Primminster_imran_khan_Banks

میں بینکوں سے کہوں گا کہ چھوٹے لوگوں کو قرضے دینے کے لیے اپنے سٹاف کو تربیت دیں:وزیراعظم

EjazNews

اسلام آباد میں کامیاب جوان پروگرام کے تحت ماہی گیروں کو بااختیار بنانے کے پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ماہی گیر بہت محنت کش اور مشکل زندگی گزارتے ہیں اور جس دن مچھلی نہیں پکڑی تو ان کے لیے مسائل ہوتے ہیں کئی دفعہ ان کے بچے بھوکے سوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں بدقسمتی سے کرپشن ہوتی ہے، باہر سے بڑے بڑے ٹرالرز آتے ہیں اور کرپشن ہوتی ہے حالانکہ ان کو نہیں آنا چاہیے لیکن ہمارے لوگ پیسے لے کر ان کو اجازت دیتے ہیں اور وہ ہمارے علاقے سے اتنی مچھلی لے کر جاتے ہیں جس سے ہمارے چھوٹی ماہی گیر متاثر ہوتے ہیں اور اگر اسی طرح چلتا رہا تو ان کے لیے آگے برے حالات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اسکیم کے لیے چار بینکوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کا پاکستان کے لیے اہم کردار ہے، ان چیزوں سے معیشت اٹھتی ہے، جب آپ سستے قرضے دیں، کامیاب جوان کے اندر ماہی گیروں کو قرضے دیں تاکہ وہ اپنی کشتی، جال اور دنیا میں آنے والی نئی مشینری خرید سکیں اور خود اپ گریڈ کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آئرلینڈ نے پاکستان کو کورونا سے متعلق سفری پابندی کی فہرست سے نکال دیا

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسی طرح ماہی گیرے کا پیشہ اوپر جاتا جائے گا اور ویلیو ایڈ کرے گا، ابھی یہ ویلیو ایڈ نہیں کرتا اور سستی مچھلیاں بھی بیچ دیتا ہے، پھر کراچی میں آلودگی کا مسئلہ ہے، جس طرح سارا سولڈ ویسٹ اور سیوریج سمندر میں جا رہا ہے جس سے مختلف مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ماہی گیروں کی زندگیاں بہتر کرے گا، اس کے اوپر ہم مسلسل کوشش کریں گے کہ ماہی گیروں کو اپ گریڈ کریں کیونکہ پاکستان میں اس حوالے سے بڑے مواقع ہیں، جس طرح سیاحت، زراعت اور دیگر شعبوں میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چین کے اندر کیج فشری ہے اور اسی طرح ہمارے پاس کراچی کے قریب ساحلی علاقے ہیں جہاں فشری ہوسکتی ہے، ہمارے پاس دریا ہیں کہیں بھی کیج فشری کرسکتے ہیں، جس سے ہم اپنے لوگوں کی پروٹین کی سطح بھی اوپر کر سکتے ہیں۔

قرضوں کی فراہمی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں بینکوں سے کہوں گا کہ چھوٹے لوگوں کو قرضے دینے کے لیے اپنے اساف کو تربیت دیں، غریب لوگوں کو گھروں کی تعمیر کے لیے قرضوں کے حوالے سے شکایات آرہی ہیں کہ ہم بینکوں کے پاس جاتے ہیں تو بینک صحیح طرح خدمات نہیں دیتے اور ان میں وہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ قرضے دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  حمزہ شہباز کی 17اپریل تک شوگر مل اور صاف پانی میں عبوری ضمانت

انہوں نے کہا کہ اسی طرح کامیاب جوان پروگرام میں قرضوں کی فراہمی میں سست روی کا مسئلہ آرہا ہے اس لیے بینکوں کو تاکید کر رہا ہوں اس پر پورا زور لگائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آلودگی پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ شہر بغیر منصوبہ بندی کے پھیلتے جارہے ہیں جس سے گندگی اور دیگر مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسرا فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے زرعی زمین کم ہوتی جا رہی ہے، اسی لیے ہم راوی پروجیکٹ بنا رہے ہیں تاکہ اپنے لوگوں کو اوپر اٹھائیں، پاکستان میں یہ ہونا پڑے گا اور ضرورت ہے کہ شہروں کے نئے ماڈل بنیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ سندھ حکومت کو جزیرہ بنڈل پر قائل کریں کہ پورا ایک ماڈل سٹی بنے جس کے اندر ماحول کا دھیان رکھا جائے، پاکستان کے اندر نوکری اور پیسہ بھی آئے، اس کی ضرورت ہے لیکن اگر شہر پھیلتے گئے تو ہمارے لیے عذاب بن جائیں گے اور آلودگی بڑا مسئلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملک کو نواز شریف کے حوالے کردو پاکستان پھر سے ترقی کی منازل طے کرے گا:مریم نواز

انہوں نے کہا کہ کراچی کا 40 فیصد کچی آبادیوں پر مشتمل ہے کیونکہ لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے ہیں تو وہ کچی آبادیوں میں رہنا شروع کرتے ہیں اور اس کے لیے ایک مکمل منصوبہ لے کر آرہے ہیں کہ کیسے کچی آبادیوں کو بہتر کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جو نئے شہر بنا رہے ہیں وہاں 70 ہزار درخت اگا رہے ہیں، پوری منصوبہ بندی ہے، لاہور کے اندر 50 مقامات کے اوپر جاپانی منصوبہ مایا واکی فارسٹ لگا رہے ہیں جو آکسیجن دیتے ہیں اور ماحول کو بہتر بنا رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں کراچی کا بھی سوچنا پڑے گا، کراچی میں بھی ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے پڑیں گے، جس طرح سمندر کے اندر آلودگی کر رہے ہیں، اس سے ماہی گیروں کے لیے بھی مشکل ہے کیونکہ مچھلی کھانے کے قابل نہیں رہے گی، اس کے لیے ہم الگ پورا پروگرام بنا رہے ہیں اور حکومت سندھ کے ساتھ مل کر کراچی میں بھی کوشش کریں گے سمندر میں جو گندگی جارہی ہے اس کو روکیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ماہی گیروں کے لیے زبردست پروگرام ہے جس کے تحت ماہی گیروں کو سستے قرضے دے رہے ہیں۔