سلطان عبد الحمید ثانی

عثمانی خلیفہ کے کہنے پر سب سے زیادہ چندہ مسلمانان ہند نے کیو ں دیا تھا؟

EjazNews

عثمانی خلیفہ، سلطان عبد الحمید ثانی نے حجاجِ کرام اور عمرہ زائرین کی سہولت کی خاطر 1900ء میں دمشق سے مکّہ مکرمہ تک ریلوے لائن بچھانے کا اعلان کیا اور آٹھ برسوں کی جان توڑ جدوجہد کے بعد دمشق سے مدینہ منورہ تک 1320 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھادی گئی، جسے بعدازاں مکّہ مکرّمہ تک توسیع دینے کا ارادہ تھا، مگر کچھ عرصے بعد ہی پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی، جس کے سبب منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔ یہ ٹرین دمشق سے عفولہ، عمان، یزع، قطرانیہ، معان، غیر الحیی، بطن الغول، المدورہ، تبوک، الاجدر، المعظم، دار الحمراء، مدائنِ صالح، العلا اور ہدیہ سے ہوتی ہوئی مدینہ منورہ جاتی تھی۔

اس منصوبے پر اندازاً اڑھائی ملین پاؤنڈز خرچ ہوئے، جبکہ جرمنی نے تیکنیکی معاونت فراہم کی۔دراصل یہ منصوبہ ’’ برلن، بغداد ریلوے‘‘ کا حصّہ تھا، جس کے تحت پورے خطے کو آپس میں جوڑنا تھا ۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عثمانی خلیفہ نے اس منصوبے کے لیے دنیا بھر کے مسلمانوں سے چندے کی اپیل کی تھی اور سب سے زیادہ چندہ، مسلمانان ہند کی جانب سے دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  مرغے نے انسان کی جان لے لی

چونکہ بعض عناصر اس منصوبے کو تُرک، عرب تنازعے کا رنگ دے رہے تھے، سو جنگ عظیم کے دوران حجاز میں تُرک حکمرانوں کے خلاف بغاوت ہوئی، تو لارنس آف عریبیہ کی قیادت میں قبائلیوں نے اس ریلوے لائن کو جگہ جگہ سے اکھاڑ دیا اور گاڑیوں اور انجنز کو تباہ کردیا گیا۔

یوں 1920 ء میں بھاپ کے انجن سے چلنے والی یہ ٹرین سعودی علاقے میں تو بند ہوگئی۔ تاہم ،دیگر کئی علاقوں میں چلتی رہی۔ 1960ء میں مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی اپنے سوا تین ماہ پر محیط’’ سفرِ ارضِ قرآن‘‘ کے سلسلے میں کئی علاقوں میں اسی ٹرین کے ذریعے پہنچے تھے، جب کہ بی بی سی کی 2006ء کی ایک رپورٹ کے مطابق اُن دنوں بھی شام اور اُردن کے کچھ علاقوں میں یہ ٹرین چلتی تھی، تاہم، جنگ سے تباہ حال مُلک میں اب یہ تاریخی ریل سروس کس حال میں ہے، کچھ علم نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جیف بیزوس کی سابقہ اہلیہ کتنا چندہ دینے جارہی ہیں؟،آپ کی سوچ سے بھی زائد

آج بھی حجاز ریلوے کی نشانیاں پورے عرب میں بکھری پڑی ہیں۔ خصوصاً مدینہ منورہ میں واقع، حجاز ریلوے کا آخری اسٹیشن اس عظیم منصوبے کی داستان سُنانے کے لیے کافی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ ریلوے اسٹیشن اُس مقام پر بنایا گیا تھا، جہاں نبی کریم ﷺ نے غزوۂ بدر کے موقعہ پر اپنا خیمہ لگایا تھا اور اہل مدینہ کے لیے خیر وبرکت کی دُعا فرمائی تھی۔ سعودی محکمۂ سیاحت و آثارِ قدیمہ نے اسی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اس اسٹیشن کی عمارت کو عجائب گھر میں تبدیل کردیا ہے۔