joe biden

دہائیوں قبل ہونے والے واقعہ کو امریکی صدر نے نسل کشی قرار دے دیا

EjazNews

نسل کشی کیا ہوتی ہے۔ یہ لفظ ایک یہودی نے سب سے پہلے اپنی تصنیف میں لکھاتھا۔ اس سے پہلے کبھی یہ لفظ دنیا کی تاریخ کا حصہ نہیں رہا۔

اب دہائیوں قبل ہونے والے اس واقعہ جس کی تاریخی حیثیت بھی متضاد ہے امریکہ نے نسل کشی قرار دے دیا ہے۔

کئی دہائیوں سے آرمینیا کے قتل عام کو نسل کشی تسلیم کرنے کے حوالے سے اقدامات امریکی کانگریس میں زیر التوا رہے اور امریکی صدور نے اسے نسل کشی قرار دینے سے گریز کرتے رہے۔ امریکی صدور کی جانب سے اسے نسل کشی تسلیم کرنے سے گریز کی وجہ ترکی کا شدید ردعمل اور انقرہ کی جانب سے موثر لابنگ قرار دیا جارہا تھا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آرمینیا کے لوگوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا ہے۔صدر بائیڈن نے یہ فیصلہ ترکی کی جانب سے شدید مخالفت کے باوجود کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  حجر اسود کے بعد مقام ابراہیم کی نایاب تصاویر بھی جاری

صدر جو بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ ہم ان لوگوں کو جو کہ سلطنت عثمانیہ کے دور میں آرمینیا کی نسل کشی کے دوران ہلاک ہوئے یاد کرتے ہیں اور عزم کرتے ہیں کہ اس طرح کے مظالم کو کبھی بھی دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔

جو بائیڈن پہلے امریکی صدر بن گئے جنہوں نے آرمینیا کے قتل عام کے لیے نسل کشی کا لفظ استعمال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تاریخ کو تسلیم کر لیا۔ ہم نے ایسا کسی پر الزام لگانے کے لیے نہیں کیا بلکہ اس لیے کیا جو کچھ ہوا وہ دوبارہ نہ ہو۔
امریکی عوام ان تمام آرمینیائی باشندوں کا احترام کرتے ہیں جو کہ 106 سال پہلے آج کے دن شروع ہونے والے اس نسل کشی کے دوران مارے گئے۔

بائیڈن کا بیان میں کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران آرمینین نژاد امریکیوں نے کئی طرح سے امریکہ کی خدمت کی لیکن انہوں نے کبھی اس افسوسناک تاریخ کو نہیں بھولے۔ ہم ان کی کہانی کا احترام کرتے ہیں اور ان کے دکھوں کا احساس کرتے ہیں اور ہم تاریخ کو تسلیم کرتے ہیں اور ہم یہ الزام دھرنے کے لیے نہیں بلکہ یہ یقینی بنانے کے لیے کرتے ہیں کہ ایسا واقعہ پھر کبھی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر کیلئے 31اکتوبر 2019ء بھی کسی یوم سیاہ سے کم نہیں

ترکی تسلیم کرتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ میں رہنے والے کئی آرمینیائی باشندے عثمانی افواج کے ساتھ جنگ میں مارے گئے تاہم ترکی مارے گئے افراد کی تعداد اور اسے منظم قتل عام تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

اگر آپ غور کریں تو امریکہ کو دہائیوں قبل ہونے والے آرمینیائی باشندو ں کی نسل کشی تو یاد آتی ہے لیکن امریکہ کو کبھی میانمار کے غریب مسلمانوں یا کشمیریوں کی کبھی یاد نہیں آئے گی۔ کیونکہ دنیا اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔