Trum_social_media

بس اسی کی کمی تھی: ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سوشل میڈیا متعارف کر ادیا

EjazNews

فیس بک اور اس کے زیر ملکیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سابق امریکی صدر کے اکاونٹس کی پابندی کو برقرار ہے۔

ٹوئٹر اور فیس بک کی جانب سے سابق امریکی صدر کے اکاونٹس کو 8 جنوری کو اس وقت مستقل بین کیا گیا تھا جب واشنگٹن میں کیپیٹل ہل میں ان کے حامیوں نے ہنگامہ آرائی کی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے۔اسنیپ چیٹ نے بھی سابق صدر کا اکاونٹ بلاک کردیا تھا جبکہ یوٹیوب اکاونٹ بھی معطل کردیا گیا تھا۔

اپنی صدارت کے 4 برسوں میں ڈونلڈ ٹرمپ ٹوئٹر پر بہت زیادہ متحرک رہے تھے۔کافی عرصے تک ٹوئٹر کے کمیونٹی اصولوں کی خلاف ورزی پر مبنی پوسٹس پر کمپنی نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی مگر انتخابات اور کورونا وائرس سے متعلق پوسٹس پر وارننگ لیبلز کا اضافہ کیا گیا۔

اب سابق امریکی صدر کے لیے یہ نیا پلیت فارم ایک ڈیجیٹل سروس کمپنی کمپین نیوکلیس نے تیار کیا ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق کمپین منیجر پراڈ پارسکل کی کمپنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی ایڈوائزری میں چین کیخلاف کیا سخت اقدام اٹھایا گیا ہے؟

ان کا شروع کیا گیا سوشل میڈیا ایک بلاگ ہے جس کا انداز ٹوئٹر کی طرح ہے تاہم اس میں طویل بلاگ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہوسٹ کیے جائیں گے۔

لوگ اس پلیٹ فارم میں ای میل اور فون نمبر کی مدد سے پوسٹ الرٹس کے لیے سائن اپ ہوسکیں گے اور مبینہ طور پر ان کو لائیک بھی کرسکیں گے۔

اسی طرح صارفین ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹس کو فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی شیئر کرسکیں گے۔

اس پلیٹ فارم میں ٹوئٹر سے شیئرنگ کا آپشن تو فی الحال کام نہیں کررہا مگر فیس بک کی جانب سے ضرور یہ سہولت فراہم کی گئی ہے۔

ٹوئٹر کے ترجمان نے اس حوالے سے ٹیکنالوجی ویب سائٹ دی ورج سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عموماً ویب سائٹ ریفرنس کے ساتھ مواد کی شیئرنگ کی اجازت اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ٹوئٹر قوانین کے خلاف نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  متحدہ عرب امارات غیر ملکیوں کو اب مستقل شہریت مل سکے گی

اس پلیٹ فارم کو باضابطہ طور پر 4 مئی کو لانچ کیا گیا تھا مگر اس میں موجود پوسٹس 24 مارچ کی بھی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پوسٹ ان کے نئے پلیٹ فارم کے لیے ویڈیو اشتہار ہے جس میں اسے ایسا مقام قرار دیا گیا ہے جہاں آزادی سے بات کی جاسکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ بتدریج اپنے حامیوں سے براہ راست رابطہ بھی کرسکیں گے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایسا کیسے ممکن ہوگا۔