shahbaz_sharif

عالمی برادری فلسطینیوں پر مظالم رکوائے: شہباز شریف

EjazNews

مسلم لیگ ن کے صدر و قائد حزب اختلاف محمد شہبازشریف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام سے آنکھیں کیسے چرا سکتی ہے، دوسری طرف فلسطین کے سفیر احمدرافعی سے ملاقات کے دوران انہوں نے پارٹی قائد محمد نوازشریف، مسلم لیگ ن اور پاکستان کے عوام کی طرف سے فلسطین کے عوام سے ایک ایسی مشکل گھڑی میں مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا کہ جب اسرائیلی قابض افواج ایک بار پھر فلسطینیوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑ رہی ہیں ،شہباز شریف نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ عالمی برادری فلسطینیوں پر اسرائیلی تشدد رکوائے۔مسجد اقصٰی کے مقدس مقام پر اسرائیلی فوج کی سفاکانہ اور غیرانسانی کارروائی سے دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے دلوں کو بے پناہ تکلیف پہنچی جبکہ حکومت مخالف تحریک چلانے کیلئے نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ میں تینوں قائدین نے حکومت کوگھر بھیجنے کیلئے اہم نکات پر تفصیلی مشاورت کی ، عید الفطر کے فوری بعد حکومت مخالف تحریک آگے بڑھانے کا فیصلہ کیاگیا۔ادھر ن لیگ کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے شہبازشریف کی اسلام آباد میں مصروفیات کا شیڈول جاری کردیا ۔

تفصیلات کے مطابق اپنے ٹویٹ میں شہباز شریف نے کہاکہ فلسطینی شہداء میں معصوم بچے بھی شامل ہیں جو غزہ پر تازہ اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے، یہ مجرمانہ خاموشی اسرائیلی جرائم پر چشم پوشی کے مترادف ہے، آپ انسانیت کے حامی ہیں یا پھر دہشت گردی کے؟یہ فیصلہ اب آپ کوکرنا ہی ہوگا۔ حکومت مخالف تحریک چلانے کے معاملے پر حکومت کیخلاف فیصلہ کن رائونڈ کیلئے مولانا فضل الرحمن عید الفطر کے بعد پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کریں گےجس میں وہ مرکزی کردار ادا کریں گے، تینوں رہنمائوں نے ایف آئی اے کی جانب سے شہباز شریف کو روکے جانے کیخلاف عدالت جانے پر اتفاق کیا ، عید الفطر کے بعد پی ڈی ایم کی سٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں اے این پی اور پیپلزپارٹی کو دعوت دینے پر گفتگوہوئی ،تینوں رہنمائوں نے اس بات پر اتفاق کیاکہ معاملات طے پانے کی صورت میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں دعوت دی جائے گی، عید کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہی جلاس کے ایجنڈے پر بھی غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا انڈین الیکشن تک ایسا ہی ہوتا رہے گا؟

شہباز شریف نے پی ڈی ایم ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر کو شامل کرنے کا مشورہ دیا ، حکومت مخالف تحریک میں مسئلہ کشمیر اہم جزو ہو گا،دوسری طرف ن لیگ کی مرکزی ترجمان نے مطابق شہبازشریف کی اسلام آباد میں مصروفیات کا شیڈول جاری کردیا ، شہبازشریف فلسطین کے سفارت خانے جائیں گے ، مسجداقصی اور فلسطینی علاقوں پر وحشیانہ اسرائیلی حملوں کی مذمت اور فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی کریں گے،پاکستان کے عوام کی جانب سے فلسطینی عوام کی حمایت کا پیغام دیں گے، کشمیر ہائوس میں منعقدہ تعزیتی اجلاس میں سید علی گیلانی کے دست راست اشرف صحرائی کو خراج عقیدت پیش کیاجائے گا ۔

دوسری طرف شہبازشریف نے گزشتہ روز فلسطین کے سفیر احمدرافعی سے ملاقات کی اور پارٹی قائد محمد نوازشریف، مسلم لیگ ن اور پاکستان کے عوام کی طرف سے فلسطین کے عوام سے ایک ایسی مشکل گھڑی میں مکمل حمایت اور یک جہتی کا اظہار کیا ، شہباز شریف نے کہا کہ اسرائیلی قابض افواج ایک بار پھر فلسطینیوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑ رہی ہیں ، انہیں ان کے آبائی گھروں سے بے دخل کرنے کیلئے دہشت گردی کی جارہی ہے، ہزاروں فلسطینی پہلے ہی بری طرح زخمی ہیں جبکہ ان میں سے بہت جام شہادت نوش کرچکے ہیں، انہوں نے مسجد اقصی میں صیہونی ریاست کی دہشت گردی اور تشدد کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ ظلم وجبر کی پالیسی کا مظہر ہے جو 50سال سے زائد عرصے سے غیرقانونی طورپر اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں میں جاری ہے، انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اسرائیل کی مذمت کرچکے ہیں،سلامتی کونسل کے 5مستقل رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیارانا ثناء اللہ کا انٹرنیشنل منشیات فروش گروہ سے تعلق ہے؟

انہوں نے اقوام متحدہ، اوآئی سی، عرب لیگ اور اسلامی ممالک پر زور دیا کہ انفرادی اور اجتماعی طورپر اپنا اثرورسوخ استعمال کریں اور فلسطین اور کشمیر دونوں کے عوام کی جائز اور منصفانہ جدوجہد کی مکمل حمایت کریں، محمد شہبازشریف نے حکومت پاکستان پر بھی زور دیا کہ فلسطین اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے معاملے کو پوری قوت، وابستگی، عزم اورمہارت سے تمام علاقائی اور عالمی فورمز پر اٹھائے، انہوں نے زور دیا کہ مقبوضہ خطوں کے حقیقی عوامی نمائندوں کی منظوری اور شرکت کے بغیر یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے، مسلم لیگ ن کے صدر کے ہمراہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، طارق فاطمی اور مریم اورنگزیب بھی تھیں۔