world_book_day

پاکستان میں کتاب بینی میں انحطاط کیوں؟

EjazNews

میں تین سال پہلے دہلی میں تھی۔ وہاں کتابوں کی بہت بڑی نمائش لگی ہوئی تھی۔ ہم لوگ بھی دیکھنے گئے۔ بے حساب کتابیں تھیں۔ لوگ خرید رہے تھے۔ وہاں ٹیلی ویژن والے بھی تھے۔ انہوں نے مجھے گھیر لیا۔ پوچھا کیا کتابوں کی طرف سے رجحان کیوں ہٹ رہا ہے اور کتابیں اب کیوں کم فروخت ہو رہی یں۔ کم چھپ رہی ہیں میں نے حیرت سے ان سے پوچھا کہ کم چھپ رہی ہیں؟ یہ دیکھیے اتنی کتابیں ہیں۔ نئی دہلی کی نمائش ہے۔ چالیس ریاستوں سے کتابیں آئی ہیں۔ یہاں لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے ہیں۔ لوگ تھیلے بھر بھر کر کتابیں لے جارہے ہیں۔ لیکن اس سوال کے پیچھے ایک حقیقت بہرحال تھی۔ اور یہ صورت حال یقینا موجود ہے۔ وہاں بھی محسوس کیا گیا۔ لیکن اس کی وجہ زیادہ تر جو لوگ بتا رہے تھے وہ انتہائی کھوکھلی تھی۔ مثلاً کہا گیا کہ اس کی وجہ کمپیوٹر آیا ہے۔ وہاں تو یہ شکایت نہیں ہے۔ وہاں یقینا ہر ایک کے پاس کمپیوٹر ہے لیکن وہاں تو کتابوں کی اشاعت میں کمی نہیں ئی، کتابیں پڑھنے والوں میں کمی نہیں آئی۔ کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ جاپان میں تو لوگ کتاب اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ جہاں وقت ملا۔ بس سٹاپ پہ، اسٹیشن پہ ٹرین میں وہ اپنے بیگ سے کتاب نکالتے ہیں اور پڑھنے میں لگ جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی یہی ہوا کرتا تھا۔ مجھے خود اپنے بارے میں یاد ہے کہ جب ہمیں کوئٹہ وغیرہ جانا ہوتا تھا تو اپنے سامان میں کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ کتابیں ضرور رکھتے تھے بلکہ بہت زیادہ رکھتے تھے کہ چوبیس گھنٹے کا سفر ہے بدل بدل کر کتابیں پڑھنے سے سفر مزے سے کٹ جائے گا۔ پھر ہمارا طالب علمی کا زمانہ تھا۔ ہم لوگ یہاں ہاسٹل میں تھے۔ دل کرتا تھا کہ اچھے اچھے پرنٹس کی قمیضیں خریدیں۔ کریم بخش پہ چلیں پیسے بہت تھوڑے ہوتے تھے لیکن جب لینے نکلتے تھے تو دیکھتے کہ عصمت چغتائی کی کوئی کتاب آئی ہے۔ کرشن چندر کی کوئی نئی کتاب آئی ہے تو سوچتے چھوڑو جی سب کچھ۔ چنانچہ قمیض کی خریداری رہ جاتی اور ہم کتاب لے کر واپس آجاتے۔ ایک اور بات جو مجھے یاد آرہی ہے وہ یہ ہے کہ بے شمار کتابیں میرے استادوں نے مجھے پڑھائیں۔ سعید صاحب کا نام تو سرفہرست ہے۔ سارے ہی استاد کتابوں میں دلچسپی پیدا کرتے تھے۔ وہ کتابوں کے نام لیتے۔

اچھی اچھی کتابوں کا تذکرہ کرتے اور پھر ہم سے پوچھتے کہ کیا ہم نے یہ پڑھی ہیں؟ جب ہمارا سر جھک جاتا تو کہتے اچھا یہ بھی آپ نے نہیں پڑھا۔ اگلے دن ہم کتابوں کی دکانیں چھان مارتے لائبریریوں کے چکر لگاتے کہ وہ کتابیں مل جائیں جن کا ذکر سعید صاحب نے کیا تھا۔ اگلی دفعہ وہ پھر ذکر کریں گے اور پوچھیں گے کہ کیا ہم نے یہ کتاب پڑھی یا نہیں تو شرمندگی ہو گی۔ تو یوں بہت ساری کتابیں استادوں نے ہم سٹوڈنٹس کو نہ صرف پڑھائیں بلکہ مطالعہ کی لت لگا دی۔ اس کے بعد کی جنریشن یعنی اساتذہ کی جنریشن میں وہ بات نہیں رہی ہوگی۔ یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن ان کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر کتاب لکھنے میں کتاب چھپنے میں اور کتاب پڑھنے میں زوال ہے تو پاکستان میں اور کسی چیز میں زوال نہیں۔ کیا تعلیم میں زوال نہیں۔ کیا تعلیم کا وہ معیار رہ گیا ہے۔ جو کبھی تھا۔ آپ کورسز کی کتابیں دیکھ لیں۔ پہلے ان میں اچھے اچھے آتھرز شامل ہوتے تھے چنانچہ کورس کی کتابوں میں انہیں پڑھ کر طالب علم ان آتھرز کو مزید پڑھنا چاہتا تھا۔ اب سفارشی قسم کے لوگوں کی چیزیں کورس میں شامل ہوتی ہیں۔ بلکہ رائلٹی کا چکر ہوتا ہے۔ کورسز کے معیار بری طرح سے گرے ہیں۔ لاہور جو کتابوں کا گڑھ تھا جہاں کتابیں لکھنے والے اور پڑھنے والے موجود تھے۔ یہاں پر دیکھیے اب ان پڑھتا کتنی ہو گئی ہے۔ کتاب کلچر ختم ہو گیا ہے۔ کلچر کا بہت بڑا حصہ کتاب ہے۔ کتاب کا لکھا جانا، چھپنا، فروخت ہونا اور پڑھا جانا۔ کتاب کلچر بناتا ہے وہ لوگ جو کتاب لکھتے ہیں۔ وہ لوگ جو کتاب چھاپتے اور بیچتے ہیں اور وہ لوگ جو کتاب خریدتے اور پڑھتے ہیں۔ آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ اب ان تینوں کو علم ہے کہ یہ ایک کلچرل بحران ہے۔ سارے ہی کلچر اور ساری ہی تہذیب میں بری طرح بحران آیا ہوا ہے۔ گراوٹ آئی ہے۔ پھر ہماری ایک بات ہے جو تحمل سے سن لینی چاہیے کہہ دینی چاہیے اس میں کوئی پردہ یا چھپانے کی ضرورت نہیں۔ وہ یہ ہے کہ ہم لوگ سوچتے نہیں۔ پڑھتے نہیں ہم لوگ سے مراد ہم سبھی لوگ ہیں اپنے آپ کو بھی اس میں لیتی ہوں۔ حالانکہ میں بہت پڑھتی ہوں۔ ہم لوگ سوچتے سمجھتے نہیں۔ جب کوئی مسئلہ آتا ہے تو سوچتے سمجھتے نہیں۔ مثلاً ٹیلی ویژن پہ کسی نے کوئی بات کہ دی اور ہم نے یقین کر لیا۔ مثلاً کسی نے کہا کہ یہ ساری مصیبت کمپیوٹر کی پیدا کردہ ہے۔ ہم اسی کو دہراتے چلے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیری مسلمانوں کاقتل عام اور جنگ آزادی کا آغاز

دیکھیے بات یہ ہے کہ ہمارے لاکھوں بچے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھتے ہیں۔ اگرچہ پانچ فی صد لوگوں سے زیادہ کے پاس کمپیوٹر نہیں ہے لیکن جو لوگ کمپیوٹر کے آگے بیٹھتے ہیں وہ اس کے ذریعے پڑھتے کب ہیں۔ ہاں بس چیٹنگ ویٹنگ کر لی۔ سنجیدگی سے بیٹھ کر کمپیوٹر پر نہ تو کوئی لٹریچر پڑھتا ہے اور نہ ہی کسی اور موضوع یا کتاب تک پہنچتا ہے، میں توکمپیوٹر پہ نہیں پڑھتی۔ مجھے تو کتاب ہی اچھی لگتی ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو کمپیوٹر کو مطالعہ کا ذریعہ بناتے ہیں۔ بس ایک ڈھکوسلہ ہے کہ کمپیوٹر نے انحطاط پیدا کر دیا ہے۔ ہم سوچنا اور سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ یہ دراصل ایک بحران ہے۔ کتاب تو کلچر کا ایک حصہ ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ سب کتابیں اچھی نہیں ہوتیں۔ زیادہ پبلشرز نے کمتر کتابیں چھاپنا شروع کر دی ہیں۔ ایسی کتابیں شائع ہو رہی ہیں جس سے نئی جنریشن کا ذوق خراب ہو رہا ہے۔ چنانچہ نئی نسل کے لوگ سنجیدہ کتابوں کی طرف نہیں آتے۔اچھی کتابیں چھاپنے والوں کی شکایات کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔ ان کی شکایت ہے کہ کتاب بکتی نہیں۔ کتاب اس لیے زیادہ لوگ نہیں خریدتے کہ وہ مہنگی ہے۔ لیکن یہ بات بھی نہیں ہے کچھ اور بات ہے میں اپنے سرکل میں اپنی دوستوں میں خواتین میں کہا کرتی ہوں کہ ہماری خواتین مہنگے مہنگے ڈریسز تو خرید لیتی ہیں۔ جیولری خرید لیتی ہیں۔ فنکشنوں پر بڑا بڑا خرچ کرتی ہیں لیکن جب کتاب کا معاملہ آتا ہے۔ تو خریدنے کی زخمت نہیں کرتیں، مثلاً میری کوئی کتاب آئے تو کہتی ہیں ارے تم نے ہمیں اپنی نئی کتاب ہی نہیں دی۔ وہ پانچ دس ہزار روپیہ خرچ کر کے آرہی ہوتی ہیں۔ لیکن دو اڑھائی سو کی کتاب نہیں خریدتیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ کتاب ہمیں مفت مل جائے۔ ہزاروں روپے کا لباس پہنا ہو گا۔ پندرہ سو کی تو جوۃی پہنی ہو گی لیکن کتاب کے معاملے میں کنجوسی پر اتر آئیں گی۔ مجھ سے گلہ کرتی ہیں کہ میں نے انہیں اپنی کتاب نہیں دی۔ میں یہاں کمزور پڑ جاتی ہوں۔ انہیں کہہ نہیں سکتی کہ یار یہ سوٹ ذرا کم قیمت خرید لینا تھا۔ اور اس سے ہونے والی بچت سے کتاب خرید لیتیں۔ میری کتاب خری لیتی تو مجھے ہی فائدہ ہوتا۔ لیکن ان کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ …… لے تیری کتاب…… تیری کتاب کسراں خرید لیے۔ توں دے ناں فیر پڑھاں گے۔ تو یہ رویہ ہے تعلیم یافتہ طبقہ کار کوئی کتاب دے دے تو ٹھیک ہے ورنہ خرید کر نہیں پڑھنی۔ اور پھر کتابیں خریدنا انہیں گھر کی لائبریری میں جمع کرنا پنجاب میں تو بالکل ختم ہو گیا ہے۔ سندھ میں ابھی یہ صورت نہیں۔ وہاں کتاب لکھنے، چھپنے خریدنے اور پڑھنے کی حالت اتنی خراب نہیں ہوئی۔ جتنی پنجاب میں ہوئی ہے۔ یہ معاملات کیا ہیں؟ اس صورت حال کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔ہم سب کو سوچنا ہو گا۔ یہ کہہ کر نہیں ٹالا جاسکتا کہ بے شمار غریبی ہے۔ ساری دنیامیں غریبی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بینکنگ انڈسٹری میں ہونے والے کچھ ہو شربا فراڈ

ہماری غریبی اور نوعیت کی ہے۔ ہمیں اس معاملے میں سوچنا چاہیے۔ علم کا معیار گرا ہے۔ تناسب کم ہوا ہے لائبریریوں بہت کم رہ گئی ہیں۔ آپ ذرا پبلک لائبریریوں کا حال جاکر دیکھیں۔ ہمارے وقت میں تو سکول میں بھی لائبریری ہوتی تھی۔ انگریز نے سکولوں میں بھی لائبریری پہ توجہ دے رکھی تھی۔ اب اتنے بڑے شہر میں جو ماضی کے مقابلے میں سوگنا بڑھ گیا ہے۔ لیکن لائبریریوں کی تعداد میں اضافے کی بجائے کمی آئی ہے۔ جو ہیں وہ بھی ٹوٹی پھوٹی ہوئی ہیں۔ وہاں نئی کتابیں نہیں ملتی۔ کتابوں کی خریداری میں ایک نیا سلسلہ چل پڑا ہے۔ خریداری لائبریری کے کلرکوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ وہ کمیشن کے چکر میں اور ذاتی مفاد میں گھٹیا کتابیں خرید لیتے ہیں۔لوگوں کی ان میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ چنانچہ اب سوچنا ہے کہ کتاب کلچر کو زوال کیوں آیاہے؟ کتاب کے لیے ذوق شوق کیوں ختم ہو گیا ہے۔ بالخصوص پنجاب میں ایسا کیوں ہے؟ میں بلوچستان کو جانتی ہوں۔ وہاں لوگوں میں نئی کتاب کا شوق ہے۔ سندھ میں بھی کتاب چھپتی اور جلد فروخت ہو جاتی ہے۔ مثلاً میری کتاب جو پنجاب میں نہیں بکتی وہ سندھ میں زیادہ بکتی ہے۔ سندھ کے لوگوں میں زیادہ شوق ہے۔ ان لوگوں کے لیے کتابوں کا کوئی اہتمام نہیں جو سچ مچ کتاب نہیں خرید سکتے۔ لیکن پڑھنا چاہتے ہیں۔ کچھ حلقوں میں میری ایک کتاب گئی تو انہوں نے کہا کہ کوئی سو لوگوں نے یہ پڑھی ہے۔ کچھ لڑکیوں نے کتاب سامنے رکھ کر پنسل سے پوری کتاب نقل کر لی۔

یہ بھی پڑھیں:  جشن آزادی اور عید

آج یہ سب کچھ خیال و خواب لگتا ہے۔ حالانکہ ہمیں پہنچنا تو اس منزل پہ چاہیے تھا جو ترقی یافتہ ممالک میں پبلشرز کی ہے۔ وہاں لاکھوں کی تعداد میں کتاب چھپتی ہے اور جس رائٹر کی ایک کتاب مقبول ہو جائے اس کی سات پشتیں سنور جاتی ہیں۔ لیکن ہوا یوں کہ ہمارے ہاں جو ایک ہزار کی تعداد تھی وہ سقوط مشرقی پاکستان کے ساتھ کم ہو کر سات سو رہ گئی اور اس کے بعد آہستہ آہستہ کم ہو کر پانچ سو رہ گئی۔ اب حالت یہ ہے کہ کتاب دو سو چھپتی ہے یا تین سو چھپتی ہے۔ چنانچہ اس کی لاگت پر کاپی بڑھنا لازمی ہے۔ دوسری بات کتاب کی فروخت کی ہے اب یہ معاملہ خریدنے والے سے تعلق رکھتا ہے کہ آپ کی جیب میں پیسے کتنے ہیں آپ یقین جانیے کہ لوگ کتابیں خریدنا چاہتے ہیں۔ دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔ کتاب سے محبت بھی کرتے ہیں۔ ہمارے پاس ایسے بچے بھی آتے ہیں جو ہاسٹل میں رہتے ہیں انہیں ماہانہ اخراجات کے لیے گھر سے دو اڑھائی ہزار روپیہ ملتا ہیاس میں سے وہ ایک ہزار روپیہ بچا کر کتابیں خریدنے چلے آتے ہیں۔ ان کے پاس بھی چوائس یہ ہوتا ہے کہ وہ پینوراما سنٹر سے جینز خرید لیں یا پھر کتاب لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب وہ ایک ہزار روپیہ جیب میں ڈال کر آتے ہیں۔ تو پہلی صف میں انہیں فراز کی کتاب نظر آتی ہے۔ وہ لے لیتے ہیں پھر انہیں پروین شاکر کی کتاب نظر آتی ہے وہ اسے بھی لے لیتے ہیں۔ اور پھر تارڑ کی کتاب نظر آتی ہے اور یہیں ان کے پیسے ختم ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ بکنرز کی طرف آہی نہیں سکتے ۔

ان کی پرچیز کیپسٹی ہی اتنی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کتاب کی قیمت زیادہ ہے لیکن اس ک وجہ یہ ہے کہ تعداد کی وجہ سے کاسٹ پر کاپی بہت زیادہ ہے۔ اور پھر باقی چیزوں کی شرح بھی اسی حساب سے بڑھی ہے سونا اسی حساب سے بڑھا ہے۔ آٹا اسی حساب سے بڑھا ہے۔ کاغذ بھی اس حساب سے بڑھا ہے چنانچہ کتاب کی قیمت بھی بڑھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس صورت حال کو کس طرح بہتر کر سکتے ہیں۔ سب سٹڈی دے سکتے ہیں کیسے بہتر کر سکتے ہیں لوگوں کی عادات مطالعہ کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں تاکہ کتاب کی اشاعت میں اضافہ ہو سکے۔

افضل توصیف