Battle of Rome_islam_history

خالد بن ولید ؓکا نو سو سواروں کا لشکر

EjazNews

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس وقت انہیں رخصت کر کے واپس تشریف لائے تو آپ نے خالد بن ولید المخزومی کو بلا کر قبیلہ لخم وجذام پر حاکم مقرر فرمایا اور ایک لشکر زحف (جو ہر وقت جنگ کے لئے تیار رہنے والاتھا) جو نو سو سواروں پر مشتمل تھا آپ کے ساتھ روانہ کیا اور سیاہ رنگ کا ایک نشان جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا آپ کو دے دیا۔ یہ نو سو سوار وہ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ اکثر لڑائیوں میں اپنی جاں بازی کا ثبوت دے کر خراج تحسین وصول کر چکے تھے۔

اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خالد بن ولید ؓکو مخاطب کرکے فرمایا۔

’’اے ابو سلیمان! میں نے تمہیں اس تمام لشکر پر حاکم مقرر کیا ہے تم ملک ایلہ اور فارس کی طرف یہ لشکر لے جاؤ مجھے خداوند تعالیٰ کی ذات پاک سے امید ہے کہ وہ ان ممالک کو تمہارے ہاتھ سے فتح کرائیں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ العزيز تمہاری نصرت و اعانت کریں گے۔‘‘
یہ کہہ کر آپ نے انہیں رخصت فرمایا اور حضرت خالد بن ولیدؓ نے عراق کی طرف رخ کیا۔

جس زمانہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ لشکر اسلام کی ترتیب اور فوج کی روانگی کا سامان فرما رہے تھے اس وقت یہ روم کے تاجر بھی مدینہ میں آئے ہوئے تھے۔ ایلہ اور فلسطین کے متعلق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمرو ابن عاص کو جو احکام فرماتے تھے انہوں نے بھی سنے تھے۔ ہر قل بادشاہ روم سے جا کر انہوں نے یہ خبر نیز حالات جنگ تبوک جس میں مشرکین کو شکست ہوئی تھی سب بیان کر دیئے۔ ہر قل نے تمام ارکان دولت ،ماہرین فن حرب اور پادریوں کو جمع کر کے انہیں اس خبر سے مطلع کیا اور کہا۔

’’اے بنی اصفر! یہ وہی معاملہ اور قصہ ہے جس کی خبر میں مدت سے تم کو دیا کرتا تھا، اس نبی کے اصحاب یقیناً یہ میرا تاج و تخت چھین لیں گے اور وہ وقت بہت قریب ہے جب وہ اس ملک کے مالک ہو جائیں گے۔ تبوک میں جو تمہاری فوج تھی وہ کاٹ ڈالی گئی۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلیفہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے تمہاری طرف لشکر روانہ کر دیا ہے اسے عنقریب پہنچا ہی سمجھو۔ اس وقت مناسب یہی ہے کہ تم خود دار بن جاؤ اپنے دین اور شریعت اہل و عیال اور جان و مال کی حفاظت کے واسطے دل کھول کر لڑو۔ اگر اس وقت تم بھی کر گئے تو یاد رکھو کہ عرب قوم تمہارے ملک کی مالک اور مال پر قابض ہو جائے گی۔‘‘

یہ سن کر تمام تبوک کے مقتول کو یاد کر کے رونے لگے۔ ہرقل ان کا رونا

دیکھ کر بولا مرد ہو کر روتے ہو ،اس کو چھوڑو،رونا عورتوں کا کام ہے تمہیں چاہئے کہ اجنا دین کے مقام پر اپنی فوج جمع کرو۔ ہرقل کے وزیر نے کہا ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمارے سامنے ان لوگوں کو بلا کر جنہوں نے آپ کو اس بات کی خبر دی ہے دریافت کریں۔ ہرقل نے حکم دیا اور ایک سپاہی ایک نصرانی کو جو قوم لخم سے تھا لے کر حاضر ہوا۔ ہرقل نے دریافت کیا کہ تجھے مدینہ طیبہ چھوڑے ہوئے کتنے دن ہوئے؟ اس نے کہا نہیں پچیس روز- ہرقل نے کہا مسلمانوں کا سردار کون شخص ہے؟ نصرانی نے جواب دیا کہ سردار عرب کا نام ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔ انہوں نے ایک لشکر مرتب کر کے تمہارے ملک کی طرف روانہ کر دیا ہے میں نے ان لوگوں کو اچھی طرح دیکھا ہے بڑے چست و چالاک مستعد اور مضبوط آدمی ہیں۔ ہرقل نے کہا کہ تو نے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی دیکھا ہے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں دیکھا ہے انہوں نے تو خود مجھ سے ایک چادر چار درہم کو خرید کر اپنے شانوں پر ڈالی تھی، وہ ایک معمولی آدمی کی طرح بلا کسی امتیاز اور فرق کے صرف دو کپڑوں کے اندر بازاروں میں پھرتے رہتے ہیں۔ لوگوں کے حقوق کی نگرانی کر کے کمزور شخصوں کا حق قوی لوگوں سے دلاتے رہتے ہیں۔ ہر معاملہ میں قوی اور ضعیف ان کی نگاہ میں یکساں ہیں۔

اس کے بعد ہرقل نے کہا اچھا ان کا حلیہ بیان کرو۔ کہا کہ ان کا قد لانبا گندم گوں رنگ، رخسارے ہے اور پتلے ہیں۔ انگلیوں کے جوڑ کشادہ اور آپ کے اگلے دانت نہایت خوبصورت ہیں۔ ہرقل یہ سن کر ہنس پڑا اور کہا کہ یہ تو وہی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلیفہ ہیں جو ہم نے اپنی کتابوں میں لکھا دیکھا ہے کہ آپ کے بعد امر خلافت ایسے ایسے شخص کے سپرد ہو گا۔ نیز ہماری کتابوں میں یہ بھی موجود ہے کہ اس شخص کے بعد جودوسرا شخص منصب خلافت پر قائم ہو گا وہ سیاہ چشم دراز قد گندمی رنگ، شیر ببر کے مانند ہو گا اور اس شخص کے ہاتھ میں فتح اور دشمنوں کی جلا وطنی ہو گی۔ نصرانی بولا کہ ایسے شخص کو بھی میں نے ان کے ہمراہ دیکھا ہے اور وہ کسی وقت ان سے جدا نہیں ہو تا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ظہیر الدین بابر کا اپنے وقت میں برصغیر پاک و ہند پر کیا گیا تبصرہ

ہرقل نے کہا کہ مجھے کامل یقین ہو گیا۔ میں نے پہلے ہی رومیوں کو سمجھایا تھا اور فلاح و بہبود کی دعوت دی تھی مگر میری ایک نہ سنی اور اطاعت سے انکار کر دیا اب رومی بہت جلد سوری سے نکال دیئے جائیں گے۔

اس کے بعد ہرقل نے سونے کی ایک صلیب بنوا کر سردار لشکر رو بیس نامی کو دے کر کہا کہ میں اپنے تمام لشکر پر تھے حاکم مقرر کرتا ہوں تو بہت جلد افواج اسلام تک پہنچ کر فلسطین کو ان کے قبضہ اور تصرف سے روک دے کیونکہ یہ ایک بہت خوب صورت فراخ شہر ہے بلکہ ہماری عزت اور سلطنت اسی کی بدولت ہے۔ روبیس اسی روز لشکر کو مرتب کر کے اجنادین کی طرف روانہ ہو گیا۔

عمرو بن عاص ؓکے لشکر کا حال

واقدی فرماتے ہیں کہ جس وقت حضرت عمرو بن عاصؓ ایلہ کو ہوتے ہوئے فلسطین پہنچے۔ آپ کے تمام جانور کمزور اور لاغر ہو گئے تھے۔ آپ نے ایک نہایت سرسبز مقام دیکھ کر پڑاؤ کیا اور اونٹ گھوڑوں کو چرنے کیلئےچھوڑ دیا جس کی وجہ سے ان کی تھکن اور لاغری جاتی رہی۔

دشمن کے لشکر کی تعداد

ایک روز مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم نے جمع ہو لڑائی کے متعلق مشورہ شروع کیا تھا کہ اچانک عامر بن عدیؓ جو ایک برگزیدہ اور بزرگ مسلمان تھے پہنچے اور چونکہ اکثر ان کے عزیز و اقارب شام میں رہتے تھے جن کے پاس یہ اکثر آیا جایا کرتے تھے اس لئے یہ شام کے شہروں اور راستوں سے خوب واقف تھے اور اس وقت بھی آپ وہیں سے تشریف لا رہے تھے۔ مسلمانوں نے آپ کو دیکھ کر حضرت عمرو بن عاص ؓکی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت عمرو بن عاصؓ نے ان کا چہرہ متغیر دیکھ کر فرمایا۔ عامر! کیا بات ہے؟ کیوں گھبرائے ہوئے ہو؟ آپ نے جواب دیا کہ میرے پیچھے پیچھے رومیوں کا ایک لشکر جو نہایت عمدہ گھوڑوں پر سوارہے (اپنی باقی ماندہ فوج کے لئے راستہ بنانے کے لئے) کانٹے اور درختوں کو کھینچتا اور کاٹتا چلا آرہا ہے۔

حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا تم نے تو مسلمانوں کے دلوں میں کفار کا رعب بھر دیا۔ ہم اللہ تعالیٰ جل جلالہ سے ان کے مقابلہ میں مدد مانگتے ہیں۔ یہ بتلائو کہ تم نے ان کی کس قدر فوج کا اندازہ لگایا ہے؟ عامر نے جواب دیا کہ یا امیر! میں نے ایک بہت بلند پہاڑ پر چڑھ کر ان کے لشکر کا اندازہ کیا تھا۔ وادی الاحمر جو فلسطین میں ایک بہت بڑا مقام ہے ان کے نشانوں،نیزوں اورصلیبوں سے لٹا پڑا تھا۔میری رائے میں ایک لاکھ آدمیوں سے وہ کسی طرح کم نہیں۔ مجھے اس قدر معلوم ہوسکا ہے اور بس اس کے بعد انہوں نے اس کی معافی چاہی جس سے مسلمانوں کے گھبرا جانے کا اندیشہ تھا۔

حضرت عمرو بن عاص ؓکا مشورہ اور لشکر سے خطاب

حضرت عمرو بن عاص نے یہ سن کر مسلمانوں سے کہا ’’ہم خداوند تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں۔ کیونکہ طاقت و قوت سب اسی بزرگ و برتر کے قبضہ میں ہے ۔’’ پھر صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا۔

’’لوگ! میں اور آپ امر جہاد میں برابر ہیں خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے استعانت چاہو اور اپنی شریعت اور دین کے واسطے دل کھول کر لڑو جو شخص ہم میں سے قتل ہو گیا وہ شہید ہو گیا اور جو باقی رہا وہ سعید ہو گیا۔ جو کچھ تمہاری رائے ہو اس سے بھی مجھے اطلاع دو۔ یہ سن کر ہر شخص نے اپنی عقل کے موافق جو رائے صائب تھی بیان کی۔

حضرت ابن عمر کی رائے

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا قسم ہے خدا کی! میں ان کے مقابلہ اور کفار کے قتل سے بھی باز نہیں آسکتا اور نہ میری تلوار میان میں جا سکتی ہے جس کا دل چاہے میدان جنگ میں ٹھہرے اور جس کا دل چاہے لوٹ جائے مگر یاد رہے کہ جو شخص نیک کام سے بھاگے گا خداوند تعالیٰ سے بھاگ کر کہیں نہیں جا سکتا۔

ابن عمر ہزار سوار کے سالار

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمان مکہ کا قول اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ تقریر سن کر نہایت خوش ہوئے اور فرمایا اے ابن فاروق جو میری خواہش تھی وہ تم نے پوری کر دی اور جو میرے دل میں تھا وہ گویا تم نے اپنی زبان سے ادا کر دیا۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہاری سرکردگی میں کچھ جوان دے کر بطور ہر اول کے اپنے لشکر سے آگے روانہ کردوں تاکہ تم حریف کے لشکر کی حرکت اور اس کے سکون کی اطلاع اور اس بات کی خبر دیتے رہو کہ ہم کس طرح اور کون سے طریقہ سے دشمن کے ساتھ لڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اکبر کے مذہبی خیالات اور نئے تاثرات

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا آپ کا جو ارادہ ہے آپ پورا کریں میں اپنے نفس کے متعلق بخیل نہیں ہوں کہ اس کو خداوند تعالیٰ کی راہ میں صرف نہ کر سکوں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نشان بنا کر انہیں مرحمت فرمایا اور ایک ہزار سوار بہادر ان قوم بنی کلاب ،طائف اور ثقیف سے ان کی ماتحتی میں دے کر روانگی کا حکم دیا۔

رومیوں کے دس ہزار کے لشکر سے مقابلہ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر باقی صحابہ دن اور تمام رات چلتے رہے۔ صبح کے وقت اچانک آپ کو ایک غبار اٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ آپ نے اپنے لشکر سے فرمایا کہ یہ غبار اور گرد لشکر جیسی معلوم ہوتی ہے میرا گمان ہے کہ یہ رومیوں کا ہر اول ہے یہ کہہ کر آپ نے توقف کیا اور تمام لشکر کو اسی جگہ ٹھہرا دیا۔ بادیہ اعراب کی ایک قوم نے کہا کہ آپ ہمیں اجازت دے کہ ہم جا کر دیکھ آئیں کہ یہ گردو غبار کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا جب تک ہمیں پوری تحقیق نہ ہو جائے کہ کیا معاملہ ہے اس وقت تک ایک کا دوسرے سے جدا ہو نا مناسب نہیں معلوم ہو تا ۔ یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ وہ غبار قریب پہنچ گیا اور اس کے پھٹنے پر معلوم ہوا کہ روبیس نے اپنے لشکر کے آگے دس ہزار سوار ہر اول کے طور پر ایک بطریق کی سرکردگی میں روانہ کئے ہیں تاکہ لشکر اسلام کی خبریں اس تک پہنچتی رہیں۔

ہزار مسلمانوں کی دس ہزار سے جنگ

عبد اللہ بن عمرنے یہ دیکھ کر اپنے لشکریوں سے مخاطب ہو کر فرمایا۔
تم انہیں مہلت نہ دو بلکہ ان پر ٹوٹ پڑو‘ آخر تمہارے ہی مقابلے کے لئے تو آ ئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر تمہاری امداد فرمائیں گے۔ یاد رکھو بہشت تلواروں کے سایہ میں ہے۔

یہ سنتے ہی بہادر ان اسلام نے اس زور سے تکبیر لا الہ الا الله محمد رسول اللہ پڑھی کہ شجر و حجر اور چار پانیوں نے اس کا جواب دیا اور تکبیر کے بعد فوراً حملہ کر دیا سب سے پہلے حملہ کرنے والے عکرمہ بن ابو جہل تھے اور ان کے بعد سہیل بن عمرو پھر ضحاک بن ابو سفیان نے حملہ کیا اور آپ نے للکار کر پکارا۔ ان کے بعد مہاجرین و انصار حملہ آور ہوئے اور آخر دونوں لشکر مل گئے تلوار اور نیزوں نے اپنا کام کرنا شروع کیا۔

رومی سپہ سالار کا قتل

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اثناء جنگ میں میں نے ایک رومی سوار کو جو بہت بڑے ڈیل ڈول کا تھا دیکھا کہ وہ لشکر کے دائیں بائیں گھوڑا دوڑائے پھرتا تھا میں نے دل میں خیال کیا کہ سپہ سالار افواج روم یہی شخص معلوم ہوتا ہے حالانکہ لڑائی کی وجہ سے اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور بزدلی چھا رہی تھی اور وہ اپنے بھاری بھرکم جسم ہونے کی وجہ سے مست اور غضب ناک اونٹ کی پھر رہا تھا۔ میں نے اس پر حملہ کر دیا اور اپنے نیزے کو اس کی طرف بڑھایا نیزے کی وجہ سے اس کا گھوڑا پیچھے ہٹا۔ میں نے فوراً نیزا روک لیا۔ یہ دیکھ کر اس پر میرے متعلق یہ وہم سوار ہوا کہ یہ بھاگنا چاہتا ہے یہ سوچ کر اس نے مجھ پر حملہ کر دیا میں نے نیزہ علیحدہ کر کے تلوار سونت کر اس کے نیزے پر ماری جس کی وجہ سے اس کے نیزے کا پھل کٹ کر گر گیا اور اس کے ہاتھ میں محض ایک لاٹھی جیسی چیز رہ گئی۔ میں نے ایک دوسرا تلوار کا ہاتھ مارا۔ خدا کی قسم! مجھے خیال ہوا کہ میں نے اپنی تلوار ایک پتھر پر مار دی ہے اور اس کے جھنکار کی آواز میرے کانوں میں پہنچی اور مجھے یہ ڈر ہوا کہ کہیں تلوار نہ ٹوٹ گئی ہو مگر تلوار بدستور باقی تھی اور خدا کا دشمن شدت ضرب سے مذبوح تھا۔ میں نے ایک اور ہاتھ مارا اور اس کے شانہ کی رگ کو کاٹ کر رد کر دیا۔ آخر حریف گر پڑا اور میں نے اس کی زرہ اتارلی۔ مشرکین نے جس وقت اپنے سپہ سالار کو گرا اور مرا ہوا دیکھا گھبرا گئے اور مسلمان چستی اور چالاکی کے ساتھ ان کو قتل کرنے لگے۔

جنگ کے نتائج

ضحاک بن ابو سفیان اور حارث بن ہشام کو شاباش ہے جو محض خوشنودی خدا کے لئے لڑ رہے تھے۔ اثناء جنگ میں ایک سخت مصیبت میں گرفتار ہو گئے مگر تھوڑی ہی دیر میں خداوند تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی۔ بہت سے مشرکین قتل ہوئے اور اکثر گرفتار کر لئے گئے۔ بہادران اسلام جمع ہوئے اور مال غنیمت اکٹھا کر کے آپس میں کہنے لگے کہ عبداللہ بن عمر ؓکا حال نہ معلوم ہوا کہ خداوند تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا ۔(یعنی آیا زندہ ہیں یا شہید کر دیئے گئے) بعض نے کہا کہ قتل ہو گئے ایک نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ گرفتار ہو گئے۔ بعض نے کہا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو کچھ بھی کیا ہو گا عبد اللہ بن عمر کے ساتھ ان کے زہد اور عبادت کی وجہ سے اچھا ہی کیا ہو گا ایک نے کہا کہ اگر عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے ہاتھ سے جاتے رہے تو یہ تمام ان کے ایک بال کے برابر بھی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چولستان کا صحرا، صحرا نہیں ہے۔ زندگی کے پھیلاؤ کی حقیقت ہے

حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ میں ان کی یہ سب گفتگو ایک ٹیلے کے پیچھے کھڑا سن رہا تھا جس وقت تمام گفتگو سن چکا تو میں نے زور سے لا الہ الا الله محمد رسول اللہ پڑھا اور اپنے علم کو ہلا تا ہوا ان کے سامنے آیا جس وقت مسلمانوں نے میرا علم ہلتے ہوئے دیکھا تو میری طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا اے امیر! آپ کہاں تھے؟ میں نے جواب دیا کہ میں سپہ سالار کفار کے مقابلے میں مشغول تھا۔ تمام لوگوں نے مجھے دعائیں دیں اور کہا کہ یہ فتح اور نصرت تمام آپ کی برکت کا نتیجہ ہیں اور خداوند تعالیٰ نے آپ کی ہی بدولت یہ فتح عنایت کی ہے میں نے جواب میں کہا کہ نہیں بلکہ آپ حضرات کی ہی خوش قسمتی ہے۔

اس کے بعد مسلمانوں نے تمام مال غنیمت جس میں گھوڑے ،اسلحہ اور مال تھا جمع کیا اور چھ سو قیدی گرفتار کئے گئے۔ مسلمانوں کی طرف سے کل حسب ذیل سات آرمی شہید ہوئے۔

(۱) سراقہ بن عدی (۲) نوفل بن عامر (۳) سعید بن قیس (۴) سالم مولی عالم بن بدر الیربو لوعی (۵) عبدالله بن خويلدر المازنی (۶) جابر بن راشد الخرصمی (۷) اوس بن سلمہ الہوازنی۔

مسلمانوں نے ان کی لاشوں کو سپرد خاک کر دیا اور حضرت عبداللہ بن عمر نے نماز جنازہ پڑھائی۔ (اناللہ وانا الیہ راجعون)

یہ لشکر شاداں و فرحاں حضرت عمرو بن عاص کی فوج کی طرف لوٹا اور آپ سے تمام سرگذشت بیان کی۔ آپ سن کر بے حد خوش ہوئے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمت و نصرت پر شکریہ ادا کیا۔ پھر آپ نے قیدیوں کو بلا کر دریافت کرایا کہ آیا تم میں سے کوئی شخص عربی جانتا ہے؟ شام کے تین آدمی عربی زبان جانتے تھے انہوں نے اقرار کیا۔ آپ نے ان سے ان کے لشکر اور سپہ سالار لشکر کے متعلق باتیں دریافت کیں۔ انہوں نے کہا اے گروہ عرب! روبیس کو ہرقل نے ایک لاکھ فوج دے کر آپ کے مقابلہ کے لئے روانہ کیا ہے اور ہدایت کی ہے کہکسی شخص کو ایلہ میں داخل نہ ہونے دے۔ روبیس نے اس شخص کو جس سے آپ حضرات کا مقابلہ ہوا ہراول بنا کر آپ کی طرف بھیجا تھا۔ روبیس کی فوج بہت جلد راتوں رات پہنچنا چاہتی ہے اور چونکہ روبیس مملکت روم میں اہل عرب کے مقابلہ کے لئے فرد واحد ہے اس سے بہتر فنون حرب میں اور کوئی دوسرا شخص نہیں ہے ۔لہٰذا وہ تمہیں سب کو ہلاک کر دے گا۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا مجھے امید ہے کہ باری تعالیٰ جل مجدہ اس کے ہمراہی کی طرح اس کو بھی قتل کر دیں گے۔

اس کے بعد آپ نے ان پر اسلام پیش کیا۔ مگر کوئی شخص اسلام نہ لایا۔ آپ نے مسلمانوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا رومی لشکر بدلہ لینے کے لئے چل دیا ہے اور عنقریب شام تک پہنچا جاتا ہے۔ ان قیدیوں کو چھوڑنا گویا اپنے سر پر بلا لینا ہے لہٰذا ان سب کو قتل کر دیا جائے۔

کافر لشکر کی حالت

ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اس رات ہم نے اسی جگہ پڑاو رکھا۔ صبح کو کوچ کیا تو تھوڑی ہی دور چلے تھے کہ سامنے سے لشکر آتا ہوا دکھائی دیا۔ نو صلیبیں تھیں۔ ہر صلیب کے ماتحت دس ہزار سوار تھے جس وقت دونوں لشکر قریب ہوئے تو ہم نے رو بیس کو دیکھا کہ ایک مست ہاتھی کی طرح اپنی فوج کو ترتیب دے کر اپنے لشکر کو جنگ پر آمادہ کر رہا ہے۔

لشکر اسلام کی ترتیب

حضرت عمرو بن عاص بھی فوج کی ترتیب کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے اس طرح ترتیب کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے اس طرح ترتیب دی کہ میمنہ پر ضحاک بن ابو سفیان ؓکو اور میسرہ پر سعيد بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقرر کیا اور ساق پر حضرت ابوالدرداء ؓ کو کھڑا کیا اور آپ خود قلب پر مہاجرین و انصار کے ساتھ رہے اور آپ نے تمام مسلمانوں کو قرآن شریف کی تلاوت کے لئے فرمایا اور کہا یاد رکھو خداوند جل مجدہ نہیں ایک نیک کام میں آزماتے ہیں۔تمہیں چاہئے کہ تم بلاوں پر صبر اور ثواب کی طرف رغبت اور جنت کی خواہش کرو۔ اس کے بعد آپ نے طریقہ حرب پر صف بندی کی۔

تالیف:علامہ محمد بن عمر الواقدیؒ

ترجمہ:حکیم شبیر امد سہارنپوریؒ