Cyclone Tauktaae

سندھ کے کئی شہروں میں ریڈ الرٹ جاری

EjazNews

بحیرہ عرب میں ہواکا کم دبا ئوطوفان میں تبدیل، سندھ کے کئی شہروں میں ریڈ الرٹ جاری،مچھیروں کوگھروں میں رہنے کی ہدایت، پیر سے جمعرات تک ٹھٹھہ، بدین ،تھر،میرپورخاص،عمر کوٹ، سانگھڑمیں بارشوں کا امکان،کراچی، حیدرآباد ،جیکب آباد میں گردآلود ہوائیں چلنے ،بارش کی پیش گوئی، ہیٹ ویو کابھی امکان، وزیراعلیٰ نے بل بورڈز ،سائن بورڈز ہٹانے کی ہدایت کردی ۔

ڈائریکٹر پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ سردار سرفراز نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بحیرہ عرب کے جنوب میں ایک ویدر سسٹم بن رہا ہے، اس سے عام طور پر تین قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ، بشمول تیز بارش ، گرج چمک کے ساتھ بارش، تیز آندھی اور طوفانی ہوائوں میں اضافہ ،ٹروپیکل سائیکلون کی بڑی وجہ ٹروپیکل خطے میں گرم پانی ہے، سمندری طوفان سے پہلے سمندر کی سطح کا درجہ حرارت عموماً 26 ڈگری ہوتاہے، پاکستان اور جنوبی ایشیاء میں سائیکلون کی وجہ ڈسٹربینس(خلل) ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سائیکلون کے دو ممکنہ ٹریکس ہوتے ہیں، اگر سائیکلون انڈیا کے گجرات کو عبور کرتا ہے تو اس کا اثر ٹھٹھہ ، بدین ، میرپورخاص ، تھرپارکر ، عمرکوٹ اور سانگھڑ اضلاع پر ہوگا، ٹھٹھہ ، بدین اور میرپورخاص میں 70سے 90ملی میٹر ، عمرکوٹ میں 80 سے 100 ملی میٹر جبکہ تھرپارکر میں 230 سے 250 ملی میٹر تک شدید بارش ہوسکتی ہے، اگر سمندری طوفان شمال مغرب کو عبور اور کراچی کے مغرب کو عبور کرتا ہے تو اس کا اثر کراچی ، حب ، لسبیلہ ، حیدرآباد اور جامشورو اضلاع پر پڑے گا ۔ کراچی میں 60 سے 80 ملی میٹر بارش ، حیدرآباد میں 30 سے 50 ملی میٹر ، جامشورو میں 150-170 ملی میٹر ، دادو 180 سے 200 ملی میٹر ، بیلہ اور سکھر میں 80 سے 100 اور جیکب آباد میں 60 سے 80 ملی میٹر بارش ہوسکتی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ ہوا کا دبائو جنوب مشرق بحیرہ عرب کی جانب ایک تیز سائیکلونک اسٹورم ’ٹوکٹے‘‘بڑھ رہا ہے اور 15 مئی 2021 کے 0800 PST پر طول بلد پر 12.7N اور عرض البلد 72.3E ، تقریبا 1460 کلومیٹر جنوب کی دوری پر واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسرائیل کے معاملے پرہماری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی:وزیراطلاعات

جنوب مشرقی کراچی کے اطراف زیادہ سے زیادہ تیز ہوائیں سسٹم سینٹر میں 120 کلومیٹر فی گھنٹہ یا 110-90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں۔امکان ہے کہ اگلے 18-12 گھنٹوں کے دوران یہ سسٹم شدید سائیکلون اسٹورم (ایس سی ایس) مزید تیز ہوجائے گا اور شمال مغرب کی سمت بڑھ جائے گا اور 18 مئی کی صبح تک ہندوستانی گجرات پہنچ جائے گا، اس سسٹم کے زیراثر 17 مئی سے 20 مئی 2021 ء تک ، ٹھٹھہ ، بدین ، تھر ، میرپورخاص ، عمرکوٹ اور سانگھڑ اضلاع میں 100-80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہوائوں کے ساتھ شدید دھول / گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

18 سے 20 مئی 2021 کے دوران کراچی ، حیدرآباد ، جامشورو ، شہید بینظیر آباد ، سکھر ، لاڑکانہ ، شکار پور ، جیکب آباد اور دادو میں بھی 50 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز آندھی اور تیز ہوائوں کے ساتھ دھول / طوفانی بارش کا امکان ہے۔ سمندری لہریں انتہائی شدید ہوسکتی ہیں لہذا ماہی گیروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ 16 سے 20 مئی 2021 کے دوران سمندر کا رخ نہ کریں۔دوسری جانب میٹ آفس اور پی ڈی ایم اے کے ذریعہ پیش کردہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی میں انتظامیہ کو نالوں کی چوکنگ پوائنٹس کلیئر کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے کمشنر کراچی نوید شیخ اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی لئیق احمد کو ہدایت کی کہ وہ تمام بل بورڈز ، نیو سائن بورڈز ہٹا دیں اور بلڈروں کو زیر تعمیر عمارتوں کی حفاظت کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  ثانیہ مرزا کی ٹینس کورٹ میں واپسی

انہوں نے پی ڈی ایس ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ شہر اور دیگر اضلاع میں اُن کی ضرورت کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو ڈی واٹرینگ مشینیں ، جنریٹر فراہم کریں۔

مراد علی شاہ نے ماہی گیروں کو ہدایت کی کہ وہ ماہی گیری کے لئے گہرے سمندر میں نہ جائیں۔ وزیر اعلی سندھ نے تھرپارکر ضلعی انتظامیہ کو غیر معمولی اقدامات کرنے کی ہدایت کی کیونکہ اس بار شدید بارش کی توقع کی جارہی ہے۔

ادھر ’’ ہیٹ ویو اور سمندری طوفان‘‘ کی آمد کے پیش نظر ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مختلف محکموں میں جمعرات 20 مئی تک ایمرجنسی نافذ کردی۔ ایڈمنسٹریٹر نے ہفتے کو متوقع سمندری طوفان کے تناظر میں شہر کےمختلف برساتی نالوں کا دورہ بھی کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹر ز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ہمہ وقت موجودگی یقینی بنائی جائے، جب کہ فائر بریگیڈ، ریسکیو یونٹ، سٹی وارڈنز، محکمہ باغات اور محکمہ میونسپل سروسز میں بھی ایمرجنسی نافذ رہے گی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، اگلے 3دن کراچی کا درجہ حرارت بڑھنے کا امکان ہے، لہٰذاشہری ان دنوں میں گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں، کیوں کہ اس دوران تیز ہوائیں چلنے اور بارش کا امکان ہے اور تیز ہواؤں کے باعث چھتیں اڑنے، سائن بورڈ گرنے، کچی تعمیرات منہدم ہونے کے امکانات بھی ہیں، لہٰذا شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں، بجلی کے تاروں اور سائن بورڈز سے دور رہیں، خصوصاً بارش کے دوران برقی آلات اور بجلی کے کھمبے چھونے سے گریز کریں، ہیٹ ویو کے دنوں میں پانی کا زیادہ استعمال کیا جائے، دھوپ سے بچا جائے اورڈی ہائیڈریشن کی صورت میں فوری ہسپتال سے رجوع کیاجائے، تمام افسران و ملازمین اپنی ذمے داریاں محسوس کرتے ہوئے شہریوں کی مدد کے لئے موجود رہیں،بارش کی صورت میں ہر ممکن کوشش ہوگی کہ نکاسی آب کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے اور جہاں بھی پانی کھڑا ہو اسے محفوظ طریقے سے نکال دیاجائے۔

یہ بھی پڑھیں:  HBL-PSL2020کی دنیا بھر میں کوریج ایس این ٹی وی کرے گا:پی سی بی

پاکستان ریلوے نے سمندری طوفان ’’ٹوکٹے‘‘ کے خطرے کے پیش نظر کراچی ڈویژن میں 3 کنٹرول روم قائم کردئیے،ڈویژنل کمشنر حیدرآباد نے امکانی طوفانی بارشوں کے پیش نظر اپنے دفتر میں کنٹرول روم قائم کردیا ہے جس میں متعلقہ افسران و عملے کی 16 سے 20 مئی 2021 تک ہنگامی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔ کنٹرول روم کے فون نمبر 9200114 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں سائیکلون ایمرجنسی کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ساحلی پٹی کے ساتھ واقع تمام اضلاع میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لئے ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ چیف سیکرٹری آفس میں ایک کنٹرول روم قائم کرنے اور تمام اضلاع سے قریبی روابط قائم کیے جائیں اورحکومت سندھ کی جانب سے انہیں ضروری ہدایات جاری کی جائیں،اجلاس میں وزیر ری ہیبلی ٹیشن فراز ڈیرو ، مشیر مرتضیٰ وہاب ، چیف سکریٹری ممتاز شاہ ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو علم الدین بلو ، اے سی ایس ہوم عثمان چاچڑ ، کمشنر کراچی نوید شیخ ،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکرٹری ساجد جمال ابڑو ، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی ، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد ، کمانڈر کور انجینئرنگ بریگیڈیئر قاضی ناصر ، ڈائریکٹر میٹ آفس سرفراز ، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ اور ویڈیو لنک کے ذریعے وزیر آبپاشی سہیل انور سیال اور وزیر بلدیات سید ناصر شاہ نے شرکت کی۔