AL_Qudas

جب تک قبضے سے ان کی مکمل آزادی نہیں ہوتی کوئی سلامتی اور استحکام نہیں ہوسکتا:او آئی سی

EjazNews

غزہ کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ او آئی سی کا ورچول اجلاس وزرائے خارجہ کی سطح پر ہو رہا ہے جو سعودی عرب کی درخواست پر بلایا گیا۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔
اجلاس میں اسرائیل کی جارحیت، فلسطینی علاقوں پر قبضے خاص کر القدس شریف کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں او آئی سی کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹیو کمیٹی نے فلسطینیوں پر اسرائیلی کے وحشیانہ حملوں کی شدید مذمت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘اجلاس کی قرار داد اسرائیل کی جانب سے جان بوجھ کر مذہبی حساسیت کو آگ دینے، فلسطینیوں اور مسلم امہ کو اشتعال دلانے کے حوالے سے واضح اور واشگاف انداز میں خبردار کرتی ہے۔

او آئی سی کا کہنا تھا کہ ‘وزرا کی قرار داد میں کہا گیا کہ او آئی سی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجودہ اسرائیلی آباد کاری اور امتیازی نظام کی بنیاد رکھنے کو مسترد اور مذمت کرنے کا اعادہ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایک مرتبہ پھر روس کے ساتھ ایران کو الیکشن میں مداخلت کا ذمہ دار ٹھہرایا امریکہ نے

قرار داد میں کہا گیا کہ ‘القدس اور الاقصیٰ اسلام کا پہلا قبلہ اور تیسری مقدس ترین مسجد ہے اور یہ امہ کے لیے سرخ لکیر ہیں، جب تک قبضے سے ان کی مکمل آزادی نہیں ہوتی کوئی سلامتی اور استحکام نہیں ہوسکتا۔

اس موقع پر او آئی سی کے سیکریٹری جنرل یوسف العثیمین نے کہا کہ ‘ہم الاقصیٰ میں فلسطین کے عوام کی مزاحمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘القدس فلسطین کا لازمی جزو ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے سنیچر کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس سے غزہ کی صورتحال پر بات کی۔

عرب نیوز کے مطابق امریکی صدر نے یہ ٹیلی فونک رابطے غزہ میں اس عمارت کو اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد کیے ہیں جہاں ایسوسی ایٹڈ پریس اور د یگر میڈیا اداروں کے دفاتر قائم تھے۔

جو بائیڈن نے فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ برسراقتدار آنے کے بعد جو بائیڈن کا محمود عباس سے یہ پہلا رابطہ ہے۔
فلسطینی اتھارٹی میں شہری امور کے سربراہ نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ صدر محمود عباس سے بائیڈن نے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کا صاف الفاظ میں امریکہ کو اڈے دینے سے انکار

اسرائیلی وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے اسرائیل اور غزہ میں تشدد بھڑکنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ مصری وفد نے فریقین کو جنگ بندی پر راضی کرنے کے لیے تل ابیب کا دورہ کیا تھا تاہم اسرائیل نے اس حوالے سے تمام اقدامات کو مستر د کردیا ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں ایک فضائی حملے کے دوران ایک کثیرالمنزلہ عمارت کو تباہ کیا ہے جس میں امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سمیت دوسرے عالمی میڈیا اداروں کے دفاتر قائم تھے۔

عرب نیوز کے مطابق سنیچر کو اسرائیلی فوج کی یہ تازہ کارروائی اس کی عسکریت پسند گروہ حماس کے ساتھ جاری جنگ میں میڈیا کو فلسطینی علاقے سے رپورٹنگ سے روکنے کی کوشش ہے۔

یہ فضائی حملہ فوج کے لوگوں کو عمارت خالی کرنے کے حکم کے ایک گھنٹے بعد کیا گیا۔ عمارت میں الجزیرہ کے دفتر سمیت دوسرے دفاتر اور رہائشی اپارٹمنٹس بھی تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  حلقہ این اے 75ڈسکہ میں کتنے رجسٹرڈ ووٹر ہیں؟

فضائی حملے کے بعد پوری 12 منزلہ عمارت گرد کے ایک بہت بڑے بادل کے ساتھ زمین بوس ہو گئی۔

فضائی حملہ غزہ شہر کے ایک گنجان آباد پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے کے کئی گھنٹے بعد کیا گیا۔ جس میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد ہلاک ہو گئے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ یہ موجودہ تنازع کی سب سے مہلک فضائی کارروائی تھی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حالیہ تنازع پر اتوار کو سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل فوری جنگ بندی اور لڑائی کے خاتمے کا مطا لبہ کر چکے ہیں۔