Fawad_ch_inforamation

اس دفعہ عید کی 5 چھٹیاں بھی کی جا رہی ہے جو ملاکر اس سے زیادہ ہوں گی:وزیراطلاعات

EjazNews

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت اتنی سنجیدہ ہے کہ وزیراعظم نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر رپورٹ طلب کی ہے، اس مشین کے دو حصے ہیں، ایک ٹیکنالوجی اور دوسرا قانون سازی کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا حصہ تیار ہے، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے دو محکمے کامسیٹس اور این آئی ای نے اپنی مشین بنائی ہوئی ہے اور ساتھ ساتھ این آر ٹی سی نے بھی مشینیں بنا لی ہیں اور بابر اعوان نے کابینہ کو بریف کیا کہ دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کیا بات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں اپوزیشن انتخابی اصلاحات پر ہمارے بیٹھے اور آگے بڑھیں، اس لیے اپوزیشن سنجیدہ رویہ اختیار کریں اور انتخابی اصلاحات پر اپنی تجاویز دیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ اس حوالے سے قانون سازی جلد ہوگی اور اگلے انتخابات الیکٹرونک ووٹنگ کی بنیاد پر ہوگا اور 90 لاکھ پاکستانی جو باہر ہیں ان کو ہم ہر صورت ووٹنگ کا حق دینا چاہتے ہیں، شاید مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کو تکلیف ہوگی بیرون ملک پاکستانی ان کا ووٹر نہیں ہے بلکہ پی ٹی آئی کا ووٹر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اورپاکستان پیپلزپارٹی بالخصوص اور ایوان میں موجود جماعتوں کو سامنے آنا پڑے گا کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتے ہیں یا نہیں کیونکہ اس معاملے کو مزید نہیں لٹکایا جاسکتا اور ہم ان کے بغیر آگے بڑھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  جنگل کے قانون میں معاشرے نہیں بچتے اور جو انہوں نے کیا وہ جنگل کا قانون ہے:جسٹس علی باقر نجفی

کورونا وائرس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے میڈیا کے کردار کی تعریف کی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم نے خیبرپختونخوا میں اپنے وزیر کے اوپر ایف آئی آر کردی، یہ 20 سے 22 کروڑ عوام کا ملک ہے یہاں ہر کام ڈنڈا لے کر نہیں کرواسکتے، خود بھی تو عقل کرنی چاہیے، یہ اپنی زندگیوں کا معاملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 5 ہزار متاثرین تشویش ناک حالت میں ہیں، اس سے پہلے پیک 3400 تھی یعنی 3400 مریض انتہائی نگہداشت میں گئے تھے اب 5 ہزار لوگ گئے ہیں، اگر ہم ایک سال پہلے وہ اقدامات نہ کیے ہوتے جو اس حکومت نے کیے ہیں تو ہماری حالت بھی تقریباً بھارت کی طرح ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس ایک سال میں دوران 7 ہزار بیڈز کا اضافہ کیا جس میں آکسیجن اور وینٹی لیٹربیڈز بھی شامل ہیں، اگر یہ نہیں ہوتا ہماری حالت بھارت کی طرح ہوتی، ہم نے ایک سال میں اپنی صلاحیت دوگنا کی، اگر ایسا نہ کرتے تو آج آکسیجن کی حالت بھی ہمارے ہاتھ سے نکل چکی ہوتی۔

آکسیجن کی پیداوار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جون 2020 میں 484 میٹرک ٹن روزانہ بنا رہے تھے اور اس وقت 792 میٹرک ٹن بنا رہے ہیں اور 308 میٹرک ٹن کا اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے ابھی آکسیجن کا بحران پیدا نہیں ہوا، صحت کے شعبے میں 500 میٹرک ٹن آکسیجن جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تشویش ناک حالت کے مریضوں کی ضروریات کے لیے کافی ہے لیکن ہم 90 فیصد تک پہنچ گئے ہیں اور ہمارے تین آپشنز ہیں، ایک صنعت سے لے کر صحت کے شعبے کو دیں گے پھر چین اور ایران سے آکسیجن درآمد کرنے کی بات چیت چل رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بحران ضرور ہے لیکن افراتفری نہیں ہے اور حالات جس طرح آگے جارہے ہیں اور معاملہ کم نہ ہوا تو ہمیں مسائل بھی درپیش ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کے آمد کی خبر نہیں تھی: وزیراعلی سندھ

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے مردان میں مکمل لاک ڈاؤن کیا ہے جہاں کووڈ کی شرح 40 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ قریبی شہروں کو شدید خطرات لاحق ہیں، اسی لیے حکومت نے مردان میں کل مکمل لاک ڈاؤن کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں ہوئے این سی او سی کے گزشتہ اجلاس آرمی چیف اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شریک تھے، جس میں وزیراعظم کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی کہ ہمیں مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے تو پھر ہمیں پوری تیاری کرنی پڑے گی ضروری اشیا کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ لاک ڈاؤن کی طرف نہ جانا پڑے، اس دفعہ عید کی 5 چھٹیاں بھی کی جا رہی ہے جو ملاکر اس سے زیادہ ہوں گی تاہم اس کا فائدہ ہوگا کہ موقع ملا کیونکہ کووڈ کا 77 فیصد مسئلہ شہروں کا ہے، اس لیے لوگ گاؤں کی طرف جائیں گے تو مسائل کم ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  مجموعی کیسز کے 26فیصد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں:ڈاکٹر ظفر مرزا

ویکسین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کے لیے ایک مدت چاہیے اور اس کا اثر آتے ہوئے کچھ مہینے درکار ہوتے ہیں، ہمارا مسئلہ تو یہ ہے کہ اس ہفتے اور اگلے دس دنوں میں کیسے کام کرائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریباً 20 لاکھ لوگ ویکسین لگوا چکے ہیں جبکہ دنیا میں ویکسین لگوانے والوں کی تعداد ایک ارب تک ہوگئی ہے، اس لیے جو لوگ تذبذب کا شکار ہیں ان سے کہوں گا ایک ارب لوگوں نے سمجھا کہ یہ محفوظ معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کابینہ گردشی قرضے پر بریفنگ ہوئی جس کا مسئلہ ہے کہ نواز شریف کی گزشتہ حکومت نے 50 فیصد ایکسس بجلی پیدا کی جس کی ہمیں ضرورت نہیں تھی، اس کی کئی وجوہات تھیں بدقسمتی سے انہوں نے 40 سے 50 فیصد زائد بجلی کی صلاحیت لگائی، اس سے ہماری لازمی ادائیگی 450 ارب سے بڑھ کر اس سال 900 ارب پر چلے گئے ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 2023 میں جب انتخابات کا سال ہوگا تو بجلی کے چارجز بڑھ 1500 ارب روپے ہوں گے یعنی ہم بجلی استعمال کریں یا نہ کریں ہمیں ادائیگی کرنی ہوگی، اس کی وجہ سے بجلی کے نرخ میں 11 روپے 75 پیسے بڑھ کر 16 روپے 44 پیسے اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ایسے راستے تلاش کریں جس میں بجلی کی قیمت بڑھائے بغیر اس معاملے کا کوئی حل نکال سکیں۔