religious-tolerance

امریکی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں پاکستان کے متعلق کیا ہے؟

EjazNews

امریکا کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے 2021ء کی اپنی سالانہ رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کو تجویز دی ہے کہ پاکستان سے کہا جائے کہ وہ اپنے سرکاری تعلیمی نصابی کتب اور اساتذہ کے تربیتی مواد مذہبی اقلیتوں کیلئے بھی ہو اور یہ ان کی طرف امتیازی بھی نہ ہو۔ رپورٹ میں پاکستان کو ’’خصوصی تشویش کا باعث ملک‘‘ یا پھر سی پی سی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذہبی آزادی کی منظم انداز سے جاری خلاف ورزیوں کا معاملہ پاکستان کے ساتھ اٹھایا جائے اور مطالبہ کیا جائے کہ توہین مذہب اور قادیانی مخالف قوانین ختم کیے جائیں اور توہین کے مرتکب افراد کو رہا کیا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب تک توہین مذہب کا قانون ختم نہیں ہوتا اس وقت تک پاکستان ایسی اصلاحات لائے کہ جن میں توہین کا جرم قابل ضمانت بنایا جا سکے۔الزام عائد کرنے والوں پر لازم کیا جائے کہ وہ شواہد لائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  یوٹیوب چینل ،سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کو حکومت نے باقاعدہ رجسٹرڈ کرنے کا پلان بنا لیا

سینئر پولیس افسران مناسب انداز سے تحقیقات کو یقینی بنائیں، حکام کے پاس اختیار ہو کہ وہ بے بنیاد الزامات کو مسترد کر سکیں اور ساتھ ہی تعزیرات کے موجودہ قوانین کو استعمال کرتے ہوئے جھوٹے اور جعلی الزامات عائد کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں۔ کمیشن نے امریکی حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ حکومتِ پاکستان کو پابند کرنے کے حوالے سے معاہدہ کرے تاکہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو حل کیا جا سکے اور اس کیلئے جو اقدامات کرنا ہیں وہ ذیل میں پیش کیے جا ر ہے ہیں تاہم ان تک محدود رہنا ضروری نہیں

۱) توہین کے مرتکب اور ایسے دیگر افراد کو رہا کیا جائے جنہیں ان کے مذہب یا عقائد کی وجہ سے پابند سلاسل کیا گیا ہے۔

۲) توہین اور قادیانی مخالف قوانین ختم کیے جائیں اور جب تک یہ قوانین ختم نہیں ہو جاتے ایسی اصلاحات لائی جائیں کہ جن کے تحت توہین کو قابل ضمانت جرم بنایا جائے، مدعی پر لازم ہو کہ وہ شواہد پیش کرے، سینئر پولیس افسران مناسب انداز سے تحقیقات کریں، الزامات بے بنیاد ہوں تو حکام کے پاس اختیار ہو کہ وہ انہیں مسترد کر سکیں، تعزیرات پاکستان میں موجود شقوں کو استعمال کرتے ہوئے جعلی اور جھوٹے الزامات عائد کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ایٹمی دھماکے رکوانے کیلئے امریکہ نے 5ارب ڈالر کی آفر کی تھی جسے نواز شریف نے مسترد کر دیا: مریم نواز

۳) اظہار کی آزادی کو یقینی بناتے ہوئے انتہا پسندانہ بیانیے کے اُس مسئلے کو حل کیا جائے جو اکثر اقلیتوں پر حملوں کا سبب بنتا ہے۔

۴) قانون ہاتھ میں لیکر پرتشدد کارروائیاں کرنے اور ایسی کارروائیوں کیلئے اکسانے والوں، ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں، جبری مذہب تبدیل کرانے والوں اور نفرت انگیز جرائم پھیلانے والے دیگر افراد کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے۔

۵) سرکاری تعلیمی اداروں کی نصابی کتب میں اور اساتذہ کے تربیتی مواد میں اصلاحات لائی جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان میں کسی بھی مذہبی اقلیتوں کیخلاف امتیازی باتیں شامل نہ ہوں۔

۶) شناختی دستاویزات میں موجود مذہبی شناخت کی علامت ختم کی جائے۔

۷) مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث پاکستانی ادارے یا ایجنسیوں یا سرکاری عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی جائیں اور ان کے

ثاثے منجمد یا ان کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔ کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی کانگریس کو چاہئے کہ وہ مذہبی بنیادوں پر جیل میں قید کیے گئے افراد (ضمیر کے قیدی) جن مین جنید حفیظ، رمضان بی بی، شفقت ایمانوئیل اور شگفتہ کوثر کی رہائی کیلئے اقدامات کرے۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل 4 کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے