Palestine

سسکتے نہتے 9بچوں سمیت 20فلسطینی شہید جبکہ زخمیوں کی تعداد ان گنت

EjazNews

اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی پر بمباری کے نتیجے میں9بچوں اور حماس کمانڈر سمیت 20 فلسطینی شہید، 65سےزائد زخمی ہو گئے ۔ بیت حنون میں گولے چلتی گاڑی اور موٹر سائیکلو ں پر گرنے سے سڑک پر لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے اندر نمازیوں پر حملوں کا سلسلہ پیر کے روز بھی جاری رہا ،صہیونی فورسز کی فائرنگ اور گرنیڈسے حملوں کے نتیجے میں 300سے زائد مزید فلسطینی زخمی ہوگئے ۔ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی فورسز پر پتھرائو کیا گیا۔مسجد اقصیٰ کے احاطے میں آگ بھی بھڑک اٹھی۔

فلسطین میں اسرائیلی بمبابری کے بعد اٹھنے والے شعلوں کا ایک منظر

میڈیا رپورٹس کے مطابق انتہاپسنداسرائیلیوں نےمسجدکےاحاطےمیں آگ لگائی۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس نے راکٹ حملے کرکے سرخ لکیر عبور کی ہے،اسکاپوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔، اسرائیلی فوج کا کہنا کہ غزہ سے اسرائیل پر 45راکٹ داغے گئے ہیں جن میں سے بیشتر کو فضا ہی میں تباہ کردیا گیا جبکہ دیگر راکٹ خالی مقام پر گرے جس سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ۔
اسرائیلی حکام کا کہنا کہ ہم نے جواب میں غزہ میں حماس کے ٹھکانوں کو اینٹی ٹینک گولوں سے نشانہ بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانیہ کے لندن برج پر آخر چاقو بردار نے لوگوں پرحملہ کیوں کیا؟

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ فلسطینیوں پر حملے مسلمانوں نہیں بلکہ انسانیت پر ہیں۔ ایران اور مصر نے بھی حملوں پر اظہار مذمت کیا۔ مقبوضہ بیت المقدس میں جاری کشیدگی کے بعدپیر کو اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر اینٹی ٹینک گولوں کیساتھ بمباری شروع کی ۔ مقامی حکام کے مطابق بمباری میں حماس کا ایک سینئر کمانڈر محمد فیاض بھی شہید ہوا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ کے شمال مغربی علاقے بیت حنون میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، عرب میڈیا نے فلسطینی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ متعدد گولے چلتی گاڑی اور موٹر سائیکلوں پر گرے اور سڑک پر لاشوں کے ڈھیر لگ گئے، سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں جائے وقوع پر رقت آمیز مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ہم نے غزہ میں ’’فوجی ‘‘ اہداف کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ، امریکا اور برطانیہ نے حماس کے راکٹ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے جارحیت قرار دیا ہے اور حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے ، قبل ازیں حماس نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ اگر ان کی فورسز نے مسجد اقصیٰ کا کمپائونڈ خالی نہ کیا تو وہ اسرائیل پر راکٹوں کی بارش کردینگے ۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلمانوں کیخلاف اتنی نفرت کیوں؟
Palestine_1
اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں متعدد بچے بھی شہید ہوئے ایسی ہی ایک تصویر سوشل
میڈیا پر انس الشریف نے شیئر کی

پیر کے روز ڈیڈ لائن ختم ہوتے ہی سائرن بجنا شروع ہوگئے اور مقبوضہ بیت المقدس میں موجود اسرائیلی ارکان پارلیمنٹ نے بنکرز میں پناہ لے لی ۔ دریں اثناء اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فورسز نے اسرائیل نواز مارچ کو مسجد اقصیٰ جانے سے روک دیا ہے ۔ اسی مارچ کے منتظمین کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پولیس کے احکامات مانتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کے قدیمی علاقے میں نہیں جائیں گے لیکن مارچ کے شرکاء مغربی دیوار کے قریب اکٹھا ہوں گے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے فلسطینی رہنمائوں کو فون کرکے اسرائیلی دہشتگردی کو روکنے کیلئے اقوام عالم کو متحرک کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں پر حملے مسلمانوں نہیں بلکہ انسانیت پر ہیں۔ انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کو فون کرکے اسرائیلی اقدامات کی مذمت اور اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  فرانس کی عدالت نے سابق صدر نکولس سرکوزی کو تین سال کی سزا سنادی

ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل نے فلسطینی عوام کی زمین چوری کرکے نسلی عصبیت پر مبنی حکومت قائم کی۔ انہوں نے مسجد الاقصیٰ میں معصوم نمازیوں پر اسرائیلی پولیس کی فائرنگ کی بھی مذمت کی۔

مصری وزارت خارجہ نے مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی فورسز کی نئی دراندازی کی شدید مذمت کی ہے، مصری وزارت خارجہ نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرکے اسرائیلی اقدامات پر احتجاج بھی کیا ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کے روز بیت المقدس کی صورتحال پر ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا تاہم کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔