Hazrat SulaM-2

حضرت سلیمان علیہ السلام (۲)

EjazNews

تانبے کے چشمے

حضرت سلیمان علیہ السلام چونکہ عظیم الشان عمارات پر شوکت و پرہیبت قلعوں کی تعمیر کے بہت شائق تھے اور ایسی تعمیرات کے استحکام میں بہت دلچسپی رکھتے تھےاس لیے ضرورت تھی کہ گارے اور چونے کی بجائے پگھلی ہوئی دھات گارے کی طرح استعمال کی جائے لیکن اس قدر کثیر مقدار میں یہ کیسے میسر آئے یہ سوال تھا جس کا حل حضرت سلیمان ؑچاہتے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کی اس مشکل کو اس طرح حل کر دیا کہ ان کو پگھلے ہوئے تانبے کے چشمے مرحمت فرما دئیے۔

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حسب ضرورت سلیمان کے لیے تانبے کو پگھلا دیتا تھا اور یہ حضرت سلیمان کے لیے ایک ’’نشان‘‘ تھا اور اس سے قبل کوئی شخص دھات کا پگھلانا نہیں جانتا تھا۔

اوربخار کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ پر یہ انعام کیا کہ زمین کے جن حصوں میں ناری مادہ کی وجہ سے تانبا پانی کی طرح پگھل کر بہہ رہا تھا ان چشموں کو حضرت سلیمان پر آشکارا کر دیا اور ان سے قبل کوئی شخص زمین کے اندر دھات کے چشموں سے آگاہ نہ تھا۔(قصص الانبیاء عربی ۔ ص۳۹۳)

چنانچہ ابن کثیر بروایت قتادہؒ ناقل ہیں کہ پگھلے ہوئے تانبے کے یہ چشمے یمن میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان پر ظاہر کر دیا تھا۔ (البدایۃ والنہایۃ جلد ۲ص ۲۸)

قرآن عزیز نے اس حقیقت کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی اور مسطورہ بالا دونوں توجیہات آیت زیر بحث کا مصداق بن سکتی ہیں، اس لیے ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب صاحب مطالعہ کے اپنے ذوق پر ہے۔

تورات میں حضرت سلیمان ؑ کے اس خصوصی امتیاز کا کوئی ذکرنہیں ہے۔

حضرت سلیمان ؑ اور جہاد کے گھوڑوں کا واقعہ:

قرآن عزیز نے حضرت سلیمان ؑ کے متعلق ایک مختصر واقعہ کا اس طرح تذکرہ کیا ہے۔
ترجمہ: اور ہم نے دائود کو سلیمان (فرزند) عطا کیا وہ اچھا بندہ تھا، بیشک وہ خدا کی جانب بہت رجوع ہونے والا تھا( اس کا واقعہ قابل ذکر ہے جب اس کے سامنے شام کے وقت اصیل اور سبک رو گھوڑے پیش کیے گئے تو وہ کہنے لگا، بیشک میری محبت مال (جہاد کے گھوڑے کی محبت) پروردگار کے ذکر ہی میں سے ہے۔یہاں تک کہ وہ گھوڑے نظر سے اوجھل ہو گئے (حضر ت سلیمان ؑ نے فرمایا) ان کو واپس لائو، پھر وہ ان کی پنڈلیاں اور گردنیں چھونے اور تھپتھپانے لگا۔ (صٓ)

ان آیات کی تفسیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے تین قول منقول ہیں ایک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور دو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ان میں سے ایک حسن بصریؒ کی سند سے مذکورہ ہے اور دوسرا علی ابن ابی طلحہ کی سند سے۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت سلیمان علیہ السلام(۱)

(۱) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق واقعہ کی حقیقت اس طرح ہے کہ حضرت سلیمان کو ایک مرتبہ جہاد کی مہم پیش آئی اورانہوں نے حکم دیا کہ اصطبل سے گھوڑوں کو لایا جائے گھوڑے پیش ہوئے تو ان کی دیکھ بھال میں عصر کی نماز کا وقت جاتا رہا اور سورج غروب ہوگیا۔ حضرت سلیمان ؑ کو جب تنبہ ہوا تو فرمایا مجھے یہ اعتراف ہے کہ مال کی محبت یاد خدا پر غالب آگئی اور اس غم و غصہ میں گھوڑوں کو واپس منگایا اور یاد خدا کی محبت کے جوش میں ان سب کو ذبح کر ڈالا کہ وہی اس غفلت کا باعث بنے تھے۔

اس تفسیر کے مطابق آیت اجببت حب الخیر عن ذکر ربی کے معنی یہ ہوئے کہ بیشک میں پروردگار کے ذکر سے غافل ہو کر مال کی محبت میں لگ گیا اور آیت حتی توارت بالحجاب میں توارت کی ضمیر کی آفتاب کی جانب راجع ہے جو عبارت میں مخدوف ہے یعنی توارت الشمس بالحجاب ’’اور آیت طفق مسحا بالسوق والاعناق میں مسح کے معنی ’’ضرب‘‘ کے ہیں یعنی ان کی کونچیں اور گردنیں کاٹ ڈالیں۔

ابن کثیر نے اسی قول کو اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ اکثرسلف کی بھی یہی رائے ہے اور حضرت سلیمان کا یہ عمل قصداً نہیں تھا بلکہ اسی قسم کا معاملہ تھا جیسا کہ غزو خندق کے موقعہ پر نبی اکرم ﷺ کو پیش آیا کہ عصر کی نماز فوت ہو گئی اور آپ نے مع صحابہ رضی اللہ عنہم غروب آفتا ب کے بعد اس کی قضا کی اور جب کہ حضرت سلیمان نے خدا کے ذکر کی محبت میں اپنے بہترین گھوڑوں کو ذبح کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ عظیم الشان انعام فرمایا کہ ’’ہوا‘‘ کو ان کے لیے مسخر کر دیا۔ (تفسیر ابن کثیر جلد ۴سورہ صٓ و تاریخ ابن کثیر جلد ۲صفحہ ۲۵)
(۲) حضرت عبد اللہ بن عباس کی اس روایت کے مطابق جو حسن بصری کی سند سے منقول ہے حقیقت واقعہ یہ ہے کہ جہاد کی مہم کے سلسلہ میں حضرت سلیمان ؑ نے گھوڑوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا اور وہ پیش کیے گئے اور پھر وہ تمام پیش آئی جو پہلی تفسیر میں ذکر ہو چکی تو حضرت سلیمان ؑ نے واپس منگا کر گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہلکے ہلکے مارا اور فرمایا کہ آئندہ تم ذکر اللہ سے غفلت کا باعث نہ بننا۔

گویا اس روایت کے پیش نظر ’’مسح‘‘ کے آہستہ آہستہ مارنے کے ہوئے اور مطلب یہ ہوا کہ اگرچہ جہاد کی مصروفیت ہی کی بنا پر غفلت کا یہ معاملہ پیش آیا تاہم حضرت سلیمان نے بظاہر اسباب گھوڑوں کو اس کا باعث سمجھ کر ان کےساتھ ایسا معاملہ کیا جس سے فی الجملہ رنج کا اظہار بھی ثابت ہوا ہے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حیوان سمجھ کر ان کو اپنے غیظ و غضب کا شکار نہیں بنانا چاہتے بلکہ فی الجملہ اظہار رنج کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام (حصہ اول)

(۳)مسطورہ بالا دو تفاسیر سے جدا حضرت عبد اللہ بن عباس سے بہ طریق علی بن ابی طلحہ جو تفسیر منقول ہے اس میں نہ نماز فوت ہونے کا ذکر ہے اور نہ سورج غروب ہونے کا مسئلہ ہے اور نہ گھوڑوں کے ذبح کر دینے کا واقعہ زیر بحث آیا ہے بلکہ واقعہ کی صورت اس طرح ذکر کی گئی ہے کہ جہاد کی ایک مہم کے موقعہ پر ایک شام کو حضرت سلیمان ؑ نے جہاد کے گھوڑوں کو اصطبل سے لانے کا حکم دیا جب وہ پیش کئے گئے تو آپ کو چونکہ گھوڑوں کی نسلوں اور ان کے ذاتی اوصاف کے علم کا کمال حاصل تھا اس لیے آپ نے جب ان سب کو اصیل سبک رو ، خوش رو اور پھر بہت بڑی تعداد میں پایا تو آپ پر مسرت و انبساط کی کیفیت طاری ہو گئی اور فرمانے لگے ان گھوڑوں سے میری یہ محبت ایسی مالی محبت میں شامل ہے جو پروردگار کے ذکر ہی کا ایک شعبہ ہے حضرت سلیمان کے اس غور و فکر کے درمیان گھوڑے اصطبل کو روانہ ہوگئے چنانچہ جب انہوں نے نظر اوپر اٹھائی تو وہ نگاہ سے اوجھل ہو چکے تھے آپ نے حکم دیا ان کو واپس لائو۔ جب وہ واپس لائے گئے تو حضرت سلیمان نے محبت اور آلات جہاد کی حیثیت سے عزت و توقیر کی خاطر ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا اور تھپتھپانا شروع کردیا اور ماہر فن کی طرح ان کو مانوس کرنے لگے۔

گویا اس تفسیر کے مطابق آیت انی اجببت حب الخیر عن ذکرربی کا ترجمہ یہ ہوا بے شبہ میری محبت مال (جہاد کے گھوڑوں کی محبت) ذکر خدا ہی میں سے ہے اور توارت بالحجاب میں توارت کی ضمیر صافنات الجیاد ہی کی طرف ہے، یعنی جب گھوڑے آنکھ سے اوجھل ہو گئے اور ا س طرح محذوف ماننے کی ضرورت نہیں رہتی اور طفق مسحا بالسوق والاعناق میں مسح کے چھونے اور ہاتھ پھیرنے کے وہی عام معنی ہیں جو لغت میں بہت مشہور ہیں۔ (فتح الباری جید ۶ صفحہ ۳۵۶ و تاریخ ابن کثیر جلد ۲صفحہ ۲۵)

ابن جریر طبریؒ اور امام رازیؒ اسی تفسیر کو راحج اور قرین صواب سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب گھوڑوں کی تعداد ہزاروں تھی اور وہ بھی جہاد کے لیے تیار کئے گئے تھے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر حضرت سلیمان کی نماز فوت ہو گئی تو اس میں ان حیوانوں کا کوئی قصور نہ تھا۔ جو ان کو عذاب دیا جائے ، تو ان امور کے پیش نظر آیات کی وہ تفسیر صحیح نہیں ہو سکتی جس کی نسبت حضر ت علی ؓ کی جانب کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام(حصہ ششم)

محاکمہ:

روایات اور اقوال مفسرین کے مطالعہ کے بعد ہمارے نزدیک ابن جریر اور امام رازی کا پسندیدہ قول ہی قابل ترجیح اور قرین صواب ہے اس لئے کہ نہ اس میں مخدوف ماننے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اورنہ حضرت سلیمان کی طرف ایسے عمل کی نسبت ہوتی ہے۔ جو عقلاً نامناسب معلوم ہوتا ہے اور ابن کثیر نے ابن جریر کے اعتراض کا جو جواب اس سلسلہ میں دیا ہے وہ بھی تاول بعید سے زیاد ہ حیثیت نہیں رکھتاکیونکہ ایک اولو العزم پیغمبر کے اس واقعہ میں کوئی ایسی وجہ وجیہہ نہیں ہے کہ جس کے پیش نظر دس یا بیس ہزار گھوڑوں کو اس طرح ذبح کر دیا جائے اور یہ کہہ دینا کہ شاید ان کی ملت میں اس قسم کا عمل رائج اور پسندیدہ سمجھا جاتا ہو، بے دلیل بات ہے ۔ اسی طرح ابن کثیر کا یہ قول کہ حضرت سلیمان ؑ نے جب اپنی غفلت کی مکافات میں ہزاروں بہترین گھوڑوں کو ذبح کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کے عوض میں ہوا کو مسخر کر دیا۔ اگرچہ دلچسپ ضرور ہے لیکن قرآن عزیز کے بیان سے مطابقت نہیں رکھتااس لیے کہ واقعہ زیر بحث ایک جدا واقعہ ہے۔ جس کے ذیل میں قرآن عزیز نے معمولی سا بھی ایسا اشارہ نہیں کیا جس سے تسخیر ہوا کے معاملہ کا اس سے تعلق ظاہر ہوتا ہو۔ حالانکہ قرآن عزیز کے عام طرز بیان کے مطابق آیات زیر بحث میں ہی یہ ذکر آنا چاہئے تھا کہ چونکہ حضرت سلیمان نے ہماری خوشنودی میں ایسا کیا اس لیے ہم نے اس کے عوض میں اتنا بڑا انعام دیا کہ ہوا کہ مسخر کر دیا، مگر اس کے برعکس تسخیر ہوا کے مسئلہ کو ایک دوسرے واقعہ کے ساتھ متعلق کیا ہے جو حضرت سلیمان ؑ کی آزمائش سے تعلق رکھتا ہے یعنی جب حضرت سلیمان نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی تو ساتھ ہی یہ دعا مانگی کہ ان کو ایسی حکومت عطا ہو جوان کے علاوہ پھر کسی کو نصیب نہ ہو اور یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اس طرح قبول فرمائی کہ جن، حیوانات اور ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا۔

غرض صافنات الجباد کے واقعہ کے بعد نہ حضرت سلیمان کا گھوڑوں کی سواری کو تر ک کر دینا اور میدان جہاد میں ان سے کا م نہ لینا ثابت ہے اور نہ تسخیر جن و ہوا کا اس معاملہ سے کوئی تعلق ہے اور نہ آیت میں شمس کا کوئی تذکرہ ہے۔اور نہ اتنی کثیر تعداد عمدہ گھوڑوں کا بیک وقت ذبح کرڈالنا کوئی خاص محبوب عمل ہے اس لیے ان وجوہ کی بناء پر حضرت عبد اللہ بن عباس ہی کا یہ قول راحج اور قرین صواب ہے۔