Lady_Doctor

وہ مسیحا بھی ہے، ماں بھی، بیٹی اور بیوی بھی

EjazNews

’’مگر ماما مَیںگھر نہیں بیٹھ سکتی۔آپ نے تو مجھے باہمّت، حوصلہ مند بنایا ہے،آپ کی بیٹی نڈر ہے، ڈر پوک نہیں۔ تو کیا ہوا اگر شہر میں مہلک وبا پھیلی ہوئی ہے…مَیں گھر نہیں بیٹھ سکتی۔ مَیں نے دن رات ایک کرکے ایم بی بی ایس کی ڈگری اس لیے تو حاصل نہیں کی تھی کہ صرف ڈاکٹر کا لیبل اپنے نام کے ساتھ لگا کر گھوموں اورضرورت پڑنے پر پیٹھ دِکھا کر بھاگ جاؤں۔ہم ڈاکٹرز، مریضوں کا علاج کرنے کا حلف لیتے ہیں۔ مَیں کیسے اس سے رُوگردانی کر سکتی ہوں؟ روزِ آخرت اللہ کو کیا منہ دِکھاؤں گی…؟؟‘‘ عائشہ اپنی ماں کو قائل کرتے کرتے جیسے رو دی۔عائشہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ دو سال پہلے ہی میڈیکل کالج سےپاس آؤٹ ہوئی تھی اورآج کل ایک سرکاری ہسپتال میں بطور جونیئر ڈاکٹر پریکٹس کر رہی تھی۔ ’’بیٹا! مَیں تمہاری نیت پر شک نہیں کر رہی، مجھے پتا ہے تم ایک بہت ایمان دار اور مخلص ڈاکٹر ہو، مگر اپنی ماں کی پریشانی بھی تو سمجھو ۔ مَیں کس دل سے تمہیں ہسپتال جانے دیتی ہوں، تم اندازہ ہی نہیں لگا سکتیں۔ ‘‘’’ماما! آپ ہی کی تو خواہش تھی کہ مَیں ڈاکٹر بنوں، آپ ہی نے تو بچپن میں یہ خواب میری پلکوں پر سجایاتھا، ہر امتحان، ہر مشکل گھڑی میں ایک مضبوط چٹان کی مانند میرے ساتھ کھڑی رہیں، تو پھر آج میری ماں کم زور کیوں پڑ رہی ہے؟ آج تو آپ کی عائشہ کو اپنی ماما کی دعاؤں، اُن کے ساتھ کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے۔‘‘عائشہ نے روتے روتے اپنی ماں کے ہاتھ تھام لیے، تو ماما نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہتھیار ڈال دئیے۔

’’میرےچاروں طرف لوگ ہی لوگ ہیں،ڈرےسہمے، موت سے خوف زدہ، بیمار لوگ ۔ پچھلے پندرہ دِنوں سے میری ڈیوٹی جس وارڈ میں ہے، اب اُسےصرف کورونا پازیٹیو مریضوں ہی کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔ تمہارے نانا، نانی مجھے ٹیچر بنانا چاہتے تھے ، لیکن مَیں نے لڑ جھگڑ کر، ضد کرکے اس شعبے کا انتخاب کیا۔ حالانکہ میڈیکل کی پڑھائی کسی طور آسان نہیں ہوتی، خون کے آنسو رُلا دیتی ہے، پھر الیکٹیوزہاؤس جاب اور اسپیشلائزیشن کی شکل میں کئی اورامتحان بھی راہ تک رہے ہوتے ہیں۔یہ سب جانتے بوجھتے بھی مَیں نے اپنے لیےمسیحائی کے شعبے کا انتخاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  روپ سروپ اور آپ کی خوراک
Lady_Doctor_1
لیڈی ڈاکٹر ایک مریض کو انجکشن لگواتے ہوئے

کئی کئی گھنٹوں کی ڈیوٹی دی، راتوںکی نیندیں وار دیں، نائٹ ڈیوٹی کے دوران مریضوں کے اہلِ خانہ کی ناراضی، سخت رویّے بھی ہنس کر بر داشت کیے کہ مَیں جانتی ہوں، جس راہ کا مَیں نے انتخاب کیا ہے، وہ آسان نہیں۔ ہمیں اسٹریس میں کام کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، ڈر، خوف گھبراہٹ کو پس پشت ڈال کر ایمر جنسی میں بھی پُر سکون رہنا، پریشانی کے آثار چہرے سے عیاں نہ ہونے دینا ہماری جاب کا حصّہ ہےکہ اگر ڈاکٹرز ہی پریشان ہوجائیں گے، گھبراجائیںگےتو مریضوں کا کیا ہوگا۔مَیں نے بھی اپنے چھ، سات سالہ کیریئر میں ہمیشہ ہی انتہائی پروفیشنلزم کا مظاہرہ کیا اور آئندہ بھی کرتی رہوں گی۔ اس مشکل صورتِ حال میں بھی مَیں نے،ڈاکٹر ارم نے ہمت نہیں ہاری ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ مَیں ہائی رِسک پر ہوں، جاں فشانی سے ڈیوٹی انجام دے رہی ہوں،مریضوں کی ہمت بندھا رہی ہوں، لیکن…حیا!!’’تمہاری ماں ‘‘ہار گئی ہے، میری ممتا کمزور پڑ رہی ہے، ہمت جواب دے رہی ہے۔ میری گڑیا!ویڈیو کال میں تمہارا روتا ، سُرخ چہرہ، وائس نوٹ میں تمہاری سِسکیاں، تتلاتی زبان میں ’’ماماپاس جانا ہے‘‘ کہنا مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، میری روح کانپ جاتی ہے۔ میری بچّی یہ مت سمجھنا کہ ماما تم سے پیار نہیں کرتیں، میرا دل کرتا ہےتمہیں اپنی آغوش میں سمیٹ لوں۔ تم نہیں جانتیں کہ مَیں اپنی حیاکو گود میں لینے، سینے سے لگانے کے لیے کس قدر تڑپ رہی ہوں، پر فی الحال مَیں گھر نہیں آسکتی۔ مَیں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سےتمہیں یا گھر والوں کو خدا نخواستہ کوئی آنچ بھی آئے۔مجھے اللہ تعالیٰ سے پوری اُمید ہے کہ یہ کٹھن وقت اِن شاء اللہ جلد گزر جائے گااور تم بڑی ہو کر فخر سے سب کو بتاؤگی کہ میری ماما نے ایک ماں ہی کی طرح مشکل وقت میں اپنے مریضوں کا خیال رکھا، انہیں زندگی کی طرف واپس لائیں، ان کا علاج کیا۔ مجھ سے تودُور رہیں، لیکن کئی ماؤں کی گود اُجڑنےاور بچّوں سے ان کا سائباں چِھننے سے بچایا۔مجھے نہیں پتا کہ جب تم یہ خط پڑھنے کے قابل ہوگی، تو مَیں اس دنیا میں ہوںگی یا نہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ مَیں اس محاذ سے زندہ واپس آؤں گی یا نہیں۔ پر میری گڑیا، مجھے یہ یقین ہے کہ تم میری پر چھائیں ہو، تم بھی اپنی ماں ہی کی طرح مسیحائی کے اس نوبل پروفیشن کا انتخاب کرکے ، ماں کے نقشِ قدم پر چلو گی۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  بہتر سے بہتر کی تلاش میں شادی کی عمر گنواتی لڑکیاں
Lady_Doctor_2
لیڈی ڈاکٹر اپنا فرض نبھاتے ہوئے

یہ صرف ایک ڈاکٹر کے نہیں بلکہ ہر لیڈی ڈاکٹر کے گھر کی کہانی ہے۔جب سے ہمارے مُلک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیاہے، تب ہی سے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی کی سی صورتحال ہے۔ کچھ شہری تو آج بھی اس وباکو ایک مذاق، لاک ڈاؤن کو سزا سمجھ رہے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا کیسز میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی عوام انتہائی ’’دلیر‘‘ ہیں، طوفان آنے کا الرٹ جاری ہو تو سمندر پر پہنچ جاتےہیں، سورج گرہن ہو تو آفتاب کی آنکھوں میں آنکھیں ملاکے کھڑےہو جاتے ہیںاور مہلک وباپھیلےتو اُسے ہنسی میں اُڑا دیتے ہیںکہ یہ رویّہ توہمارا قومی مزاج بن چُکا ہے۔ جب تک اپنے اوپر کوئی قیامت نہ ٹوٹے، تب تک ہم بے پروا ہی رہتے ہیں۔ جب سے مُلک بھر میں لاک ڈاؤن ہوا ہے، تب سے ہر روز نہ جانے کتنی ہی میمزسامنے آرہی ہیں، کوئی ٹائلز گِن کر بوریت دُور بھگا رہا ہے، کسی کو اسٹریٹ فوڈ یاد آرہا ہے، کوئی شاپنگ کے لیے ترس رہا ہے، کوئی گھر رہ رہ کر تنگ آگیا ہے، لیکن کیا ہم میں سے کسی نے فقط ایک لمحے ہی کے لیے یہ سوچا کہ کتنی مائیں، اس سنگین صورتِ حال میں بھی خود موت کے منہ میں جاتی ہیں، کتنی مائیں دعائیں پڑھ پڑھ کر اپنی اولاد کو گھر سے اسپتال کے لیے رخصت کرتی ہیں۔سلام ہے اُن تمام ماؤں کو ، جو اس قیامت خیز گھڑی میں، کورونا نامی عفریت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو رہی ہیں اور سلام ہے اُن تمام ماؤں کو ، جو میڈیکل فیلڈ سے وابستہ اپنے بچّوں کو روز مُسکراتے چہروں کے ساتھ رخصت کرتی ہیں۔ ہم تو لاک ڈاؤن کے دن مزے سے لوڈو، کیرم کھیلتے، والدین، بہن بھائیوں کے ساتھ مل جل کر گزاررہے ہیں۔ساتھ ہی بوریت اور بے زای کا اظہار کرتے بھی نہیں تھکتے، لیکن ذرا پوچھیں تو اُن لیڈی ڈاکٹرز اور نرسز ماؤں سے کہ در اصل تکلیف ہوتی کیا ہے،جو تیس، تیس گھنٹے ڈیوٹی کر رہی ہیں، اپنے بچّوں کو سینے سے نہیں لگا پا رہیں، گود میں نہیں اُٹھا پارہیں، ان کے لیے کھانا نہیں پکا پا رہیں۔ذرا سوچئے! جن ڈاکٹرز کو ہم قسائی سے تشبیہہ دیتے تھے، وہی آج فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں، وہ نرسز جنہیں ہم کبھی کسی خاطر میں نہیں لائے، وہی ہمارے پیاروں کی تیمار داری میں مصروف ہیں۔ گھر بیٹھی ماؤں کو تو یہ شکوہ ہے ناں کہ بچّے تنگ کر رہے ہیں، بار بار کھانا مانگ رہے ہیں، لیکن ہسپتال میں ڈیوٹی انجام دیتی ماؤں کے دل کا حال کون سمجھے گا، جنہیں یہ بھی خبر نہیں کہ کل گھر جا کروہ اپنے بچّوں کی شرارتیں دیکھ بھی سکیں گی یا نہیں، ان کے لیے کھانا پکا سکیں گی یا…

یہ بھی پڑھیں:  شوہر کو بہترین دوست کس طرح بنایا جاسکتا ہے ، چند مشورے (۲)