imran-khan-cabinet

جبری گمشدگی، صحافیوں کے تحفظ، آزادی اظہار کے قوانین جلد پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ

EjazNews

یورپی پارلیمنٹ نے جمعرات کو ایک قرارداد منظوری کی تھی جس میں پاکستان کو دئیے گئے جی ایس پی پلس سٹیٹس پر نظرثانی کرنے کا کہا گیا تھا۔قرار داد میں کہا گیا تھا کہ ملک میں ایسے قوانین ہیں جو کہ اقلیتوں اور بنیادی حقوق کے منافی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پارلیمانی جمہوری ملک ہے جہاں ایک متحرک سول سوسائٹی، آزاد میڈیا اور ایک خودمختار عدلیہ موجود ہیں جو کہ بلا کسی تفریق ملک کے تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے ضامن ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں فخر ہیں کہ ہماری اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور ان کے بنیادی آزادیوں کے تحفظ کی ضمانت آئین میں دی گئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تعلقات بشمول جمہوریت، قانون کی حکمرانی، گورننس اور انسانی حقوق پر بات چیت کے لیے کئی دو طرفہ فورمز اور میکینزم موجود ہیں۔ ہم تمام باہمی دلچسپی کے امور پر یورپی یونین کے ساتھ مثبت بات چیت جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، نئے سال کی پہلی صبح سے

یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں جی ایس پی پلس سے متعلق قرارداد کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔اجلاس میں یورپی یونین کی قرارداد میں اٹھائے گئے نکات سے متعلق مشاورت کی گئی۔اجلاس میں یورپی یونین کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔جبری گمشدگی، صحافیوں کے تحفظ، آزادی اظہار کے قوانین جلد پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس میں رائے دی گئی کہ جی ایس پی پلس معاہدے کا توہین رسالت قوانین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔