amazone_1

ایمیزون سے کاروبار کیسے کیا جاسکتا ہے؟

EjazNews

آن لائن خریدو فرخت کے لیے دنیا کی سب سے مشہور کمپنی ایمیزون کی جانب سے پاکستان کو سیلرلسٹ یعنی فروخت کنندگان کی فہرست میں شامل کرنے کی خبر سے پاکستانی تاجر اور کاروباری حضرات کے لیے ایک بڑی عالمی مارکیٹ کھلنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

اب پاکستانی مصنوعات دنیا کی سب سے مشہور ای کامرس ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داؤد کے مطابق ایمیزون کچھ ہی دنوں میں پاکستان کو اپنے فروخت کنندگان کی فہرست میں شامل کرے گا۔
ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت گزشتہ سال سے ایمیزون سے اس سلسلے میں رابطے میں تھی۔ یہ ہمارے نوجوانوں، چھوٹے کاروباری اداروں اور کاروبار سے منسلک خواتین کے لئے ایک بہترین موقع ہے۔

یاد رہے کہ جیف بیزوس کی جانب سے 1994 میں قائم کیے گئے ایمیزون کی ای کامرس خدمات سے متعدد پاکستانی اس سے پہلے بھی منسلک تھے تاہم وہ اپنے پاکستانی ایڈریس سے خود کو بطور سیلر رجسٹر نہیں کر سکتے تھے اور اس کے لیے کسی امریکہ یا دوسرے ملک میں مقیم فرد کے ذریعے بلواسطہ طور پر مصنوعات فروخت کرتے تھے۔

اس حوالے سے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری برائے تجارت عالیہ حمزہ ملک نے بتایا کہ پاکستان نے ایسا سنگ میل عبور کر لیا ہے جو ملکی معیشت اور کاروباری افراد کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عید سے قبل ایمیزون کی سیلر لسٹ میں پاکستان شامل ہو جائے گا اور اس سلسلے میں کمپنی کی جانب سے حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا ٹیکنالوجی کی جدت کے ساتھ ہی دنیا بھر میں زیادہ تر تجارت آن لائن ہو گئی ہے اور اب کورونا وبا کے باعث اس رجحان میں اور بھی زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آن لائن فری لانسنگ میں پاکستان نے انڈیا اور بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چوتھے وزیر خزانہ کو 6ماہ میں سینیٹر یا پھر رکن اسمبلی بننا ہوگا ،کیوں؟
amazone
بہت سے لوگوں کیلئے کاروبار کے نئے دروازے ایمیزون سے کھلنے کی توقع کی جارہی ہے

اب ایمیزون کے آنے سے ہماری خواتین، نئے بزنس مین اور نوجوان نسل تھوڑی تحقیق کریں گے، آن لائن مصنوعات دیکھ کر قیمتوں کا موازنہ کریں گے پھر اسی حساب سے اپنی مصنوعات کو ایمزون پر لانچ کرکے بیچیں گے۔

اس سوال پر کہ کیا ایمزون مارکیٹ پلیس پاکستان میں بھی دستیاب ہو گی یعنی کیا ایمزون سے پاکستانی خریداری بھی کر سکیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ مرحلہ وار ہوگا۔ فی الحال تو پاکستانی اپنی اشیا امریکہ سمیت دنیا بھر میں فروخت کر سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز سے لاتعداد پاکستانیوں نے ان سے رابطہ کر کے اس حوالے سے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس سوال پر کہ ایمیزون کی فہرست میں شامل ہونے سے پاکستان کو کتنی سالانہ آمدن متوقع ہے ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں درست اندازہ لگانا تو مشکل ہے مگر پڑوسی ملک انڈیا کی مثال دیکھی جائے تو سن 2015 سے اب تک انڈیا سے ایمیزون پر سترہ بین الاقوامی مارکیٹوں پر تقریبا تین ارب ڈالر کی اشٰیا بیچی ہیں۔

ایمیزون کے بانی جیف بیزوس نے انڈیا میں چھوٹے کاروباروں کو ڈیجیٹل کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے کیونکہ انہیں توقع ہے کہ سال 2025 تک انڈیا سے ایمیزون کے ذریعے کی جانے والی برآمدات 15 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  موجودہ بجٹ ترقی کا بجٹ ہے:وزیراعظم

پاکستان میں گوگل سمیت متعدد کمپنیوں سے منسلک رہنے والے بدرخورشید ای کامرس نظام ’فشری ڈاٹ کام‘ کے مشترکہ بانی بھی ہیں۔ بدرخورشید جو کہ حال ہی میں تشکیل پانے والی نیشنل ای کامرس کونسل کے ممبر بھی ہیں نے اردو نیوز کو بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں ای کامرس کے فروغ کے لیے پالیسی بنانے کے بعد متعدد اقدامات کیے ہیں اور ایمیزون سے بات چیت بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی جس میں لاس اینجیلیس میں پاکستانی قونصلیٹ کے علاوہ ایمیزون میں کام کرنے والے پاکستانیوں نے اہم کردار ادا کیا۔

اس سلسلے میں پہلے ایمیزون نے 30 سے 40 پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ ایک سال قبل ٹرائیل شروع کیا جس کی کامیابی کے بعد ایمیزون نے پاکستان کو سیلر لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستانی کمپنیاں اپنی مصنوعات مثلا تولیے، جوتے، لیدر جیکٹ وغیرہ ایمیزون کے ساتھ رجسٹر ہو کر دنیا بھر میں بیچ سکیں گے۔

اس سوال پر کہ پاکستان میں کورئیر کا نظام اور لاجسٹک سسٹم کیا اتنا جدید اور موثر ہے کہ ایک چیز یہاں سے جلد امریکہ کے خریدار تک پہنچ جائے گی تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو گا کہ ایک ایک چیز پاکستان سے براہ راست خریدار تک جائے گی بلکہ پاکستان سے اکھٹا سامان ایمیزون کے ویئرہاؤس میں جائے گا جہاں سے خریداروں کو ایمیزون براہ راست ڈیلیور کرے گا۔ اس حوالے سے دنیا بھر میں ایمیزون کے 175 ویئر ہاؤسز ہیں۔

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بدرخورشید کا کہنا تھا کہ پاکستانی جو اپنی مصنوعات فروخت کرنا چاہتے ہیں وہ معمول کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ ہوں گے۔ اس کے بعد وہ ایمیزون پر رجسٹریشن کریں گے اور رجسٹریشن سروس عید سے پہلے دستیاب ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  پیپلزپارٹی کے یوسف رضا گیلانی سینٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر

ان پاکستانی کمپنیوں کو رجسٹریشن کے عمل سے گزرنا ہوگا پھر جو چیز بیچنا چاہتے ہیں اس کی ایمیزون کی اپنی شرائط ہیں ان کو پورا کرنا ہو گا کہ مثلا کوئی ایسی چیز جس کو جلد پر استعمال کرنا ہے، یا کھانے کی چیز ہے تو اس کے معیار کے حوالے سے خاص سرٹیفیکیشن وغیرہ مانگی جائے گی تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اچھی کوالٹی کی ہے۔

’یہ عمل ایمیزون کا بدلتا بھی رہتا ہے اور بہتر بھی ہوتا رہتا ہے جو آن لائن دستیاب ہوتا ہے ۔ اس مرحلے سے گزر کر آپ اپنی مصنوعات بیچ سکیں گے۔ اور پھر وہ ویئر ہاؤس جائیں گی اور پھر خریدار کو ایمیزون اپنے نظام کے تحت پہنچا دے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کے حوالے سے پاکستانی بزنس مینوں کی تربیت کی جائے گی۔اور اس سلسلے میں وزارت تجارت اور ایمیزون کی بات چیت چل رہی ہے کہ پہلے تربیت کرنے والوں یعنی ماسٹر ٹرینر کی اپنی تربیت کی جائے تاکہ وہ پھر دوسروں کو یہ سب عمل سکھا سکیں۔

’یہ پورا نیٹ ورک بنے گا جو ہمارے کاروبار کی مدد کرے گا کہ اپنی مصنوعات کی تصاویر کیسے بہتر کرنی ہیں۔ اور اس کی تفصیلات کیسے دینی ہے رینکنگ کیسے کرنی ہے۔؟ تو ایمیزون پر بیچنے کا عمل کافی سائنسی ہے اس کو سمجھنا ہوگا۔ یہ بنا سوچے سمجھے نہیں کر سکتے ایک باقاعدہ طریقے سے کرنا ہوگا۔ تمام بزنس کے مالکان کو پہلے خود سمجھنا چاہیے پھر اپنے سٹاف کو سکھائیں کیونکہ اس میں دنیا بھر کے بزنس مینوں سے مقابلہ ہو گا۔‘