sindh_cabinet

سندھ کابینہ کے اجلاس میں کیا اہم بات ہوئی؟

EjazNews

سندھ کابینہ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سندھ حکومت کو لکھے گئے خط کو ’’سیاسی مقاصد ‘‘قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے جس میں گریڈ 1سے 22تک کے ملازمین کی ڈومیسائل وار تفصیلات طلب کی گئی ہیں ،

کابینہ میں محکمہ سکول ایجوکیشن ایکٹ کا مسودہ پیش ،سندھ کے تعلیمی اداروں میں بچوں کو سزا دینا، جسمانی، ذہنی و جذباتی نقصان پہنچانا جرم ہوگا،اس مقصد کے لئے محکمہ سکول ایجوکیشن، سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرےگا، مارکیٹ کمیٹی کے ریٹائرڈ
ملازمین کی پنشنوں کو ختم کرنے کیلئے 749 ملین روپے کے قرض کی منظوری ، اشتہاری پالیسی 2021 کا مسودہ بھی کابینہ میں پیش کیا گیا ۔

صوبائی کابینہ کا 5گھنٹے تک طویل اجلاس ہوا ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی وزراء ، مشیران ، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم اور متعلقہ صوبائی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ کابینہ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سندھ حکومت کو لکھے گئے خط کوشہزاد اکبر کے کہنے پر لکھا گیا خط قرار دیا اور کہا کہ یہ سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے ایک اقدام ہے ۔نیب کے ذریعہ جو معلومات مانگی گئی ہیں وہ اس کے مینڈیٹ سے بالاتر ہے لہٰذا ہم چیئرمین نیب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں۔نیب حکام نے اپنی قانونی حد کو عبور کرتے ہوئے حکومت سندھ کو خط لکھا۔

جسمانی سزا کی ممانعت:
محکمہ سکول ایجوکیشن نے سندھ پروہبیشن کارپورل پنشمنٹ ایکٹ 2016 کا مسودے پیش کیا، قوانین کے تحت مدارس سمیت کسی بھی تعلیمی ادارے میں ملازمین یا کسی بھی شخص کی جانب سے کسی بھی بچے یا طالب علم کو جسمانی ، ذہنی یا جذباتی طور پر ہراساں یا جنسی استحصال کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا، ادارہ بچے کے تحفظ اور حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اپنے بچوں کو جسمانی اور فزیکلی سزاؤں سے بچانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گا ، قوانین کے تحت بچوں کے تحفظ کیلئے تعلیمی اداروں کو ہیڈ ماسٹر یا مدارس کے ایڈمنسٹریٹر ، انتظامیہ کے ایک رکن ، والدین یا بچے کے سرپرست اعلیٰ پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دینی ہوں گی جو الزامات سے متعلق تمام شکایات کو وصول کرنے ، ریکارڈ رکھنے اور انکی تفتیش کریں گی۔
کمیٹی ، بچوں سے زیادتی ، تشدد ، استحصال اور نظرانداز کی صورت میں فوری طور پر پولیس ، ضلعی رابطہ کمیٹی ، چائلڈ ہیلپ لائین 1121 یا متعلقہ چائلڈ پروٹیکشن افسر کو آگاہ کرے گی، جو بھی فرد قانون کے تحت ممنوعہ کارروائیوں کیلئے کسی بھی شخص کو پیش کرتا ہے ، حملہ کرتا ہے ، بھڑکاتا ہے ، مدد کرتا ہے یا ہدایت دیتا ہے وہ قانون کے مطابق سخت سزا کا ذمہ دار ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان اور انگلینڈ کے مابین سخت مقابلے کے بعدپاکستان کو شکست

پنشن کی ادائیگی:
کابینہ سے محکمہ زراعت نے 410.838 ملین روپے پنشن کے بقایاجات اور 338.029 ملین روپے ایرئیرز کے بقایاجات کی ادائیگی کیلئے 749 ملین روپے سے زائد کی گرانٹ کیلئے درخواست کی، وزیراعلیٰ سندھ نے کابینہ کے مشورے پر مارکیٹ کمیٹی کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنوں کو ختم کرنے کیلئے 749 ملین روپے کے قرض کی منظوری دی اور محکمہ سے سرکاری قرض کو ختم کرنے کیلئے جائیداد / اثاثے فروخت کرنے کو کہا، انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے لائن / ماتحت ونگز کی مالی صورتحال کا جائزہ لیںاگر انکی خدمات کی ضرورت نہیں ہے تو ان ونگز کو بند کردینا چاہئے، آمدنی پیدا کرنے والے ونگز / کمیٹی / کارپوریشنز کی جانب مالی مدد کیلئے ہاتھ نہیں بڑھائیں،مراد علی شاہ نے واضح طور پر کہا کہ وہ مستقبل میں ایسی گرانٹ نہیں دیں گے۔ کے ایم سی ، کے ڈی اے ، ڈی ایم سی ، ٹاؤن اور میونسپل کمیٹیز ، مارکیٹ کمیٹیز ، ترقیاتی اتھارٹیز اور صوبائی کارپوریشنز کو اپنے ریٹائر ملازمین کی ریٹائرمنٹ فوائد کے تحفظ کیلئے پالیسیاں مرتب کرنا چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اداروں کو چاہئے کہ اپنے وسائل دانائی سے استعمال کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی میں رین ایمرجنسی نافذ

مون سون:
محکمہ بلدیات نے کابینہ کو بتایا کہ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے 41 بڑے نالے ہیں، انکی صفائی ہونی ہے کیوں کہ مون سون کا موسم تیزی سے قریب آرہا ہے۔ کابینہ نے اس مقصد کیلئے 500 ملین روپے کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سیکرٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر 250 ملین روپے جاری کریں تاکہ کام شروع کیا جاسکے اور باقی فنڈز بھی جلد ہی جاری کردیئے جائیں۔

اشتہاری پالیسی:
محکمہ اطلاعات نے اشتہارات میں شفافیت ، احتساب اور ذمہ داری کیلئے اشتہاری پالیسی 2021 کا مسودہ پیش کیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اشتہارات جاری کرنے کے معیار کو ریگولرٹی، فریکئونسی، مقبولیت ، سرکیولیشن، ویورشپ، معیار ، سامعین ، مارکیٹ کا اندازہ، ریٹنگ، رینکنگ، سروے ، آؤٹ ریچ اور میڈیا آؤٹ لیٹس کے اثر و رسوخ کی بنیاد پر معروضی طور پر جاری کئے جائیں گے۔

سب جیل:
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر صوبائی کابینہ نے زیر سماعت مقدمہ کے قیدیوں عبدالرحمان اور عارف قاسمانی کے گھروں کو سب جیل قرار دینے کی منظوری دے دی۔ 55 سالہ عبدالرحمان انسداد دہشتگری کے مقدمہ میں 2 جنوری 2021 کو ایک سال کی سزا کے ساتھ جیل میں قید تھا جوکہ شدید بیمار اور مختلف بیماریوں میں مبتلا بھی ہے۔لہٰذا کابینہ نے ان کے گھر کو سب جیل قرار دینے کی درخواست کو منظور کرلیا۔ اسی طرح 78 سالہ عارف قاسمانی جیل میں انسداد دہشتگردی کیس میں تھے لیکن وہ شدید علیل ہیں لہذا کابینہ نے ان کے گھر کو بھی سب جیل قرار دینے کی منظوری دے دی۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور

ضمنی قوانین:
محکمہ بلدیات نے آوارہ کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے اور بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن سے متعلق قوانین کا مسودہ پیش کیا۔ قوانین کے تحت آوارہ اور پالتو کتوں کو جانوروں کے زمرے شامل کیا گیا ہے۔ پالتو کتوں کے مالکان ضمنی قوانین کے مطابق کنٹرول شدہ افزائش ، حفاظتی ٹیکہ سازی ، سلسلہ بندی اور لائسنس سازی کے ذمہ دار ہونگے۔ آوارہ کتوں کو کونسلز اور انفرادی طور جراثیم کش اور حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔ بلدیاتی کونسلز پیدائشی کنٹرول اور سہل مرگی پروگرام کی منصوبہ بندی اور انتظام کے مقصد کیلئے اپنی متعلقہ مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دیں گی۔ کمیٹی کے فرائض میں آوارہ کتوں کا سروے کرنا ، جراثیم کش ویکسین کرانے یا معلج کتوں کو پکڑنے ، ٹرانسپورٹنگ، پناہ دینے ، نس بندی ، ویکسین لگانے ، علاج اور آزاد کرنے کیلئے ہدایات جاری کرنا شامل ہیں۔ ڈاگ کنٹرول سیل کو ضمنی قوانین کے تحت قائم کیا جائے گا جہاں ضروری کارروائی کیلئے کتوں کے برتاؤ کے خلاف شکایات درج کی جاسکتی،تمام مقامی کونسلیں ضمنی قوانین کو اختیار کریں گی۔کابینہ نے کانٹی نینٹل بسکٹ لمیٹڈ کی نجی اراضی کو سائیٹ سکھر میں واقع اپنے پلاٹ میں ضم کرنے کی اجازت دی۔ کابینہ نے صدر کاٹی سلیم الزماں کو خالی نشست پر منیمم ویجز بورڈ میں ملازمین کی نمائندگی کرنے کی منظوری بھی دی۔