Ring_Road_Project

رنگ روڈ منصوبہ :فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کیا ہے؟

EjazNews

تھی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کیا کہتی ہے:

رنگ روڈ راولپنڈی منصوبے میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ مکمل ہوگئی ہے،سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن(ر) محمد محمود اور لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر وسیم علی تابش کو ذمہ دار قرار دے کرکیس نیب بھجوانے کی سفارشات پیش کی گئی تھی۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر اٹک، اے ڈی سی آر راولپنڈی، اے سی راولپنڈی صدر اور فتح جنگ اور چیف آفیسر فتح جنگ تحصیل کونسل کو انکی مجرمانہ غفلت اور خاموشی پر عہدوں سے فوری ہٹایا جائےاورممبر پی اینڈ ڈی فرخ نوید کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی گئی ،چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے رپورٹ وزیر اعلی ٰپنجاب کو بھجوادی تھی۔ وزیر اعلی کی جانب سے ذمہ داران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔

رپورٹ کی روشنی میں منصوبے میں بے ضابطگیوں کی چھان بین کیلئے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جسے10دن کے اندر تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا ٹاسک سونپا گیا تھا۔کمیٹی نے رنگ روڈ راولپنڈی منصوبے کے انجینئرنگ، پروکیورمینٹ، کنسٹرکشن، فنانس، آپریشنز اینڈ مینٹینینس کے آر ایف پی سے متعلقہ ایشوز کی تحقیقات کیں – ان تحقیقات میں سرکاری اہلکار اور نجی کارکنان، جن میں سابق کمشنر راولپنڈی اور اس وقت کے ڈی جی آر ڈی اے، کنسلٹنٹس، لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر کے آر ایف پی سے متعلقہ ایشوز میں کردار کی تحقیقات کی گئیں تھیں۔

کمیٹی نے استفسار کیا ہے کہ نیسپاک نے جب 2017 میں منصوبے کیلئے معقول الائمنٹ تیار کی تھی۔ تو پھر اٹک لوپ اور پسوال زگزیگ کے ساتھ نئی الائنمنٹ کہاں سے آئی؟ ۔پسوال چونکہ سی ڈے اے کی حدود میں آتا ہے تو آر ایف پی این ایچ اے اور سی ڈی اے کی منظوری کے بغیر کیسے پریس میں دیا گیا؟۔ تمام محکموں کے کمنٹس اور سفارشات کے بعد الائنمنٹ پلان کی سمری وزیر اعلیٰ پنجاب نے 27 مارچ 2018 کو منظور کی سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود نے 4 جنوری 2020 کو ویکلی پروگریس میٹنگ کی صدارت کی جس میں منصوبے کی نئی الانمنٹ پیش کی گئی تمام محکموں اور وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بعد الائنمنٹ میں کی گئی تبدیلی پیپرا قوانین کے خلاف تھی۔

جون 24، 2020 کو پراجیکٹ سٹیرنگ کمیٹی کی تیسری میٹنگ جو چیئرمین پی اینڈ ڈی کی صدارت میں ہوئی، اس میں الائنمنٹ کے حوالے سے مطلع کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے مگر سابق کمشنر نے نئی الائنمنٹ کے حوالے سے دھوکا دہی سے کام لیا تاہم نئی تشہیر شدہ الائنمنٹ اور آر ایف پی دونوں غیر قانونی قرار پائے ۔راولپنڈی کے موضع جات کی لینڈ ایکوزیشن کی رقم کم اور اٹک کے موضع جات کی رقم حد سے زیادہ رکھی گئی -کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق رینٹل سنڈیکیٹ کے 37 لوگوں میں سابق کمشنر، ان کا بھائی کرنل ریٹائرڈ مسعود احمد اور کرنل ریٹائرڈ عاصم پراچہ بطورسابق کمشنر کے بے نامی دار شامل ہیں۔ نئی الائنمنٹ سے توقیر شاہ اور ان کے خاندان کی پراپرٹیز کو فائدہ پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں:  اسرائیل کے معاملے پرہماری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی:وزیراطلاعات

سابق کمشنر وسیم علی تابش کو لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر کے اختیارات نہیں دے سکتے تھے، جو کہ دئیے گئے اور یہ غیر قانونی تھا- سابق کمشنر نے منصوبے کے متعدد دورے کئے، جن دوروں کا مقصد اس منصوبے کے ارد گرد زمین خریدنا تھا۔کمیٹی کی جانب سے سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود اور لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر وسیم علی تابش کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔محمد محمود اور وسیم علی تابش کا کیس نیب بھجوانے کی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ دونوں افسران نے غیر قانونی لینڈ ایکوزیشن پر 2.3 ارب روپے تقسیم کئے۔اتنی بڑی رقم کی ادائیگی اٹک لوپ کے رینٹ سینڈیکیٹ کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی۔ وسیم علی تابش نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ضلع اٹک میں 2 ارب سے زائد کی رقم خرچ کی۔ رینٹل سینڈیکیٹ میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی۔ تحقیقات کے نتیجے میں فائدہ اٹھانے والے بے نامی حصہ دار بھی سامنے آسکتے ہیں۔

اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن قواعد وضوابط اور انتظامی قوانین کی دھجیاں اڑانے پر محمد محمود کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لے۔ محمد محمود کے بھائی کا مکہ سٹی کے ساتھ تعلق کا انکشاف ہوا ہے۔ سابق کمشنر نے اپنے بھائی کو فائدہ پہنچانے کیلئے یااس کے ذریعے بے نامی طریقے سے خود کو فائدہ پہنچانے کیلئے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ توقیر شاہ اور نیسپاک کے چند افسران کو بھی ان بے ضابطگیوں میں ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔میسرز Zeeruk کو پی اینڈ ڈی پنجاب کی جانب سے بلیک لسٹ کیا جائے۔ ممبر پی اینڈ ڈی فرخ نوید کو عہدے سے ہٹایا جائے اور انکے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔

ایف بی آر اور ایف آئی کو 12 مختلف ہاوسنگ سوسائیٹیز اور پراپرٹیز کے حوالے سے چھان بین کی ذمہ داری دی جائے۔

ہاوسنگ سوسائیٹیر میں موجودہ یا ریٹائرڈ افسران کے بے نامی حصہ دار ہونے کے حوالے سے ان سوسائیٹیز/پراپرٹیز سے تحقیقات کی جائیں جن میں نووا سٹی، نیو ایئرپورٹ سٹی،بلیو ورلڈ، اتحاد سٹی،نئے اسلام آباد ائیرپورٹ کے نزدیک گاوں میاں رشیدہ میں 3 سو کنال اراضی،ٹھلیاں میں 200 کنال اراضی،جنڈو اور چوکر میں اراضی، لائف ریذیڈینشیا، روڈن اینکلیو ساس ڈویلپرز،کیپیٹل سمارٹ سٹی، ٹاپ سٹی شامل ہیں رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ڈی سی اٹک، ڈی سی راولپنڈی، اے ڈی سی آر راولپنڈی، اے سی راولپنڈی صدر اور فتح جنگ اور چیف آفیسر فتح جنگ تحصیل کونسل کو انکی مجرمانہ غفلت اور خاموشی پر عہدوں سے فوری ہٹایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  ورلڈ کپ 2019ء شروع ہوا جاتا ہے

متعلقہ اتھارٹیز کرنل ریٹائرڈ عاصم ابراہیم پراچہ کی جانب سے قومی سکیورٹی کے احساس ادارے کا نام استعمال کرنے کی تحقیقات کریں۔ فورسز میں متعلقہ افسران کومیجر جنرل ریٹائرڈ سلیم اسحاق کے رینٹل سینڈیکیٹ میں کردار کے حوالے سے بھی آگاہ کیا جائے۔ بورڈ آف ریوینیو پنجاب تشہیر کی گئی الائنمنٹ کے حوالے سے ریوینیو اسٹیٹس کے ڈی سی ریٹس کی موجودہ مارکیٹ ریٹس کے ساتھ تصدیق کیلئے سپیشل ٹیم تشکیل دے۔ ایف آئی اے کا سائبر ونگ غیر منظور شدہ سوسائیٹیر کی آن لائن اور دیگر تشہیر اور نووا سٹی کی جانب سے منظور شدہ ایریا سے زائد سیلز کے حوالے سے تحقیقات کرے۔

مسلم لیگ (ن) کی مرکزی ترجمان ، سابق وزیر اطلاعات و مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ’رنگ روڈسکینڈل فیکٹ فائینڈنگ رپورٹ کے بعد وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی ٰپنجاب عثمان بزدار سمیت تمام ذمہ دار افسران کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بے ضابطگیاں نہیں، 25 ارب سے زائد کا ڈاکہ ہے ، ان کے نام ای سی ایل ، بلیک لسٹ اور پرسن ناٹ اِن لسٹ پر ڈالے جائیں ان کے عہدوں پر ہوتے ہوئے بلا امتیاز انکوائری نہیں صرف مافیاز کی سہولت کاری ہوسکتی ہے۔

ترجمان کے بقول شہباز شریف کا منصوبہ ری الائین کر کے ڈاکہ ڈالا گیا، رنگ روڈ کے تمام فیصلے عمران خان صاحب کے حکم پر عثمان بزدار صاحب نے اپنے دستخطوں سے کئے،
وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب بھی میدان میں آئے ا ن کا کہناتھا کہ رنگ روڈ کے حوالے سے شور مچانا ایسا ہی ہے جیسے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے، عمران خان نے ثابت کیا کہ ان کی حکومت میں کوئی کرپشن نہیں کرسکتا۔

مریم اورنگزیب کے بیان پر اپنے ردعمل میں وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ ن لیگ کے دور میں 36 کمپنیوں کا سکینڈل، رائے ونڈ روڈ پر اربوں روپے لگائے گئے، جاتی عمرہ محل پر اربوں روپے لگائے گئے، کیمپ آفسز بنائے گئے، کسی معاملے پر انکوئری کی توفیق نہیں ہوئی، کسی وزیر پر کیس نہیں بنایا گیا، ان کے دور میں ہمیشہ آگ لگ جایا کرتی تھی، ایل ڈی اے پلازہ میں میٹرو کا ریکارڈ جلایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  ترجمان پاک فوج کا امریکی ٹی وی کوانٹرویو

انہوں نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے انکوائری کرکے رپورٹ پبلک کی اور اڑھائی ارب کی لینڈ ایکوزیشن کا معاملہ نیب کو بھجوا دیا گیا ہے، ذمہ دار بیوروکریٹس کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا، ان کے محکمانہ کارروائی ہوگی اور نیب بھی تحقیقات کریگا۔ انہوں نے کہا کہ ان سے سوال ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے اپنے ادوار میں کتنے کرپشن کے کیسز بنائے۔ وزیراعظم عمران خان نے رنگ روڈ منصوبے میں اعلی مثال قائم کی ہے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدارکے حکم پر راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل کی انکوائری ڈی جی اینٹی کرپشن کو سونپ دی گئی۔

ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ کرپشن کے ذمہ دار انجام سے نہیں بچ سکیںگے،ڈی جی اینٹی کرپشن کو راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقات کیلئے وسیع البنیاد کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا گیا اور انکوائری کمیٹی میں متعلقہ ماہرین کو شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی ذوالفقار عباس بخاری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ زلفی بخاری نے کہا کہ شفاف انکوائری کیلئے اپنے عہدے سے مستعفی ہورہاہوں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدارکے حکم پر راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی انکوائری ڈی جی اینٹی کرپشن کو سونپ دی گئی، وزیر اعلی عثمان بزدار نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو جامع انکوائری رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ترجمان حکومت پنجاب نے مزید کہا کہ پنجاب میں کسی بھی قسم کی کرپشن پر زیروٹالرنس کی پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے ، کرپشن کرنے والے انجام کار سے نہیں بچ سکیں گے۔

زلفی بخاری نے کہا کہ بے بنیاد الزامات کی غیر جانبدرانہ انکوائری تک اپنے عہدے سے مستعفی ہورہاہوں۔جب تک انکوائری مکمل نہیں ہوگی اس وقت تک مستعفی رہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی انکوائری کا سامنا کرنے کو تیار ہوں ،میرا رنگ روڈ منصوبے سے کوئی تعلق نہیں ۔رنگ روڈ تحقیقات مکمل ہونے تک عہدے سے الگ رہوں گا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہی رہوں گا اور ہر قسم کی تحقیقات کیلئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ملک کی خدمت کیلئے اوورسیز لائف چھوڑ دی ہے۔