Books_books

انسانی زندگی میں مطالعے کی اہمیت

EjazNews

انسانی ذہن کی نشوونما اس کی شخصیت ، اس کے کردار و عمل کے گوشوں کو منور کرنے اس کی علمی استطاعت کو بڑھانے نیز سماجی و مذہبی، ادبی اور سیاسی معلومات کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مطالعے کی عادت ڈالی جائے کیوں کہ اس عادت کا تابناک پہلو یہ ہے کہ اس سے انسانی شعور میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے اور قوموں کی ترقی و تنزلی کے علاوہ ان عوامل سے بھی واقفیت حاصل ہوتی ہے جو قوموں کو بنانے اور بگاڑنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے زندگی میں مطالعے کا عمل مسلسل جاری رکھنا چاہیے اور ا س کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام سہولتیں مہیا ہوں جو مطالعے کے ضمن میں آتی ہیں اس اعتبار سے ہندوستان میں کتب خانوں اور دارالمطالعوں کے قیام کی تحریک ابھی تک اپنے ابتدائی دور میں ہے اور بڑی سست رفتاری سے گاؤں اور شہروں میں کتب خانوں اور دارالمطالعوں کا قیام عمل میں آرہا ہے مگر خوشی کی بات ہے کہ اس تعلق سے عوام کا جذبۂ خیر سگالی ابھررہا ہے اور یہ ایسا خوش آئند جذبہ ہے جس کا ہر ذی شعور انسان کو خیر مقدم کرنا چاہیے۔

میں یہ بات بتانے سے قاصر ہوں کہ ہندوستان میں سب سے پہلے کب اور کہاں کتب خانے کا قیام عمل میں آیا۔ لیکن نئی کھوج کے مطابق اس بات کو اب تسلیم کیا جاچکا ہے کہ ہمارے ملک میں دوہزار سال قبل بھی کتب خانے پائے جاتے تھے۔ مصر میں جو تحقیقات ہوئی ہیں اس کی بنا پر آثار قدیمہ کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ وہاں چارہزار سال قبل بھی کتب خانوں کا وجود تھا۔ یہ صحیح ہے کہ ہمارے ملک میں ابھی تک کتب خانوں کے قیام کی تحریک عہد طفولیت میں ہے اس کی بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے اور جب تک تعلیم کی توسیع عمل میں نہ آئے کتب خانوں کے قیام کی تحریک کو تقویت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی معاشی اور سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ تہذیبی زندگی کو بھی سنوارنے کی کوشش کریں اور اس جدوجہد کو کتب خانوں اور دارالمطالعوں کے قیام کی تحریک کا ایک جز بنائیں تو ان کی ترقی میں جو رکاوٹیں حائل ہیں انھیں بھی دور کیا جاسکتا ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کتب خانے انسانی زندگی کو سنوارنے کے لیے مکتب کا کام دیتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ مدرسے میں استاد کو ایک ڈاکٹر کی طرح سے کونین جیسی کڑوی دوا پلانے کا حق پہنچتا ہے لیکن کتب خانے میں شریک ہونے والا ہر طالب علم خود اپنے لیے نسخہ تجویز کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب انسان خود کے لیے دوا تجویز کرتا ہے تو اس میں شربت کی بھی آمیزش ضرور کر لیتا ہے تاکہ دوا آسانی کے ساتھ حلق سے اتر سکے۔ مدرسہ یا مکتب ایک خاص اور معینہ مدت تک لوگوں کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں لیکن دارالمطالعے اور کتب خانے ہوش سنبھالنے سے لے کر قبر میں پہنچنے تک لوگوں کے دل و دماغ کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ادارے ایک انسان کا دوسرے انسان سے ربط برقرار رکھنے میں ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں اور ان سے مستفید ہونے والا ہر شخص اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ اس نے اپنے علم میں اضافہ کیا ہے۔ کتب خانوں کے تعلق سے ہر شخص اگر اس بات کو اپنے ذہن میں رکھے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ مطالعے کی افادیت سے بخوبی واقف ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بہت سے سوالات جن کا جواب شاید نہیں ہوتا

ہندوستان میں قومی آزادی کی جدوجہد کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ایک بات ابھر کر سامنے آئے گی اور وہ یہ کہ ہمیں آزادی کی جدوجہد اور اس کے لیے قربان ہو جانے کا جذبہ کہاں سے ملا تھا؟ہم میں وہ شکتی اور طاقت کہاں سے آگئی تھی جس کے سہارے ہم نے ایک بہت بڑے سامراج کا مقابلہ کیا تھا۔ میرے خیال میں ان سوالوں کا جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے آزادی کی جدوجہد کا جذبہ ان لوگوں سے بھی حاصل کیا تھا جو ہم سے قبل آزاد ہوئے تھے یا آزادی کی جدوجہد میں مصروف عمل تھے اور بلا شبہ اس جذبے کی بنیاد اخباروں اور کتابوں کے مطالعے کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ آزادی کے جذبات کو جگانے اور عوامی طاقت کو ابھارنے کے لیے ہمارے قائدین نے خطابت کو ذریعہ بنایا تھا۔ مگر اس خطابت کے پس منظر پر روشنی ڈالی جائے تو پتا چلے گا کہ ان قومی قائدین نے اپنے جذبہ حب وطن کو بھرپور بنانے کے لیے مارکس، لینن، ابراہم لنکن اور گیری بالڈی وغیرہ کے خیالات سے ضرور اکتساب کیا تھا اور یہ اکتساب صرف کتابوں اور اخبارات ہی کے مطالعہ کا رہین منت ہے۔ اس سے آسانی کے ساتھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسان کی زندگی میں مطالعہ کی کتنی بڑی اہمیت ہے اور اس اہمیت کا اندازہ مجھے ذاتی طور پر اس وقت ہوا جب کہ قومی جدوجہد کے دوران اور اس کے بعد بھی مجھے برسوں جیل کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں اور جیل کی تنہائی میں دل و دماغ کو تازہ رکھنے اور عزم کامرانی کو تقویت پہنچانے میں کتابوں اور اخبارات کے مطالعے نے بڑی مدد کی۔

اس موقع پر میں اپنی زندگی کا ایک واقعہ تحریر کروں گا جس سے میرے بیان کی صداقت کا پڑھنے والوں کو اندازہ ہو سکے گا۔
مجھے ۱۹۴۹ء کے اوائل میں تقریباً تین سال کے لیے جیل جانا پڑا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ تلنگانہ کے عوام ایک مسلح جدوجہد میں مصروف تھے اور اس جدوجہد کی قیادت کمیونسٹ پارٹی کر رہی تھی میری گرفتاری ایک کمیونسٹ کارکن کے ناطے عمل میں آئی تھی۔ اس لیے کافی ذہنی اور جسمانی اذیتیں پہنچائی گئیں۔ ذہنی اذیتوں میں میرے لیے سب سے بڑی اذیت یہ تھی کہ مجھے تقریباً سات ماہ تک قید تنہائی میں رکھا گیا اور سوائے صفائی کرنے والے اور نگران کار کے علاوہ اس تنگ و تاریک گنجی (کمرے) میں کوئی نہیں آسکتا تھا۔ اور اس پر یہ ستم بھی ڈھایا گیا کہ پڑذنے کے لیے کوئی چیز بھی نہیں دی جانے لگی۔ حکامان جیل اس امر سے بخوبی واقف تھے کہ مجھے سب سے بڑی اذیت کتابیں اور اخبارات فراہم نہ کر یک پہنچائی جاسکتی ہے اور انھوں نے اس پر عمل کیا۔ ان ساتھ ماہ میں میری حالت اس دیوانے کی سی ہو گئی تھی جسے کسی ذہنی بیماری کے بغیر پاگل خانے میں شریک کر دیا گیا ہو۔ میں ساتھ ماہ تک مسلسل خاموش رہا اور ہر صبح و شام یہ سوچتا تھا کہ شاید میں پڑھنا بھول جاؤں گا۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا اور اسی ذہنی کرب و اضطراب کے عالم میں میں نے ایک دن تصفیہ کیا کہ کتابیں اور اخبارات کے حاصل کرنے کے لیے بھوک ہڑتال کرنی چاہیے۔ اپنے اس فیصلے کی اطلاع میں نے سپاہی کے ذریعہ مہتمم جیل کے پاس بھجوا دی کہ اگر مجھے چوبیس گھنٹوں کے اندر اخبارات اور کتابیں پڑذنے کو نہیں ملیں گی تو میں بھوک ہڑتال کروں گا اور میری یہ بھوک ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مجھے مطالعے کی سہولتیں فراہم نہ کی جائیں۔ پہلے پہل تو میری یہ دھمکی کارگر ثابت نہیں ہوئی اور صبح سے شام تک کسی نے بھی آکر دریافت نہیں کیا کہ میں بھوک ہڑتال کیوں کر رہا ہوں۔ بات یہ تھی کہ میری اس اطلاع کے بعد جیل والوں نے اپنے جاسوسوں کے ذریعے یہ تحقیقات شروع کی کہ میں اکیلا ہی بھوک ہڑتال کروں گا تو حکامان جیل نے اس کی کوئی پروا نہیں کی مگر میرا ارادہ اپنی جگہ مصمم تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  اقلیتوں کیخلاف ریاستی امتیاز کا مرتکب بھارت ہے

چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد جب صبح کا کھانا میری گنجی (قید تنہائی کا کمرہ) میں لایا گیا تو میں نے کھانا لینے سے انکار کر دیا۔ لیکن جب جوان کھانارکھ کر جانے لگا تو میں نے کھانے کے برتن گنجی سے باہر پھینک دیے جس کی وجہ سے جوان کے کپڑے خراب ہو گئے۔ ا س نے جیل کے داروغہ سے اس بات کی شکایت کی اور وہ اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے گنجی میں آدھمکا۔ میں نے اس سے بات کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک مہتمم جیل نہیں آئیں کے میں کسی سے بھی بات نہیں کروں گا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ شام کو پھر کھانا لایا گیا۔ اس پر میں نے کہاکہ میں بھوک ہڑتال پر ہوں۔ اس لیے مجھے کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ خاموشی کے ساتھ کھانا واپس لے کر چلا گیا۔ بھوک ہڑتال کی اس پہلی رات میں نے کسی طرح اپنے ساتھی وی ۔ ڈی۔ ویشپانڈے(سابق اپوزیشن لیڈر حیدرآباد اسمبلی) سے ربط پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا جو میرے ہی قریب کی ایک گنجی میں رکھے گئے تھے۔ انھوں نے بتلایا کہ اس سے قبل وہ بھی بھوک ہڑتال کی دھمکی دے چکے ہیں۔ جس کی بنا پر انھیں اخبار ملنے لگا ہے۔ کامریڈ ویشپانڈے کے اس امید افزا پیام سے ہمت بندھی اور میں بھی سوچنے لگا کہ مجھے بھی اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہو گی۔ اتفاق کی بات ہے کہ میری بھوک ہڑتال کے تیسرے دن ناظم جیل معائنے کے لیے آنے والے تھے اور حکامان جیل چاہتے تھے کہ انھیں میری گنجی میں نہ لایا جائے لیکن مجھے اس کی اطلاع مل گئی تھی اور میں منتظر تھا کہ اگر وہ گنجی کے سامنے سے گزریں گے تو میں نعرہ لگاؤں گا تاکہ میرے پکار ان تک پہنچ سکے۔ ہوا بھی یہی اور مجھے نعرہ لگانا پڑا جس کی بنا پر ناظم جیل نے گنجی میں قدم رنجہ فرمایا میں نے ساری حقیقت ان کے سامنے رکھ دی اور کہا کہ میرے اس معمولی سے مطالبے کو بھی پورا نہیں کیا گیا تو اس کے جو نتائج ہوں گے ان کی ذمہ داری آپ پر ہو گی۔ اسی روز شام سے مجھے اخبار ملنے لگا مگر کتابوں کا مطالبہ پورا نہیں ہوا اور جب اس کے لیے اصرار کیا گیا تو پہلے مجھے جالنہ اور بعد میں بیڑ جیل بھجوا دیا گیا ۔

میرے اس نجی واقعہ کو دہرانے کی وجہ یہ ہے کہ جس شام مجھے اخبار ملا میں اتنا خوش ہوا کہ اس خوشی کو میں زندگی کی اہم مسرتوں میں سے ایک سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد دو سال کی نظر بندی جس طرح کٹی اس میں مجھے بہت کم احساس ہوا کہ میں جیل میں ہوں۔ اس کی بڑی وجہ میرے مطالعے کا شوق ہے۔ انسان میں جب مطالعے کا ذوق پیدا ہو جاتا ہے تو وہ بہت سی ذہنی الجھنوں میں مبتلا ہونے سے بچ جاتا ہے۔ اس بظاہر طویل اور نجی داستان کے ذکر کا صرف یہ مقصد ہے کہ تنہائی میں بھی کتابیں ایک اچھے ساتھی اور مددگار کا کام دیتی ہیں۔ بشرط یہ کہ ہم مطالعے کا شوق اور ذوق رکھتے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا ہمارا دفتری ماحول ہمیں بیمار کر رہا ہے ؟

ہمارے دیش میں ابھی تک کتب خانوں کی تحریک بہت کمزور ہے حالانکہ قوانین مدون ہو چکے ہیں لیکن دوسری چیزوں کی طرح یہ تحریک بھی دفتر شاہی کا شکار بنتی جارہی ہے۔ اس لیے مطالعے کا ذوق رکھنے والوں کا فرض ہے کہ وہ اس تحریک کو آگے بڑھاء؎ں تاکہ انسانی شعور میں بالیدگی پیدا ہو اور اس تحریک کو قوت نمو حاصل ہو سکے۔ یہاں یہ سوال بھی میں پڑھنے والوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ آج کل ہمارے دیش میں جاسوسی اور جنسی ادب کا بڑا چلن ہو گیا ہے جس کی وجہ سے نئی نسل اس گھٹیا ادب کی جانب مائل نظر آتی ہے۔ اور سماجی زندگی پر اس کے برے اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ اس لیے مطالعہ کا شوق اور ذوق رکھنے والوں کا فرض ہے کہ وہ ایسے فحش اور جاسوسی ادب کا بھی بائیکاٹ کریں تاکہ وہ نئی نسل کی بہتر خدمت انجام دے سکیں۔

ملک کے عوام میں تعلیم کو عام کرنے کے لیے اب تک جن ذرائع کا استعمال کیا گیا ہے ان میں کتب خانوں کے قیام کی تحریک کو اوّلیت حاصل ہونی چاہیے۔ کیوں کہ درسی تعلیم کے خاطر خواہ نتائج اسی وقت برآمد ہو سکیں گے جبکہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی طرح سے ہمارے ملک میں بھی کتب خانوں کو Continuation of School کا درجہ دیا جائے۔ اس سلسلے میں ایمرسن کا قول بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ

’’بسا اوقات ایک اچھی کتاب کا مطالعہ انسان ان کے مستقبل کو سنوار دیتا ہے۔‘‘

خاص طور پر ہر مذہب کی بنیادی کتابوں ہی کو لیجیے جن کی وجہ سے انسانیت کو سنوارنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ ہمارے ملک میں کتب خانوں نے خاطر خواہ ترقی نہیں کی ہے۔ جس کی وجہ سے مطالعے کا ذوق محدود ہو گیا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ کتب خانوں کے قیام کی تحریک کو وسعت دی جائے۔ جس کی کہ وہ مستحق ہے۔ دوسرے ملکوں کے عوام زیادہ تربیت یافتہ اس لیے ہیں کہ وہاں ہر گاوؤں اور قصبے میں کتب خانے اور دارالمطالعے ملیں گے۔ تعلیم بالغاں کے سلسلے میں تو ان کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ وہ حضرات جنھیں ترقی یافتہ ممالک اور خاص طور پر یورپی ممالک کے سفر کا موقع ملا ہے وہ میرے اس بیان کی تصدیق کریں گے کہ ان ممالک میں مطالعے گھر تہذیب کا بہت بڑا مرکز مانے جاتے ہیں اور وہاں پر معاشی، معاشرتی اور سیاسی مسائل پر بڑے بڑے مباحت انھیں مطالعہ گھروں کے زیر اہتمام منعقد ہوا کرتے ہیں…… میں بھی اپنے اس مضمون کو اس امید پر ختم کرتا ہوں کہ ہمارے ملک میں بھی قومی اور تہذیبی جلسے کتب خانوں کے زیر اہتماما منعقد ہوا کریں گے تاکہ عوام کو نئی بیداری کا پیام مل سکے اور وہ علم کے ان مندروں کی صحیح قدروقیمت کا اندازہ لگا سکیں۔

سری نیواس لاہوٹی