DG_ISPR_Babar

16 شہروں میں پاکستان آرمی کی تعیناتی کردی گئی ہے:ڈی جی آئی ایس پی آر

EjazNews

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران پاک فوج کی تعیناتی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت کورونا کی تیسری لہر جاری ہے اوریہ لہر پہلی دونوں سے کہیں زیادہ خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا بالخصوص ہمارا خطہ اس وبا سے شدید متاثر ہو رہا ہے، وبا کی شدت اور تیز رفتار پھیلاؤ کی وجہ سے اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، شدید متاثرہ مریضوں کی تعداد میں بے پناہ اضافے سے صحت کا ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت آکسیجن کی کل پیداوار کا 75 فیصد سے زائد صحت کے شعبے کے لیے مختص ہے، کورونا کی صورت حال برقرار رہی تو صنعت کے لیے مختص آکسیجن بھی صحت کے شعبے کے لیے وقف کرنا پڑ سکتی ہے۔

بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت کووڈ-19 سے متاثرہ 90 ہزار فعال کیسز موجود ہیں، مثبت شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 51 شہروں میں مثبت شرح 5 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ اسلام آباد، پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، گوجرانوالہ، کراچی اورحیدر آباد، کوئٹہ اور مظفرآباد بالخصوص وہ شہر ہیں جہاں مثبت شرح انتہائی زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مریم نواز کی ضمانت منظور ، رہائی کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ ان 16 شہروں میں اس ہی مناسبت سے پاکستان آرمی کی تعیناتی کردی گئی ہے۔

میجرجنرل بابر افتخار نے کہا کہ 23 اپریل کو اب تک کورونا کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات ہوئیں، جس میں 157 افراد اس دن کورونا کی وجہ سے اپنی زندگی سے محروم ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں 570 افراد وینٹی لیٹرز پر ہیں اور 4 ہزار 300 کورونا سے متاثرہ افراد کی حالت تشویش ناک ہے، چند شہروں اورہسپتالوں میں 90 فیصد سے زائد وینٹی لیٹرز بھرے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپریل میں کورونا سے اموات کا تناسب سب سے زیادہ رہا ہے، 26 فروی 2020 سے آج تک پاکستان میں اس وبا کی وجہ سے 17 ہزار 187 افراد اپنے پیاروں سے بچھڑ چکے ہیں۔

کورونا سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں کورونا کی وجہ سے شرح اموات 2.12 فیصد ہے جبکہ اس وبا کے دوران پاکستان میں پہلی مرتبہ دنیا کے مقابلے میں شرح اموات بڑھ کر 2.16 فیصدہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 23 اپریل کو وزیراعظم کی سربراہی میں قومی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں چیف آف آرمی اسٹاف بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  منظم دہشت گردی

ان کا کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اورباہمی رضامندی سے این سی سی نے کورونا وبا کی تیسری لہر پر قابو پانے کے لیے چند غیر طبی مداخلت کے حوالے سے چند اہم اور بروقت فیصلے کیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وبا کی اس بگڑتی ہوئی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے، عوام کی حفاظت اور صحت عامہ کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کے احکامات کے مطابق ملک بھر میں پاکستان آرمی آرٹیکل 245 کے تحت سول ادارو کی معاونت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد افواج پاکستان کا اثاثہ ہے، آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان آرمی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی صحت اور حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اورملک کے طول و عرض میں ہر کونے پر پہنچ کر عوام کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے خلاف حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد اور امن و عامہ کی بنیادی ذمہ داری سول اداروں کی ہے۔ میجر جنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی ایمرجنسی ریسپونڈر کے طور پر وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور معاونت کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  کون کس صورت میں این آر او مانگ رہا تھا اس پر ٹوئٹ کی تھی :وزیراطلاعات

انہوں نے کہا کہ آج صبح 6 بجے سے ملک کے طول و عرض میں ہر ضلعے کی سطح پر فوج کے جوان سول اداروں کی مدد کے لیے پہنچ چکے ہیں، آرٹیکل 245 کے تحت ملک بھر میں ہر انتظامی ڈویژن کی سطح پر ایک ٹیم تعینات کر دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام ڈویژن کی سطح پر ان ٹیموں کی سربراہی برگیڈیئرز رینک کے افسر کریں گے اور ہر ضلعے کی سطح پر لیفٹننٹ کرنل کی سربراہی میں فوجی جوان سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی کے جوانوں کی تعیناتی کا بنیادی مقصد سول حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت ہے۔
میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان آرمی نے اس تعیناتی کے دوران پچھلی مرتبہ کی طرح کسی قسم کے انٹرنل سیکیورٹی الاؤنس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبائی ایپکس کمیٹیوں کا اجلاس ہفتے میں ایک دن ہوگا جن میں مجموعی صورت حال اور خاص کر زیادہ شرح مثبت کا جائزہ لیا جائے گا اور اس حوالے سے حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔