jahangir Tareen

78 پیشیاں بھگت چکے ہیں جبکہ ہم کیس ختم کرنے کی بات نہیں کر رہے:جہانگیر ترین

EjazNews

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ جہانگیر ترین کے شریک ملزمان کے بیان ریکارڈ ہونا باقی ہیں، بینک سے بھی ابھی کچھ ریکارڈ آنا باقی ہے، جیسے ہی ریکارڈ مکمل ہوگا تفتیش مکمل کر لیں گے۔

جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ ابوبکر خدابخش کو بھی تحقیقاتی ٹیم کا حصہ بنا دیا گیا ہے، وہ شاید ابھی کیس سمجھ رہے ہیں لیکن انہوں نے جہانگیر ترین کو طلب نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ابوبکر خدابخش جیسے ہی جہانگیر ترین اور علی ترین کو طلب کریں یہ دونوں پیش ہوں گے، ہم کیس کو لٹکانا نہیں چاہتے جلدی اپنا کیس مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

جج حامد حسین نے ریمارکس دئیے کہ ساری ذمہ داری ایف آئی اے کے تفتیشی افسر پر ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ عدالت نے جہانگیر ترین کے کیس میں انکوائری رپورٹ منگوائی تھی وہ فائل کدھر ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے جہانگیر ترین کیس کی انکوائری رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  ویکسینیشن مراکز اتوار کو بھی کھلیں گے لیکن کن کیلئے؟

عدالت نے ایف آئی اے پر اظہار ناراضی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر ایف آئی اے ہر صورت انکوائری رپورٹ عدالت میں پیش کرے، اگر آئندہ سماعت پر بھی انکوائری رپورٹ پیش نہ کی گئی تو ایف آئی اے کے خلاف کارروائی ہوگی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے جلد از جلد تفتیش مکمل کرے۔

سیشن کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں 19 مئی تک توسیع کر دی۔

دوسری جانب بینکنگ جرائم کورٹ میں جہانگیر ترین اور علی ترین کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ایف آئی اے نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا، تحقیقات میں اب ابوبکر خدا بخش شامل ہوئے ہیں، جہانگیر ترین ابوبکر خدا بخش کے پاس پیش ہو کر اپنی گزارشات بیان کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کا مقدمہ بڑے عجیب نوعیت کا ہے، ایف آئی اے کے کیس میں بے پناہ نقص ہیں، ایف آئی اے نے اس عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا تھا، میرے خیال سے یہ کسی بھی عدالت کا دائرہ اختیار نہیں ہے، یہ کیس تو قابل اخراج ہے اس کیس میں کچھ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیر کے لوگوں کی دلیری کو سلام پیش کرتا ہوں :وزیراعظم عمران خان

بعد ازاں عدالت نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی ضمانت میں 19 مئی تک توسیع کر دی۔

جج نے وکلا کو ہدایت کی کہ 19 مئی کو شاید تاریخ نہ ملے، فریقین کے وکلا تیاری کے ساتھ پیش ہوں۔

بعد ازاں لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر خان ترین نے کہا کہ ہم عدالت کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں عدالت شفاف طریقے سے کارروائی کرے۔ وزیر اعظم نے علی ظفر کو کیس کی ذمہ داری سونپی ہے، ان سے اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس کیس میں کوئی منی لانڈرنگ نہیں ہوئی، یہ کریمنل کیس نہیں ہے، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا اس میں کوئی کردار نہیں، یہ کاروباری معاملات کا کیس ہے، اس میں پبلک فنڈ یا خفیہ فنڈ کا کوئی معاملہ نہیں۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ ایک سال سے میرے خلاف تفتیش ہورہی ہے، 78 پیشیاں بھگت چکے ہیں جبکہ ہم کیس ختم کرنے کی بات نہیں کر رہے اور نہ بجٹ کی منظوری میں رکاوٹ پیدا کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کی بات کا جواب نہیں دوں گا، ان کو ایسا کہنا زیب نہیں دیتا۔ ‘(ن) لیگ یا پیپلز پارٹی سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  حماد اظہر نئے وفاقی وزیر مقرر