہ ہوگا کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز میں صفائی کا کام بھی کیا جائے۔ لیکن وزیراعظم نتنیاہو اپنا عہدہ بچانے کیلئے کوشاں ہیں اور ان کے پاس ایسی ضروری تبدیلی لانے کیلئے اختیار ہے اور نہ ہی سیاسی طاقت۔ جنگ کے معاملے میں تیاری اور کنڈکٹ کے لحاظ سے یہ وہ بڑے مسائل ہیں جو اب سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی صدر ٹیکس چوری کے الزامات کی زد میں آگئے

اسرائیل نے عسکری لحاظ سے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اپنی توجہ شمال میں جنگی مہمات اور ایران کیخلاف جدوجہد پر مرکوز رکھی ہے۔ غزہ کو ثانوی محاذ سمجھا جاتا رہا ہے جس سے معاشی اقدامات کے ذریعے نمٹنے کی کوشش کی گئی ہے، اس میں قطر کی جانب سے اسرائیلی حمایت کے ساتھ حماس کی فنڈنگ اور غزہ کا محاصرہ نرم کرنا (تاکہ تعمیراتی مواد لانے لیجانے کی اجازت دینا) شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے دفاعی اقدامات پر بھی سرمایہ کاری کی ہے جس میں سب سے زیادہ اور اہم ترین سرمایہ کاری آئرن ڈوم نظام پر اور غزہ بارڈر پر زیر زمین سرنگوں کی بندش کیلئے حفاظتی باڑ لگانے پر بھی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی میڈیا کی چیخیں اور طالبان کیخلاف منفی پروپیگنڈاپوری دنیا میں سب سے عروج پر

حماس نے سرنگوں کے ذریعے اسرائیل میں گھسنے کیلئے جتنی بھی بے سود کوششیں کی ہیں انہیں ناکام بنا کر سرنگوں کی باڑ نے اپنی افادیت ثابت کی ہے۔ حماس کو ایک برا پڑوسی سمجھا جاتا رہا ہے جو نہ صرف کمزور بلکہ تنہا بھی ہے۔ اسرائیلی عوام کیلئے سب سے دلچسپ موضوع اس بات پر سلسلہ وار بحث کرانا ہے کہ مغوی اسرائیلی فوجی کیسے واپس آئیں گے یا پھر جو اسرائیلی فوجی مر چکے ہیں ان کی لاشیں کیسے واپس ملیں گی۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں، کسی بھی انٹیلی جنس افسر نے خبردار نہیں کیا تھا کہ حماس والے معمولی کوشش سے اس محاصرے سے نکل جائیں گے جو اسرائیل نے ان کو ایک جگہ رکھنے کیلئے قائم کیا تھا اور یہ لوگ الاقصیٰ کیلئے جاری جدوجہد کیلئے پھیل جائیں گے۔ یہ انتباہ بھی کسی نے جاری نہیں کیا کہ اسرائیل اور امریکا میں صدر جو بائیڈن کی نئی انتظامیہ کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کے اخراجات پر برطانوی وزیراعظم کی مشکلات

حماس کے ارادوں اور صلاحیتوں کے حوالے سے انٹیلی جنس کی ناکامی کی وجہ سے فوج غزہ میں اُن معیاری اہداف کی نشاندہی نہیں کر پائی جن کی تباہی سے حماس کی اسرائیل پر حملے کرنے اور لڑائی اسرائیل کے گھر تک لانے کی صلاحیت متاثر ہوگی۔ اسرائیلی فضائیہ نے کئی ایسے اہداف تباہ کر دیے ہیں جنہیں حماس کو دوبارہ تعمیر کرنا پڑے گا لیکن یہ اہداف ناکافی ہیں۔ لڑاکا طیارے اڑانے اور فوج کی جانب سے اسلحہ اور گولہ بارود استعمال کرنے کا خرچہ بہت زیادہ ہے اور تقابل دیکھیں تو صورتحال اتنی ہی اور مشکل ہے جتنی حماس کو دوبارہ یہ اہداف تعمیر کرنے پر پیش آئے گی۔ جیسا کہ جنرل اسرائیل تال نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’جب حکمت عملی کیلئے چال بازی کا سہارا لینا پڑے تب آپ لڑائی تو جیت جاتے ہیں لیکن جنگ ہار جاتے ہیں۔‘‘ آپ بھلے ہی عوام کو بتائیں کہ ’’حماس کو زبردست نقصان پہنچا دیا ہے‘‘ اور ٹی وی پر نشریات میں اس کمانڈر کو ہیرو بنا کر پیش کر دیں جس نے اسلامی جہاد کے کمانڈر کو مار گرایا ہو ۔۔ لیکن ۔۔ یہ بھی دیکھیں تو ایک طرف جدید لڑاکا طیارہ ہے اور اس میں لگا انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے والا نظام ہے اور اس کے مقابلے پر ایک رہائشی عمارت۔ یہ کارروائیاں ’’یہودا مکابی‘‘ اور ’’مائیر ہار زایان‘‘ کے واقعات کی جدید شکل ہو سکتی ہے۔ (یاد رہے کہ یہودا مکابی ایک یہودی ربی اور مذہبی جنگجو تھا جس نے چند ساتھیوں کی مدد سے ہزاروں سلجوقی فوجیوں سے لڑائی کی تھی ۔۔۔ جبکہ مائیر ہار زایان اسرائیلی فوج کے یونٹ 101 کا اہم ترین رکن تھا تاہم اس نے اپنی بہن اور اس کے عاشق کی موت کا بدلہ لینے کیلئے اردن میں گھس کر معصوم قبائلی بدوئین کو قتل کر دیا تھا، اردن نے اس واقعہ کی شکایت اقوام متحدہ میں کی تھی تاہم مائیر ہار زایان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی)۔ فوج کو معلوم ہی نہیں کہ حماس کو کیسے مفلوج کرنا ہے اور اسے کیسے پریشان کرنا ہے۔ حماس کی سرنگیں تباہ کرنے سے اسرائیلی فورسز کی ناکام اسٹریٹجک صلاحیتیں ثابت ہوئیں کیونکہ ان سے دشمن کی صلاحیتوں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ یہ مان لینا کہ حماس کے ایک سو، دو سو یا پھر تین سو جنگجو ہلاک ہوئے، تو ایسا مان لینے سے کیا ہوگا: حماس ختم ہو جائے گی؟ کیا اس کا کمان اور کنٹرول سسٹم ختم ہو جائے گا؟ یا پھر اس کی اسرائیل پر راکٹ برسانے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی؟ اصل اہداف کو نشانہ نہ بنایا جانا اور اسرائیلی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکتیں بدستور جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  زندگی آسان بنانے کی کوشش میں زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے

gaza1
غزہ کا ایک اور منظر جہاں پر نوجوان پرچم لہرا رہے ہیں

کورونا وائرس کے گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل میں اسکول بند، گلیاں خالی اور ایئرپورٹ پر فضائی سروسز بہت کم ہیں۔ اس صورتحال نے غزہ سے آنے والے راکٹ حملوں کے باوجود عوام میں ایک طرح کی برداشت پیدا کر دی ہے جیسا کہ چین میں کورونا وائرس کے ہوتے ہوئے پیدا ہوگئی تھی۔ اس کی بجائے، بیماری کی وجہ سے پیدا ہونے والی اسرائیل کی اندرونی صورتحال میں توجہ کا مرکز عرب اور یہودیوں کے درمیان انحطاط پذیر بقائے باہمی کی صورتحال ہوگئی ہے جبکہ بیرونی تنازع پر دھیان کم ہے۔ اس کے باوجود، حماس نے تل ابیب اور جنوبی علاقوں میں زندگی کے تانے بانے کو بری طرح نقصان پہنچا دیا ہے جبکہ ایک ہفتے سے زیادہ گزر جانے کے باوجود اسرائیلی فوج میں اسے روکنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کے اخراجات پر برطانوی وزیراعظم کی مشکلات

اسرائیل کی بری فوج کو محدود کردار دیا گیا ہے کہ وہ دشمن کو دھوکا دے کر اور کارروائی کے اعلان سے خوفزدہ کرکے انہیں سرنگوں میں جانے پر مجبور کر دے اور ایسا کرکے توقع کی جا رہی ہے کہ جب دشمن سرنگوں میں جا چھپے گا تو فضائیہ ان سرنگوں پر بم برسا کر انہیں تباہ کر دے گی۔ لیکن، یہ حکمت عملی بھی ناکام ہوگئی ہے، جن سرنگوں پر حملے کیے گئے ان میں حماس کے جنگجوئوں کی بڑی تعداد موجود ہی نہیں تھی۔ اچھی بات یہ ہے کہ کوئی بھی غزہ میں زمینی کارروائی پر غور نہیں کر رہا کیونکہ اس کے نتیجے میں زبردست نقصانات ہوں گے۔ اسرائیل کے پاس ایسا کوئی مقصد ہی نہیں کہ وہ ایسی کارروائی کرے اور پھر اس کا جواز بھی پیش کرے۔ اس کے علاوہ، سیاسی منظرنامہ دیکھیں تو کوئی بھی سیاسی جماعت ایسا مطالبہ نہیں کر رہی کہ ’’جائو اور غزہ فتح کرکے آئو‘‘۔ چاہے کچھ بھی ہو، خدشہ یہ ہے کہ زمینی فورسز کے پاس صلاحیت کا فقدان ہے اور وہ لڑائی کیلئے تیار بھی نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی صدر ٹیکس چوری کے الزامات کی زد میں آگئے

فوج پر حالیہ عرصہ کے دوران شدید تنقید کرنے والے سابق فوجی یتزاک برک نے خبردار کیا تھا کہ اگلی جنگ اسرائیل کے اندر لڑی جائے گی اور اسرائیل کے پاس ایسے حملے روکنے کیلئے کوئی جواب نہیں کہ وہ ہزاروں میزائلوں کو کیسے روکے گا اور ساتھ ہی اس بات کا بھی کہ اس کی زمینی فورسز کے پاس لڑنے کی صلاحیت نہیں۔ یتزاک برک اگلی جنگ کے متعلق بات کرتے ہوئے حزب اللہ سے مستقبل میں ہونے والی جنگ کا ذکر کر رہے تھے، اس تنظیم کی لڑنے کی طاقت حماس سے بہت زیادہ ہے۔ لیکن موجودہ تنازع کو اس بات پر غور کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے اور صورتحال کچھ اچھی نہیں۔ آئرن ڈوم نے بڑے راکٹ حملوں کو روکنے میں کامیابی دکھائی ہے لیکن جب بہت زیادہ تعداد میں ایک ساتھ راکٹ فائر ہوئے ہیں تو آئرن ڈوم بھی کسی حد تک ناکام ہوا ہے۔ اسرائیل کے اندر اتنی بڑی تعداد میں کبھی راکٹ نہیں گرے اور نہ اسرائیل کو اندرونی محاذ پر کبھی ایسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن یہ سب بھی اُس نقصان سے بہت کم ہے جو حزب اللہ پہنچانے کی قابلیت اور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ تمام تر حالات اور اپنی محدود کامیابیاں دیکھ کر وزیراعظم نتن یاہو کو چاہئے کہ وہ کارروائیاں روکیں اور امریکی صدر جو بائیڈن کے مطالبے کے مطابق فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں کیونکہ یہی کچھ جو بائیڈن چاہتے ہیں۔ غزہ ایک ریت سے بھری بوری جیسا علاقہ ہے اور اسرائیل کے جنوب اور مرکز میں زندگی کو جمود کا شکار کرکےک ایسی بوری پر بم گرانے کا کوئی سبب نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ فوج میں اصلاحات لانے کیلئے نئی اسرائیلی قیادت کے آنے کا انتظار کرنا ہوگا۔