Imran_khan_mahmend

جب ہمارے 5 سال مکمل ہوں گے تو جب انقلاب آئے گا:وزیراعظم

EjazNews

پشاور میں کم لاگت فیملی فلیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک بڑے خواب کا نام ہے، کبھی کسی نے اس خواب کے بارے میں لوگوں کو سمجھایا نہیں، ہمارے ملک کا مقصد کیا تھا اور ہم کس راستے پر چلے۔

ان کا کہنا تھا کہ مدینے کی ریاست پر اللہ نے سب سے زیادہ نعمتیں بخشیں تھیں اور یہ دنیا کا سب سے بڑا انقلاب تھا، ہمیں تاریخ ہی نہیں پتہ، دنیا میں کبھی اس طرح کی تبدیلی نہیں آئی، اس لیے اللہ نے حکم دیا کہ نبیﷺ کے راستے پر چلو۔

انہوں نے کہا کہ اللہ نے کئی اصول طے کیے ہیں، سب سے پہلے قانون کی بالادستی کا اصول ہے، ہمارے ملک کی تباہی کا سب سے بڑا سبب کہ امیراور طاقت ورکے لیے این آر او اور بیچارا غریب جیل جا رہا ہے،یہی ہماری تباہی کا سبب بنا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دو اصولوں پر پاکستان کو کھڑا کرنا ہے، ایک قانون کی بالادستی ہے، اس وقت جو سارے مافیا اکٹھے ہو کر مجھ سے این آر او لینے کی کوشش کر رہے ہیں جو کبھی کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ میں نے ان کو کبھی این آر او نہیں دینا اور ان کو قانون کے نیچے لے آنا ہے جو میرا بڑا مقصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  2019ء پاکستان میں کھیلوں کی بحالی کا سال تھا

انہوں نے کہا کہ دوسرا مقصد کمزور اور غریب طبقے کو اوپر اٹھانا ہے، یہ فلیٹس کا منصوبہ 2011 سے چل نہیں رہا ہے لیکن مکمل نہیں ہو رہا کیونکہ یہ غریبوں کا منصوبہ ہے اگر وی آئی پیز کا ہوتا تو 2 سال میں پورا ہونا تھا۔

پشاور میں فلیٹس کے منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غریبوں کی آواز نہیں ہے، ان کا پیسہ کہیں اور چلاجاتا ہے، ان کی زمین بھی استعمال ہوتی ہیں اور قبضہ گروپ بھی آتا ہے، ہماری ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کمزور طبقے کی ذمہ داری لی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہمارے 5 سال ختم ہوں تو دیکھنا چاہتا ہوں کہ ہم نے کمزور طبقے کو کیسے اوپر اٹھایا، میں یہ نہیں دیکھنا چاہتا ہے کہ امیر کیسے رہ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں لوگوں نے میں دوسری مرتبہ دو تہائی اکثریت دی، اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے کہ 2013 کے بعد سارے پاکستان کے صوبوں میں سب سے تیزی سے غربت ختم ہوئی اور خیبرپختونخوا نے سب سے زیادہ تیزی میں امیر اور غریب کا فرق ختم کیا، اسی لیے کے پی کے باشعور لوگوں نے ہمیں ووٹ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستانی ٹیم نے بنگلہ دیش کو315رنز کا ہدف دے دیا (افسوس! پہلے بھی ایسا ہی کھیلتے)

عمران خان نے کہا کہ ہم تب بھی سنتا تھا کہ کدھر ہے نیا خیبرپختونخوا؟ پنجاب کے بڑے بڑے سیاست دان آتے تھے جو آج کل دم دبا کرلندن میں بھاگے ہوئے ہیں، اپنا پیسہ بچانے اور قانون سے بچنے کے لیے لیکن فکر نہ کریں بہت جلد انہیں واپس لائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کو عادت پڑے تھی کہ امیر کو امیر کردو، ان کو پتہ نہیں تھا کہ نچلی سطح پر کیا ہورہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس بار جب ہمارے 5 سال مکمل ہوں گے تو جب انقلاب آئے گا تو سب سے پہلے صحت کارڈ، جس سے پورے شہریوں کو سہولت دی اور ہوسکتا ہے اب صوبائی حکومت کو پیسہ خرچ نہ کر پڑے اور نجی شعبہ ہسپتال بنائے، نجی شعبے کو زمین دے دیں کیونکہ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ زمین کا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری چیز ہم نے ہاؤسنگ کی بات کی ہے، پاکستان میں پہلی دفعہ مشکلوں سے سارے قانون اور رکاوٹوں کو دور کرکے عام لوگوں کے گھر بنا رہے ہیں، بینکوں کی قسطیں 5 سال سے بڑھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے سب سے زیادہ خوشی ہوئی ہے کہ دو سال قبل جب میں نے مہمند ڈیم کا افتتاح کیا تھا اور کورونا کے باوجود اس پر پورا کام ہورہا ہے اور 2025 میں یہ ڈیم بن جائے گا اور اس سے پشاور میں 17 ہزار ایکڑ زمین سیراب ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان کا چیف جسٹس کے بیان کا خیر مقدم

انہوں نے کہا کہ پشاور کے لیے 300 ملین گیلن پانی آئے گا اور شہریوں کو پانی کا مسئلہ حل ہوگا اور مہمند ڈیم سے پشاور کے لیے سستی بجلی آئے گی اور مسئلہ حل ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چھوٹے بڑے 9 اور ڈیم بن رہے ہیں، 2028 تک پاکستان میں 10 ڈیم بنیں گے، جس میں مہمند اور دیامر بھاشا پھر داسو بھی بڑا ڈیم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ڈیم کی دہائی کا نام دیا ہے کیونکہ دس سال میں ڈیم بنیں گے جو 50 سال میں بننے چاہیں تھے کیونکہ آگے پاکستان کو پانی کا بہت بڑا مسئلہ آنے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے تو فوڈ سیکیورٹی کے لیے بھی پانی کے ذخائر کی ضرورت ہے، سستی بجلی کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے ڈیم نہیں بنائے، پاکستان میں ہم 50 ہزار میگاواٹ بجلی پانی سے بنا سکتے تھے لیکن نہیں بنائی تو اتنی مہنگی بجلی پڑ رہی ہے اور ملک کو بھی مقروض کیا ہوا۔