پارلیمنٹ میں کس نے کون سا بل پیش کیا ؟

EjazNews

قومی اسمبلی میں سی ڈی اے ( ترمیمی )آرڈیننس 2021، انکم ٹیکس ( ترمیمی ) آر ڈیننس 2021اورپی اے ایف ایئروارکالج انسٹیٹیوٹ آر ڈیننس 2021 میں 120روز کی توسیع کی قرارداد منظور کر لی گئی، قرارد اد مشیر پارلیمانی امور بابرا عوان نے پیش کی ۔

اپوزیشن رکن سید محمود شاہ کا انسداد منشیات ( ترمیمی ) بل 2021 حکومت کی مخالفت کے باوجود سپیکر اسد قیصر نے قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا ، آغا رفیع اللہ نے زخمی افراد کو لازمی علاج کی سہولیات کی فراہمی کا ترمیمی بل پیش کیا جس کی حکومت نے بھی حمایت کی اور بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ۔

احسن اقبال کی طرف سے بین الاقوامی ادارہ برائے امن بل 2021ءپر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کے لئے سپیکر نے وقتی طور پر تحریک موخر کردی، سید جاویدحسنین نے انتخابات ایکٹ 2017 میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا۔وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے بل کی مخالفت نہیں کی اور بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاک سعودی قیادت دنیا کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے: صدرڈاکٹر عارف علوی

نجی ممبرز کے ایجنڈے کو معطل کر کے حکومتی ایجنڈے کو زیر غور لانے کی تحریک پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آﺅٹ کر دیااور اپوزیشن رکن ابرار علی شاہ نے کوروم کی نشاندہی کر دی ، سپیکر کی ہدایت پر گنتی کرائی گئی تو کورم پورا نکلا جس پر اجلاس کو جاری رکھا گیا ، قبل ازیں وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے معمول کے ایجنڈے کو معطل کر کے حکومتی ایجنڈے پر کارروائی شروع کرنے کی تحریک پیش کی جس پر نوید قمر نے کہا کہ ہم اس کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے ، ساتھ ہی اپوزیشن ارکان واک آﺅٹ کر گئے، بابر اعوان نے کہا کہ آر ڈیننس میں توسیع آئینی ضرورت ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ یہ رولز کے خلاف ہے، سپیکر نے کہا کہ یہ رولز کے خلاف نہیں ہے اجلاس ختم نہیں کررہے جب تک اپوزیشن کا ایجنڈا ختم نہیں ہو جاتا اجلاس جاری رہے گا،بعد ازاں نفسیات کی صحت کی خدمات کو ریگولیٹ کرنے کے لئے نفسیات کونسل کے قیام کے لئے پاکستان نفسیات بل ، گھریلو ملازمین کے حقو ق کے تحفظ کے متعلق بل سمیت دیگر بلوں کی منظوری دے دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  آزاد کشمیر سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

کشور زہرا نے دستورترمیمی بل 2021 آرٹیکل 140 الف میں ترمیم ،نوید عامر جیوا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ترمیمی بل 2021 ،عبدالاکبر چترالی نے بوڑھے والدین اور بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود بل 2020 ،کیسومل کھیل داس نے دستور (ترمیمی) بل 2021ءپیش کیا، ریاض فتیانہ کے پاکستان نفسیات بل 2019 ،مہناز اکبر عزیز کے اسلام آباد گھریلو ملازمین بل 2020 ، آغا رفیع اللہ کے برقی توانائی کی پیداوار ، ترسیل اور انضباط ترمیمی بل 2020 کی ایوان نے کثرت رائے سے منظوری دی۔

نصرت واحد نے مغربی پاکستان خالص غذا (ترمیمی) بل 2021، مہرین رزاق بھٹو نے اسلام آباد انضباط محافظت صحت (ترمیمی) بل 2021ءپیش کرنے کی تحریک پیش کی، کشور زہرا نے دستور (ترمیمی) بل 2021ئ، نوید عامر جیوا نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (ترمیمی) بل 2020ءپیش کیا گیا،بعد ازاں نفیسہ شاہ کے 300 سے زائد سی ایس ایس افسران کی جبری ریٹائرمنٹ سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ سول سرونٹ ایکٹ (1) 13کے تحت کسی بھی سول سرونٹ کو 20 سال کی ملازمت مکمل کرنے پر ریٹائرڈ کیا جاسکتا ہے، ماضی میں بھی اسی ایکٹ کے تحت 1300 سول سرونٹس کو ریٹائر کیا گیا، ہم نے قانون کے تحت رولز بنائے ہیں، قانون سے ماورا کوئی کام نہیں کیا گیا، اگر کسی کو اعتراض ہے تو قانون میں راستہ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کالعدم تنظیم (تحریک لبیک )کیخلاف آپریشن ، متعدد افراد جاں بحق