Rawalpindi_Ring_road

راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ وزیر اعظم کے علم میں کیسے آیا؟اور آزادانہ تحقیقات کیسے شروع ہوئیں؟

EjazNews

رنگ روڈ سکینڈل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری  نے کہا ہے کہ رنگ روڈ کے حوالے سے اخبارات میں بھی رپورٹس آئی ہیں اور حکومت پنجاب کی جانب سے جو رپورٹ دی گئی تھیں، اس سے کابینہ کو آگاہ کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہی حکومت ہے اور وزیراعظم عمران خان کی جرات ہے کہ وہ ہمارے ایسے معاملات پر بھی دلیرانہ اقدامات کرتے ہیں جو عمومی حکومتیں ہوتیں تو نہ کرتیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوتی تو میڈیا چیخ چیخ کر گلے بیٹھ جاتی پرسوال پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی تحقیقات ہوتیں اور کسی کے خلاف کوئی ایکشن ہوتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حکومت میں کسی سکینڈل کی بات آتی ہے تو بڑے اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہوتی ہیں اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمیں توقع ہی نہیں تھی کہ وہ باپ کو باپ بنائیں گے:مولانا فضل الرحمٰن

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا نکتہ نظر ہے کہ لوگ چاہے جتنے طاقت ور ہوں انہیں قانون کے سامنےآنا ہے اور قانون کے برابر آنا ہے اور اس پر جس طرح وزیراعظم نے عمل درآمد کیا ہے اس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔

رنگ روڈ منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بڑا اچھا ہے کہ راولپنڈی میں ہیوی ٹریفک شہر کے اندر نہ آئے، 2017 میں یہ منصوبہ بنا، جنوری 2018 میں ابتدائی الائنمنٹ کی منظوری دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ سکینڈل اس وقت شروع ہوا جب اس منصوبے پر کام کرنے والے ایک انجینئر نے وزیراعظم کو لکھا کہ اس منصوبے کی الائنمنٹ کو تبدیل کردیا گیا ہے اور خصوصاً سنگجانی کے پوائنٹ پر تنگ کردیا گیا ہے اور اس سے حادثے بڑھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ شکایت پر وزیراعظم نے پوچھا تو کہا گیا کہ کوئی الائمنٹ تبدیل نہیں کی گئی، وزیراعظم نے ایک آزادانہ تحقیقات کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  نوجوانوں کے ساتھ مل کر لڑیں گے، ملک کو غلامی سے آزاد کرائیں گے:مریم نواز

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ فیکٹ شیٹ میں آیا کہ نہ صرف الائمنٹ تبدیل کی گئی بلکہ 29 کلومیٹر اٹک کی طرف بڑھا دیا گیا ہے اور اس کا مقصد ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو اس میں شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سکینڈل کے نتیجے میں اربوں روپے کھانے سے بچالیا گیا اور یہ سکینڈل بھی یہی ہے کہ اربوں روپے کو کھانے سے پہلے ہی بچالیا گیا کیونکہ اس کو اٹک رنگ روڈ بنایا گیا اور23 ارب روپے کی نئی زمین شامل کی جانی تھی اور اٹک کی زمین شام کی جانی تھی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس رپورٹ میں غلام سرور خان اور زلفی بخاری کا نام نہیں ہے لیکن سوشل میڈیا کے اوپر وزرا کے نام لیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ زلفی بخاری سمندر پار پاکستانی ہیں اور ان کی ننھیال توقیر شاہ صاحب کی زمین اس سے فائدہ اٹھاتی ہے لیکن زلفی بخاری کا تعلق نہیں ہے کیونکہ توقیر شاہ سے اس طرح کا کوئی رابطہ نہیں ہے کہ ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور میں پکڑے جانے والے پانچ من مینڈک میڈیکل لیب کو سپلائی ہونے تھے

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود زلفی بخاری نے استعفیٰ دیا کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں مجھے وہاں رہنا مناسب نہیں ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ غلام سرور خان کہتے ہیں اس پوری جگہ پر میری ایک انچ بھی زمین دکھادیں تو میں اس کا ذمہ دار ہوں، اس لیے ابھی تک کی تحقیقات واضح ہے کہ پیسے کھانے سے بچالیا گیا اور حکومت کے اربوں روپے بچا لیے گئے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ ابتدائی تحقیقات میں ہمارے کسی وزیر یا مشیر کا نام نہیں آتا، زلفی بخاری نے اخلاقی معیار پر استعفیٰ دیا اور وہ اس میں سرخرو ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن اور دیگر ادارے اس کی مکمل تحقیقات کرنے جارہے ہیں اور اس کے مطابق معاملہ آگے بڑھے گا۔