Islam_Quran

صدقہ فطر ۔۔۔احکام و مسائل

EjazNews

اسلام میں مختلف قسم کے صدقات کا حکم دیا گیا ہے اور ان میں سے ایک صدقہ فطر بھی ہے جس کا عید الفطر کے مبارک و مسعود موقعہ پر دینا مشروع ہے۔ اس مختصر تحریر میں اسی تعلیم و حکم کے مختلف پہلو اور اس کے احکا م و مسائل پر روشنی ڈالی جائیگی۔

صدقہ فطر اور قرآن کریم:

صدقہ فطر اسلام کا ایک ایسا حکم ہے جس سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو، اس کی مشروعیت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
’’وہ کامیاب ہو گیا جس نے زکوٰۃدی‘‘ (الاعلی)
اس آیت کی تفسیر میں متعدد اقوال مذکور و منقول ہیں:
ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں زکوٰۃ صدقہ فطر مراد ہے۔ ا مام بزار نے بطریق عمرو بن عف ؓ نبی کریم ﷺ سے حدیث نقل کی ہے کہ آپ نماز عید سے قبل صدقہ فطر کا حکم دیتے تھے اور دلیل میں اسی آیت کی تلاوت فرماتے، حضرت ابن عمرؓ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ عید میں جانے سے پہلے صدقہ فطر دیتے تھے اور اسی آیت کو دلیل میں پیش فرماتے ۔
حضرت علی، حضرت ابوسعید خدری، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے اور تابعین میں سے ابن سیرین، ابو العالیہ، قتادہ اور حضرت عطا کی یہی رائے ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں (ایک قول کے مطابق) ’’تزکی ‘‘ کا مطلب ہے صدقہ فطر ادا کرنا، معلوم ہوا کہ صدقہ فطر کی مشروعیت قرآن مجید سے بھی ثابت ہے۔

صدقہ فطر احادیث میں:

اور احادیث تو اس سلسلہ میں بہت سی آئی ہے۔ بطور نمونہ چند درج کرتا ہوں:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ’’رسو ل اللہ ﷺ نے مسلمانوں میں سے ہر غلام و آزاد، مردوعورت، بچے اور بوڑھے پر ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور صدقہ فطر میں دینا فرض قرار دیا۔
حضر ت ابن عمر ؓہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عید کی نماز کو نکلنے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم فرمایا ہے۔(بخاری :۱؍۲۴، رقم: ۱۴۳۸، مسلم ۱؍۳۱۸، ابودائود ۶۱۰، رقم۹۸۶، احمد ۲؍۱۴۵، نسائی۲۵۲۱)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی بصرہ کے امارت کے دور میں، ایک باررمضان کے اخیر ایام میں فرمایا کہ اپنے روزوں کی زکوٰۃ نکالو، یہ سن کر لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے (کہ یہ روزوں کی زکوٰۃ کیا ہوتی ہے) حضرت ابن عباس ؓنے فرمایا کہ یہاں اہل مدینہ میں سے جو لوگ ہیں وہ کھڑے ہوں اور اپنے بھائیوں کو تعلیم دیں، یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ زکوٰۃ (صدقہ فطر)اللہ کے رسول علیہ السلام نے ہر مرد و عورت اور آزاد و غلام پر ایک صاع جو یا کھجور یا آدھا صاع گیہوں فر ض قرار دیا ہے۔ (نسائی: ۱؍۳۴۷، رقم:۲۵۰۸، ابودائود ۱؍۲۲۹، رقم ۵۲۲)
حضرت ثعلبہ بن صعیرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ خطبہ دیتے ہوئے کھڑے ہوئے اور صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر ایک فرد کی جانب سے دینے کا حکم فرمایا، اس کے راوی علی نے اس میں یہ بھی کہا کہ ایک صاع گیہوں دو فرد کی جانب سے بڑے و بچے ، آزاد و غلام کی جانب سے دینے کا حکم فرمایا۔ (ابودائود:۱۶۲۰)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر میں ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر مشروع کیا ہے۔(نسائی:۲۵۱۱)
ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت نبی کریمﷺ نے صدقہ فطر کو ہر مسلمان پر لازم و ضروری قرار دیا ہے۔

صدقہ فطر کا فقہی حکم:

صدقہ فطر کا فقہی حکم کیا ہے؟، اس کے بارے میں کتابوں میں وضاحت ہےکہ جمہور علماء نے صدقہ فطر کو لازم قرار دیا ہے۔
علامہ ابن قدامہ حنبلی نے امام ابن المنذر کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہوں نے کہا کہ ’’اہل علم جن سے ہم نے علم کو محفوظ کیا ہے ان سب کا اجماع ہے کہ صدقہ فطر فرض ہے اور امام اسحاق نے کہا کہ یہ گویا اہل علم کا اجماع ہے اور ابن عبد البر نے گمان کیا ہے کہ امام امالک اور امام دائود کے اصحاب میں سے بعض متاخرین کہتے ہیں کہ یہ سنت موکدہ ہے اور دیگر تمام علماء اس بات پر قائم ہیں کہ یہ واجب ہے۔‘‘
اورمشہور شافعی امام علامہ نووی نے شرح مہذب میں کہا کہ:
’’صدقہ فطر ہمارے نزدیک اور جمہور علماء کے نزدیک واجب ہے اور صاحب بیان وغیرہ نے ہمارے اصحاب میں سے ابن اللبان سے نقل کیا ہے کہ صدقہ فطر سنت موکدہ ہے واجب نہیں ہے اورابو حنیفہ نے کہا کہ یہ واجب ہے اور فرض نہیں ہے۔‘‘
اور علامہ ابن عبد البر مالکی نے فرمایا
’’ابو التمام نے کہا کہ امام مالک نے فرمایا کہ صدقہ فطر واجب ہے اور یہی تمام اہل علم کا قول ہے، سوائے بعض اہل عراق کہ انہوں نے کہا کہ یہ سنت موکدہ ہے،ابو عمر کہتا ہے کہ اما م مالک کے اصحاب میں سے متاخرین نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے بعض نے کہا کہ یہ سنت موکدہ ہے اور بعض نے کہا کہ فرض واجب ہے اور ا ن مذاہب کی طرف جو لوگ گئے ہیں ان میں سے اصبغ بن الفرح بھی ہیں، اسی طرح اس میں دائود بن علی کے اصحاب نے بھی دو قولوں پر اختلاف کیا ہے: ایک یہ کہ یہ فرض واجب ہے اور دوسرا یہ کہ سنت موکدہ ہے لیکن دیگر تمام علماء اس بات پر ہیں کہ یہ واجب ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جمہور علماء کے نزدیک جن میں آئمہ اربعہ بھی ہیں، صدقہ فطر لازم و ضروری ہے۔ البتہ اس میں بحث کی گئی ہے کہ اس کا فقہی حکم کیا ہے ؟ ۔آئمہ ثلاثہ (امام شافعی، امام مالک، امام احمد رحمہم اللہ) اور جمہور علماء نے اس کو فرض قرار دیا ہے۔ نیز امام بخاری نے حضرت عطاء، حضرت ابن سیرین اور حضر ت ابو العالیہ سے بھی اس کی فرضیت نقل کی ہے اور فتح الباری میں ابن حجر نے لکھا ہے کہ ابن منیر وغیرہ نے اس کی فرضیت پر اجماع نقل کیا ہے۔ (فتح الباری:۳؍۳۶۷)
امام ابو حنیفہ کے نزدیک صدقہ فطر واجب ہے جیسا کہ فقہ حنفی کی کتب میں مصرح ہے مگر ان دونوں اقوال میں حقیقت میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ عام طور پر واجب پر فرض کا اطلاق کر دیا جاتا ہے اور احناف اس سلسلہ میں احتیاط برتتے ہیں کیونکہ فرض وہ ہے جو دلیل قطعی سے ثابت ہواور جو دلیل ظنی سے ثابت ہو وہ واجب کہلاتا ہے جبکہ وجوب کے آثار پائے جائیں اور صدقہ فطر کا ثبوت یا تو آیت سے ہے جو ثبوتاً تو قطعی ہے مگر دلالۃ ظنی ہے یا حدیث سے جو دلالۃ تو ظنی ہے مگر ثبوتاً ظنی ہے۔ لہٰذا ایسی دلیل سے واجب ثابت ہوتا ہے۔
چنانچہ علامہ ابن نجیم نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ : صدقہ فطر واجب ہے اور اس سے مراد وہ وجوب ہے جو ہماری اصطلاح میں رائج ہے اگرچہ کہ حدیث میں ’’فرض رسول اللہ ﷺ زکاۃ الفطر‘‘ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں: کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وجوبی حکم دیا اور جو حکم دلیل ظنی سے ثابت ہو وہ صرف وجوب کا فائدہ دیتا ہے۔
اور امام نووی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں
’’اور امام ابو حنیفہ نے کہا کہ یہ صدقہ فطر واجب ہے ، فرض نہیں ان کے اس اصول کی بناپر کہ واجب وہ ہے جو دلیل ظنی سے ثابت ہو اور فرض وہ ہے جو دلیل قطعی سے ثابت ہو مگر ہمارے یعنی شوافع کے نزدیک دونوں میں فرق نہیں اور اس کو واجب و فرض دونوں نام رکھے جاتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ صرف لفظی اختلاف ہے حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں سب کے نزدیک صدقہ فطر لازم ہے خواہ اس کا نام آپ واجب رکھئے یا فرض کے نام سے یاد کیجئے۔

یہ بھی پڑھیں:  فتح مکّہ تاریخ ساز اور فیصلہ کن معرکہ

کیا صدقہ فطر کا حکم منسوخ ہے ؟:

بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ صدقہ فطر کا وجوب منسوخ ہو گیا۔ ابراہیم بن علیہ اور ابوبکر بن کیسان کا یہی قول ہے ۔ان حضرات نے قیس بن سعد بن عبادۃ کی حدیث سے استدلال کیا ہے وہ حدیث یہ ہے کہ حضرت قیس بن سعد نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں زکوٰۃ دینے کا حکم نازل ہونے سے پہلے صدقہ فطر کا حکم دیا تھا جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہو گیا تو میں نہ اس کا حکم دیا اور نہ ہم کو اس سے منع کیا اور ہم اس کو ادا کرتے رہے۔(نسائی :۱؍۳۴۷)
مگر اس استدلال کو ابن حجر علیہ الرحمہ نے یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ اولاً تو اس حدیث کی سند میں ایک راوی مجہول ہے ثانیاً اگر حدیث بھی ہو تو اس سے صرف یہ معلوم ہوا کہ حکم زکوٰۃ کے نزول کے بعد صدقہ فطر کا دوبارہ حکم نہیں دیا اور ہو سکتا ہے کہ پہلے جو حکم دیدیا تھا اسی پر اکتفا فرمایا ہو ، کیونکہ ایک فرض کا حکم نازل ہونے سے دوسرا فرض ساقط نہیں ہوجاتا۔
لہٰذا یہ کہنا صحیح نہیں کہ صدقہ فطر کا حکم منسوخ ہو گیا ، لہٰذا چاہیں تو دیں، چاہیں تو نہ دیں۔ نہیں بلکہ یہ واجب ہے ضرور ادا کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  صلح اور ملاپ

صدقہ فطر کی وجہ تسمیہ:

صدقہ فطر کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟۔ اس میں دو قول ہیں: ایک یہ ہے کہ یہ صدقہ چونکہ رمضان کے اختتام پر عید الفطر کے دن سے مشروع ہے اس لئے اس کو صدقہ فطر کہا جاتا ہے۔ فطر کے معنی افطار کرنے کے ہیں اور رمضان کے ختم پر روزوں کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے ۔اس لئے رمضان کو عید الفطر اور اس کو صدقہ فطر کہا جاتا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ فطر کے معنی خلقت و بناوٹ کے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (اللہ کی بناوٹ جس پر کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ) پس اسی سے صدقہ فطر کوصدقہ فطر کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ صدقہ دراصل اپنی ذات و نفس کاصدقہ ہے، جسے اللہ نے پیدا کیا ہے جس طرح زکوٰۃ مال کاصدقہ ہے یہ جان کا صدقہ ہے جس سے آپ کا تزکیہ کیا جاتا ہے۔

صدقہ فطر کی حکمت :

صدقہ فطر کس وجہ سے مشروع ہوا؟ اس کے بارے میں حدیث میں وضاحت فرمائی گئی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ نے روزہ دار کو فضول و لغو باتوں اورفحش کاموں کے اثرات سے پا ک کرنے اور محتاجوں کے کھانے کا بندوبست کرنے کے لیے صدقہ فطر فرض فرمایا ہے۔(ابودائود ۱؍۲۲۷، رقم۶۰۹، ابن ماجہ۱۸۲۷، شعب الایمان ۴؍۱۶۲)
اور دار قطنی نے اس کو عبد اللہ بن عباس سے مرفوعا بھی روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’صدقہ فطر روزہ دار کے لئے فضول و لغو باتوں اور فحش کاموں کے اثرا ت سے پاکی ہے اور محتاجوں کے کھانے کا ایک ذریعہ ہے ‘‘۔(دارقطنی:۲؍۱۳۸)
اس حدیث میں صدقہ فطر کی مشروعیت کی دو حکمتیں بتائی گئی ہیں، ایک یہ کہ روزوں کو فضول و لغو باتوں اورفحش کاموں کے اثرات سے پاک کرنا۔ یہ اس لیے کہ عام طور پر ہم جو روزے رکھتے ہیں اس میں زبان سے لغو و فضول اور خلاف شرع باتیں صادر ہو جاتی ہیں جس سے روزہ غلط طور پر متاثر ہوتا ہے اوراس کی برکات ختم ہو جاتی ہیں، اسی طرح دیگر اعضا ء وجوارح سے گناہ و خطا کا صدور ہوتا رہتا ہے جس کی بنا پر روزہ خراب ہو جاتا ہے، لہٰذا صدقہ فطر واجب کیا گیا کہ صدقہ فطر ان گناہوں کے اثرات کو دھو کر روزوں کو پاک و صاف بنا دیتا ہے۔
دوسری حکمت یہ ہے کہ غریب ومسکین لوگوں کے کھانے کا بندوبست کیا جائے۔ عید کا دن اہل اسلام کی خوشی کا دن ہے اس عظیم خوشی کے دن اپنے رشتہ داروں، دوست و احباب اور پڑوسیوں میں جو لوگ محتاج وبے کس ہوں ان کو بھی اپنی خوشی میں شامل کرنا بلکہ ان کوبھی خوشی منانے کا موقع فراہم کرنا ضروری بھی ہے اور فطرت انسانی کاتقاضا بھی ، لہٰذا حکم دیا گیا کہ عید سے پہلے صدقہ فطر مساکین کو دیدیا جائے تاکہ وہ بھی عید کے دن کچھ خوشی کا سامان کر سکیں اورسب کے ساتھ عید منائیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیمات کس قدر حکیمانہ ہوتی ہیں اور اس کے ایک ایک حکم میں کئی کئی حکمتیں و مصلحتیں پوشیدہ رہتی ہیں۔ دیکھئے صدقہ فطر سے ایک طرف روزوں میں ہونے والے لغو یات و فضولیات اور غلط حرکات کا تدارک کیا جارہا ہے تو دوسری طرف محتاجو ں اور بے کسوں کی عید کا سامان بھی کیا جارہا ہے تاکہ و ہ بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ شریک عید و خوشی ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  خدا کی رحمت اور عدل: ایک حقیقت کے دو نام

صدقہ فطر اورصحابہ کے معمولات

صدقہ فطر کے سلسلہ میں صحابہ کا م عمول بھی احادیث میں منقول ہیں۔
(۱) حضرت ابوسعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ ہم حضورﷺ کے زمانے میں صدقہ فطر کھانے (یعنی گیہوں) میں سے ایک صاع، جو میں سے ایک صاع، کھجور میں سے ایک صاع، پنیر میں سے ایک صاع اور خشک انگور (کشمش) میں سے ایک صاع دیتے تھے۔ (بخاری :۱؍۲۰۴، رقم۱۴۳۵، مسلم ۱؍۳۱۸)
(۲) حضرت ابو سعیدؓہی فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں صرف کھجور، جو اور پنیر میں سے ایک ایک صاع، صدقہ فطر میں نکالتے تھے۔ (مسند حمیدی:۲؍۳۲۷)
(۳) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے دور میں لوگ صدقہ فطر میں جو، یا کھجور یا خشک انگور میں سے ایک صاع نکالتے تھے۔(نسائی ؍۱؍۳۴۸)
(۴) حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم اللہ کے نبی علیہ السلام کے دور میں صدقہ فطر میں دو مد گیہوں دیا کرتے تھے۔ (طحاوی :۱؍۲۶۹)
حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا اپنے گھر والوں میں سے آزاد و غلام سب کی طرف سے دو مد گیہوں یا ایک صاع کھجور اس مد سے نکالتی تھی جس سے لوگ معاملہ کرتے تھے۔ (طحاوی:۱؍۲۶۹)
(۶) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ صدقہ فطر اپن ے گھر کے لوگوں میں سے چھوٹے اور بڑے ، آزاد اور غلام سب کی طرف سے دیتے تھے۔ (مسند حمیدی :۲؍۴۶۸)
(۷)حضرت سالم بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر اپنے مکاتب غلاموں کی طرف سے بھی صدقہ فطر نکالتے تھے۔ (جامع المسانید ۱؍۴۶۸)

فائدہ:

مکاتب وہ غلام ہے جس کو آقا نے ایک مقررہ رقم ادا کرنے پر آزاد کرنے کہہ دیا ہو، مثلاً اگر ایک ہزر روپے دیدئیے تو آزاد وغیرہ۔
(۸)حضرت عبد اللہ بن عمر صدقہ فطر میں کھجور یا کرتے تھے، ایک دفعہ مدینہ والوں کو اس کی سخت حاجت پڑ گئی تو اس سال جو دئیے۔ (بخاری۱؍۲۰۵)
(۹) حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہی صدقہ فطر دے دیا کرتے تھے۔ (بخاری ۱؍۲۰۵)
(۱۰) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عید سے دو یا تین دن پہلے صدقہ فطر ان لوگوں کے پاس جمع فرما دیتے جو صدقہ فطر جمع کرتے تھے ۔ (موطا مالک ۱۲۴)
ان روایات سے صدقہ فطر کے بارے میں حضرات صحابہ کے معمولات کا علم ہوتا ہے، جن کا خلاصہ درج ذیل نمبرات میں ملے گا،
(۱) عام طور پر صدقہ فطر ان چیزو ں سے دیا جاتا تھا:کھجور ، جو ، پنیر ، خشک انگور یعنی کشمش، اور ان یسے بھی بعض صحابہ جیسے عبد اللہ بن عمر عام طور پر کھجور دیا کرتے تھے۔
(۲) اور یہ چیزیں ایک صا ع دی جاتی تھیں۔ (صاع کی مقدار آگے آرہی ہے)۔
(۳)گیہوں میں سے دو مددیا کرتے تھے(دو مد آدھا صاع ہوتے ہیں)
(۴) اپنی طرف سے اور اپنے گر کے دیگر آزاد و غلام، بڑے چھوٹے افراد کی طرف سے بھی نکالتے تھے یعنی جن کا نفقہ اپنے ذمہ ہوتا، ان کا صدقہ فطر ادا کرت ےاور جن کا نفقہ ذمہ نہ ہوتا ان کو ترغیب د ے کر ان کی طرف سے نکالتے تھے۔
(۵) عید سے ایک ددن پہلے ہی نکال دیتے اور امیر المومنین کی طرف سے مقررہ افراد کے پا س جمع کر دیتے تھے۔
حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی (بانی و مہتمم جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم، بنگلور)