Palestine_muslim_and_romi

رومیوں سے جنگ کا انجام

EjazNews

سپہ سالار کفار کی بوکھلاہٹ

روبیس نے دور سے ہمارے لشکر پر ایک نگاہ ڈالی اور دیکھا کہ ایسے طریقہ سے ترتیب اور صف بندی کی گئی ہے کہ باگ سے باگ اور رکاب سے رکاب ملی ہوئی ہے اور گویا کہ تمام فوج ایک مضبوط قلعہ ہے۔ ہرلشکری قرآن شریف پڑھتاہے ان کے گھوڑوں کی پیشانی سے نور چمکتا ہے۔ یہ دیکھ کر اس نے مسلمانوں کی فتح اور اپنی ہزیمت اور عجز کا پتہ لگا لیا اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ گیا کہ میرے تمام لشکر کے دل میں میری طرح سے مسلمانوں کا رعب بیٹھ گیا ہے۔ یہ سوچ کر اس نے مسلمانوں کے لشکر کا انتظار کیا کہ یہ کیا کرتا ہے اور خود کا تکبر جا تا رہا۔

سعید بن خالد کی بہادری

ابو الدردائؓ کہتے ہیں کہ لشکر اسلام میں سے سب سے اول جو شخص لڑائی کے لئے نکلا وہ سعید بن خالد بن سعید یعنی حضرت عمرو بن عاص کے بھتیجے تھے۔ انہوں نے نکل کر” ہل من مبارز“ کا نعرہ لگایا اور زور سے چلا کر کہا کوئی ہے جو مشرکین میں سے میرے مقابلے کے لئے نکلے پھر خود ہی دشمن کے میمنہ اور میسرہ پر حملہ کر دیا۔ بہت سے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور بڑے بڑے بہادروں کو پچھاڑ دیا پھر دوبارہ حملہ کیا، صفیں چیر ڈالیں تمام لشکر میں ہلچل مچا دی۔ آخر دشمنوں نے جمع ہو کر آپ پر ہلہ بول دیا اور آپ شہید کر دیئے گئے جس سے مسلمانوں کو سخت رنج پہنچا اور خصوصاً حضرت عمرو بن عاص کو بہت بڑا ملال ہوا۔ آپ نے کہا افسوس صد افسوس واللہ سعید تم نے راہ خدا میں خوب جان فروشی دکھلائی۔ مسلمانوں سے مخاطب ہو کر آپ نے فرمایا۔
”بہادرو! تم میں سے کون سا بہادر ہے جو میرے ساتھ اس حملہ میں جو میں اب کرنے والا ہوں شریک ہو،(جہاںوہ گئے ہیں جا کر )دیکھوں ۔ضحاک بن ابو سفیان ، ذوالکلاع حمیری، عکرمہ بن ابو جہل حارث بن ہشام ، معاذ بن جبل ابو الددائ، عبداللہ بن عمر، و اصید بن وارم، نوفل سیف بن عباالحضرمی، سالم بن عبید اور مہاجرین اہل بدر وغیر ضفم نے فوراً جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں۔“

اور جنگ شروع ہوگئی

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ہم ستر جوان تھے ہم نے اس زور سے حملہ کیا کہ ہم دشمن کے بالکل قریب پہنچ گئے۔ مگر چونکہ وہ ایک لوہے کہ پہاڑ معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے ہمارے اس حملے کی کچھ پرواہ نہ کی۔ جس وقت ہم نے ان کے اس استقلال کو دیکھا تو ایک نے دوسرے سے چیخ کر کہا ا ن کی سواریوں کو کاٹ ڈالو کیونکہ اس کے سوا ان کی ہلاکت کی کوئی دوسری تدبیر نہیں معلوم ہوتی۔ چنانچہ ہم نے ان کے گھوڑوں کے پیٹ میں نیزے بھونک رہے جس کی وجہ سے ان کے گھوڑے گرے اور انہوں نے ہم پر حملہ کیا ہم نے بھی حملے کا جواب دیا بلکہ تمام افواج اسلام پر پڑی۔ ہماری فوج ان کے لشکر میں ایسی معلوم ہوتی تھی جیسے سیاہ اونٹ پر سفید نشان ہمارا شعار تھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ یارب انصرامت محمد (اے رب آپ امت محمدﷺ کی مدد فرمائے)۔

ابو الدرداءکہتے ہیں کہ ہم لڑائی میں اس قدر منہمک ہوئے کے اشعار رجزیہ بھی نہ پڑھ سکے۔ اس قدر گھمسان کی لڑائی تھی کہ ہم حملہ کر رہے تھے مگر ہمیں یہ خبر نہیں تھی کہ ہماری ضرب کسی مسلمان پر پڑتی ہے یا کسی کافر پر مسلمان برابر پڑھتے رہے اور حالانکہ ان کی فوج بہت تھوڑی تھی مگر بڑی ثابت قدمی سے لڑے۔ انہوں نے اپنا کام خدا کے بھروسہ اور اس کی قدرت کے سپرد کر دیا تھا۔ مسلمانوں کا ہر ایک سپاہی ہاتھ سے تلوار مارتا تھا اور دل سے اللھم انصرامت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی من یتخذ معک شریکا (اے اللہ امتمحمدﷺ کو ان لوگوں پر جو آپ کے ساتھ دوسروں کا شریک کرتے ہیں ہے فتح دے) پڑھتا تھا۔

فرشتوں کی آمد

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ زوال کے وقت تک برابر لڑائی ہوتی رہی‘ ہوا چل رہی تھی اور فوجیں لڑ رہی تھیں۔ مجھے جو دعاءرسول اللہ ﷺ نے سکھلائی تھی میں اسے پڑھ رہا تھا اچانک میں نے آسمان کی طرف نظر افشانی دیکھا تو اس میں چند دروازے کھلے اور ان میں سے بہت سے سوار سفید لباس سبز نشان لئے ہوئے جن کی نوکیں چمک رہی تھیں نکلے ایک منادی فتح کی بشارت دے رہا تھا کہ اے امت محمدﷺ خداوند تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس مدد پہنچ چکی ہے میں نے کہا کہ نبی ﷺ کی دعا کی برکت سے فتح ہوگی۔

رومیوں کا انجام

قسم ہے رب کعبہ کی کہ تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ میں نے دیکھا کہ رومی سرپر پاوں رکھ کر بھاگے اور مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا۔ منادی نے فتح کی آواز دی مسلمانوں کے گھوڑے چونکہ دشمن کے گھوڑے سے زیادہ تیز رو اور پویہ کرنے والے تھے۔ اس لئے فلسطین کی لڑائی میں ہم نے دس ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ قتل کر دیئے۔ رات تک ہم نے ان کا پیچھا کیا۔ حضرت عمرو بن عاص کو اس سے بہت خوشی حاصل ہوئی اور چونکہ مسلمانوں نے دشمن کا تعاقب کیا تھا اور اب تک واپس نہیں ہوئے تھے اس لئے آپ کا دل ہمارے ساتھ ساتھ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  قدیم ہندو عہد کا علم و کمال

حضرت عمرو بن عتاب کہتے ہیں کہ اس وقت میں نے حضرت عمرو بن عاص کو دیکھا کہ علم آپ کے ہاتھ میں تھا اور نیزہ شانے پر ڈال رکھا تھا۔ آپ ہاتھ ملتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے جو شخص میرے پاس لوگوں کو لوٹا لاوے گا اللہ جل شانہ اس کے گمشدہ کو اس کے پاس لوٹا لاویں گے۔ آپ یہ فرما ہی رہے تھے کہ اہل عرب واپس آئے ۔آپ نے ان کا استقبال کیا اس وقت آپ کہتے جاتے تھے جنہوں نے باری تعالیٰ کی رضا کی طلب میں محنت و مشقت اٹھائی ہے انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو راضی کر لیا۔ کیا آپ لوگوں کو یہ جو باری تعالیٰ نے عنایت فرمائی تھی کافی نہیں تھی جو آپ نے دشمنوں کا تعاقب کیا مسلمانوں نے جواب دیا ہمارا مقصود اس تعاقب سے غنیمت نہیں تھا بلکہ جہاد تھا۔

130 مسلمان شہید ہو گئے

بہرحال جب مسلمان واپس آئے تو انہیں کوئی فکر اور کسی قسم کا غم نہیں تھا مگر جس وقت ایک نے دوسرے کو دیکھنا شروع کیا تو ایک سو تیس آدمی مفقور الخبر معلوم ہوئے جن میں سیف بن عباد الحضرمی‘ نوفل بن دارم ،سالم ابن رویم، اصہب بن شداد اور بعیض یمنی اور بادیہ مدینہ طیبہ کے کچھ لوگ شامل تھے۔ حضرت عمرو بن عاص کو ان کے مفقود الخبر ہونے کا سخت رنج ہوا۔ پھر آپ نے کچھ دل میں غور کر کے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے ساتھ کوئی بھلائی کرنا چاہتے ہیں اور اے عمرو! تو اس کا انکار کرتا ہے۔ اس کے بعد لڑائی کی وجہ سے جو نمازیں قضا ہو گئی تھیں۔ اذان اور تکبیر کے ساتھ آپ نے ان کو ادا کرایا جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے آپ کو حکم دیا تھا۔

حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم! آپ کے پیچھے جماعت سے بہت کم لوگوں نے نماز پڑھی بلکہ لوگ چونکہ تھک رہے تھے اس لئے اکثر نے اپنی اپنی قیام گاہ پر نماز ادا کی۔ مال غنیمت بھی بہت کم جمع ہوا۔ آخر خیموں میں پڑ کر سو گئے۔ صبح ہوئی تو حضرت عمرو بن عاص نے اذان پڑھی۔ اس کے بعد نماز پڑھائی اور حکم دیا کہ مال غنیمت جمع کیا جائے اور شہیدوں کے لاشے میدان جنگ میں سے اکٹھے کئے جائیں۔ چنانچہ لوگوں نے لاشوں کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر جمع کرنا شروع کیا اور ایک سو تیس شہید جمع کئے گئے۔

سعید بن خالد کی لاش

حضرت سعید بن خالد کی لاش بھی تلاش کی گئی مگر باوجود تلاش کے نہ ملی۔ حضرت عمرو بن عاص نے خود تلاش کرنا شروع کیا تو ایک جگہ سے دستیاب ہوئی جو گھوڑوں کے سموں سے اس قدر روندی گئی تھی کہ تمام ہڈیاں چور چور اور سارا چہرہ پاش پاش ہو رہا تھا آپ یہ دیکھ کر بہت روئے اور فرمایا۔
”اے سعید! خدا وند ارحم الراحمین تم پر رحم فرمائیں میں نے اللہ جل جلالہ سے وعدہ کیا تھا اور تم نے اس وعدہ کو پورا کر دیا“۔
اس کے بعد آپ نے انہیں بھی شہداءکی لاشوں میں شریک کر دیا اور دفن کرنے کا حکم فرمایا۔ اور تمام مسلمانوں نے شہداءکی نماز جنازہ ادا کی۔ یہ تمام باتیں قبل از جمع کرنے مال غنیمت کے ہوئیں۔ پھر آپ نے غنیمت کے متعلق حکم دیا۔ تمام مال آپ کے پاس حاضر کیا گیا۔ آپ نے جنگ کی خبر حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے پاس لکھی۔

فتح کی خبر حضرت ابو عبیدہ کے نام

بسم اللہ الرحمان الرحیم
منجانب عمرو بن عاص بخدمت شریف امین الامت حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
میں اس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں ان کے نبیﷺ پر درود بھیجتا ہوں۔ میں فلسطین پہنچا، رومیوں کے ایک لاکھ لشکر سے جو روبیس نامی سردار کے ماتحت تھا کا مقابلہ ہوا۔ ہمیں خداوند تعالیٰ نے اس پر فتح بخشی۔ گیارہ ہزار رومی جنگ میں مارے گئے۔ اللہ جل شانہ نے فلسطین کے ایک سو تیس آدمی شہید ہونے کے بعد جن کو اللہ جل جلالہ نے شہادت کے باعث اکرام بخشا میرے ہاتھ پر فتح کرنے میں، میں یہیں فلسطین میں مقیم ہوں، اگر آپ کو ضرورت ہو تو میں حاضر خدمت ہوں تمام مسلمانوں سے سلام فرما دیجئے۔ والسلام علیک ورحمتہ اللہ و برکات۔
ابو عامر دوسی کے ہاتھ آپ نے اس خط کو روانہ کیا وہ لے کر چلے۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح اس وقت تک حدود شام میں تشریف فرما تھے مگر شام میں داخل نہیں ہو سکے تھے البتہ انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق کے حکم کے بموجب اپنے لشکر کو متفرق کر دیا تھا۔ ابو عامر دوسی جس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے خط پڑھا اور فوراً سجدہ شکر ادا کیا۔
اس کے بعد ابو عامرنے کہا اللہ! اس فتح میں اچھے اچھے نیک لوگ شہید کر دیئے گئے۔ ان میں سعید بن خالد بن سعید بھی ہیں۔ سعید مرحوم کے والد چونکہ یہاں موجود تھے جس وقت آپ نے اپنے لڑکے کے متعلق سنا گھبرا گئے اور اسی گھبراہٹ میں آپ کی چیخ نکل گئی اور بہت افسوس کیا۔ آپ کا رونا دیکھ کر تمام مسلمان رو اٹھے۔ حضرت خالد (والد سعید مرحوم) نے فورا ً گھوڑا تیار کیا اور سوار ہو کر فلسطین جانے کا ارادہ کیا تاکہ اپنے بیٹے سعید کی قبر کی زیارت کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  ظہیر الدین محمد بابر سے پہلے کا ہندوستان

حضرت ابو عبیدہ کا جواب حضرت عمرو بن عاص کے نام

بسم اللہ الرحمان الرحیم
چونکہ تم کومحکوم ہو اگر تمہیں حضرت ابو بکر صدیق نے ہمارے ساتھ رہنے کا حکم دیا تھا تو یہاں آجاو¿ اور اگر وہیں رہنے کا حکم فرمایا تھا تو وہیں رہو۔ تمام مسلمانوں کو سلام کہہ دیا والسلام علیک ورحمتہ اللہ و برکات ۔
خالد بن سعید اور عمرو بن عاص کی ملا قات
آپ نے یہ خط لفافہ میں بند کر کے حضرت خالد بن سعید کو دیا۔ خالد ابو عامر دوسی کے ساتھ حضرت عمرو بن عاس کے لشکر میں آئے۔ حضرت خالد نے حضرت عمرو بن عاص کو سلام عرض کرکے روتے روتے وہ خط دیا حضرت عمرو بن عاص ان کی طرف بڑھے اور ان سے مصافہ کیا۔ عزت سے بھٹلایا، ان کے لڑکے کی تعزیتکی ،صبردلایا۔ اس کے بعد خالد بن سعید نے لوگوں سے دریافت کیا کہ آیا تم نے دیکھا تھا کہ سعید نے اپنے نیزے اور تلوار کو کفار کے خون سے سرخ کیا تھا؟ لوگوں نے جواب دیا۔ ہاں سعید بڑی بہادری سے لڑے اور خوب جہاد کیا۔ انہوں نے کسی طرح کمی نہیں اٹھا رکھی تھی۔ پھر آپ نے ان کی قبر دریافت کی۔ پھر قبر کے پاس کھڑے ہو کر کہا اے بیٹا! خداوند تعالیٰ تمہارے متعلق مجھے صبر عنایت کریں اور مجھے تم سے ملادیں۔ ان للہ وانا الیہ راجعون! ۔واللہ! اگر مجھے خداوند تعالیٰ نے طاقت و ہمت بخشی تو میں تمہارا بدلہ ضرور لوں گا۔ مجھے باری تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ تمہیں اجر و ثواب عنایت کریں گے۔

خالد بن سعید کی جنگ

پھر آپ نے حضرت عمرو بن عاص سے عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں سریہ (یکہ تازہ) کے طور پر کافروں کی تلاش میں نکلوں۔ شاید کچھ مال غنیمت ہاتھ آئے یا دشمن کے کچھ سپاہی مل جاتے جن کو میں قتل کر کے بدلہ لے لوں۔ حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا ماں جائے بھائی! لڑائی تو سرپر موجود ہے جس وقت ایسا اتفاق ہو کہ دشمن سامنے آجائے تو خوب دل کھول کر لڑا اور دشمن کے کسی فرد کو نہ چھوڑنا۔ خالد نے کہا میں قسمیہ عرض کرتا ہوں کہ میرے ساتھ کوئی ہو یا نہ ہو مگر میں ضرور جاوں گا۔

یہ کہہ کر آپ نے سامان حرب درست کیا اور ارادہ کیا کہ تنہا چل دیں۔ مگر قوم حمیر کے تین سو جوان گھوڑوں پر سوار ہو کر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ حضرت خالد کے ہمراہ ہمیں جانے کی اجازت مرحمت فرمادیں۔ آپ نے اجازت دے دی۔ یہ تمام حضرات اسی روز چل کھڑے ہوئے ایک میدان میں پہنچ کر انہوں نے ارادہ کیا کہ یہاں پڑاو کر کے گھوڑوں کو چرنے کے واسطے چھوڑ دیا جائے اور پھر راتوں رات چلیں تو بہتر ہو۔

اچانک حضرت خالد کی نگاہ ایک بلند پہاڑی کے اوپر چند سن رسیدہ لوگوں پر پڑی۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا میں نے چند عمر رسیدہ لوگوں کو اس او پری پہاڑی کے درہ میں دیکھا ہے۔ میرا گمان ہے کہ وہ دشمن کے جاسوس ہیں ایسا نہ ہو کہ حریف ہمارے اوپر آگرے۔ مسلمانوں نے جواب دیا کہ یہ لوگ پہاڑی کی چوٹی پر ہیں اور ہم کھلے میدان میں ہم ان کے پاس کس طرح پہنچ سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔ اچھا جب تک میں لوٹ کے نہ آوں تم یہیں ٹھہرے رہو۔

یہ کہہ کر آپ گھوڑے سے اترے، تہبند باندھا ،تلوار حمائل کی، کندھے پر ڈھال ڈالی اور فرمایا یہ سمجھ لو کہ ان لوگوں نے ابھی تک ہمیں نہیں دیکھا۔ اگر دیکھ لیتے تو یہاں نہ ٹھہرتے جو شخص اپنی جان خدا کے راستہ میں صرف کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ جس طرح میں کروں وہ بھی اسی طرح کرے۔ یہ سن کردس آدمی آپ کے ساتھ ہوئے اور اسی طرح تیار ہو کر پہاڑی کی طرف چل دیئے۔ یہ لوگ (جاسوس) اپنی جگہ ابھی موجود تھے کہ یہ پہنچ گئے ان کے پاس بچ کر۔ حضرت خالد نے بلند آواز سے فرمایا ان لوگوں کو پکڑ لو خداوند تعالیٰ تمہاری امتوں میں برکت دیں۔ مسلمان جھپٹے اور دو شخصوں کو قتل اور چار کو گرفتار کر لیا۔ حضرت خالد نے ان کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم دور افقیع اور جامعہ اور کفر الحریہ کے رہنے والے ہیں۔ عرب جس وقت سے ہمارے ملک پر چڑھ کے آئے ہیں ہم سخت مصیبت میں مبتلا ہیں۔ اکثر آدمی بھاگ کر قلعوں میں پناہ گزین ہو گئے ہیں۔ ہم امن لینے کے لئے یہاں آگئے تھے۔ کیونکہ یہ پہاڑی بھی بہت زیادہ محفوظ ہے اس کی چوٹی پر اس عرض سے چڑھے تھے کہ کچھ حالات معلوم ہوں مگر آپ لوگوں نے ہمیں گرفتار کر لیا۔

حضرت خالد نے دریافت کیا رومیوں کا لشکر کہاں تک پہنچ گیا ہے؟ انہوں نے کہا اجنادین کے مقام تک آچکا ہے اور بادشاہ فلسطین کی طرف سے روانہ کیا گیا ہے تاکہ بیت المقدس کی حفاظت کرے۔ اجنادین میں تمام لشکر مع مفروران کے جمع ہوا ہے اور ایک سردار رسد لینے کے واسطے ہمارے یہاں آیا تھا اس نے چوپاو¿ں اور خچروں کو بار برداری کے لئے اکٹھا کیا ہے مگر اسے ڈر ہے کہ کہیں اہل عرب ان پر نہ آپڑیں۔ ہمیں محض اتنی ہی خبر ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ انہوں نے رسد کے لئے آج ہی کوچ کیا ہے۔ حضرت خالد نے سن کر فرمایا رب کعبہ کی قسم وہ تو مال غنیمت ہے۔ آپ نے دعا کی کہ الہا العالمین ان لوگوں پر ہماری مدد فرمائیے۔

یہ بھی پڑھیں:  1883-84میں لاہور کے نامور خاندان

پھر آپ نے ان سے سوال کیا کہ وہ کون سے راستہ سے جاویں گے ؟ انہوں نے کہا اسی راستہ سے جس میں تم موجود ہو کیونکہ کشادہ راستہ یہی ہے اور رسد انہوں نے ایک ریت کے ٹیلے کے قریب جس کو تل بنی سیف (بنی سیف کا ٹیل) کہتے ہیں جمع کر رکھی ہے۔

حضرت خالد نے ان سے یہ تمام باتیں سن کر فرمایا اچھا تم دین اسلام کے متعلق کیا کہتے ہو؟ اور کیا اعتقاد رکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو دین صلیب سے واقف ہیں اور بس۔ ہم زراعت پیشہ لوگ ہیں ہمارے قتل کرنے میں آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت خالد نے چاہا کہ ان کو چھوڑ دیا جائے۔ مگر بعض حضرات کی رائے ہوئی کہ انہیں اس شرط پر رہائی دی جائے کہ یہ ہمیں رسد کے مقام تک پہنچا دیں۔ انہوں نے اس بات کو قبول کر لیا اور آگے آگے چلے۔ جس وقت عین راستہ پر پہنچے تو حضرت خالد نے کسی کو بھیج کر اپنے ان تمام آدمیوں کو جنہیں میدان میں چھوڑ آئے تھے بلا لیا۔ اس وقت تمام آدمی جمع ہو گئے تو سرعت کے ساتھ چلے اور وہ چاروں آدمی راستہ بتلاتے جاتے تھے۔ جس وقت رسد کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ رومی رسد کو جانوروں پر لاد رہے ہیں اور ٹیلے کے گرد چھ سو سوار موجود ہیں۔ حضرت خالد نے دیکھ کر مسلمانوں سے فرمایا۔ یاد رکھو کہ خداوند تعالیٰ نے دشمن پر تم سے نفرت کا وعدہ فرمایا ہے اور جہاد تم پر فرض کیا ہے۔ دشمن تمہارے سامنے موجود ہے تم ثواب کی رغبت اور کوشش کرو اور جو کچھ باری تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اس کو گوش ہوش سے سنو فرماتے ہیں- ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفاً کانھم بنیان مرصوص (اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ان کے راستہ میں صف باندھ کر مقابلہ کرتے ہیں گویا کہ وہ ایک عمارت ہیں جس میں سیسہ پلایا گیا ہے)

میں اب دشمن پر حملہ کرتا ہوں تم بھی کرو اپنے ساتھیوں سے تم میں کوئی آگے نہ بڑھنے پائے یہ کہہ کر آپ نے حملہ کر دیا اور آپ کے ساتھ قوم حمیر بھی حملہ آور ہو گئی۔

حذافہ بن سعید کہتے ہیں کہ جس وقت ہم نے رومیوں کو اپنے مقابلے کے واسطے آتے دیکھا تو جو کاشت کار اور غلام وغیرہ ان کے چوپاوں کے ساتھ تھے بھاگ کھڑے ہوئے اور رومی ایک گھنٹہ تک مقابلہ میں ڈٹے رہے ۔زوالکلاع حمیری نے اپنی قوم کو مخاطب کر کے کہا۔ اے آل حمیر! آسمانوں کے دروازے کھل گئے جنت تمہارے واسطے آراستہ ہو گئی حوریں انتظار کرنے لگیں۔

یہ یہیں تک کہنے پائے تھے کہ حضرت خالد بن سعید رومیوں کے سردار کے پاس پہنچ گئے اس کو اس کی زرہ حشمت اور سواری سے معلوم کر لیا۔ وہ اس وقت اپنی فوج کو جنگ کی ترغیب دے رہا تھا۔ آپ اس کی طرف بڑھے اور اس زور سے ڈانٹا کہ دشمن مرعوب ہو گیا۔ آپ نے کہا میں نے سعید کا بدلہ لے لیا۔ یہ کہہ کر ایک زور سے نیزہ مارا جس کی وجہ سے وہ ایک لوہے کی دیوار کی طرح گر پڑا۔ حضرت خالد کا کوئی سپاہی ایسا نہیں رہا جس نے ایک نہ ایک رومی سوار کو قتل نہ کیا ہو۔

جنگ کا انجام

حذافہ بن سعید کہتے ہیں کہ ہم نے تین سو تیس سوبیس سوار قتلکئے باقی شکست کھا کر بھاگے۔ مال و اسباب خچر تاتاری گھوڑے اور سامان رسد سب چھوڑ گئے ،ہم نے خداوند تعالیٰ کے حکم سے سب پر قبضہ کیا۔ حضرت خالد نے ان کاشت کاروں سے وعدہ پورا کر کے ان کو چھوڑ دیا۔ خالد اس مال غنیمت کو لے کر حضرت عمرو بن عاص کے پاس لوٹ کر آئے۔ آپ کو ان کی سلامتی اور مسلمانوں کے صحیح و سالم لوٹنے اور مال غنیمت کے ملنے سے بہت زیادہ خوشی ہوئی۔ آپ نے ایک خط حضرت ابو عبیدہ کو اس لڑائی کے متعلق اور ایک خط حضرت خلیفة المسلمین ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں فتح و نصرت کہ رومیوں کے تمام حالات جنگ مندرج کر کے عا مردوسی کے ہاتھ روانہ کئے۔
جس وقت عامر دوسی حضرت صدیق کی خدمت اقدس میں پہنچے تو حضور خلیفتہ المسلمین نے وہ خط تمام مسلمانوں کو پڑھ کر سنایا۔ مسلمان بہت خوش ہوئے۔ فرط خوشی سے تہلیل و تکبیر کی آواز گونجانی۔