The story of Armenia

آرمینا کے شکاری کی کہانی

EjazNews

مُلک روس کی ایک ریاست آر مینا میں ایک شکاری رہتا ہے۔ اپنے ہاتھ پاؤں کی محنت سے کھاتا تھا۔ پروندوں کے شِکار پر روزی کا دارومدار تھا۔ کبھی روزی تو کبھی روزہ اِس طرح رنج و غم کھاتے برسوں گُزر گئے۔ بیوی اس کی دن رات کوستی۔

’’ ہم نصیب جلے۔ آگ لگے ایسے جینے کو۔ زندگی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

اس بڑھاپے میں سہار دینے کو اولاد بھی نہیں کہ دل شاد ہو۔ جینے کا مزہ چکھ لیا اب مرنے کی راحت دکھا دے تاکہ قبر کا آرام تو نصیب ہو۔‘‘
’’ اری او! عقل سے مَعذور، فہم سے دور‘ کفرانِ اے نعمت کیوں بکتی ہو؟
میرے ہاتھوں میں خَم پیروں میں دَم ہے تب تک تو روکھی سوکھی ملِ ہی جائے گی۔ بس اپنی کھال میں مست رہو‘ میرے ہّمت پست نہ کرو۔‘‘
اتفاق کی بات دوسرے دن شکاری کو کچھ نہ مِلا۔جنگل میں مارا مارا پھرا کیا۔
مگر شاید پروندوں نے اس کو بُو پالی تھی۔ خالی ہاتھ جانا نہیں چاہتا تھا کہ بیوی کی تقریرجاہلانہ سے عاجز تھا۔ ناگاہ یہ بات ہوئی کہ ملاقات کی سُرخاب سے ہوئی۔ نشانہ باندھا مگر سُرخاب مانند سُراب غائب ہو گیا۔ تلاش کرتے کرتے آگے بڑھا۔ جھاڑیوں میں انڈوں کا انبار نظر آیا۔
’’ واہ بھائی واہ! پرندہ چلا گیامگر پیٹ پُوجا کا سامان چھوڑ گیا۔ یہ تو کئی دنوں کے لیے کافی ہیں۔‘‘

شمار کیا کُل۳۳ انڈے تھے۔ کمر بند کھولا۔ انڈوں کو باندھ گھر کی راہ لی۔ چلتے چلتے کمر بند ڈھیلا ہو گیا۔ ایک انڈا گِرا۔ اس میں سے ایک نوجوان لڑکا نمودار ہوا۔ دوسرا پھر تیسرا۔ اس طرح ۳۳ انڈے گرِے اور ان میں سے۳۳ لڑکے نکلے۔ شِکاری نے کمر بند کو کس لیا تو انڈا پھنس گیا۔ اچانگ مُڑ کر دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا۔۔۳۳ جوان ایک ہی قدوقامت ‘ ایک ہی شکل وصورت کے اس کے پیچھے چلے آرہے ہیں۔ لڑکوں نے کہا:

’’آپ کی وجہ سے ہم اس دنیا میں وارِد ہوئے ہیں۔ اب آپ ہی اپنی فرزندی میں لیجئے۔‘‘
’’ کیسا مُبارک دِن ہے!! ہم اولاد کو رس رہے تھے۔ اب اچانک اِتنے لڑکے گویا آسمان سے برس پڑے۔‘‘
شِکاری انھیں گھر لے گیا ورچَہک کر بولا:
’’ یہ لو۔ تمہاری زندگی کے بیابان کو گُلستان بنانے والے آگئے۔ اولاد کے لئے روتی تھیںنا۔ ایک دو نہیں پورے۳۳ لے آیا ہوں۔سب اپنی ہی ہیں۔ واہ واہ !کیا کہنے ہیں۔ اس کو کہتے یں کہ جب اوپر والا دیتا ہے تو آسمان پھاڑ کر دیتا ہے۔ چلو اب ان کے لئے چولھا جلاؤ اور زرا میرے پَیر بھی دباؤ۔‘‘
بیوی نے ٹھنڈی سانس لی۔ ہانڈی سوکھی پڑی تھی مگر خوش کہ اتنے سارے لڑکے کچھ کام کریں گئے‘ آرام تو دیں گے۔ اسی دوران شِکاری نے کمر بند کھولا۔ اے لو!
آخری انڈا بھی گِر پڑا اور اس میں سے ایک حسین وجمیل لڑکا نِکلا۔
’’ ارر________ یہ کیا؟ تم کہاں سے ٹپکے؟‘‘
’’ آپ ہی کے ٹَپکے میں سے۔ میں آپ کا سب سے چھو ٹا لڑکا اِیوان (IVAN ) ہوں۔‘‘
اب شکاری کو یاد آیا کہ اس نے ۳۳ انڈے پائے تھے۔ کمر بند سے صِرف ایک انڈا نکِلا۔
اور اس میں سے وہی شکل کا یہ لڑکا تو مطلب یہ کہ ۳۳ چھوکرے بھی انڈوں سے نکلے تھے۔
’’ اچھا اچھا! آؤ تم بھی۔ اب میں ۳۳ بّچوں کا باپ ہوں۔‘‘

اس کا سینہ فخر سے پھول گیا۔ بڑھیا آٹا اور مونگ کی دال مانگ کر لائی اور سب کو کھلایا۔
اِیوان نے کہا:
’’اباّ جان ! ہمیں کچھ کام دیجئے۔محنت کر کے خدمت آپ کی کریں گئے۔کلفت دور کریں گے۔‘‘
بوڑھے شِکاری نے لمبی سانس کھینچ کر کہا:
’’عزیز بچوّ! ہم بہت غریب کم ترین ہیں۔ کھیت نہ زمین ہے۔ہل جوتنے کے لئے گھوڑا نہ زین ہے۔ ایک کوڑی کی بھی آمد نہیں ہے۔‘‘
’’فکر نہ کیجئے۔ کہیں اور جا ،جا کر کام تلاش کریں گئے‘ فکر معاش کریں گے۔‘‘
دوسرے دن سب بھائی روانہ ہوئے اور ایک شہر میں پہنچے۔ شاہی افسر نے ایک جیسے نوجوانوں کی یہ چھوٹی سی فوج دیکھی تو پوچھا:
’’ جوانوں کہاں سے آرہے ہو۔ کِدھر کا اِرادہ ہے؟ً۔
’’ امین سخت آسماں دور ہے آدمی ہر طرح سے مجبورُ ہے۔ اور پھر ہم تو پیدا ہوئے ہیں کام کرنے کے لئے جناب۔‘‘
تو پھر آؤ میرے ساتھ ۔ شاہی چراگاہ کی دیکھ بھال کرتا، گاہ گاہ گھاس کاٹ کر انبار لگانا اور گھوڑوں پر نگاہ رکھنا۔ بارگیری کرنا۔ یہی سب کام ہیں۔‘‘

ایوان نے جواب دیا:’’ ہم تو خدمت گزاری میں تیز وطرّار ، ہر کام کرنے کو تیار ہیں۔‘‘
چراگاہ پہنچ کر افسر نے ضروری سامان رہنے کو مکان دیا۔ سب بھائی شہد کی مکھیّ کی طرح کام میںجُٹ گئے۔ مہینوں کا کام دنوں میں مکمّل ہو گیا۔ گھا س کے سینکڑوں انبار قرینے سے لگ گئے۔ روس کے بادشاہ زاز نے خوش ہو کر ہزار رُویل انعام دیا اور کہا: اب ان کی دیکھ بھال بھی تمھیں کرنا ہوگی۔ گئی سال سے ہوتا یہ ہےکہ رات کو کوئی آتا ہے گھاس چر کر یا چُرا کر چلا جاتا ہے۔‘‘
’’زار زَردار! بندہ آپ کا فرماں بَردار ہے۔ اس کام کا بار مجھ پڑ دالئے۔
میرے بھائیوں کو گھر بار سنبھالنے کی اجازت دیجئے۔ یہ سب زراعت کریں گےبوڑھے ماں باپ کی خدمت کریں گے۔‘‘زار راضی ہو گیا۔ اِیوان نے کچھ رقم اپنے لئے رکھی اور باقی بھائیوں کو دے کر رخصت کیا۔
خود گھاس چور کی فکر میں دل وجان سے مصروف ہوا۔ دن بھر سوتا اور رات کو چھُپ کر نگہبانی کرتا۔ اماوس کی ایک ران تھی۔ ہا تھ کو ہاتھ سُجھائی نہ دیتا تھا۔ اچانک روشنی پھیل گئی۔

جیسے بجلی چمک گئی۔ اِیوان نے کچھوے کی طرح ساٹھا کر دیکھا۔ ایک گھوڑا ابلق رنگ کا فضا پر قدم مارتا شعلہ فِشاں چلا آتا تھا۔ ٹاپوں سے زمین ہلتی تھی۔ ہر شے آس پاس کی جلتی تھی۔ آتے ہی گھاس پر مُنہ مارنا شروع کر دیا۔ ایک انبار‘ دوسرا پھر تیسرا مال مفت دِل بے رحم کے مِصداق ہضم کرنے لگا۔ اِیوان نے خیال کیا کہ اگر وہ یونہی تماشہ دیکھتا رہا تو اَبلق گھوڑا میدان صاف کر کے صاف نکل جائے گا۔ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا۔ کہ گھوڑا اُس انبار کی طرف لپگا جس میں اِیوان دَبکا بیٹھا تھا۔ اچھا موقع ہاتھ آیا۔ جست لگا کر پشت پر سوار ہوا ایال کر پکڑ مُٹھی میں جکڑ لیا۔ ایک شاخ سے کہ اس کے ہاتھ لگ گئی تھی۔شَپ شَپ مارنے لگا۔ اَبلق کَمانے‘ زور زسور ہنہنانے لگا۔ اِیوان کو یوں محسوس ہوا جیسے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔ دھوئیں کے بادل آنکھ ناک میں گھُس رہے تھے۔ مگر اُس نے ایال کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ اَبلق نے سوار کو گرانے کے لئے ایڑی چوٹی کازور لگایا مگراِیوان جونک کی طرح چمٹا رہا۔ اب تو اَبلق کا مزاج برہم ہوا۔ وہ دَلَدل اور خار دار جھاڑیوں سے پیہم گُزرا۔ کاوے مارے‘ زَقنِدیں لگائیں، قُلا نچیں ماریں، پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہوا، گردن جھٹکی مگر اس کی اچھل کو دسب بے سود ثابت ہوئی۔ اِیوان نے بال نہ چھوڑا اور باگ کو اپنی جانب موڑا۔ آخر اَبلق نے ہار مانی اور کہا:

’’ تم واقعی اَسپ سوار‘ عمدہ شہسوار ہو۔ اچھیّ اچھّوں کی دال نہ گلی مگر تم تو صاحبِ کمال ہو۔ اب کچھُ ملال نہ کرنا۔ مجھے رنج نہ دینا۔ سائے کی طرح ہمراہ ہوں گا۔ گمراہ ہرگز نہ کروں گا۔ شاید خُدا نے ہم دونوں کو ایک دوسرے کے لئے بنایا ہے۔
اِیوان اُسے اصطبل میں بند کر‘ ٹھنڈے جی سے پاؤں پھیلا کر سور ہا۔ صبح ہوتے ہی زار کو خوشخبری دی کہ چور پکڑا گیا۔ زار نے کھبی ایس خوبصورت قد آور نہ دیکھا تھا۔

جب ایوان نے بتایا کہ یہ کوئی معمول گھوڑا نہیں بلکہ شعلہ زَن اور حرکات میں مجسم بَرق نام اور رنگ اَبلق ہے۔ دوسرے گھوڑوں اور اس میں امین و آسمان کا فرق ہے۔
تو وہ دیدہ حیرت سے دیکھا کیا پھر بولا:
’’ تم نے اس بد لگام مُنہ زور اور گھاس چور گہہ ِ گیر کو زیر کیا گویا بڑے زبر دست کو زیر دست کیا۔ ثابت ہوا کہ تم عمرکے کچیّ لیکن عقل کے پکیّ ہو۔ آج سے تمھیں اصطبل کا فسر بناتے ہیں۔‘‘

اب تو اِیوان دیوانِ عام و خاص میں عُمر کا کچاّ اور عقل کا پکاّ مشہور ہو گیا۔ اَبلق اور اَبَرش گھوڑوں کی نِگرانی ہونے لگی۔ روزانہ ان کی دھلائی اور ملائی ہونے لگی۔ قرینے سے ایال تراش کر کنگھی کی جاتی۔ مُنہ زور اور سَرکش گھوڑوں کو سَدھایا جانے لگا۔
اِیوان کی تعریف کے لئے زار کے پاس الفاظ نہیں تھے۔ اصطبل کا پُرانا سائیس ایوان کی ترقی دیکھ آتشِ حسد سے جلنے لگا۔ اس سے انتقام لینے کا قَصد کرنے لگا۔ سائیس کو علم تھا کہ زار برسوں سے تین نایاب تحفوں کا آرزو مند ہے۔ خود بخوبجنے والا بربط‘رقاّص بَط اور شادماں بلّی۔ کئی جوان ان کی تلاش میں نکلے مگر واپس نہیں آئے۔ ایک دن سائیس زار کے حضور میں حاضر ہوا اور کہا:
’’ آپ سے کچھ عرض رکھتا ہوں۔ حُکم ہو تو عرض کروں۔‘‘’’اجازت ہے۔‘‘

’’ حضورذی شان! اِیوان بہت بد زبان ہو چلا ہے۔ جو مُنہ میں آئے بکتا ہے۔ کہتاہے۔ بربَط بَط اور بِلّی کو حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں۔‘‘
تین نادر تحفوں کا ذکر کر کے سائیس نے زار کی دُکھتی رک پر انگلی رکھ دی۔
’’خوب یاد دلایا۔ وہ یہ کام ضرور کرسکتا ہے۔ فوراً حاضر کرو۔‘‘

سائیس کے دل کی مُراد بر آئی۔ تین تحفوں کو حاصل کرنا مُنہ کا کھیل نہ تھا بلکہ موت کا کھیل تھا۔ اِیوان حاضر ہوا تو زار نے فرمان شاہی سُنایا:
’’ فوراً جاؤ اور ہمارے لئے خود بخود بجنے والا بَربَط‘ رقاّص بَط اور شادماں بلّی لے آؤ۔‘‘
شاہانہ رسم کے مطابق ایوان آداب بجا لایا ۔ عرض کیا:
’’جہاں پناہ! یہ چیزیں کہاں ہیں؟ وہاں تک جان کیوں کر ہو؟۔میں نے تو کبھی نام تک نہیں سُنا۔‘‘یہ سُن کر زار کا دماغ پھِرا۔ زمین پر پیَر دے مارا:

’’ ہم نے جس کام کو فرما دیا ملازم کو بجا لا نا اس ک ضرور ہے۔ اس میں جان جائے چاہے رہے۔ دُنیا کے کسی گوشے میں تینوں شیَ کیوں نہ ملیں‘ انھیں حاصل کرو۔ کامیاب و کامرران واپس آؤ تو اتنا گنج و مال پاو کہ نہال ہو جاو۔ ورنہ ہاتھ ہمارا تلوار پر اور سر تمھارا دار پر ہوگا۔‘‘

ایوان اصطبل میں گیا۔ اَبلق نے پوچھا:
’’ کیا بات ہے۔ مالک۔ بہت رنجیدہ خاطر ہوا۔‘‘اِیوان نے سارا ماجرا کہ سُنایا۔
’’ چلو! بابا یا گا جادو گرنی کے پاس چلتے ہیں اَتا پَتا پو چھتے ہیں۔‘‘
اِیوان اَبلق رَہوار پر سوار ہوا۔ وہ اتنی تیز رفتاری سے گُزرا کہ ہوا بھی اس کے پیچھے رہ گئی۔ دونوںایک جنگل میں پہنچے، جہاں ایک جھونپڑی چِڑیا کے ایک پَیر پر ٹِکی گھوم رہی تھی۔
’’ چھونپڑی جھونپڑی رُک جا۔ اس طرح سے کہ دروازہ میرے طرف۔
ہُو کا عالم ہے ۔ سنسان مقام رات کا قیام ہے۔‘‘
جھونپڑی رُک گئی۔ اِیوان اندر گیا۔ لکڑی جیسے بدن کور مُڑی تُڑی ناک والی ایک بُڑھیا کو دیکھا۔
وہی جادو گرنی تھی:

یہ بھی پڑھیں:  حاتم طائی سے بڑا سخی

’’ اخاّہ! روسی خون!!یہ کون آیا میرے گھرنہ کوئی خوف ہے نہ ڈرکِدھر سے آتے ہو؟ کہاں جاتے ہو؟۔‘‘
’’ اری او شیطان کی خالہ‘ مہمان کا استقبال کیا اس طرح کرتے ہیں؟
روس میں مُسافروں کو عزّت وحُرمت سے بٹھا کر مہمان نوازی کے حقوق ادا کرتے ہیں تب حال پوچھتے ہیں۔‘‘
بابا یاگا شر مندہ ہوئی‘ بولی:’’ نوجوان لڑکے! یہ علاقہ روس کی سرحد کے باہر ہے‘ تاہم خدمت کے لئے حاضر ہوں۔‘‘
جادو گرنی نے میز بانی کی۔ جب وہ بستر پر لیٹا تب پوچھا:’’ اب بتاؤ! اپنی مرضی سے یاکس کے حکم سے جنگل کی خاک چھان رہے ہو؟۔‘‘
اِیوان نے سارا ماجرا کہ سُنایا تو جاودگرنی نے مشورہ دیا:’’ میرے بچیّ! اپنے آپ کو اس عذاب میں نہ ڈالو۔ خانہ خراب مت کرو۔
’’ اب تو پاؤں گاڑ چُکا ہوں۔ جو ہونا ہے۔ ہو کر رہے گا۔ ہمّت مرداں مددِ خُدا۔‘‘
’’ اچھاّ تو میں ایک گیند دو گی۔ تم اس کا پیچھا کرنا‘ یہ تمھیں میری منجھلیبہن بابا یاگا دومّ کے گھر پہنچادے گی پھر جیسا وہ کہے گی عمل کرنا۔

اور ہاں اَبلق کو یہیں چھوڑ جاو میں تمہیں دوسرا گھوڑا دوں گی۔ اَبلق اتنا تیز رفتار ہے کہ گیند پیچھے رہ جائے۔ـ‘‘
صبح کو جادوگرنی نے سبز ریشم کی گیند اور راستے کا دانہ پانی دے کر رخصت کیا۔
وہ کئی دنوں تک گیند کے پیچھے چلتا رہا۔ آخر گیند کا ریشم ختم ہوا ۔
سامنے ایک جھونپڑی مُرغی کے ایک پیَر پر گردش کر رہی تھی۔ اِیوان نے پُکارا:
’’جھونپڑی جھونپری رُک جاا س طرح سے کہ دروازہ میری طرف اور پشت جنگل کی طرف۔‘‘

جھونپڑی رُک گئی۔ اِیوان داخل ہوا تو بابا یاگا دومّ کو دیکھا جو عَین اپنی بہن کی زیر عکس(XEROX ) کاپی تھی۔ یعنی ہو بہ ہو اپنی بہن کی طرح تھی۔
’’ اخاّہ ! روسی خون_________ یہ کون آیا میرے گھرنہ کوئی خوف ہے نہ ڈر اِیوان نے گیند کی ڈور دکھائی۔
’’اچھا تو میری بہن کے فِرِستادہ ہو ،صحن میں کیوں ا،ستاردہ ہوچمن میں آؤ۔‘‘
اِیوان نے اپنا مدّعا بیان کیا تو جادو گرنی نے کہا‘’’ ہوش گوش سے سُنو! میری بہن بابا یاگا سّوم کا ایک لڑکا حیوان صورت شیطان سیرت ہے۔ زِمیّ آتِش خور نام ہے۔ وہ تو ایک اژدہا آتش فِشاں ہے۔جس کی شعلہ زَنی خارج ازبیاں ہے۔ جسے دیکھ خون بدن کا خشک ہوتا ہے۔ پہاڑ کی کھوہ میں رہتا ہے۔

نوجوان لڑکوں کی ٹوہ میں رہتا ہے۔ شعلے اُگلتا ہے ۔انگارے ہگتا ہے۔ تم جسے لڑکوں کا ناشتہ بڑی رغبت سے کرتا ہے۔
اس موذی کے ڈر سے خشکی کے جانورتری میں چُھپتے ہیں۔
کسی میں طاقت نہیں کہ اس آفت کا مقابلہ کرے۔اس کے سامنے جاتے بوٹی کانپتی ہے۔ آندھی کی طرح آتا ہے۔
بگولے کی طرح جاتا ہے۔ اسی کے قبضے میں تینوں تحفے ہیں۔
میں کہتی ہوں باز آؤ مقابلے سے ہاتھ اُٹھاؤ۔‘‘

’’اب تو نصف منزل طے کر چکا ہوں پیچھے ہٹنا خوش تر نہیں۔ اگر دشمن قوی ہے تو نگہبان قوی تر ہے۔‘‘
’’ تم کِس مٹی کے بنے ہو۔ اپنی ہمتّ نہیں چھوڑتے، نصحیت کِسی کی نہیں مانتے۔
اچھّا پہلے میں اپنے پہاڑی کوّے کے ذریعے پیغام پہچادوں۔تاکہ اسے پہچان ہو کہ تم میرے مہمان ہواور وہ اپنے امان میں رکھے۔اب آرام کرو۔‘‘
صبح کو جادو گرنی نے سُرخ رنگ کے اون کی گیند دے کر کہا:
’’ اس کا پیچھا کرو۔ یہ تمھیں میری بہن کے گھر تک پہنچا دے گی۔‘‘
اِیوان روانہ ہوا۔ صبح تاشام بس ایک ہی کام تھا۔ چلنا اور جلد از جلد منزل تک پہنچنا۔ آخر کار گیند کا اون ختم ہوا۔ اب وہ پتّھر کی ایک عمارت کے سامنے کھڑا تھا۔ جادوگرنی نے اندر بُلایا:

’’ آؤ بیٹا! پہاڑی کوّے نے سب کچھ بتا دیا۔ مگر بیٹا غیروں کے واسطے اپنے
آپ کو اَجل کے پھندے میں کیوں ڈالا؟ زَمیّ کے سِتم سے تو رستم بھی گھبراتا ہے۔
کوئی مُسافر جیتا نہیں بچ پاتاہے۔ اب بھی وقت ہے واپس چلے جاؤ۔‘‘
’’ سو بات کی ایک بات گوش گزار کرتا ہوں کہ اپنے مالک کا نمک خوار ہوں۔
منزل پر پہنچ کر واپس جانا جوانمردی کے خلاف ہے۔‘‘

’’اچھا بابا! تمھاری ضد کے آگے میں ہاری۔ اب اس کے آنے کا وقت ہو گیا ہے
تم تہہ خانے میں چھُپ جاؤ۔‘‘
باہر پھُنکار اژد ہے۔ کی گر جدار آواز سنائی دے رہی تھی۔
’’ روسی خون! روسی خون! اے ماں! یہاں کون آیا تھا۔ جلد بتا۔ میرے دانت
اس کو چبانے کے لیے بے چین ہیں۔ روسی گوشت کھائے ایک زمانہ بیت گیا۔
آج تو میرا نصیب جاگا ہے وہ بد نصیب کِدھر بھا گاہے؟۔‘‘

’’اس طرح کیوں بِلبِلاتے ہو کہ سُننے والوں کی چھاتی پھٹی جاتی ہے۔ چلو
چُپ چاپ کھانا کھا لو۔ تمہاری پسند کی چیز ہے۔‘‘
ٹیبل پر اُبلا بیل مُسلّم رکھا تھا۔ اسے ہڑپ کرنے اور سَڑپ سَڑپ شراب پینے لگا۔
بیل ختم کرنے اور شراب کے کئی پیپے پینے کے بعد دماغ کی گر می سینے میں جا کر کم ہوئی۔ترنگ میں آکرنا چنے لگا۔
’’ واہ ماں! تم کتنی اچھی ہو۔ میرا کتنال خیال رکھتی ہو۔ اب ذرا تاش یا کوئی اور کھیل ویل کھیلنا چاہتا ہوں۔ مگر تمہارے ساتھ ہار جیت کا مزہ نہ آئے گا۔

اب جلدی سے کسی کو بلاؤ ۔ کہیں سے لاؤ۔‘‘
’’ تمھارے ساتھ کون کھیلے؟ تم ٹھہرے ایک موذی‘ ہڑپ کر گئے تومنہ دکھانے کے قابل نہ رہوں گی۔ نہ با با تجھ قاتل کا خون اپنے سرنہ لوں گی۔‘‘
’’ وعدہ کرتا ہوں کہ اس کا بال بیکا نہ کروں گا۔ جلد کسی کو لاؤ میں کھیل کے بغیر مارا جا رہوں۔‘‘
’’اچھا اچھا۔ اب گز بھر کی زبان اندر اور شعلہ افشانی بند کرو۔‘‘ جادوگرنی تہہ خانے میں گئی۔ اِیوان کو پُکارا:
’’قسمت مہر بان ہے جو مشکل آسان ہوگئی۔ ورنہ اس کے سامنے جو بھی گیا لقمہ اُجل بن گیا۔ وہ تم سے تاش کھیلنا چاہتا ہے۔ چلو ہمّت سے کام لو‘‘

اِیوان نے اژد ہے کو دیکھا تو بید کی طرح بدن تھراّیا۔ سَرسے پیَر تک پسینہ آیا۔
سر کے بال کھڑے ہو گئے۔ رگوں میں خون جمتا محسوس ہوا۔ ادھر اِیوان کا یہ حال تھا۔اُدھر ایوان کو دیکھ کر زِمیّ کی رال ٹپکتی تھی مگر جادوگرنی کے سامنے ایک نہ چلتی تھی۔

’’ ہم دونوں تاش کھیلیں گے۔ جو جیتے گا دوسرے کا سَر اُتارے گا۔‘‘
یہ سن کر اِیوان کے حواس باختہ ہوگئے۔ اب تو موت کا مزہ زبان پر آیا۔ کلمَہ شہادت زبان لایا۔جادوگرنی نے اس کی شجاعت کا للکارا تو ہمتّ سے آگے بڑھا۔ دونوں کھیل میں مشغول ہوئے۔ آخر کاراِیوان جیت ہوئی۔ زَمیّ بولا:’’ واہ بچیّ! تم نے تو ہرا دیا۔ اب کل دوسری بازی ہو گی۔ دیکھو کہیں جانا نہیں تم سےکھیلنے میں مزہ آتا ہے۔‘‘

زمیّ آندھی کی طرح اُڑتا غائب ہو گیا۔ اُس راب اِیوان سکون کی نیند سویا۔ ابھی سورج کچھ کچھ نِکلا تھا کہ زِمیّ آپہنچا۔ جادوگرنی نے مُسلم گھوڑا کھانے کو دیا اور خوب شراب پلائی۔ ہارنے کے سبب وہ رات بھر سونہ سکا تھا۔ آنکھوں میں نیند کا غلبہ تھا۔ ہاری بازی جیتنے کا جذبہ تھا۔

شراب کا خمار سَر چڑھا تو پھر ہار گیا۔ اب تو تھر تھر کانپنے لگا۔ جادو گرنی کے قدموں میں گرِگِر روتا تھا۔ رو رو کر گرِ تا تھا۔
’’ اماّں مجھے اپنے دامن تلے چھپاؤ۔ بچاؤ اس نوخیز سے جو عمر میں نوبچہّ ہے۔
مگر عقل میں بوڑھا نظر آتا ہے ۔ اس بلا کو دفع کرو۔‘‘

’’اچھا اچھا‘ میں سفارش کرتی ہوں۔ اگر مان گیا۔ تو ٹھیک ورنہ جان لو ظلم کا انجام یہی ہوتا ہے۔ آج ہی تو سیر کو سوا سیر ملا ہے۔’‘‘
جادوگرنی اِیوان کو دوسرے کرمے میں لے گئی۔’’ دیکھو بیٹا! یہی موقع ہے۔ تینوں تحفوں کے عوض اس کی جان بخش دو۔
اس میں کلام نہیں کہ اب وہ تمھارا ازد خرید غلام ہے۔‘‘
اندھے کو کیا چاہئیں؟ دو آنکھیں۔ دونوں زَمیّ کے پاس گئے۔ اِیوان سینہ تان کر بولا:
’’ پہلے تو مار مار کر تیرا اچار بناتا ہوں۔ اَمچور کی صورت بناتا ہوں۔ ہاتھ پیَر کاٹ جسم کو چھوٹا کرتا ہوں ۔ پھر تلوار سے مارسَر تن سے اُتار جہنم واصل مُردوں میں داخل کرتا ہوں۔‘‘

یہ سن کرزمیّ کی طبیعت ہیَبت سے ہَول کھانے لگی۔ گِڑ گِڑانے لگا:’’میری جان بخش دو۔ زندگی بھر غلامی کروں گا۔‘‘
’’اچھا تو بربَط بَط اور بلّی دے کر مجھے شاد کرو تومیں آزاد کروں گا ورنہ برباد کرودوں گا۔‘‘
یہ سُن کر زِمیّ ناچنے:’ لے لو۔ خوشی سے لے لو مگر میری جان سے مت کھیلو‘‘

اَیوان کو تینوں تحفے مل گئے گویا سارا جہاں ملِ گیا۔ زَمّی بولا: ’’ آقا! تم کُودَن پر یہاں تک کو دتے آئے تھے نا؟ مَیں تمھیں چشم زدن میں منزل تک پہنچا دوں گا۔‘‘
’’ہاں بیٹا! اِیوان کو لے کر سب چھوٹی خالہ کے گھر جاؤ۔ واپسی پر منجھلی خالہ سے بھی ملتے آؤ۔
اِیوان اس کی پُشت پر سوار ہوا۔ وہ اُڑتا ہوا جادو گرنی اوّل کے پاس پہنچا۔ اِیوان دونوں کا شکریہ ادا کرکے اَبلق پر سوار واپس ہوا۔ تینوں تحفے پا کر زار جامے میں پھولے نہیں سمایا۔

اَیواں کو زرومال سے مالا مال کیا اور ایک جشن کا اہتمام کیا۔
’’صاحبان! کسی خوشی کی بات ہے کہ جوکام بڑے بڑے سُور مانہ کرسکے‘ ایک نوخیزلڑکے نے کر دکھایا۔ جوعُمر میں کچاّ لیکن عقل میں بوڑھوں کے بھی کان کرتا ہے۔
بلاخوف و خطر کر گزرتا ہے۔ ہم اسے اونچے عہدے پر فائز کرتے ہیں۔ سائیس سے شاہی افسر بناتے ہیں۔‘‘
یہ سن کر دیگر افسر کا نا پھُوسی کرنے لگے:’’گھوڑوں کا رکھوالا اعلیٰ افسر بن گیا۔ گدھے کو گُل قنداور ہم مُنہ جھُٹال کر رہ جائیں۔
یہ کہاں کہ انصاف ہے؟۔‘‘

اِسی اثنا میں بَط رقص کرنے لگی۔ بلّی مسخری کرنے لگی۔ بربَط کا تار ایسا بجا رہا کہ سننے والے کا ہوش نہیں بجا رہا۔ زار عالی تبار‘ تابعدار وخدمت گار سب بِن پئے جھوم رہے تھے۔ آگے پیچھے جھول رہے تھے۔ ناچنے ناچتے زار کا تاج گرِا مگر اتنا مدہوش تھا کہ سنبھالنے کا ہوش نہ تھا۔

وہ بہت مسروُر ہوا‘ جب تھک کر چُور ہو ا تو کہا‘’’ پیارے اِیوان! بربَط کی تان بند کرو ورنہ ناچتے ناچتے ہم بے دَم ہو جائیں گے۔‘‘
اِیوان نے تینوں کو دوسرے کمرے میں بند کیا۔ زار لاف گزاف کرنے لگا۔’’ ہم کتنے خوش نصیب ہیں جو ایسے عجیب تحفوں کے مالک ہیں۔ کسی زار یا تاجدار کےپاس ایسے یاد گارِ زمانہ تحفے نہ ہوں گے۔ یہ سب اِیوان کا کمال ہے۔‘‘افسران کھُس پھُسر کرنے لگے۔
’’ یہی سلسلہ چلتا رہا تو جان لو اِیوان جسیے اَیرے غَیرے نتھّو خیریے ہماری گدّی لے لیں گے اور بہت بے آبرو ہو کر ہم اس کوچے سے نکلیں گے۔‘‘
اُسی دن سے افسران اِیوان کو ہٹناے کی سازش میں مشغول ہوئے۔ فریب ومَکر کی فکر
میں مصروف ہوئے۔ ایک نے کہا: ’’ ازرینہ کو مرے ہوئے کئی سال بیت گئے۔ زار نے سمر قند کی شہزادی زُلفیہ سے شادی کی بہت کوشش کی مگراُمید بر نہ آئی۔ یہاں تک کہ تین بار چڑھائی کی مگرمنہ کی کھائی۔ زار زلفیہ کو پانے کے لئے دیوانے ہو رہے ہیں۔ اگر ہم زار کے کان بھردیں تو سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے۔‘‘
اِسی تجویز پر سب عَش عَش کرنے لگے۔ موقع پا کر افسران نے زار کو گھیرا۔
ایک نے کہا:
’’حضور کی قددانی اور اعلیٰ ظرفی کی داد دینا لازم ہے کہ اِیوان جیسے مرد غازی کو اونچے عہدے پر فائز کیا۔ ایسا صاحبِ جرات وشجاعت کہیں دیکھا نہ سُنا۔‘‘
دوسرے نے لقمہ دیا‘’’ اسی کو کہتے ہیں۔ قدرِ گوہر شاہ دَامذ یا بَداندجوہری دشمن پامال‘ ملازم خوش حال آپ با اقبال رہیں اَیوان نے جان ہتھیلی پر دھر کریہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ جتنا فخر کریں کم ہے۔‘‘تیسرے نے کان بھرے‘ زار کے کے دل میں بل ڈالے‘’’ مگر یہ لڑکا اِیوان تو آسمان پر چڑھا جا رہا ہے۔ بہت چل نکلا ہے۔ ڈینگیں ہانکتا ہے۔کہ کون سا کارنامہ ایس اہے جو وہ کر نہیں سکتا۔ یہاں تک کہ شہزادی زلفیہ کو لانے کا دعویٰ بھی کرتاہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  پیارے بچوں کیلئے کچھ آداب زندگی

زلفیہ کا نام سُن کر زار چونکا:’’ ارے تو پہلے کیوں نہ یاد دلایا۔‘‘
اس نے اِیوان کو فوراً طلب کیا۔ افسران رفو چکّر ہو گئے:
’’دامن کہسار میں سمر قند کا بادشاہ ہماراکٹرّ دشمن ہے۔ ہم اس کی کر لڑکی شہزادی زُلفیہ سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ عقل سے کام لو‘ زلفیہ کو حاضر کرو۔‘‘
’’ظِلّ سُبحانی! آپ کی مہر بانی سے ہماری زندگانی ہے ورنہ اس بندہ بے دام کامقام کیا ہے؟ مگر زلفیہ گڑیا تو نہیں جسے اُٹھا کر لے آؤں۔ سمر قند کا بادشاہ اگر دشمن ہے۔تو اس کی بیٹی آپ سے شادی کیوں کرنے لگی؟ًزار نے پیشانی پر تیوری کابَل ڈال کر کہا:
’’بکواس بند کرو۔ ہمارے حکم کی فوراً تعمیل ہو۔ اگر زلفیہ کو لے آئے تب جاگیر ملے گی ورنہ سر کہاں اور تن کہا‘‘
بے چارہ اِیوان سر پیٹ کر رہ گیا۔ اصطبل پہنچا۔ اَبلق نے اسے مُلول دیکھ کر سبب ملال کا پوچھا۔
افسُردہ دِلی کا حال پوچھا‘’’ ایسی کیا مشکل آن پڑی جو اتنا حیران و پریشان ہواــ؟ً

زار بے اعتبار کے حکم سے عاجز ہوں۔ اس کی تو ذات بُے مّروت ہے۔پہلے تو اژد ہے کے منہ میں جھونکا اب شہزادی زلفیہ کو لانے کا حکم دیا ہے۔‘‘
’’ تو پریشان کیون ہوتے ہو‘ جی جان کیوں کھوتے ہو؟ مَیں تو تیار ہوں۔ ایک کیا سَو جان سے نَثار ہوں‘‘
اِیوان نے اَبلق کی گردن پر پیار سے ہاتھ پیرا۔ بولا:’’ انسان اشرف المخلوقات سے برتر تو اس حُر حیوان کی ذات ہے۔‘‘صبح دَم ایوان اپنی مہم پر روانہ ہوا۔ اَبلق براق کی طرح وہاں سے چمک کر ہَوا ہُوا۔ زراَدم نہ لیا۔
کہیں قدم نہ روکا۔ منازل و مراحل دشوار گزارے سے گزر کر آخر کار دامنِ کہسار تک پہنچ گئے۔
اِیوان نے باغِ رضوان جنتّ نشاں میں قیام کیا۔ کچھ دیر آرام کیا۔ پھولوں کی بوُ سے خوش دماغ کیا۔ اَبلق نے کہا:’’ دیکھو مالک ! زلفیہ کو سیب مرغوب ہیں شاہی باغ میں مَیںسیب کا درخت بن جاؤں گا۔ تم چھُپ جانا۔ زلفیہ سیب توڑنے کے لئے ہاتھ بڑھائے گی تو اسے گرفت میں لے لینا۔ اگر وہ گرفت میں نہ آئی تو موت ہم دونوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی‘‘سورج کا چراغ گُل ہو رہا تھا۔ جھُٹ پُٹے کے وقت دونوں شاہی باغ میں داخل ہوئے۔

نہر کے کنارے اَبلق درخت بن گیا۔ اِیوان اس کی پتیوّں میں چھُپ کو سو گیا۔ صبح نمودار ہوئی گویا اِیوان کی قسمِت بیدار ہوئی۔ زلفیہ کنیزوں کے ہمراہ سَیر کو نکِلی۔ درخت دیکھ کر ٹھٹکی۔ سونے جیسے چمکدار سیب توڑنے کو جی لچایا‘ جونہی ہاتھ بڑھایا اِیوان نے عقاب کی طرح اُسے اٹھا لیا۔ اب وہاں سیب تھانہ درخت۔ اَبلق کرخت آواز میں ہنہنا رہا تھا۔ یہ اشارہ تھا کہ اَیوان عُجلت سے کام لے۔ اِیوان شہزادی کو لے کر سوار ہوا۔
اَبلق وہاں سے فرار ہوا۔ اس کے نتھنوں سے نکلے ہوئے شعلوں اور دھوئیں کے کیثف بادلوں سے باغ پر دُھند سی چھا گئی۔ کنیزوں نے سہم کر شور مچایا۔ بعضوں نے رو رو کر آسمان سر پر اُٹھایا۔ کوئی دہشت کے مارے آنکھ بند کر کے جہاں تھی وہیں بیٹھ گئی۔کوئی دَوڑ کر زینے پر مُنہ کے بل گرِی۔ عجب طرح کا تہلکہ مچا۔ باغ میں کہرام پڑا۔ جب حواس بجا ہوئے۔ دیکھا تو شہزادی غائب۔ سنتری چوکیدار، سپاہی قلعدار شور سُن کر حاضِر ہوئے۔ خبرداروں نے بادشاہ کو خبر پہنچائی اس نے گھوڑ سواروں کو چاروں سمت دوڑایا۔ سواروں نے گھوڑوں کو ایسا دوڑایا کہ بعضوں یَ مُنہ سے کف جاری ہوئے۔ بعض ملکِ عدم کے راہی ہوئے۔ مگر اَبلق کی گرد کو بھی نہ پاسکے۔ زلفیہ گُم صُم چشم پُرنم‘ غم کی پُتلی بنی بیٹھی تھی۔ جب ہوش ٹھِکانے آئے تب لب کھولے۔

’’ اجنبی تم کون ہو؟ اپنی مرضی سے یاکِس کے حکم سے آئے ہو؟ رہنے کا مقام حاکم کا نام کیاہے؟ً
’’ میں اَیوان ہوں۔ عمر کاکچاّ لیکن عقل کا پکاّ ۔ دور تک میرا شہرہ ہے۔آرمینا کا باشندہ شاہ کا نمائندہ ہوں۔ باپ شکاری ماں بھکاری ہے۔‘‘’’ مجھے کہاں لئے جارہے ہو؟___ ‘‘ ’’ زار روس کے پاس۔‘‘
’’ ہرگز نہیں۔‘‘ زلفیہ کی چیخ نِکل گئی۔‘‘ جان دینا پسند کروں گی مگر اس بوڑھے پھونس سے عقد نہ کروں گی۔‘‘
اِیوان دل ہی دل میں خوش ہوا۔ وہ تو اس پَری پیکر رشکِ قمر کو دیکھتے ہی اس کی زلفوں کا اسیر ہو گیا تھا۔ مگر اس نے کچھ اظہار نہ کیا۔ بلکہ زار سے زلفیہ کو چُھڑانے کا اقرار کیا۔ زلفیہ بھی اِیوان کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ زار سے نجات پانے کا حل کھوج رہی تھی۔ اِیوان نے کہا:

’’ میں تو اپنا سر ہھتیلی پر دَھر کر پھرتا ہوں کہ کسی کے کام آئے۔ عقل سے کام لینا۔ زار کو ٹالتے رہنا۔‘‘
اب وہ محل کے قریب پہنچ گئے۔ قلعہ دار نے زار کو خبردار کیا۔ سب کام چھوڑ وہ دوڑا بھاگا آیا۔ اِیوان کا شکریہ تک ادا نہ کیا۔ جرأت کی تعریف‘ نہ تعریف کا کوئی کلمہ منہ سے پھوٹا۔ زلفیہ کا ہاتھ پکڑ نیچے اُتارا اور بولا:
’’ برسون سے ہم تمھارے آرزو مند تھے۔ مگر تم نے ہمیشہ انکار کیا۔ مگر اب تو اِقرار کرنا ہوگا۔‘‘
زلفیہ نے بات بتائی:

’’ زار مکرّم زرا دم تو مجھے لینے، ہاتھ منہ دھو لینے دیجئے پھر باتیں ہوں گی۔‘‘
زلفیہ کے نرم کلام سے زار کا دل باغ باغ ہوا۔ کنیزوں اور خواصوں کو طلب گیا:
’’ کیا شہزادی زلفیہ کا کمرہ تیا رہے؟۔ً
’’ شاہ ذی شان! صرف مہمان کا انتظار ہے۔‘‘
’’ تو لے جاؤ شہزادی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ سائے کی طرح ساتھ رہنا۔ ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر سہنا۔ ایک اشارے پرجان تک دینے سے گریز نہ کرنا۔‘‘
جب زلفیہ نظروں سے اوجھل ہوئی تب زار کی آنکھیں بوجھل ہوئیں۔ ایوان سے کہا:
’’تم نے وہ کارنامہ سر انجام دیاہے کہ ہم زندگی بھر بھول نہیں سکتے۔
وعدے کے مُطابق تین گاؤں اور جاگیر بخش دیتے ہیں اور آج سے وزیراعظم مقرر کرتے ہیں۔‘‘
ایوان بظاہر توخوش ہوا۔ بباطِن محسوس ہوا کہ وہ زلفیہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ زار شادی کے لئے بے چین تھا۔ مگر زلفیہ ہنسی ہنسی میں بات گول کر جاتی۔ آخر تنگ آکر ایک دِن اس نے کنیزوں کو حکم دیا کہ زلفیہ کو زبردستی دُلہن بنا دیں، محل کے درودیوار کو سجادیں۔ اب تو زلفیہ بھی سٹ پٹاگئی۔ مگر ہش سے کام لیا۔ اپنا حال ایسا پریشان کیا کہ زار حیران رہ گیا۔ اس کی وحشت کی کیفیت دیکھ کر پوچھا:’’ اب کیا عُذر ہے؟ کون سا مکر چکر ہے؟ً

’’اتنی دوُر سے تھکی ماندی آئی ہوں ماں باپ کی جُدائی کا غم کیا کم ہے ۔ اُس پر ستم یہ کہ آپ شادی کے لیے باولے ہو رہے ہیں۔
میں اس بات کی قائل نہیں۔ اس طرف مطلق میرا دل مائل نہیں۔ ہیرے کی انگھوٹھی اور سونے کی لالکی تو وہیں چھوٹ گئی۔ ہائے میری قسمت مُجھ سے روُٹھ گئی۔ ان دو چیزوں کے بغیر میں شادی ہر گز نہ کروں گی۔‘‘
’’ یہ کون سی بڑی بات ہے۔ ابھی جوہری کو بُلاتے ہیں۔ حکم شاہی سناتے ہیں۔ عین مرضی کے مُطابق انگوٹھی بنواتے ہیں۔‘‘
’’ ہمارے یہاں رسم ہے۔ اپنی انگوٹھی آپ کو پہناولگی پھر پالکی میں سوار آپ کے ساتھ چلوں گی ورنہ نہیں۔‘‘
’‘ تو پھر جلد بتاؤ۔ دونوں چیزیں کہاں ہیں۔ کِس گوشے میں نہاں ہیں؟ً
’’ انگوٹھی ڈبیہ میں، ڈبیہ صندق میں، صندق پالکی میں اور پالکی بحر ِ باراں کی تہہ میں پوشیدہ ہے۔‘‘
’’بحر باراں تو آسمان کی طرح پھیلا ہے۔ پالکی کہاں ہو گی؟ اِسے کوئی جن یا دیو لا سکتا ہے۔ یہ کام نہ اِبن آدم کا ہے اور نہ آدم کے پوتوں کے بس کا ہے۔‘‘

’’ میں کُچھ نہیں جانتی‘ ان کے بغیر آپ کو شوہر مانتی نہیں۔‘‘
زلفیہ نے تنک کر جواب دیا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ زار منہ اپنا سا لے رہ گیا۔
بڑھاپے میں اس کی عقل چرنے گئی تھی۔ شاہی افسران کو طلب کیا۔ سبب کا طلب کا بیان کیا۔ اِیوان کے وزیراعظم بن جانے پر افسران کفِ افسوس ملتے تھے۔ آتِش حسد سے جلتے تھے۔ اس کی ترقی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ رات بھر نیند نہ آتی تھی۔ اُس کو بحرِ موت مین ڈبونے کا ایک موقع پھر ہاتھ آیا۔ مگر مثل مشہور ہے کہ جس کو خُدا نہ مارے اُس کو کون مارے۔ زار نے زلفیہ کا ذِکر چھیڑا تو ایک افسر نے خوُب چِکنا چِکنا کر باتیں کیں۔
’’ ہمارے نئے وزیراعظم کے ہوتے ہوئے آپ کو چنداں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔وہ چھوٹے سہی لیکن ہیں بہت قوی۔ عقل بوڑھوں کی پائی ہے۔ ہمّت وشجاعت ورثے میں ہاتھ آئی ہے۔ ان کی تو ذاتِ اوّل سب بات میں افضل ہے۔‘‘
دُوسرے نے شہہ دی:
’’انھوں نے ایسا دِل گُردہ پایا ہے کہ اگر چاہیں تو آسمان کو زمیں چٹا دیں کوہ ِ پُر شکوہ کو بُنیاد سے ہلا دیں۔ بحرِ ظلمات میں گھوڑے دوڑا دیں۔

جب وہ زلفیہ کو لاسکتے ہیں تو انگوٹھی اور پالکی لانا کون سا مُشکل امر ہے؟‘‘
یہ سُن کر زار کی آنکھیں چمک‘ حیرت سے پلک جھپک اُٹھیں۔ ایوان کو بلا کر کہا:’’ ایوان تم وزارت کو عہدے پر فائز ہو۔ تم نے ہمارے لیے نایاب تحفوں کو تلاش کیا۔ زلفیہ کو ہمارے قدموں میں لاڈلا مگر ہمیں کچھ اور ہی غم ہے۔ اب آخری خواہش بھی پوری کر دو۔ زلفیہ کی ہیرے کی انگوٹھی ڈبیہ میں ‘ ڈبیہ صندوق میں، صندوق سونے کی پالکی میں اور پالکی۔ بحرِباراں کی تہہ میں پوشیدہ ہے۔ اسے تلاش کرنا تمھارا کام ہے۔ اگر لے آئے تو آدھی سلطنت تمھارا انعام ہے ورنہ انجام کیاہے‘ بخوبی واقف ہو۔‘‘
ایوان یہ سُن کر ہک دھک رہ گیا۔ مُنہ کا رنگ فق ہو گیا۔ ادب سے کہا:
’’ حضور کی سرفرازی وبندہ نوازی سے تو یہ بندہ زیرِباد ہے۔ اب کہوں تو کیا کہوں۔ بہتر یوں ہے کہ جس بات میں دَم نہ مارسکوں‘چُپکاہی رہوں۔‘‘
’’ کیا مطلب؟‘‘ زار نے گردن ٹیڑھی کر کے پوچھا۔
’’ میں نسل ماہی سے تو نہیں کہ سمندر کھنگالوں۔ بحرِ باراں کوئی جھرنا نہیں کہ غوطہ لگا کر پالکی نکالوں۔‘‘
یہ سُن کر زار کا چہرہ شعلہ غضب سے لال ہوا۔ زمیں پر پَیر پٹک کر چِلاّیا:
’’ زار تم ہو یا ہم؟ اپنے آقا سے بحث گفتگو عَبث کرتے ہو۔ نوکر کا کام حکم ماننا ہے ٹالنا نہیں۔ ہم نے جو کہہ دیا ۔ بس اب جاؤ ہمار حکم بجا لاؤ۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  دوسرے قلندر کی آپ بیتی

ایوان اپنے رہبرِ کامل دُکھ درد میں شامل اَبلق کے پاس گیا۔ اور سارا ماجرا کہہ سُنایا۔
’’اچھا تو اس بار معرکہ سنگین ہے۔ بحرِ باراں تک تو پہنچ ہی جائیں گے۔مگر ایک مشکل درپیش ہے۔‘‘
’’ سمند ر سے پالکی کھینچ لاؤں گا مگر سمندری گھوڑے میری بوٹیاں نوچ ڈالیں گے۔ میں پانی کے اندر بے بس ہوں ۔ شعلوں سے اُنھیں جلانہ سکوں گا۔ تمھیں پالکی دِلانہ سکوں گا۔ تمھاری جان کے ساتھ میری جان ہے۔ یہی میرا ایمان ہے۔‘‘
اس کی گردن میں باہیں ڈال کر خوب پیار کیا۔ آنکھوں کو اَشک بار کیا۔ اِنسان سے برتر تو یہ حیوان وفادار ہے۔ آنکھوں سے مالک کے تلوے سہلانے کا روادار ہے۔ اگر مہم پر نہ جائے تو جان جائے۔ زرومال کی تمناّ نہیں پالکی مِل جائے۔ ابلق اور ایوان کی جان بھی نہ جائے۔ اب تو زندگی اور موت کا سماں تھا۔ دماغ میں طوفاں تھا۔ خون کا سیلاب رگوں کو پھاڑ کر اُبل پڑنے کو بے تاب تھا۔ ایسی کیفیت میں کوئی ترکیب کیوں کر سوجھتی۔ کونے میں پڑ کر سو رہا۔ ابلق کے ہنہنانے سے اُٹھا۔ اب دماغ پر سکون تھا۔ ذہنی طوفان تھم چکا تھا۔ باغ میں آیا۔ نسیم سحر نے دماغ کے دریچوں کو کھول دیا۔ اب ذہن میں ایک عُمدہ سی ترکیب تھی۔ زار کی خدمت میں حاضر ہوا۔
’’ حضورِ والا! مجھے بھالا‘ تارکول رسی اور گھوڑے کی کھالیں عنایت فرمائیں ۔ جلد تر اسباب سفر مہّیا کریں۔‘‘’’ میرمُنشی سے تما چیزیں لے لو اور جلد روزنہ ہو جاؤ۔‘‘

حسب اِرشاد جملہ سامان مہیاّ ہو گیا۔ تو ایوان ابلق سے بولا:
’’ زار کے ہاتھوں میں خوب رنج ومَحِن پایا۔ اب تو زندگی کا سُورج گہن میں آیا۔‘‘
’’ دِل چھوٹا نہ کرو آقا! ہَرچہ بادا با۔‘‘
بادر رفتار‘ صبا کو دار گھوڑا اَبلق رنگ زمین سے قدم ملاتا نہ تھا۔ خیال سے بھی آگے جاتا تھا۔ کوئی نہیں جانتا وہ کتنے پہر چلتے رہے۔ شام وسَحر چلتے رہے۔
قصّہ مختصر۔ بِحر باراں کیھ کگر پر پہنچے ۔ ایوان نے اَبلق کے بدن کو کھالوں سے لپیت رسّی سے باندھا اور تار کول پوت دیا۔
’’ جانِ ایوان! تقدیر کیا رنگ دکھاتی ہے۔ کیا واردات پیش آئی ہے کچھ معلوم نہیں۔ چمڑے کی وجہ سے سمندری گھوڑے کاٹنے نہیں پائیں گے۔ تمھاری بوٹیاں بانٹنے نہیں پائیں گے۔ اچھا جاؤ تمھارا اللہ بیلی۔‘‘
اَبلق نے کہا:

’’اُفق تک سمندر وسیع اور پاتال تک عَمیق ہے۔ موجوں کی مارسے رنگ سیاہ ہے۔ اور کااور چھور نہیں ملتا۔ پالکی کہاں نہاں ہےمیں نہیں جانتا۔ تاہم چپّہ چپّہ چھانتا، سمندر کو اُتھل پتھل کرتا ہوں۔ تین روز تک انتظار کرنا۔‘‘
اتنا کہہ کر اَبلق سمندر کی گہرائی میں تن من سے غوطہ زن ہوا۔بے چینی اور انتظار کے دن پہاڑ ہوگئے۔ اوقات کاٹے نہیں کٹتے تھے۔جی سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا۔ دِل کو پاتھوں سے ملتا تھا۔ بے قراری اور اضطرابی ایسی کہ ایک جگہ چَین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی۔ دن بھر اَبلق کی سلامتی کی دُعا کرتاتھا خُدا خُدا کر کے تین روز گُزر گئے۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ ایوان مایوس ہو چکا تھا۔ اور اپنے جانباز ساتھی کی جُدائی پر دِل مسوس کا رہا تھاکہ ایک شور سنائی دیا۔

ایوان ہتھیار لے کر ہشیار جنگ کے لیے تیار ہوا۔ کیا دیکھتا ہے اَبلق پالکی کو کھینچتے ہوئے لا رہا ہے اور سمند ری گھوڑے دائیں بائیں جونگ کی طرح چمٹے ہیں۔ بڑی مشکل سے اَبلق ساحل پر آیا۔ گوہرِ مراد نکال لایا۔ اس کو زندہ دیکھ رنجش دُور‘ایوان کی طبعیت مسروٗر ہوئی۔ بھالے سے سمندری گھوڑوں کو چھید نا سمندر کی جانب رگیدنا شروع کیا۔ پانی کے باہر یوں بھی ان کے دَم پھول رہے تھے۔ بھالے کی تاب نہ لا کر اَبلق کو چھوڑا۔ سمندر کی جانب مُنہ کو موڑا۔ مگر اوپر کی کھال نوچ کر لے گئے۔
’’ ان کھالوں کی وجہ سے میری جان بچ گئی ورنہ آبی جانور میری ہڈیاّں تک چباڈالتے۔‘‘

ایوان نے پالکی کا معائنہ کیا۔ صندوق میں ڈبیہ‘ ڈبیہ میں ہیرے کی انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔ اَبلق کو پالکی میں جوتا اور واپس ہوا۔ ایوان نے زار کو خوشخبری سنائی۔ وہ دَوڑا دَوڑا آیا۔ پالکی اور انگھوٹھی دیکھ، خوشی کی انتہا نہ رہی۔ فوراً زلفیہ کے پاس گیا اور بولا:
’’ لو یہ تمھاری چیزیں آگئیں۔ بس اب فوراً تیار ہو جاؤ۔ تب تک میں مہمانوں کو شادی کا دعوت نامہ بھجوائے دیتا ہوں۔‘‘
’’ ارد- زرا صبر سے کام لیجئے۔ مجھے تو آپ کا پاس ہے مگرآپ کو اپنی آبرو کا پاس نہیں۔ اس بے جوڑ شادی پر لوگ کیا کیا نہ کہیں گے۔ آبرو ڈوب نہ جائے گی؟ کِس کِس کا مُنہ بند کرے پھریں گے۔ ہاں اگر آپ پھر سے جوان ہو جائیں تو میں تیار ہوں۔‘‘
’’ کیا واہی تباہی بکتی ہو؟ بوڑھے کو جوان ہوتے آج تک دیکھا نہ سُنا۔ یہ ناممکن ہے۔‘‘

’’ میں ترکیب بتاتی ہوں۔ دو بڑے ٹب لے کر ایک میں کھولتا دودھ، دوسرے میں ٹھنڈا پانی بھر دیجئے۔ پھر چبوترے سے کود دودھ، دوسرے میں ٹھنڈا پانی بھر دیجئے۔ پھر چبوترے سے کود دودھ کے ٹب میں ڈبکی مارئیے پھر پانی میں۔ اس عمل سے آپ خوبصورت نوجوان شہزادے بن جائیں گے۔ چندے آفتاب چندے مہتاب۔‘‘
’’ کھولتے دودھ میں ہم جل کر مر نہ جائیں گے۔‘‘
’’ ہر گز نہیں۔ ہمارے مُلک میں کوئی پیر مَرد نہیں۔ ہر فرد یہی عمل کرتا ہے۔‘‘
زلفیہ چلی گئی۔ زار شش و پنج میں مبتلا ہوا۔ دوٹب منگوائے مگر ہمتّ نہ ہوئی۔
ماتھا پیٹ کر کہا:

’’ ہماری بھی مت ماری گئی ہے۔ ایسے وقت میں ایوان مشکل آسان کرسکتا ہے پہلے اسے ٹب میں کودنے کو کہتے ہیں۔ اگر جل کر نہ مرا تو ٹھیک ہے اور اگر مر بھی گیا تو آدھی سلطنت تو بچ ہی جائے گی۔‘‘
دیوان سے کہہ کر ایوان کو طلب کیا۔ اسی اثناء میں زلفیہ یہ دیکھنے کے لئے کہ دودھ کھَول رہا ہے۔ یا نہیں، وہاں پہنچی۔ دوسرے دروازے سے ایوان داخل ہوا۔

’’ کوئی بڑی خدمت انجام نہیں دینی ہے۔ بس چند منٹوں کا کام ہے۔
کھولتے ہوئے دودھ میں ڈبکی لگا کر ٹھنڈے پانی میں غسل کرو پھر قدرت کا کھیل دیکھو۔‘‘
’’ کیا آپ مجھے زندہ جلا دینا چاہتے ہیں۔ نکی کا ثمرہ بدی ہوتا ہے،کیا احسان کا بدلہ یہی ہوتاہے؟ آپ کی عزّت وحرمت کے پیش نظرہر آفت میں بِلا خوف و خطر کود پڑا‘ اپنا سُکھ چھوڑا۔ خدا نے اپنے فضل سے سب آفات سے بچایا۔ اگر آپ آدھی سلطنت دنیا نہیں چاہتے تو نہ سہی مگر میری جان تو نہ لیجئے۔‘‘

’’ ایسی کوئی بات نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس ٹب میں کوئی بوڑھا جّست لگائے تو پھر سے جوان اور خوبصورت ہو جائے۔‘‘
مجھے ڈبکی لگانے کی کیا ضرورت ہے؟۔‘‘
یہ سُن کر زار کی تیوریاں چڑھ گیئں۔ چہرہ لال بھبھو کا بن گیا۔
’’ تم کتنے احمق ہو۔ مداخلت ناجائز کرتے ہو۔ ہم زار تاج دار روس ہیں۔
خوشی سے نہیں تو زبردستی ٹب میں ڈھکیل دیں گے۔‘‘
بات بگڑی۔ زلفیہ آگے بڑھی۔ ادب سے کہا‘’’ میں ایوان کو راضی کرتی ہوں۔ تب تک آپ افسران کو بلوالیجئے تا کہ وہ بھی یہ کرشمہ دیکھ لیں۔‘‘

زار وہاں سے ٹل گیا۔ تو زلفیہ کو موق مِل گیا۔ بولی’’ پیارے ایوان! تم پر صدقے میری جان۔ ڈبکی لگانے سے پہلے اَبلق سے ضرور مِل لینا۔‘‘
چند منٹوں میں زار عَمل دار، افسران و ملازمان سب جمع ہو گئے۔ ایوان نے دست بستہ عرض کیا:
’’ بندے نے ہر حکم کی تعمیل کو پائیہ تکمیل تک پہنچایا۔ آپ کی آخری فرمائش پوری کرنےسے قبل میری ایک ادنیٰ سی خواہش ہے۔‘‘
’’ وہ کیا؟ زرا جلد بیان کرو۔‘‘

’’ مرنے سے پیشتر اَبلق کا دیدار کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
زرا کھِل کھِلا کر ہنس پڑا۔
’’ یہ کون سی بڑی بات ہے ۔ مگر تم زندگی سے مایوس کیوں ہو۔
ڈبکی لگا کر تو دیکھو۔ دُنیا کے حسین ترین شہزادے بن جاؤگے۔
ہم آدھی سلطنت سونپ دیں گے۔ پھر شاہانہ زندگی بسر کرنا۔
اچھا جاؤ مِل آو۔‘‘

ایوان اَبلق کے پاس گیا اور اپنی بپتا سُنائی۔
’’ بس اب اس بوڑھے زار مرُدم آزاد احسان فراموش کے دن پورے ہو گئے۔ جب دولت و طاقت کا نشہ چڑھتا ہے، تو انسان تباہی کی طرف بڑھتا ہے۔ ظلم کی ٹہنی کبھی پھُولتی پھلتی نہیں۔ میر اَیال کے چند بال لے کر اپنے بازو پر باندھ لو۔ بلاخوف وخطر ٹب میں پھاند جاؤ۔ تم پر کوئی آنچ نہ آئے گی۔‘‘

اُدھر زار بیزار ہو رہا تھا۔ ایوان کو دیکھ کر چہرہ گُلزار ہوا۔ چبوترے پر چڑھ کر ایوان نے کھولتے ہوئے دودھ میں ڈبکی لگا دی۔ پھر ٹھنڈے پانی غوطہ لگا کر باہر نکلا تو حاضرین کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ ایوان نہ صرف زندہ تھا بلکہ اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے تھے۔ یہ دیکھ کر زار نے بھی اس کی تقلید کی۔ اپنے آپ کو مٹی پلید کی۔ فوراً کھولتے دودھ میں کودپڑا۔ پھر چیخ پڑا۔ دودھ میں وہ مردوٗد جل کر خاک ہوا۔ ایک خود غرض انسان کا قصّہ پاک ہوا۔ زلفیہ نے کمالِ ہو شیاری سے دُشمن کو پامال کیا۔ بشاشت سے چہرہ اس کا گُلنار ہوا۔ مُبارکباد دیتے ہوئے آگے بڑھی اور ہیرے کی انگوٹھی ایوان کی انگلی میں پہنادی۔

ایوان نے ماں باپ اور بھائیوں کو بلوایا۔ زلفیہ کے ماں باپ بھی آئے۔ بچھڑے ہوئے سب مِلے۔ کچھ روئے کچھ ہنسے۔ پھر شادی کی تاریخ مقررّ ہوئی۔ ایوان کی بارات اَبلق پر ایسی دھوم دھام سے چلی کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ عام شہری کو نیا جوڑا پہنایا۔ قیدی آزاد ہوئے۔ سب کے دِل شاد ہوئے۔ چالیس دنوں تک عیش وعشرت کا سامان رہا۔ ایوان نے بدذات افسران کو ان کی جگہ بحال رکھا۔ زار کی جگہ خودشاہ بنا۔ نہایت خوش سلوبی اور منصفی سے حکومت کرنے لگا۔

جس طرح ایوان کے دِن پھیرے اللہ تعالیٰ سب کے دن پھیرے۔

(آمین)

کیٹاگری میں : بچے