Namaz_shaba_qadar

شب قدر(ایک رات جو ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے)

EjazNews

جس طرح ماہ رمضان المبارک کو سال کے دوسرے مہینوں پر ایک خصوصی فضیلت و شرافت حاصل ہے جو دوسرے مہینوں کو حاصل نہیں۔ اسی طرح سال کی تمام ر اتوں میں شب قدر کو وہ فضیلت و کرامت حاصل ہے جس سے دوسری راتیں خالی ہیں۔
ماہ رمضان کی فضیلت اور شب قدر کی عزت و شرافت کے لئے یہ کیا کچھ کم ہے حق تعالیٰ قرآن کریم کو دفعتہً نازل فرمانے کے لئے اسی ماہ اور اسی شب کو انتخاب فرمایا:

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ترجمہ: بلکہ جبرئیل علیہ السلام شب قدر میں قرآن کریم کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر بیت العزۃ تک اکٹھا لے کر اترے اور جبرئیل نے دوسرے فرشتو ں کو اس کی املاء کرائی پھر جبرئیل تیئس سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا لے کر حضور ﷺپر نازل ہوتے رہے۔ (تفسیر قرطبی)

امام شعبیؒ فرماتے ہیں کہ جس طرح قرآن کریم لوح محفوظ سے سماء دنیا تک لیلۃ القدر میں نازل ہوا اسی طرح سماء دنیا سے حضور ﷺ پر وحی قرآن کی ابتداء بھی لیلۃ القدر ہی میں ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ کی تفسیر انا ابتدانا انزالہ فی لیلۃ القدر سے کی ہے ۔(تفسیر قرطبی)

شب قدر کیا ہے؟:

لیلۃ القدر یا شب قدر در حقیقت اس رات کا نام ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے آئندہ سال کی شب قدر تک کے تمام مقدرات اور مخلوق کے حق میں ہونے والے رزق، موت وحیات کے متعلق جمیع فیصلے فرشتوں کے سپرد کر دئیے جاتے ہیں۔ اسی بنا پر اس رات کو لیلۃ الحکم اور لیلۃ التقدیر بھی کہا جاتا ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ تقدیر خلائق کا فیصلہ ہی اس شب میں کیا جاتا ہے بلکہ وہ تقدیرات اور فیصلے جو ازل میں اللہ تعالیٰ مخلوق کے بارے میں صادر فرماچکے ہیں اور جو لوح محفوظ میں پہلے سے لکھے ہوئے ہیں۔ اس شب میں ان کی نقل ملائکہ مدبرات کے حوالے کر دی جاتی ہے تاکہ وہ اس کو نافذ کریں۔ چنانچہ علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں:

’’مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ات امور کو ان ملائکہ کے سامنے ظاہر کر دیا جاتا ہے جو وجود میں آنے والے واقعات پر مقرر کئے گئے ہیںورنہ ان اشیاء کو اللہ تعالیٰ کا مقدر فرمانا تو ازلی ہے جو آسمان و زمین کی پیدائش سے قبل ہو چکا ہے۔ (روح المعانی)
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں’’لو ح محفوظ سے (اس شب میں) رزق ، باری، موت، زندگی یہاں تک کہ حاجیوں کی تعداد نقل کر کے ملائکہ کو دے دی جاتی ہے۔‘‘

حضرت ابن عباس ؓ کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قضاء و قدر تو شعبان کی پندرھویں شب کو ہوتی ہے لیکن متعلقہ فرشتوں کو ا س کی ذمہ داری لیلۃ القدر میں سپرد کی جاتی ہے ۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں ’’بے شک اللہ تعالیٰ معاملات کا تصفیہ شعبان کی پندرھویں شب میں کر دیتے ہیں اوران کے ذمہ داروں کو شب قدر میں سپرد کرتے ہیں۔‘‘

علامہ آلوسیؒ نے بعض اہل علم کا قول نقل کیا ہے کہ دراصل یہ تین علیحدہ علیحدہ امور ہیں۔ پہلا کام تقدیر اشیاء کا ہے کہ کونسی چیز کب اور کس حال و کیفیت میں وجود آئے گی یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق سموت و الارض سے پہلے ازل میں ہی فرما دیا ہے۔

دوسرا کام ان تقدیرات کو لوح محفوظ میں لکھ کر ملائکہ کے سامنے ظاہر کرنے کا ہے یہ کام شعبان کی پندرھویں شب میں کیا جاتا ہے اور تیسرا کام متعلقہ فرشتوں کو ان کو ذمہ ذاریاں سونپے جانے کا ہے اس کی تکمیل لیلۃ القدر میں ہوتی ہے۔ (روح المعانی)

ملائکہ مدبرات:

حضرت مجاہد ؓ فرماتے ہیں کہ جن ملائکہ مدبرات کو اس شب میں تنفیذ احکام کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے وہ چار ہیں ۔ حضرت جبرئیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، حضرت عزرائیل علیہم السلام۔ گویا یہ چار تو اصل ذمہ دار ٹھہرائے جاتے ہیں اور باقی ان کے اعوان و انصار ہوتے ہیں۔

شب قدر کہلائے جانے کی وجہ:

اما م زہری ؒ فرماتے ہیں کہ اس شب کو شب قدر اس لئے کہتے ہیں کہ یہ عظیم قدر و منزلت والی شب ہے۔
شیخ ابوبکر وراقؒ فرماتے ہیں کہ اس شب میں عبادت و ذکر کی وجہ سے بے عزت و بے قدر لوگ بھی قدر و منزلت حاصل کر لیتے ہیں اس لئے اس کو شب قدر کہا جاتا ہے۔

حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ چونکہ اس شب میں قرآن کریم کا نزول ہوا جو دینی و دنیوی سعادات وبرکات کا ذریعہ اور سرچشمہ ہے اور اس شب میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے نزول رحمت، نزول ملائکہ اور اجابت دعا ہوتی ہے اس لئے اس کا نام لیلۃ مبارکہ بھی رکھا گیا ہے۔

حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ چونکہ اس شب میں قرآن کریم کا نزول ہوا جو دنیوی سعادات و برکات کا ذریعہ اور سرچشمہ ہے اور اس شب میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے نزول رحمت، نزول ملائکہ اور اجابت دعا ہوتی ہے اس لئے اس کا نام لیلۃ مبارکہ بھی رکھا گیا ۔
جیسا کو سورئہ دخان میں فرمایا گیا:

ترجمہ:’’بے شک ہم نے قرآن کو مبارک رات میں اتارا‘‘

بعض حضرات نے اس آیت کو لیلۃ مبارکہ سے مراد شعبان کی پندرھویں شب لی ہے مگر یہ قول مرجوح ہے۔
جمہور مفسرین کے نزدیک لیلۃ مبارکۃ اور لیلۃ القدر ایک ہی شب کے دو نام ہے جو رمضان میں پائی جاتی ہے۔
چنانچہ قاضی ثناء اللہ صاحبؒ پانی پتی فرماتے ہیں:

’’اور یہ قول کہ لیلۃ مبارکۃ شعبان کی پندرھویں رات ہے غیر معتبر ہے۔‘‘ (تفسیر مظہری)

شب قدر میں کیا کریں:

شب قدر حق جل شانہ کی طرف سے ایک عظیم الشان انعام ہے اور اس کی قدر دانی علامت ایمان اور سعادت کی نشانی ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو شب قدر پائیں اور عبادت و تلاوت اور ذکر و استغفار سے اس کا حق ادا کریں۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت منقول ہے:
ترجمہ:’’حضور ﷺنے فرمایا کہ جو شخص شب قدر میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لئے) کھڑا ہو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں‘‘۔
اس روایت میںکھڑا ہونے سے مراد صرف نماز کا قیام ہی نہیں بلکہ خواہ نماز پڑھے یا تلاوت کرنے یا ذکر و استغفار اور تسبیح و تہلیل میں مشغول رہے تمام عبادات اس میں داخل ہیں۔
اور ثواب کی نیت کا مطلب یہ ہے کہ اس کی یہ عبادت محض اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور حصول اجر و ثواب کے لئے ہو۔ ریاء اور نمائش مقصود نہ ہو۔
علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو اس شب میں مختلف اور متنوع عبادات کرے مثلاً نوافل ، تلاوت قرآن کریم، ذکر و تسبیح اور دعا و استغفار سب ہی کا کچھ نہ کچھ حصہ ادا کرے۔ (روح المعانی)
سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں کہ شب قدر میں دعا و استغفار کرنا نوافل پڑھنے کے مقابلہ میں افضل ہے اور اگر کوئی شخص تلاوت قرآن اور دعا و استغفار دونوں کو جمع کرے تو یہ اور بھی بہتر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اورزمین میں

شب قدر کی دعا:

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضورﷺسے ایک بار سوال کیا کہ یارسول اللہ ﷺاگر مجھے کسی رات کے بارے میںیہ معلوم ہو جا ئے کہ یہ لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا کہوں۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ تم اس وقت یہ دعا پڑھو
اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی
ترجمہ: اے اللہ آپ بہت معاف کرنے والے ہیں اور معافی پسند فرماتے ہیں۔ مجھے بھی آپ معاف فرمادیں۔(ترمذی)
حضور ﷺ نے اس قدر جامع ترین دعا تلقین فرمائی کہ اس کی قبولیت کے بعد تمام مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کسی بندہ کو معاف فرما دیں تو اسے اس سے بڑھ کر اور کیا چاہے!۔

شب قدر اس امت کا خاصہ ہے:

علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ لیلۃ القدر اسی امت کا خاصہ ہے یا اس سے پہلی امتوں کو بھی یہ نعمت عطا کی گئی تھی۔ درمنثور میں حضرت انس ؓ سے حضور اکرمﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ شب قدر اللہ تعالیٰ نے میری امت کو عطا فرمائی پہلی امتوں کویہ نہیں دی گئی۔ (فضائل قرآن صفحہ58) ۔
جمہور امت کا بھی یہی مذہب ہے اور حافظ ابن کثیرنے اپنی تفسیر میں خطابی سے اس پر اجماع کا قول نقل کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر )

شب قدر عطا کئے جانے کاسبب:

اس امت کوشب قدر کا یہ بیش بہا انعام عطا کئے جانے کا سبب کیا ہوا؟ روایات سے اس کی مختلف وجوہ معلوم ہوتی ہے۔ مؤطا اما مالکؒ میں روایت ہے کہ حضورﷺ کو پہلی امتوں کی عمروں کا علم ہوا کہ بہت لمبی ہوئیں اور ان کے مقابلہ میں میری امت کی عمریں بہت کم ہیں جس کی بناء پر میری امت کے لوگ پہلی امت کے ساتھ اعمال میں مساوی نہیں ہوسکتے، اس بات سے حضورﷺ کو صدمہ ہوا تو حق تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطا فرمائی کہ اس ایک شب کی عبادت اور احیاء ہزارماہ کی عبادت سے بہتر ہے۔(بحوالہ تفسیر قرطبی صفحہ 133جلد 20)
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے بنی اسرائیل کے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں مسلسل ایک ہزار ماہ تک ہتھیار بند رہا اور جہاد کرتا رہا۔ صحابہؓ کو یہ سن کر اس شخص پر بڑا رشک آیا۔ حق تعالیٰ نے اس کے عوض ان حضرات کوشب قدر عطا فرمائی اور سورۃ قدر نازل فرمائی۔ (بحوالہ تفسیر قرطبی)
علی بن عروہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک روز بنی اسرائیل کے چار حضرات یعنی حضرت ایوب، حضرت ذکریا، حضرت حزقیل اور حضرت یوشع بن نون علیہم الصلوٰۃ و السلام کا ذکر فرمایا جوا سی اسی سال تک حق تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہے اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی اس پر صحابہ کو تعجب ہوا تو حضرت جبرئیل سورۃ قدر لے کر نازل ہوئے اور حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کی امت ان حضرات کی اسی سالہ عبادت سے تعجب کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسی شب عطا کی جس میں عبادت کرنااسی سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ اس کے بعد حضرت جبرئیل نے سورۃ قدر حضور اکرم ﷺ کو سنائی ۔ (روح المعانی صفحہ 192 جلد30)
ابوبکر بن وراق کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی مدت حکومت پانچ سو مہینے تھی اور ذوالقرنین کی مدت سلطنت بھی پانچ سو ماہ تھی۔ حق تعالیٰ نے اس امت کو لیلۃ القدر عطا کی اور فرمایا کہ اس شب کی عبادت کا اجر وثواب ان دونوں بادشاہوں کی مجموعی مدت سلطنت یعنی ایک ہزار ماہ کی حکومت سے بہتر ہے۔
بعض حضرات کہتے ہیں پہلی امتوں میں کوئی شخص اس وقت تک عابد نہیں کہلایا جاتا تھا جب تک کہ وہ مسلسل ایک ہزار ماہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کوشب قدر عطا کر کے فرمایا کہ اس شب کی عبادت ان ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے جو پہلی امتوں میں ایک عابد کا معیار تھا۔

قرآ ن میں شب قدر کا بیان:

بہر صورت اس امت کوشب قدر بخشے جانے کا اصل سبب کچھ بھی ہو لیکن یہ وہ عطا اور بخشش ہے جس سے جمہور علماء کے قول کے مطابق پہلی امتیں محروم رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شب کی عظمت و برتری کو ظا ہر کرنے کے لئے قرآن کریم کی ایک مستقل سورۃ نازل فرمائی۔ چنانچہ فرمایا گیا:
ترجمہ: ہم نے اس کو اتارا شب قدر میں اور تو نے کیا سمجھاکہ کیا ہے شب قدر۔ شب قدر بہتر ہے ہزار مہینے سے۔ اترتے ہیں فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے حکم سے ہرکام پر۔امان ہے وہ رات صبح کے نکلنے تک۔
اس سورۃ میں حق تعالیٰ نے بیان بعد الابہام کا اسلوب اختیار فرمایا جس میں ابہام کے ذریعہ لیلۃ القدر کی فخامت و عظمت کا دل میں بٹھانا مقصود ہے کہ:’’اور تو نے کیا سمجھا کہ کیا ہے شب قدر‘‘۔
گویا یہ اس قدر عظیم الشان شئی ہے کہ اس کی حقیقت صرف ہم ہی بتا سکتے ہیں اور ہمارے بتائے بغیر مخلوق میں سے کوئی اس کو نہیں جان سکتا۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں جس جگہ ’’ما ادراک‘‘ آیا ہے اس کی اطلاع حضورﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دے دی ہے اور جس جگہ ’’مایدریک‘‘ فرمایا گیا وہ چیز آپ کو نہیںبتائی گئی۔ (تفسیر قرطبی)
چنانچہ لیلۃ القدر کو اللہ تعالیٰ نے خود ہی بیان فرمایا کہ ْ’’شب قدر بہتر ہے ہزار مہینے سے ‘‘
امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ اکثر مفسرین کے نزدیک آیت کے معنی یہ ہیں:
’’اس شب میں عبادت ان ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے جن میں لیلۃ القدر شامل نہ ہو۔ ‘‘ (تفسیر قرطبی)

یہ بھی پڑھیں:  غلہ روکنا

شب قدر میں فرشتوں کا نزول:

اس شب کی فضیلت کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ اس کو ہزار ماہ سے افضل اوربہتر قرار دیا گیا ، لیکن اس کی مزید عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے فرمایا گیا کہ ’’اترتے ہیں فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے حکم سے ہر کام پر‘‘۔
امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ اس شب میں ہر آسمان سے حتیٰ کہ سدرۃ المنتہیٰ سے بھی فرشتے نازل ہوتے ہیں اور لوگو ں کی دعائوں پر آمین کہتے ہیں۔
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒنے حضرت ابن عباسؓ سے غنیۃ الطالبین میں ایک طویل روایت نقل کی جس میں ہے کہ شب قدر میں اللہ تعالیٰ حضرت جبرئیل کو سدرۃ المنتہیٰ کے ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ زمین پر اترنے کا حکم دیتے ہیں۔ وہ نورانی جھنڈے لے کرزمین پر اترتے ہیں اور چار مقامات بیت اللہ، بیت المقدس، روضۂ نبوی اور مسجد طور سیناء پر اپنے جھنڈے نصب کر دیتے ہیں اور اس کے بعد وہ تمام روئے زمین پر منتشر ہو جاتے ہیں اور ہر مومن مرد وعورت کے گھر میں داخل ہوتے اور امت محمدیہ کے لئے استغفار کرتے ہیں، البتہ وہ گھر جس میں کتا، خنزیر، تصویر، شراب یا بدکار جنبی ہو اس میں وہ داخل نہیں ہوتے۔ (روح المعانی، صفحہ 195 جلد20)
حضرت کعب ؓ فرماتے ہیں کہ شب قدر میں حضرت جبرائیل مومنین سے مصافحہ کرتے ہیں اور ان کے مصافحہ کی علامت یہ ہے کہ قلب میں رقت و انابت الی اللہ، آنکھوں میں معاصی پر ندامت کی وجہ سےآنسواور جسم پر اللہ کے خوف سے کپکپی طاری ہو جائے۔( تفسیر ابن کثیر،صفحہ235جلد آخر)

روح کیا ہے؟:

تزل الملائکۃ والروح سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شب میں ملائکہ کے ساتھ روح بھی نازل ہوتا ہے جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہی ہیں لیکن امام قسیریؒ فرماتے ہیں کہ وہ ملائکہ کی ایک خاص صف ہے جو باقی ملائکہ کے محافظ اور نگراں ہیں اور عام ملائکہ بھی ان کو اس شب کے علاوہ نہیں دیکھ سکتے جس طرح ہم ملائکہ کو نہیں دیکھ سکتے۔ (قرطبی صفحہ 133 جلد20)
حافظ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں کہ ملائکہ کا اس شب میں بکثرت نزول اس لئے ہوتا ہے کہ یہ خیر کثیر اور عظیم برکات والی شب ہے۔ (ابن کثیر صفحہ 531 جلد آخر)
شاہ عبد العزیز صاحب ؒ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ اس شب میں ملائکہ کوزمین پر نازل کر کے بنی آدم کی عبادت، انابت الی اللہ اور تسبیح اور تہلیل کا نقصہ دکھلانا مقصود ہے تاکہ بنی آدم کے بارے میں انہوں نے ترجمہ:’’کیا آپ زمین میں ایسی مخلوق بنائیں گے جوزمین میں فساد کرے اور خون بہائے گی۔‘‘
کہہ کر جو شبہ پیش کیا تھا اس کا مشاہداتی جواب انہیں مل جائے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس شب کی ایک صفت سلام بیان فرمائی۔ حضرت نافع رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر فرماتے ہیں۔
’’شب قدر پوری ہی سلامتی اور خیر والی ہے اس میں کوئی شر نہیں‘‘۔
امام شعبیؒ فرماتے ہیں کہ سلام کے معنی یہ ہیں کہ اس شب میں غروب شمس سے طلوع فجر تک ملائکہ مومنین کے لئے سلامتی کی دعا کرتے ہیں اور ہر مومن کو السلام علیکم ایہا المؤمن کہتے ہیں۔
ملائکہ کے اس نزول و صعود اور مومنین کے لئے دعا و استغفار کا سلسلہ صبح صادق تک جاری رہتا ہے جیسا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ’’ھی حتی مطلع الفجر‘‘
حضر ت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوا تو حضور ﷺ نے صحابہ کو خطاب کر کے فرمایا
’’بیشک تم پر یہ مہینہ (رمضان) آیا اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار ماہ سے بہتر ہے جو اس سے محروم رہا تمام بھلائیوں سے محروم رہا اور اس سے بدقسمت ہی محروم رہ سکتا ہے۔ ‘‘ (رواہ ابن ماجہ بسند جید)
حقیقت یہی ہے کہ جو شخص اتنی بڑی نعمت کو ضائع کر دے اس سے بڑا محروم النصیب کون ہوگا۔ کس قدر خوش بخت اور صاحب نصیب ہیں وہ حضرات جو فرماتے ہیں کہ بلوغ کے بعد سے ہم سے کبھی شب قدر فوت نہیں ہوئی۔

شب قدر کون سی شب ہے؟

شب قدر کی تعین میں اہل علم کا بڑا اختلاف ہے اور یہ اختلاف صحابہ کرام کے زمانے سے ہے۔ تقریباً پچاس اقوال ہیں جن کا احاطہ دشوار ہے۔ ان میں سے چند مشہور اقوال یہ ہیں۔

حضرت آئمہ کے اقوال:

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول جیسا کہ امام نوویؒ نے امام صاحب کی نسبت سے بیان کیا ہے، یہ ہے کہ شب قدر تمام سال میں دائر رہتی ہے کبھی کسی مہینہ میں ہوتی ہے اور کبھی کسی مہینے میں۔ (روح المعانی صفحہ 190 جلد30)
امام صاحب کا دوسرا قول یہ ہے کہ شب قدر تمام رمضان میں دائر رہتی ہے۔ کوئی خاص شب معین نہیں اوریہی امام غزالیؒ کی رائے جیسا کہ ابن کثیر نے ذکر کیا ۔
امام صاحب کا تیسرا قول جیسا کہ حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ وہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے۔ ابن کثیر ؒ نے امام احمد بن حنبل کابھی قول راحج یہی بیان کیا ہے۔
امام احمد بن حنبل اور امام مالک کا قول یہ ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتو ںمیں دائر رہتی ہے۔ کسی سال کسی رات میں اور کسی سال کسی رات میں۔
امام شافعیؒکا ایک قول جیسا کہ ابن کثیر نے نقل کیا یہ ہے کہ شب قدر رمضان کی سترھویں شب ہے۔
اور شوافعؒ کا راحج قول یہ ہے کہ وہ اکیسویں رات ہے۔
صحابہؓ کے اقوال
حضرت علیؓاور ابن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ وہ انیسویں شب ہے۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ رمضان کی تئیسویں شب ہے۔لیکن تمام اقوال میں راحج قول جمہور علماء کا قول ہے کہ وہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابن بن کعبؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
’’ابی ابن کعب حضورﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے‘‘
دوسری روایت میں ابی بن کعبؓ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ خدا وحدہ لا شریک کی قسم لیلۃ القدر جس میں قیام کرنے کے لئے حضورﷺ نے ہمیں حکم دیا میں خوب جانتاہوں کہ وہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔
حضرت ابن عباس، ابن عمراور حضر ت معاویہؓ وغیرہ بھی جیسا کہ ابن کثیر نے نقل کیا ہے، حضورﷺ سے یہی نقل کرتے ہیں کہ وہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ظلم و ستم، مارپیٹ، بے ایمانی کا بیان

شاہ ولی اللہؒ کا قول

حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں یہ فرمایا کہ لیلۃ القدر دو راتیں ہیں ایک وہ رات جس میں تقسیم امور ہوتی ہے اور اسی میں قرآن کریم لوح محفوظ سے نازل ہوا، یہ شب تو تمام سال میں دائر رہتی ہے کبھی کسی مہینہ میں اور کبھی کسی مہینے میں۔ اور دوسری لیلۃ القدر وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے روحانیت کا زمین پر ایک خاص انتشار ہوتا ہے اور ملائکہ خیر و برکات لے کر نازل ہوتے ہیں اور اس شب میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ یہ ہر رمضان میں آخری عشرہ کی طاق راتوںمیں پائی جاتی ہے۔
صحیح بخاری میں حضرت عبادۃ بن صامت ؓ کی نقول ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’حضور اکرم ﷺ اس لئے باہر تشریف لائے کہ ہمیں شب قدر کی خبر دیں مگر دو مسلمان آپس میں جھگڑا کر رہے تھے۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ میں تم کو شب قدر کی اطلاع دینے کے لئے آیا تھا، مگر فلا ں اور فلاں کے جھگڑے کی وجہ سے اس کی تعیین اٹھالی گئی اور شاید اس تعیین کا اٹھا لیا جانا( اللہ کے علم میں) تمہارے لئے بہتر ہو۔ لہٰذا اب اس کو نویں، ساتویں اورپانچویں شب میں تلاش کرو۔

شب قدر کی اخفاء کی حکمتیں

اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ کو شب قدر متعین طریقے سے بتلائی تھی۔ مگر بعد میں بعض مسلمانوں کے باہمی نزاع اور مخاصمت کی وجہ سے اس کی تعیین کو اٹھالیا گیا اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لئے بے شمار مصالح اور حکمتیں ہیں جیسا کہ روایت مذکور میں خود حضورﷺ نے اس کی طرف اشارہ فرمایا:’’عسی ان یکون خیر الکم‘‘
اگر وہ شب متعین طریقے سے بتلادی جاتی تو بعض سست اور کاہل طبائع صرف اسی شب میں عبادت کا اہتمام کرتے اور باقی دنوں کی عبادت سے محروم رہتے۔
اسی طرح اب متعین نہ ہونے کی صورت میں اس شب کی تلاش میں جب انسان ہر رات جاگتا اور عبادت کرتا ہے تو ہر شب کی عبادت کا اس کو مستقل اجر و ثراب ملتا ہے۔
اس کے علاوہ اور نہ جانے اس شب کے اخفاء میں اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کیلئے کس قدر حکمتیں ہوںگی۔

شب قدر کی علامات:

حدیث میں حضورﷺ نے شب قدر کی علامت اور نشانی یہ بیان فرمائی:
’’اس رات کی نشانیوں میں سے یہ ہے وہ کھلی ہوئی چمکدار رات ہوتی ہے ۔ صاف و شفاف نہ زیادہ گرم اور نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ معتدل گو یا اس میں (کثرت انوار کی بناء پر )چاند کھلا ہوا ہے۔‘‘
اور اسکی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کی صبح کو آفتاب بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے بالکل ایسا ٹکیہ کے مانند جیسا کہ چودھویں کا چاند۔ اللہ تعالیٰ نے اس دن کے آفتاب کے طلوع کے وقت شیطان کو اس کے ساتھ نکلنے سے منع فرما دیا:
امام قرطبیؒ نے عبید بن عمیر کا قول نقل کیا ۔ وہ فرماتے ہیں کہ ستائیسویں شب میں سمندری سفر پر تھا میں نے اس شب سمندر کا پانی چکھا تو نہایت شیریں اور خوش ذائقہ تھا۔ (تفسیر قرطبی)
یہ اور اس قسم کی بہت سی علامات ہیںجو اس شب میں پائی جاتی ہیں۔ کسی کو ان کاادراک و احساس ہو جاتا ہے اور کسی کو نہیں۔ مشائخ رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ شب قدر میںہر شے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرتی ہے حتیٰ کہ درخت زمین پر گر جاتے ہیں اور پھر اپنی جگہ سیدھے کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر اس قسم کی چیزیں امور کشفیہ سے ہیں جو ہرشخص کو محسوس نہیں ہوتے۔ بہر صورت شب قدر اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ اس کا پالینا اور اس میں ذکر و عبادت میں مشغول رہنا سعادت عظمی اور فلاح دارین کا سبب ہے جو خوش قسمت اس شب کو پائے اسے چاہئے کہ وہ اس شب میں اس دعا کا زیادہ ورد کرے جو حضورﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو تلقین فرمائی جس کا ذکر آچکا ہے۔ وہ یہ ہے ’’اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی‘‘۔
’’اے اللہ آپ یقیناً معاف کرنے والے ہیں، معافی کو پسند فرماتے ہیں، مجھے معاف فرما دیجئے۔‘‘
کم از کم اگر اس شب میں پوری رات عبادت و ذکر کی ہمت اور توفیق نہ ہو تو جس قدر بھی ممکن ہو سکے اس کے شرف سے محروم نہ رہے اور کم از کم مغرب و عشاء کی نماز با جماعت کا ضرور اہتمام کرلے۔
امام قرطبیؒ نے عبید اللہ بن عامر بن ربیعۃؓ کی روایت نقل کی وہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا’’جس نے شب قدر کی مغرب و عشاء کی نماز با جماعت ادا کی اس نے شب قدر سے اپنا حصہ پالیا‘‘
مقصد یہ ہے کہ وہ بالکل محروم نہیں رہا اور کچھ نہ کچھ اس کو بھی اس شب کا حصہ مل گیا اگرچہ تمام شب بیداری کرنے والے کا حصہ اس سے زیادہ اور بہتر ہے۔

استاد العلماء حضرت مولانا شمس الحق صاحب دامت برکاتہم العالی