Imran_kah_jang

فخر ہوتا تھا کہ پاکستان میں ایسا علاقہ ہے جس کا مقابلہ دنیا میں کوئی نہیں کرسکتا تھا:وزیراعظم

EjazNews

گلگت میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قرضوں کی قسطیں دینے کی وجہ سے بہت کم وسائل ہوتے ہیں اور ہر جگہ سے مطالبہ ہے پیسوں کا تاہم گلگت بلتستان کے لیے اس طرح کا پیکج ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ 15 سال کی عمر میں گلگت بلتستان آیا تھا، ان دنوں سڑکیں ایسی تھیں کہ وہاں کہ مقامیوں کے علاوہ دنیا کا کوئی ڈرائیور وہاں گاڑی نہیں چلا سکتا تھا۔یہاں کوئی آتا ہی نہیں تھا اور یہ علاقہ دنیا سے دور تھا، یہاں سڑکیں اتنی مشکل تھیں کہ یہاں کہ علاقے بھی ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں تھے۔ اسے دیکھنے کے بعد دنیا کے دیگر خوبصورت علاقوں میں گیا تو اس چیز کا فخر ہوتا تھا کہ پاکستان میں ایسا علاقہ ہے جس کا مقابلہ دنیا میں کوئی نہیں کرسکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے جب اپنے دوستوں کو پاکستان کا یہ حصہ دکھایا تو انہوں نے بھی کہا کہ اس سے خوبصورت دنیا میں کوئی علاقہ نہیں تبھی میں نے اس علاقے کی مدد کا فیصلہ کیا تھا۔میں نے ایک تصاویر پر مشتمل کتاب انڈس جرنی لکھی اور جب وہ انگلینڈ میں شائع ہوئی تو سب دنگ رہ گئے کہ یہ بھی پاکستان ہے۔بیرون ملک کے لوگوں کو چھوڑیں ہمارے اپنے لوگوں کو نہیں پتہ کہ پاکستان کتنا خوبصورت ہے، ان سب کی پراپرٹیز باہر ہیں یہ چھٹیاں منانے بھی وہیں جاتے ہیں۔جب سے ہماری حکومت آئی تو ہم نے اس خطے کو اوپر لانے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا کیسز کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہونے لگا

ان کا کہنا تھا کہ یہاں فوڈ پراسیسنگ کی بہت گنجائش ہے تاہم اصل میں یہاں سیاحت کے فروغ کے بہت زیادہ مواقع ہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ ہمارے گلگت بلتستان سے آدھا ہے اور وہ صرف سیاحت سے 60 سے 80 ارب ڈالر کماتا ہے، ہم بھی اس خطے کو ترقی دیں تو ملک اور قوم دونوں کا فائدہ ہوگا۔ ماضی میں پارٹی کے ٹکٹس دینے میں بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں اور اب اس بارے میں اکثر سوچتا ہوں۔