injection

حفاظتی ٹیکے بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں

EjazNews

دنیا بَھر میں انسانی جانیں بچانےمیں اینٹی بائیوٹکس اور ویکسینز نے اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر بچّوں میں شرحِ اموات میں کمی کے ضمن میں ویکسینز کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔دراصل حفاظتی ٹیکے مختلف امراض کے خلاف ڈھال کا کام کرتے ہیں کہ ویکسی نیشن کے نتیجے میںنہ صرف بچّےجان لیوا بیماریوں اور عُمر بَھر کی معذوریوں سے بچ سکتے ہیں،بلکہ ان کی زندگیوں کو پُرسکون اور اطمینان بخش بھی بنایا جا سکتا ہے۔ رہی بات یہ کہ حفاظتی ٹیکے کیا ہیں، تو جس بیماری سے بچاؤمقصود ہو، اُسی کے کم زور یا مُردہ جراثیم سے ویکسین تیار کی جاتی ہے، تاکہ مرض کے حملہ آور ہونے کی صُورت میں جسم پہلے ہی سے دفاع کے لیے ٹرینڈ ہو چکا ہو۔

امیونائزیشن کے طریقوں میں اورل(منہ کے ذریعے دی جانے والی ڈوزز)اور انجیکشنز شامل ہیں۔ زیادہ تر ویکسینز انجیکشن کی صورت دستیاب ہیں اور یہی سب سے عام طریقۂ کار ہے۔

ای پی آئی کے تحت حفاظتی ٹیکوں کا جو شیڈول ترتیب دیا گیا ہے، اُس میںپیدائش کے فوری بعد تپِ دق سے بچائو کے لیے بی سی جی کی ویکسین لگائی جاتی ہے اور ساتھ ہی پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔ چھٹے، دسویں اور چودھویں ہفتے میں اوپی وی (Oral Polio Vaccine)، نیوموکوکل (Pneumococcal)، روٹا وائرس اور پینٹا ویلنٹ (Pentavalent) کی ویکسین دی جاتی ہے۔نو ماہ کی عُمر میں خسرے کا پہلا اور 15ماہ میں دوسرا انجیکشن لگایا جاتا ہے۔دو برس کی عُمر میں ٹائی فائیڈ سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جاتی ہے۔سرکاری سطح پر یہ ویکسینز مفت لگائی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ بچّوں کو کئی اضافی ویکسینز بھی دی جاتی ہیں، جو صرف نجی اسپتالوں ہی میں دستیاب ہیں۔ تاہم، بچّے کے لیے ای پی آئی شیڈول میں شامل ویکسینز ہی ناگزیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دل کی بیماریو ں سے محفوظ رکھنے والی پانچ غذائیں

کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں بھی ویکسی نیشن کا عمل خاصا متاثر ہوا ہے،جس کی مختلف وجوہ ہیں۔جیسے لاک ڈاؤن کے دوران کبھی والدین اپنے بچّوں کو ویکسین لگوانے کے لیے گھروں سے باہر نہیں نکلے، تو کبھی اسپتال میں متعلقہ عملہ موجود نہیں تھا۔عالمی سطح پرہر مُلک کے لیے بچّوں میں ویکسی نیشن کی شرح95فی صد مقرر کی گئی ہے، مگر افسوس کہ پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے یہاں ویسے ہی امیونائزیشن کی شرح کم ہوگئی تھی، تو اب کورونا وائرس کی وجہ سے یہ شرح50سے 60فیصد تک محدودرہ گئی ہے، جب کہ دُور دراز کے علاقوں کی صُورتِ حال اس سے بھی ابتر ہے،لہٰذا ہمیں مل بیٹھ کر فوری طور پر کچھ ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ۔

حفاظتی ٹیکہ جات ہی کے ذریعے ہم بچّوں میں شرحِ اموات پر قابو پاسکتے ہیں اور اسی کے پیشِ نظر عالمی ادارۂ صحت کی جانب سےدُنیا بَھر میں حفاظتی ٹیکےلگوانے کے دو طریقے وضع کیے گئے ہیں۔ ایک روٹین امیونائزیشن(یعنی سینٹر میں جاکر لگوانا)اور دوسرا طریقہ بذریعہ مہم (گھر آکر ویکسی نیشن کرنا) ہے۔حفاظتی ٹیکہ جات کی مہم اس لیے بھی زیادہ مفید ہے کہ جن بچّوں کی کسی بھی وجہ سے ویکسی نیشن نہیں ہو پاتی، اُنہیں گھر بیٹھے یہ سہولت مل جاتی ہے۔ اورسب سے بڑھ کر کسی بھی وَبا پر جلد قابو بھی پایا جاسکتا ہے۔ جیسے 2019ء میں جب سندھ میں ایکس ڈی آر ٹائی فائیڈ وَبا پھوٹی، توویکسی نیشن مہم ہی کے ذریعے بڑھتے کیسز میں کمی لائی گئی،لہٰذا ترجیحی بنیادوں پر ہمیں اُن تمام عوارض کی ویکسی نیشن کے لیے،جو بچّوں میں موت کا باعث بنتے ہیں، باقاعدہ طور پر ایک مربوط مہم کا آغاز کرنا ہوگا۔ نیز، ہر دو سال بعد خسرے کی وبا پھوٹتی ہے، تو اس حوالے سے بھی مؤثر حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی کہ اِمسال یہ وَبا پُھوٹنے کے امکانات خاصے بُلند ہیں، خاص طور پر اندرونِ سندھ سے تو کیسز رپورٹ بھی ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں کیلئے حفاظتی ٹیکوں سے بہترکچھ نہیں

مجموعی طور پر دُنیا بَھر میں جتنی بھی بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگائے جارہے ہیں، اُن کا شرحِ تناسب بتدریج کم ہورہا ہے۔س کی واضح مثال چیچک، طاعون کا خاتمہ ہے، جب کہ دُنیا بَھر سے، علاوہ دو مُمالک کے، جن میں افغانستان اور پاکستان شامل ہیں، پولیو کا بھی قلع قلمع ہوچکا ہے۔ ہمارے یہاں پولیو کے خاتمے کی راہ میں کئی عوامل رکاوٹ بن رہے ہیں، تو حکومت کو اس ضمن میں بھی مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

ہر دوا کے کچھ نہ کچھ سائیڈ ایفیکٹس تو ہوتے ہی ہیں، لیکن اگر حفاظتی ٹیکوں کے ضمنی اثرات کی بات کریں، تو وہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔اب تک ان ٹیکوں کی کام یابی کا تناسب 99.99 فی صد ہے۔ہاں، ایک سو ملین کیسز میں سے کوئی ایک کیس شدید مضر اثرات کا بھی رپورٹ ہوسکتا ہے۔

اگر بروقت ویکسین نہ لگوائی جائے تو فوری طور پراپنے معالج سے رابطہ کریں ، تاکہ جو کیچ اپ ویکسین ہیں،یعنی جو لگ نہیں سکیں،وہ شیڈول میں ردوبدل کرکے لگوائی جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ایکس ڈی آر ٹائی

اگرچہ ماضی کی نسبت خاصی بہتری آئی ، مگرپھر بھی پولیو کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔ پولیو کے حفاظتی قطروں سے متعلق شروع ہی سے منفی پروپیگنڈا کیاجارہا ہے، جس کا حقیقت سے دَور پرے کا بھی تعلق نہیں،لہٰذا کسی کی باتوں میں آکر خدارا! اپنے بچّوں کو اپنے ہاتھوں معذور نہ کریں۔ یہ قطرے قطعاً مضر نہیں۔

حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام انتہائی مفید ہے،جس سے بیماریوں اور شرحِ اموات کے تناسب کو یقینی طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔تاہم،اس شیڈول میں مزید ویکسنز کا اضافہ بھی ضروری ہے۔رہی بات کورونا وائرس ویکسین کی تو یہ فی الحال بچّوں کو نہیں لگائی جارہی ہے کہ ان میں اس وائرس سے متاثر ہونے کی شرح کم ہے۔

سرکاری ہسپتال ہی کو ترجیح دی جائے،کیونکہ جوسہولتیں ہمیںسرکاری طور پر دستیاب ہیں، ان سے ضرور فائدہ اُٹھانا چاہیے۔اگرچہ سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں دستیاب ویکسینز میں کچھ خاص فرق نہیں ،بلکہ سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب ویکسینز کی تو کولڈ چین کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ نجی ہسپتالوں کی ویکسین مؤثر نہیں۔ البتہ جو اضافی ویکسینز، ای پی آئی شیڈول میں شامل نہیں ہیں،اگر ممکن ہو،جیب اجازت دے، تو اپنے بچّے کی یہ اضافی ویکسی نیشنز بھی ضرور کروائیں۔

کیٹاگری میں : صحت